TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب کی قسمِ اوّل … توحید اور دین کے اصولوں کا حصہ - کتاب کی قسمِ اوّل … توحید اور دین کے اصولوں کا حصہ - Book 1 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 1 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 50 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

50 Hadith · 4 Chapters
All books
Previous Book Next Book
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۴۱)۔عَنْ أَبِیْ عَمْرَۃَ الْأَنْصَارِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، لَا یَلْقَی اللّٰہَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِہِمَا إِلَّا حُجِبَتْ عَنْہُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۵۲۸)
سیدنا ابو عمرہ انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، جو آدمی بھی ان دو شہادتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو ملے گا، تو قیامت کے دن اس سے آگ کو دور کر دیا جائے گا۔
Takhreej
(۴۱) تخریج: اسنادہ قوی ۔ أخرجہ النسائی فی الکبری : ۸۷۹۳، والطبرانی فی الکبیر : ۵۷۵، والحاکم: ۲/ ۶۱۸(انظر: ۱۵۴۴۹)
41
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۴۲)۔ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ (ؓ): خَصْلَتَانِ یَعْنِی إِحْدَاہُمَا سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ الْأُخْرٰی مِنْ نَفْسِیْ، ((مَنْ مَاتَ وَہُوَ یَجْعَلُ لِلّٰہِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ۔)) وَ أَنَا أَقُوْلُ: مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ لَا یَجْعَلُ لِلّٰہِ نِدًّا وَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ (مسند أحمد: ۳۵۵۲)
ابووائل سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں: دو باتیں ہیں، ایک بات تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہے اور دوسری بات میری اپنی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو بندہ اس حال میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہراتا ہو، وہ آگ میں داخل ہو گا۔ اور میں خود کہتا ہوں: اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ نہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہراتا ہو اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک بناتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
Takhreej
(۴۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۲(انظر: ۳۵۵۲)
42
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۴۳)۔عَنْ أَبِیْ نُعَیْمٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ أَوْ شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ فَنَزَلَ عَلَی مَسْرُوْقٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو(بْنِ الْعَاصِ ؓ) یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، لَمْ تَضُرَّہُ مَعَہُ خَطِیْئَۃٌ، وَ مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ لَمْ تَنْفَعْہُ مَعَہُ حَسَنَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۸۶)
ابو نعیم کہتے ہیں: ایک آدمی یا ایک بوڑھا، جس کا تعلق اہل مدینہ سے تھا، آیا اور مسروق کے پاس ٹھہرا، اس نے کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی خطا اس کو نقصان نہیں دے گی، لیکن جو بندہ اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی نیکی اس کو فائدہ نہیں دے گی۔
Takhreej
(۴۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر (انظر: ۶۵۸۶)
Explanation
فوائد:… اس عمل کی وجہ سے کوئی خطا اس کو نقصان نہیں دے گی اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ایسے آدمی اور جنت کے درمیان کوئی گناہ مستقل طور پر حائل نہیں ہو سکتا اور یہ ممکن ہے کہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے اس کو اس گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جائے، اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے: سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَاِنَّ مَنْ کَانَ آخِرُ کَلِمَتِہٖ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عِنْدَ الْمَوْتِ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ یَوْمًا مِنَ الدَّھْرِ، وَاِنْ اَصَابَہٗ قَبْلَ ذَالِکَ مَا اَصَابَہٗ)) … قریب الموت لوگوں کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو، موت کے وقت جس کا آخری کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وہ کسی نہ کسی دن جنت میں داخل ہو جائے گا، اگرچہ اس سے پہلے اس کو کسی عذاب میں مبتلا ہونا پڑے۔ (صحیح ابن حبان: ۳۰۰۴، مسند البزار: ۳)
43
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۴۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُوْجِبَتَانِ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
Takhreej
(۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۳ (انظر: ۱۴۷۱۱)
44
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۴۵)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِمُعَاذٍ: ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: لَا یُشْرِکُ بِہِ) دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: (( لَا، إِنِّیْ أَخَافُ أَنْ یَتَّکِلُوْاعَلَیْہَا۔)) أَوْ کَمَا قَالَ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۳۳)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سیدنا معاذ ؓ سے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کو ا س حال میں ملے کہ وہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی شہادت دیتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا میں لوگوں یہ خوشخبری سنا نہ دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں، مجھے یہ ڈر ہے کہ اس پر توکّل کر لیں گے (اور عمل ترک کر دیں گے)۔
Takhreej
(۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۲۹(انظر: ۱۲۶۰۶)
45
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۴۶)۔عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ ؓ قَالَ: وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَ إِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴۷۳)
