TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 947 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 11 of 15 in this chapter
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
۔ (۹۴۷)۔ عَنِ ابْنِ قُرَیْظَۃَ الصَّدَفِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَؓ: أَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُضَاجِعُکِ وَأَنْتِ حَائِضٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، اِذَا شَدَدتُّ عَلَیَّ اِزَارِیْ وَلَمْ یَکُنْ لَنَا اِذْ ذَاکَ اِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ، فَلَمَّا رَزَقَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِرَاشًا آخَرَ اِعْتَزَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۵۱۱۳)
ابن قریظہ صدفی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا: جب آپ حائضہ ہوتی تھیں تو کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آپ کے ساتھ لیٹ جایا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب میں ازار کو اپنے اوپر کس لیتی تھی اور اس وقت سرے سے ہمارا بچھونا ہی ایک تھا، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور بچھونا دے دیاتھا تو میں اس حالت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے الگ ہو جاتی تھی۔
947
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۹۴۷) اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن قریظہ الصدفی، وقد اختلف فیہ علی یزید بن ابی حبیب (انظر: ۲۴۶۰۶)

Related Chapters

503
1
CHAPTER: Mixing One’s Food With The Food Of An Orphan.
باب: یتیم کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ شریک کرنا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
2
(100)Chapter: What Has Been Related About Eating With A Menstruating Woman And Leftovers
باب: حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Oath Along With A Witness
باب: ایک گواہ کے ساتھ مدعی قسم کھانا دعویٰ کو ثابت کرنا ہے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Eating With A Leper
باب: کوڑھی کے ساتھ کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Eating Melon With Fresh Dates
باب: تازہ کھجور کے ساتھ تربوز کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Eating Snake Cucumber With Fresh Dates
باب: کھجور کے ساتھ ککڑی کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Eating With Slaves (And Dependants)
باب: بال بچوں، خادم اور غلام کے ساتھ کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جوٹھے کے پاک ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
9
حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل ہونے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
10
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
11
کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
Musnad Ahmad
12
کھڑے ہو کر اور ٹیک لگا کرکھانا کھانے کے مکروہ ہونے کا حکم
Musnad Ahmad
13
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا مستحب اور بائیں ہاتھ کے ساتھ مکروہ ہے
Musnad Ahmad
14
کھانے والے کا پلیٹ کے اس حصے سے کھانا، جو اس کے سامنے ہو
Musnad Ahmad
15
اس شخص کا بیان، جس کو کھانے کی دعوت دی گئی اور اس نے کھانے سے فراغت کے بعد اپنے ساتھیوں کے لیے دعا کی
Musnad Ahmad
16
(43) CHAPTER. The performance of ablution by a man along with his wife. The utilization of water remaining after a woman has performed ablution.
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ وضو کرنا اور عورت کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
17
(4) CHAPTER. A partner sharing a meal should not eat two dates at a time unless he gets the permission of his partner.
دو دو کھجوریں ملا کر کھانا کسی شریک کو جائز نہیں جب تک دوسرے ساتھ والوں سے اجازت نہ لے
Sahih Bukhari
18
(80) CHAPTER. The shield, and shielding oneself with the shield of his companion.
ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان
Sahih Bukhari
19
(2) CHAPTER. One should mention the Name of Allah on starting to eat, and one should eat with his right hand.
کھانے کے شروع میں بسماللہ پڑھنا اوردائیں ہاتھ سے کھانا ۔
Sahih Bukhari
20
(3) CHAPTER. To eat of the dish what is nearer to you.
برتن میں سامنے سے کھانا اور حضرت انس رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کھانے سے پہلے ) اللہ کا نام لیا کرو اور ہر شخص اپنے نزدیک سے کھائے 2
Sahih Bukhari
21
(5) CHAPTER. To eat with one's right hand, and to start with the right side in doing other things, etc.
کھانے پینے میں داہنے ہاتھ کا استعمال کرنا ۔
Sahih Bukhari
22
(39) CHAPTER. The eating of snake cucumber with fresh dates.
تازہ کھجور اور ککڑی ایک ساتھ کھانا ۔
Sahih Bukhari
23
(44) CHAPTER. To eat two dates at a time.
