TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان

Chapter 5 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 43 · 5 Hadith
۔ (۱۲۸۲۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗکَانَقَائِمًاعِنْدَبَابِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَأَشَارَنَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ: ((اَلْفِتْنَۃُ ھٰہُنَا حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۶۷۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے دروازے کے قریب کھڑے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرق کی طرف ہاتھ کا اشارہ کرکے فرمایا: یہاں فتنے ہیں، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۸۲۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۰۴، ومسلم: ۲۹۰۵ (انظر: ۴۶۷۹)
12822
Sahih
۔ (۱۲۸۲۳)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُشِیْرُ اِلَی الْمَشْرِقِ یَقُوْلُ:((ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰہُنَا، ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰہُنَا، ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰہُنَا، اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰہُنَا مِنْ حَیْثُیُطْلِعُ الشَّیْطَانُ قَرْنَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۴۹۸۰)
۔ (دوسری سند ) سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خبردار! بیشک فتنے یہاں ہوں گے، خبردار! بلا شبہ فتنے ادھر ہوں گے، خبردار! فتنے یہاں ہوںگے، جہاں سے شیطان اپنا سینگ طلوع کرے گا۔
Takhreej
(۱۲۸۲۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12823
Sahih
۔ (۱۲۸۲۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یُشِیْرُ بِیَدِہٖیَؤُمُّ الْعِرَاقَ ((ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰھُنَا، ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰھُنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مَنْ حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۶۳۰۲)
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اشارہ کیا، آپ کا مقصد عراق تھا، پھر فرمایا: خبردار! فتنے یہاں ہیں، خبردار! فتنے یہاں ہیں، (یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی)، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۸۲۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12824
Sahih
۔ (۱۲۸۲۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ بَیْتِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقَالَ: ((رَاْسُ الْکُفْرِ مِن ہٰھُنَا مِنْ حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۵۱)
۔ (چوتھی سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا : کفر کا مرکز یہاں ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۸۲۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12825
Sahih
۔ (۱۲۸۲۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ خَامِسٍ) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِیْ ئُ الْفِتْنَۃُ مِنْ ھٰہُنَا مِنَ الْمَشْرِقِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۵۴)
۔ (پانچویں سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتنے یہاں سے یعنی مشرق کی طرف سے آئیں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۲۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مشرق سے مراد عراق ہے، بعض روایات میں عراق کا تعین کیا گیا ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث ہیں: سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی اور فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مَکَّتِنَا، اَللّٰھُمَّ باَرِکْ لَنَا فِي مَدِیْنَتِنَا، اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي شَامِنَا، وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَباَرِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَفِي عِرَاقِنَا۔ فَاعْرَضَ عَنْہُ، فَرَدَّدَھَا ثَلَاثاً، کُلَّ ذٰلِکَ یَقُوْلُ الرَّجُلُ: وَفِیْ عِرَاقِنَا، فَیُعْرِضُ عَنْہُ، فَقَالَ: ((بِھَا الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَفِیْھَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانُ۔)) … اے اللہ! ہمارے مکہ میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے مدینہ میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے شام میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے صاع میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے مدّ میں ہمارے لیے برکت فرما۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور ہمارے عراق میں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اس نے تین دفعہ کہا کہ ہمارے عراق میں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر دفعہ اعراض کیا۔ پھر فرمایا: یہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور یہاں سے شیطان کے سر کا کنارہ ابھرے گا۔ (أخرجہ الطبرانی فی المعجم الاوسط : ۱/ ۲۴۶/ ۱/ ۴۲۵۶، وبلفظ: نجدنا مکان عراقنا أخرجہ البخاری: ۱۰۳۷، ۷۰۹۴، الصحیحۃ:۲۲۴۶) معجم اوسط کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عراق کا نام لے کر اس کے لیے دعا کا مطالبہ کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مِنْ ثَمَّ یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ وَتَھِیْجُ الْفِتَنُ۔)) … وہاں سے تو شیطان کا سینگ نمودار ہو گا اور فتنے ابلیں گے۔ صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَأْمِنَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی یَمَنِنَا قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَفِی نَجْدِنَا قَالَ اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَأْمِنَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی یَمَنِنَا قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَفِی نَجْدِنَا فَأَظُنُّہُ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ ہُنَاکَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِہَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) … یا اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرمایا،اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔ لوگوں نے کہا: اور ہمارے نجد میں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرمایا، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اور ہمارے نجد میں، میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری بار فرمایا: یہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث نبوت کی نشانیوں میں سے ایک ہے، کیونکہ پہلا فتنہ مشرق سے ہی ابھرا اور مسلمانوں میں تفرقہ بازی کا سبب بنا، اسی طرح شیعیت اور خارجیت جیسی بدعتیں بھی اسی جہت کی پیداوار ہیں، امام بخاری (۷/۷۷) اورامام احمد (۲/۸۵، ۱۵۳) نے بیان کیا کہ ابن ابی نعیم نے کہا: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھا، ایک عراقی آدمی نے ان سے سوال کیا کہ اگر محرِم آدمی مکھی مار دے تو (وہ کیا کفارہ ادا کرے گا)۔ انھوں نے جواب دیتے ہوئے کہا: عراقیو! تم مکھی کو قتل کرنے والے محرِ م کے بارے میں سوال کرتے ہیں، تم نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نواسے(سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کو قتل کر دیا، حالانکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((ھُمَا رَیْحَانَتَایَ مِنَ الدُّنْیَا۔)) … یہ (حسن و حسین) تو دنیا میں میری دو کلیاں (یا گلدستے) ہیں۔ ایک فتنہ یہ بھی تھا کہ شیعوں نے جلیل القدر صحابہ پر طعن کیا، بطورِ مثال سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہیں، جن کی براء ت آسمان سے نازل ہوئی تھی۔ ایک متعصب شیعہ عبد الحسین نے پوری جرأت، بے شرمی اور چالاکی کے ساتھ اپنی کتاب (المراجعات: ص: ۲۳۷) میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر طعن کرنے کے لیے اور احادیث کے سلسلے میں ان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کئی فصلیں قائم کیں۔ اس نے یا تو ضعیف اور موضوع روایات کا سہارا لیا، ان میں سے بعض ضعیفہ (۴۹۶۳، ۴۹۷۰) میں مذکورہ ہیں یا پھر احادیث ِ صحیحہ کی تحریف کی اور ان کے ایسے مفاہیم بیان کیے، جن کی ان روایات میں کوئی گنجائش نہ تھی، … …۔ (صحیحہ: ۲۴۹۴) حافظ ابن حجر نے کہا: (جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ احادیث بیان کیں) اس وقت اہل مشرق کفر پر تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق پہلا فتنہ یہیں ابھرا، جو مسلمانوںمیں تفرقہ بازی کا سبب بنا، اور یہی چیز ہے جس سے شیطان خوش ہوتا ہے، اسی طرح کئی بدعتوں کی جائے ظہور بھی یہی ہے۔ (فتح الباری: ۱۳/ ۵۸) تاریخ گواہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے کچھ عرصہ بعد عراق سے بہت سے فتنے رونما ہوئے، جنگِ نہروان، واقعہ کربلا، بنو امیہ اور بنو عباس کی لڑائیاں،پھر تاتاریوں کے خونریز معرکے، اسی طرح گمراہ فرقوں یعنی خوارج، شیعہ، معتزلہ، جہمیہ، مرجیہ وغیرہ کا ظہور بھی کوفہ، بصرہ اور بغداد،جو عراق کے مشہور شہر ہیں، سے ہوا۔ بارہ سو سال تک تمام مسلمانوں کا متفقہ طور پر یہی مؤقف رہا کہ نجد قرن شیطان سے مراد عراق ہی کا علاقہ ہے۔ اہم تنبیہ بارہویں صدی کے بعد اہل بدعت نے ان احادیث کا مفہوم بگاڑ کر انہیں شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ پر چسپاں کرنا شروع کر دیا۔ جواباً درج ذیل نکات پر غور کریں: (۱) کوئی شک نہیں کہ اس موضوع سے متعلقہ احادیث میں نجد کے الفاظ کا ذکر بھی ہے، جبکہ نجد کا لغوی معنی بلندی اور رفعت ہے، گویا سطح مرتفع اور بلند زمین کو نجد کہا جاتا ہے اور عرب میں بہت سارے نجد ہیں، ابو عبد اللہ یاقوت بن عبد اللہ حموی نے معجم البلدان میں درج ذیل نجد شمار کیے ہیں: نجدألوذ، نجد أجا، نجد برق، نجد خال، نجد الشری، نجد عفر، نجد العقاب، نجد کبکب، نجد مریع، نجد الیمن لیکن جب بعض احادیث میں نجد کے بجائے عراق کا تعین کر دیا گیا ہے تو اختلاف کی گنجائش ہی ختم ہو جاتی ہے، جبکہ تاریخی طور پر عراق ہی فتنوں کی آماجگاہ رہا ہے اور اب بھی امریکہ کے تسلط کے وجہ سے فتنے میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ امت ِ مسلمہ پر رحم فرمائے۔ (آمین) (۲) اس موضوع سے متعلقہ اور دیگر احادیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجاز، شام اور یمن کے لیے خیر و برکت کی دعا کی ہے اور ان علاقوں کو اسلام و ایمان کا مرکز قرار دیا ہے، ایک حدیث کا ذکر اوپر بھی گزرا ہے، اور محمد بن عبد الوہاب کا تعلق نجد یمن سے ہے، نہ کہ نجد عراق سے، احادیث ِ مبارکہ کے مطابق تو محمد بن عبد الوہاب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعائے خیر کے مستحق ٹھہرتے تھے، لیکن معترضین نے نجد والی احادیث کو ان پر فٹ کر کے علم حدیث اور تاریخ و جغرافیہ سے اپنی ناواقفیت کا ثبوت فراہم کر دیا۔ (۳)عملی طور پر عراق ہی فتنوں اور آزمائشوں کا گڑھ رہا ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ (۴) نیز شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: سنت کے مخالف اور توحید سے منحرف بعض لوگ جزیرۂ عرب میں دعوتِ توحید کی تجدید کرنے والے امام محمد بن عبد الوہاب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ پر طعن کرتے ہیں، یہ لوگ اپنی جہالت یا تجاہل کی وجہ سے اس حدیث ِ مبارکہ سے نجد کے علاقے مراد لے کر اس امام کو اس کا مصداق ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ مختلف طرق سے معلوم ہوتاہے کہ اس سے مراد عراق کا علاقہ ہے، امام خطابی اور حافظ ابن حجر عسقلانی جیسے قدیم علما نے بھی اسی کی تائید کی ہے۔ ان جاہلوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کوئی آدمی فی نفسہ نیک او رصالح ہو، لیکن اس کا تعلق مذموم علاقوں سے ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اسے ہی مذمت کے لائق سمجھا جائے۔ جیسے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور شام کے علاقوں کی تعریف کی گئی ہے، لیکن ان میں سکونت اختیار کرنے والے کئی لوگ فاسق اور فاجر بھی ہیں، اسی طرح عراق کی مذمت سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہاں کا ہر باسی ہی قابل مذمت ہے، بلکہ اس میں کئی عالم اور نیکوکار لوگ نظر آئیں گے۔ جب سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو عراق سے شام کی طرف ہجرت کر جانے کی دعوت دی تو انھوں نے کہا: اَمَّا بَعْدُ؛ فَاِنَّ الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ لَاتُقَدِّسُ اَحَدًا، وَاِنَّمَا یُقَدِّسُ الْاِنْسَانَ عَمَلُہٗ۔ … کوئی مقدس سر زمین کسی کو پاک نہیں کرتی، بلکہ ہر انسان کو اس کا (نیک) عمل پاک کرتاہے۔ (صحیحہ: ۲۲۴۶) حافظ ابن حجر نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مشرق کے حق میں دعا نہ کی، تاکہ یہ لوگ اس شرّ سے باز آنے کی کوشش کریں، جس کا ظہور ان کے علاقے سے ہو گا، … (قرن الشیطان کا راجح معنی یہ ہے کہ اس سے مراد) شیطان اور ان اسباب کی قوت ہے، جن کے ذریعے وہ گمراہی پھیلاتا ہے۔ (فتح الباری: ۱۳/ ۵۸) عبد الرحمن مبارکپوری نے کہا: حسی زلزلے مراد ہیں یا معنوی، جو دلوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور فتنوں سے مراد وہ مصیبتیں اور آزمائشیں ہیں، جو دین کے ضعف اور قلت کا سبب بنیں گی، …۔ قرن الشیطان سے مراد اس شیطان کے اعوان وانصار اور اس کی جماعت یا اس کی قوت اور اسبابِ ضلالت ہیں، …۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ تھی کہ جہت مشرق سے فتنوں اور بدعتوںکا ظہور ہو گا اور ایسے ہی ہوا، جنگ جمل اور جنگ صفین اسی سمت میں لڑی گئیں، پھر یہیں سے خوارج کاظہور ہوا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۴/ ۳۸۱)
12826
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.