TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حیض اور نفاس والی عورت کے غسل کی کیفیت

Chapter 8 of حیض، استحاضہ اور نفاس کے خونوں کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 13 · 3 Hadith
۔ (۹۶۴)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّہْرِ؟ فَقَالَ: ((خُذِیْ فِرْصَۃً مُمَسَّکَۃً فَتَوَضَّئِیْ بِہَا۔)) قَالَتْ: کَیْفَ أَتَوَضَّأُ بِہَا؟ قَالَ: ((تَوَضَّئِیْ بِہَا۔)) قَالَتْ: کَیْفَ أَتَوَضَّأُ بِہَا؟ ثُمَّ اِنَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبَّحَ فَأَعْرَضَ عَنْہَا، ثُمَّ قَالَ: ((تَوَضَّئِیْ بِہَا۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَفَطِنْتُ لِمَا یُرِیْدُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذْتُہَا فَجَذَبْتُہَا اِلَیَّ فَأَخْبَرْتُہَا بِمَا یُرِیْدُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۱۹)
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں طہارت حاصل کرتے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر۔ اس نے کہا: اس کے ذریعے میں کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ وہ پھر کہنے لگی: میں اس کے ذریعے کیسے طہارت حاصل کروں؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سبحان اللہ کہا اور اس سے اعراض کیا اور پھر فرمایا: اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا مقصد سمجھ گئی، اس لیے میں نے اس خاتون کو اپنی طرف کھینچ لیا اور سمجھا دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو کیا فرمانا چاہ رہے تھے۔
Takhreej
(۹۶۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۵، ومسلم: ۳۳۲ (انظر: ۲۴۹۰۷)
Explanation
فوائد:… یہ روایت مختصر ہے، اگلی روایت میں تفصیل ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا مقصود یہ تھا کہ جب عورت حیض سے فارغ ہو تو وہ اپنی شرمگاہ پر کستوری جیسی خوشبو لگائے تاکہ خون کی بدبو ختم ہو جائے اور مزاج کے اندر نفاست آ جائے۔
964
Sahih
۔ (۹۶۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔عَنْ اِبْرَاہِیْمَ الْمُہَاجِرِ قَالَ: سَمِعْتُ صَفِیَّۃَ بِنْتَ شَیْبَۃَ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ أَسْمَائَ سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ غُسْلِ الْمَحِیْضِ، قَالَ: تَأْخُذُ اِحْدَاکُنَّ مَائَ ہَا وَسِدْرَتَہَا فَتَطَہَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّہُوْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَی رَأْسِہَا فَتَدْلُکُہٗ دَلْکًا شَدِیْدًا حَتّٰی یَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَأْسِہَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَیْہَا الْمَائَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَۃً مُمَسَّکَۃً فَتَطَہَّرُ بِہَا۔)) قَالَتْ أَسْمَائُ: وَکَیْفَ تَطَہَّرُ بِہَا؟ قَالَ: ((سُبْحَان اللّٰہِ! تَطَہَّرِیْ بِہَا۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: کَأَنَّہَا تُخْفِیْ ذٰلِکَ: تَتَبَّعِیْ أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلْتُہُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَۃِ، قَالَ: ((تَأْخُذِیْ مَائَ کِ فَتَطَہَّرِیْنَ فَتُحْسِنِیْنَ الطُّہُوْرَ أَوْ أَبْلِغِی الطُّہُوْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلٰی رَأْسِہَا فَتَدْلُکُہٗ حَتّٰی یَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَأْسِہَا ثُمَّ تُفِیْضُ عَلَیْہَا الْمَائَ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: نِعْمَ النِّسَائُ نِسَائُ الْأَنْصَارِ، لَمْ یَکُنْ یَمْنَعُہُنَّ الْحَیَائُ أَنْ یَتَفَقَّہْنَ فِی الدِّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۶۶۰)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ اسماء ؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے حیض کے غسل کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خاتون پانی اور بیری کے پتے لے لے اور وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر سر پر پانی بہائے اور اس کو اچھی طرح مَلے، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے وجود پر پانی بہا دے، پھر کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ اسماءؓ نے کہا: وہ اس کے ساتھ کیسے طہارت حاصل کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سبحان اللہ! تو اس سے پاکیزگی حاصل کر۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: گویا کہ یہ بات اس کے لیے خفا والی تھی کہ وہ اس کو خون کے نشانات پر لگا دے۔ اور میں نے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم پانی لو، وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر اپنے سر پر پانی بہاؤ اور اس کو خوب ملو، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے جسم پر پانی بہادے۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: انصار کی عورتیں بہترین عورتیں ہیں، ان کے لیے دین کی فقاہت حاصل کرنے کے لیے حیا مانع نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۹۶۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
965
Sahih
۔ (۹۶۶)۔عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَ نَّہَا ذُکِرَتِ نِسَائُ الْأَنْصَارِ فَأثْنَتْ عَلَیْہِنَّ وَقَالَتْ لَہُنْ مَعْرُوْفًا وَقَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ سُوْرَۃُ النُّوْرِ عَمَدْنَ اِلٰی حُجَزِ أَوْ حُجُوْزِ مَنَاطِقِہِنَّ فَشَقَقْنَہُ ثُمَّ اتَّخَذْنَ مِنْہُ خُمُرًا، وَاِنَّہَا دَخَلَتْ اِمْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الطُّہُوْرِ مِنَ الْحَیْضِ، فَقَالَ: ((نَعَمْ، لِتَأْخُذَ اِحْدَاکُنَّ مَائَ ہَا وَسِدْرَتَہَا…)) فَذَکَرَتْ نَحْوَ الْحَدَیْثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۶۷)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ انصار کی عورتوں کا ذکر کیا گیا، انھوں نے ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں اچھی باتیں کہیں، نیز انھوں نے کہا: جب سورۂ نور نازل ہوئی تو اِن انصاری خواتین نے اپنے ازاروں کی طرف قصد کیا اور ان کو پھاڑ کر دو پٹے بنا لیے، نیز سیدہ نے یہ بات بھی ذکر کی کہ ایک دفعہ ایک انصاری خاتون رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حیض سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، خاتون کو چاہیے کہ پانی اور بیری کے پتوں کا اہتمام کرے، ……۔ پھر سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۹۶۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ شطرہ الاول البخاری: ۴۷۵۸، ۴۷۵۹، ورواہ بتمامہ ومختصرا ابوداود: ۳۱۵، ۴۱۰۰ (انظر: ۲۵۵۵۱)
966
Sahih

Chapters

13
01
حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
4 Hadith
02
حیض کے ایام میں بیوی سے ہم بستری کرنے سے ڈرانے کا بیان
1 Hadith
03
جس نے حائضہ بیوی سے جماع کر لیا، اس کے کفارے کا بیان
2 Hadith
04
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
15 Hadith
05
حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جوٹھے کے پاک ہونے کا بیان
2 Hadith
06
حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل ہونے کے حکم کا بیان
6 Hadith
07
حائضہ عورت کے جسم اور کپڑوں کے پاک ہونے کا بیان، الّا یہ کہ وہ جگہ جہاں خون لگا ہوا ہو
4 Hadith
08
حیض اور نفاس والی عورت کے غسل کی کیفیت
3 Hadith
09
مستحاضہ کا اپنی عادت پر بنیاد رکھنے اور ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
10
اس مستحاضہ کا بیان جو خون میں فرق کر کے عمل کرتی ہے
2 Hadith
11
جس مستحاضہ کی عادت بھی نامعلوم ہو اور وہ خون میں تمیز بھی نہ کر سکتی ہو، وہ کیا کرے؟
1 Hadith
12
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
2 Hadith
13
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
4 Hadith
No chapter matched that.