دو کھجور وں کو ایک ساتھ ملا کر کھانا ۔
Sahih Bukhari
24
(47) CHAPTER. The taking of two kinds of fruit or two kinds of food at a time.
ایک وقت میں دو طرح کے ( پھل ) یا دو قسم کے کھانے جمع کر کے کھانا ۔
Sahih Bukhari
25
(51) CHAPTER. To rinse the mouth after taking meals.
کھانا کھانے کے بعد کلی کرنے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
26
(54) CHAPTER. What one should say after finishing one's meal.
کھانا کھانے کے بعد کیا دعاپڑھنی چاہیئے ؟
Sahih Bukhari
27
(55) CHAPTER. To eat with one's servant.
خادم کو بھی ساتھ میں کھانا کھلانا مناسب ہے ۔
Sahih Bukhari
28
(14) CHAPTER. The utensils of Magians and (the eating of) dead flesh.
مجوسیوں کا برتن استعمال کرنا اور مردار کا کھانا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
29
(25) CHAPTER. If someone makes some food unlawful for himself.
اگر کوئی شخص اپنا کھانا اپنے اوپر حرام کرلے
Sahih Bukhari
30
Chapter: It is recommended to lick one's fingers and wipe the bowl, and to eat a piece of food that is dropped after removing any dirt on it. It is disliked to wipe one's hand before licking it, because of the possibility that the blessing of the food may be in that remaining part. The Sunnah is to eat with three fingers
انگلیاں اور کھانے کا برتن چاٹنے اور نیچے گرجانے والے لقمے کو جو ناپسند چیز لگی ہے،اسے صاف کرکے کھالینے کااستحباب اور اس کو چاٹنے سے پہلے ،کہ برکت اسی میں ہوسکتی ہے،ہاتھ پونچھنا مکروہ ہے اور سنت تین انگلیوں سے کھانا ہے
Sahih Muslim
31
Chapter: It is permissible to take someone else to the house of one who you are certain will approve of that and will not mind. It is recommended to gather to eat
اگر میزبان کی رضا مندی پر اعتماد ہو اس بات کا پورا یقین ہو تو کسی اور کو اپنے ساتھ اس (بلانے والے)کے گھر لے جاناجائز ہے ،اور کھانے پر اکھٹا ہونامستحب ہے
Sahih Muslim
32
Chapter: Eating cucumbers with fresh dates
تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھانا
Sahih Muslim
33
Chapter: The prohibition of eating two dates etc., at a time when eating with a group, except with the permission of one's companions
کھانے میں شریک ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ایک لقمے میں دویازیادہ کھجوریں ملا (کر کھانے )کی ممانعت
Sahih Muslim
34
Chapter: The virtue of sharing a small amount of food, and the food of two is sufficient for three, and so on.
کم کھانے میں بھی مہمان نوازی کرنا،دو آدمیوں کا کھانا تین کو کافی ہوجاتاہے۔اور اسی طرح (تین کا چار کو اور آگے)
Sahih Muslim
35
Chapter: The Prohibition Of Using Vessels Of Gold And Silver For Drinking Etc., For Men And Women
پینے (کھانے ،کچھ رکھنے) وغیرہ کے لیے سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہے
Sahih Muslim
36
Chapter: It Is Recommended For The One Who Is Seen Alone With A Woman Who Is His Wife Or Mahram, To Say; This Is So-And-So,' To Ward off Suspicion
جو شخص اپنی بیوی یا کسی محرم خاتون کے ساتھ اکیلا ہوتو وہ بدگمانی سے بچنے کے لئے (دیکھنے والوں کو) بتادے کہ یہ فلاں ہے
Sahih Muslim
37
CHAPTER: Whoever Called Sahur, ' Al-Ghada' (Breakfast).
باب: سحری کے کھانے کو «غداء» ( دوپہر کا کھانا ) کہنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: Permitting Food In The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کے ملک میں ( غنیمت میں ) غلہ یا کھانے کی چیز آئے تو کھانا جائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: Regarding Carrying Food Out Of The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کی زمین سے اپنے ساتھ کھانے کی چیزیں لانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of The Animals Being Confined (To Be Shot At), And, Being Gentle With Animal To Be Slaughtered.
