TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان

Chapter 1 of حیض، استحاضہ اور نفاس کے خونوں کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 13 · 4 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۹۳۰)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ الْیَہُوْدَ کَانُوْا اِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَۃُ مِنْہُمْ لَمْ یُؤَاکِلُوْہُنَّ وَلَمْ یُجَامِعُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ، فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {وَیَسْأَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ} حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْآیَۃِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِصْنَعُوْا کُلَّ شَیئٍ اِلَّا النِّکَاحَ)) (مسند أحمد: ۱۲۳۷۹)
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ جب عورت حائضہ ہو جاتی تو یہودی لوگ نہ اس کے ساتھ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ ہم بستری کرتے تھے، جب صحابہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس بارے میں دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوہُنَّ حَتَّی یَطْہُرْنَ فَاِذَا تَطَھَّرْنَ فَأْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ۔}… آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے کہ وہ تکلیف دہ چیز ہے، حالت ِ حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیںان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ، جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور بہت پاک رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۲۲) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہم بستری کے علاوہ ہر چیز کر سکتے ہو۔
Takhreej
(۹۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۰۲ (انظر: ۱۲۳۵۴)
930
Sahih
۔ (۹۳۱)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہَا وَقَدْ حَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَکَّۃَ: قَالَ لَہَا: (( اِقْضِیْ مَا یَقْضِیْ الْحَاجُّ غَیْرَ أَن لَّا تَطُوْفِیْ بِالْبَیْتِ)) (مسند أحمد: ۲۴۶۱۰)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ جب وہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے سرِف مقَامَ پر حائضہ ہو گئی تھیں، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے ان سے فرمایا تھا: تم بھی وہی کچھ کرتی رہو، جو کچھ حاجی لوگ کر رہے ہیں، البتہ بیت اللہ کا طواف نہیں کرنا۔
Takhreej
(۹۳۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۹۴، ۵۵۴۸، ۵۵۵۹۹، ومسلم: ۱۲۱۱(انظر: ۲۴۱۰۹)
931
Sahih
۔ (۹۳۲)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ(فِی قِصَّۃِ أُمِّ حَبِیْبَۃَ بِنْتِ جَحْشٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہَا: ((فَاِذَا أَقْبَلَتِ الْحَیْضَۃُ فَدَعِیْ الصَّلٰوۃَ وَاِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِیْ ثُمَّ صَلِّیْ)) (مسند أحمد: ۲۵۰۴۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحشؓ کا قصہ بیان کرتی ہوئے کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون شروع ہو جائے تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھنا شروع کر دیا کر۔
Takhreej
(۹۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۷، مسلم: ۳۳۴(انظر: ۲۴۵۳۸)
932
Sahih
۔ (۹۳۳)۔ عَنْ مُعَاذَۃَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِی الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِیْ الصَّلٰوۃَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُوْرِیَّۃٌ أَنْتِ؟ قُلْتُ: لَسْتُ بِحَرُوْرِیَّۃٍ وَلَکِنِّیْ أَسْأَلُ، قَالَتْ: قَدْ کَانَ یُصِیْبُنَا ذَالِکَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُؤْمَرُ وَلَا نُؤْمَرُ، فَیَأْمُرُ بِقَضَائِ الصَّوْمِ وَلَا یَأْمُرُ بِقَضَائِ الصَّلَوۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۴۷۷)
معاذہ کہتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے سوال کیا: کیا وجہ ہے کہ حائضہ خاتون روزوںکی قضائی دیتی ہے اور نماز کی قضائی نہیں دیتی؟ انھوں نے مجھ سے کہا: کیا تو حروراء علاقے سے ہے؟ میں نے کہا: جی میں حروریہ نہیں ہوں، ویسے سوال کر رہی ہوں، پس انھوں نے کہا: ہمیں یہ حیض آتا تھا، جبکہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ہوتی تھیں، تو ہمیں (کچھ کا) حکم دیا جاتا تھا اور (کچھ کا) ہمیں حکم نہیں دیا جاتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ روزوں کی قضائی کا حکم دیتے تھے اور نمازوں کی قضائی کا حکم نہیں دیتے تھے۔
Takhreej
(۹۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۱، ومسلم: ۳۳۵(انظر: ۲۵۹۵۱)
Explanation
فوائد:… حائضہ خاتون کے مسائل معروف ہیں کہ وہ ان ایام میں نہ نماز ادا کر سکتی ہے اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے، البتہ بعد میں روزوں کی قضائی دے گی، چونکہ بیت اللہ کے طواف کو بھی نماز کہا گیا ہے، اس لیے وہ اس حالت میں طواف بھی نہیں کر سکتی، جب حائضہ کا خون ختم ہو جائے گا تو وہ غسل کر کے پاک ہو جائے گی۔ کوفہ کے قریب دو میل کے فاصلے پر ایک مقام کا نام حروراء تھا، خوارج سب سے پہلے اس مقام میں جمع ہوئے تھے، ان کا ایک گروہ اس امر کا قائل تھا کہ حائضہ عورت کو روزوں کی طرح نمازوں کی قضائی بھی دینی چاہیے، یہ ایک باطل نظریہ تھا، اس نظریے کو سامنے رکھ کر سیدہ عائشہؓ نے اس خاتون سے پوچھا تھا کہ اس کا تعلق خارجیوں سے تو نہیں ہے۔ اگلے ابواب میں حائضہ کے مزید احکام بیان کیے جا رہے ہیں۔
933
Sahih

Chapters

13
01
حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
4 Hadith
02
حیض کے ایام میں بیوی سے ہم بستری کرنے سے ڈرانے کا بیان
1 Hadith
03
جس نے حائضہ بیوی سے جماع کر لیا، اس کے کفارے کا بیان
2 Hadith
04
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
15 Hadith
05
حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جوٹھے کے پاک ہونے کا بیان
2 Hadith
06
حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل ہونے کے حکم کا بیان
6 Hadith
07
حائضہ عورت کے جسم اور کپڑوں کے پاک ہونے کا بیان، الّا یہ کہ وہ جگہ جہاں خون لگا ہوا ہو
4 Hadith
08
حیض اور نفاس والی عورت کے غسل کی کیفیت
3 Hadith
09
مستحاضہ کا اپنی عادت پر بنیاد رکھنے اور ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
10
اس مستحاضہ کا بیان جو خون میں فرق کر کے عمل کرتی ہے
2 Hadith
11
جس مستحاضہ کی عادت بھی نامعلوم ہو اور وہ خون میں تمیز بھی نہ کر سکتی ہو، وہ کیا کرے؟
1 Hadith
12
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
2 Hadith
13
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
4 Hadith
No chapter matched that.