باب: جانوروں کو بغیر کھانا پانی دئیے باندھ رکھنے کی ممانعت اور قربانی کے جانور کے ساتھ نرمی اور شفقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: Regarding eating together (In a group).
باب: ایک ساتھ مل کر کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: The prohibition of eating al Jallalah and its milk.
باب: گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: Regarding eating the fish that die in the sea and float.
باب: مر کر پانی کے اوپر آ جانے والی مچھلی کا کھانا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Taking two dates at a time when eating.
باب: دو دو تین تین کھجوریں ایک ساتھ کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: Regarding combining two types of food.
باب: دو قسم کے کھانے ایک ساتھ کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: Regarding a servant eating with his master.
باب: مالک کے ساتھ خادم کے کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
47
کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم
Sunnan Ibn e Maja
48
حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے جھوٹے کے حکم کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
49
حائضہ عورت کے ساتھ کھانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
50
جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) کا گوشت کھانا منع ہے
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

4
Musnad Ahmad
844
۔ (۸۴۴)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَی (الْأَشْعَرِیِّ) ؓ قَالَ لِعَائِشَۃَؓ: اِنِّی أُرِیْدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنْ شَیْئٍ وَأَنَا أَسْتَحْیِیْ مِنْکِ، فَقَالَتْ: سَلْ وَلَا تَسْتَحْیِیْ، فَاِنَّمَا أَنَا أُمُّکِ، فَسَأَلَہَا عَنِ الرَّجُلِ یَغْشٰی وَلَا یُنْزِلُ، فَقَالَتْ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا أَصَابَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۶۲)
سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، جبکہ میں آپ سے شرماتا بھی ہوں، انھوں نے کہا: تم سوال کرو اور نہ شرماؤ، میں تمہاری ماں ہی ہوں۔ پھر انھوں نے اس آدمی کے بارے میں سوال کیاجو اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن انزال نہیں ہوتا، انھوں نے جواباً کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ختنہ والی جگہ، ختنے والی جگہ سے ٹکرا جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔
Musnad Ahmad
909
۔ (۹۰۹)۔ عَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَؓ: أَرَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ فِیْ أَوَّلِ اللَّیْلِ أَوْ فِیْ آخِرِہِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اِغْتَسَلَ فِی أَوَّلِ اللَّیْلِ وَرُبَّمَا اِغْتَسَلَ فِیْ آخِرِہِ، قُلْتُ: اَللّٰہُ أکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی الْأَمْرِ سَعَۃً، قُلْتُ: أَرَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُوتِرُ فِیْ أَوَّلِ اللَّیْلِ أَوْ فِیْ آخِرِہِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِیْ أَوَّلِ اللَّیْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِیْ آخِرِہِ، قُلْتُ: اَللّٰہُ أکْبَرُ، اَلحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی الْأَمْرِ سَعَۃً، قُلْتُ: أَرَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَجْہَرُ بِالْقُرْآنِ أَوْ یُخَافِتُ بِہِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَہَرَ بِہِ وَرُبَّمَا خَافَتَ، قُلْتُ: اَللّٰہُ أکْبَرُ، اَلحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی الْأَمْرِ سَعَۃً۔ (مسند أحمد: ۲۴۷۰۶)
غُضیف بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کے شروع میں غسل کرتے تھے یا آخر میں؟ انھوں نے کہا: کبھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کے پہلے حصے میں غسل کر لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں۔ میں نے کہا: اَللّٰہُ أکْبَرُ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے، پھر میں نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کے پہلے حصے میں نمازِ وتر ادا کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ انھوں نے کہا: کبھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کے پہلے حصے میں نمازِ وتر ادا کرتے تھے اور کبھی آخری حصے میں۔ میں نے کہا: اَللّٰہُ أکْبَرُ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے،میں نے پھر کہا: اس بارے میں آپ کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قرآن کی تلاوت بآواز بلند کرتے تھے یا بآواز پست؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بسا اوقات جہری طور پر تلاوت کرتے تھے اور بسا اوقات سری طور پر، میں نے کہا: اَللّٰہُ أکْبَرُ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔
Musnad Ahmad
981
۔ (۹۸۱)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَرَّسَ بِأُوَلَاتِ الْجَیْشِ وَمَعَہُ عَائِشَۃُ زَوْجُتُہُؓ فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَہَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَائَ عِقْدِہَا وَذٰلِکَ حِیْنَ أَضَائَ الْفَجْرُ وَلَیْسَ مَعَ النَّاسِ مَائٌ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہِ رُخْصَۃَ التَّطَہُّرِ بِالصَّعِیْدِ الطَّیِّبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُوْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَرَبُوْا بِأَیْدِیْہِمُ الْاََرْضَ ثُمَّ رَفَعُوْا أَیْدِیَہُمْ وَلَمْ یَقْبِضُوْا مِنَ التُّرَابِ شَیْئًا فَمَسَحُوْا بِہَا وُجُوْہَہُمْ وَأَیْدِیَہُمْ اِلَی الْمَنَاکِبِ وَمِنْ بُطُوْنِ أَیْدِیْہِمْ اِلَی الْآبَاطِ، وَلَا یَغْتَرُّ بِھٰذَا النَّاسُ، وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ قَالَ لِعَائِشَۃَؓ: وَاللّٰہِ! مَا عَلِمْتُ اِنَّکِ لَمُبَارَکَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۱۲)
سیدنا عمار بن یاسرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے رات کے آخری حصے میں اولات الجیش کے مقام پر پڑاؤ ڈالا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ آپ کی بیوی سیدہ عائشہؓ بھی تھیں، ان کا ظفار کے موتیوں کا ہاتھ گم ہو گیا اور لوگوں کو اس ہار کی تلاش کے لیے روک لیا گیا، اُدھر فجر روشن ہو رہی تھی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، پس اللہ تعالیٰ نے پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنے کی رخصت نازل کر دی، پس مسلمان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان کو اٹھایا اور مٹی ہاتھوں کے ساتھ بالکل نہیں اٹھائی۔ پھر ان کو اپنے چہروں پر پھیرا اور اپنے ہاتھوں کے ظاہری حصے سے کندھوں تک اور باطنی حصے سے بغلوں تک، ان حصوںپر بھی ہاتھ پھیرے۔ لیکن لوگوں کو اس کیفیت سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابو بکر ؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: اللہ کی قسم! مجھے جو بات سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ تو بہت برکت والی ہے۔
Musnad Ahmad
1688
۔ (۱۶۸۸) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عُثْمَانَ الْأَ نْصَارِیِّ عَنْ ھَانِیئِ بْنِ مَعَاوِیَۃَ الصَّدَفِیِّ حَدَّثَہُ قَالَ: حَجَجْتُ زَمَانَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَلَسْتُ فِی مَسْجِدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا رَجُلٌ یُحَدِّثُہُمْ، قَالَ: کُنَّا عَنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَصَلّٰی فِی ھٰذَا الْعَمُودِ فَعَجَّلَ قَبْلَ أَنْ یُتِمَّ صَلاَتَہُ ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّ ھٰذَا لَوْ مَاتَ لَمَاتَ وَلَیْسَ مِنَ الدِّیْنِ عَلٰی شَیْئٍ، إِنَّ الرَّجُلَ لَیُخَفِّفُ صَلاَتَہُ وَیُتِمُّہَا، قَالَ فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ مَنْ ھُوَ؟ فَقِیْلَ عُثْمَانُ بْنُ حَنِیْفٍ الْأَ نْصَارِیُّ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۷۵)
ہانی بن معاویہ صدفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانے میں حج کیا، میں مسجد نبوی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں ایک آدمی لوگوں کو حدیث بیان کررہا تھا، اس نے کہا: ہم ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے کہ ایک آدمی نے آکر اس ستون کے پاس نماز پڑھی اور اس نے اپنی نماز پور ی کرنے میں جلدی کی اور پھر وہ چلا گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ شخص مر جائے تو اس حالت میں مرے گا کہ دین کی کسی چیز سے یہ متصف نہیں ہو گا۔ آدمی اپنی نماز مکمل کرتے ہوئے بھی تخفیف کر سکتا ہے۔ میں نے اس (حدیث بیان کرنے والے) آدمی کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ سیدنا عثمان بن حنیف انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