سیدنا سلمہ بن نعیمؓ، جو کہ صحابۂ کرام میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس نے زنا بھی کیا ہو اور چوری بھی کی ہو۔
Takhreej
(۴۶) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۶۳۴۷، والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۳۹۹۹(انظر: ۱۸۲۸۴)
46
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۴۷)۔عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ حَدَّثَنَا ہِصَّانُ الْکَاہِنُ الْعَدِوِیُّ قَالَ: جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِیْہِ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ (ؓ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عَلَی الْأَرْضِ نَفْسٌ تَمُوْتُ لَا تُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا،تَشْہَدُ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ یَرْجِعُ ذَاکُمْ إِلَی قَلْبٍ مُوْقِنٍ إِلَّا غُفِرَ لَہُ۔))، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ مُعَاذٍ؟ قَالَ الْقَوْمُ: فَعَنَّفَنِیْ، فَقَالَ: دَعُوْہُ فَإِنَّہُ لَمْ یُسِیئِ الْقَوْلَ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُہُ مِنْ مُعَاذٍ زَعَمَ أَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۵۰)
ہصان کاہن عدوی کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس میں سیدنا عبد الرحمن بن سمرہؓبھی تشریف فرما تھے، ہمیں سیدنا معاذ بن جبلؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے، جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتی ہو اور یہ گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس شہادت کا تعلق یقینِ دل سے ہو، مگر اس کو بخش دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا: کیا تو نے یہ حدیث سیدنا معاذؓ سے سنی ہے؟ اس بات پر لوگوں نے میری سرزنش کی اور کہا: اس کو چھوڑ دو، اس نے کوئی بری بات تو نہیں کہی ہے، بہرحال میں (عبد الرحمن) نے سیدنا معاذؓ سے یہ بات سنی ہے اور ان کا خیال تھا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ حدیث سنی تھی۔
Takhreej
(۴۷) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن حبان: ۲۰۳، والبزار فی مسندہ : ۲۶۲۴، والطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۷۱، وانظر الحدیث بالطریق الثانی(انظر: ۲۲۰۰۰)
47
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۴۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ ثَنَا یُوْنُسُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ ہِصَّانَ بْنِ الْکَاہِلِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَۃِ فَجَلَسْتُ إِلٰی شَیْخٍ أَبْیَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِیْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَ فِیْہِ قَالَ: لَا تُعَنِّفُوْہُ وَلَا تُؤَنِّبُوْہُ دَعُوْہُ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاکَ مِنْ مُعَاذٍ یَذْکُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ إِسْمَاعِیْلُ مَرَّۃً: یَأْثُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْتُ لِبَعْضِہِمْ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: ہٰذَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۴۸)
ہصان بن کاہل کہتے ہیں: میں بصرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوا اور ایک ایسے بزرگ کے پاس بیٹھ گیا، جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اس نے کہا: سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: …، پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے: انھوں نے کہا: اس کی سرزنش نہ کر اور اس کو مت ڈانٹو، اسے چھوڑ دو ہاں میں نے سیدنا معاذ ؓ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے بیان کر رہے تھے۔ اور اسماعیل نے ایک مرتبہ کہا: وہ اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے نقل کر رہے تھے میں نے ایک آدمی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ؓہیں۔
Takhreej
(۴۸) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۷۹۶ وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۱۹۹۸)
48
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۴۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلٰی عَنْ یُوْنُسَ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ ہِصَّانَ بْنِ الْکَاہِلِ قَالَ وَکَانَ أَبُوْہُ کَاہِنًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فِی إِمَارَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَإِذَا شَیْخٌ أَبْیَضُ الرَّأْسِ وَ اللِّحْیَۃِ یُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۴۹)
ہصان بن کاہل، ان کے باپ دورِ جاہلیت میں کہانت کرتے تھے، کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفانؓکی خلافت کے زمانے میں مسجد میں داخل ہوا، وہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، وہ سیدنا معاذؓ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے حدیث بیان کرنے لگے، …۔ پھر اوپر والی حدیث بیان کی۔
Takhreej
(۴۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول(انظر: ۲۱۹۹۹)
49
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۵۰)۔عَنْ أَبِی ذَرٍّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: یَا ابْنَ آدَمَ لَوْ عَمِلْتَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطَایَا وَلَمْ تُشْرِکْ بِی شَیْئًا جَعَلْتُ لَکَ قُرَابَ الْأَرْضِ مَغْفِرَۃً۔)) زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: وَ قُرَابُ الْأَرْضِ مِلْئُ الْأَرْضِ۔ (مسند أحمد: ۲۱۶۳۶)
سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو زمین کے بھراؤ کے برابر گناہ کرے، لیکن میرے ساتھ شرک نہ کرے تو میں تجھے زمین کے بھرنے کے برابر ہی بخشش عطا کر دوں گا۔ ایک روایت میں ہے: قُرَابُ الْأَرْضِ سے مراد زمین کا بھراؤ ہے۔
Takhreej
(۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم اطول منہ: ۲۶۸۷(انظر: ۲۱۳۱۱)
Explanation
فوائد:… ہم پہلے یہ گزارش کر چکے ہیں کہ یہ احادیث توحید کی فضیلت اور شرک کی مذمت پر دلالت کرتی ہیں،لیکن اِن کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ ہم اِن خوشکن فرمودات کو سامنے رکھ کر اعمالِ صالحہ سے باز رہنے اور اعمالِ سیئہ کا ارتکاب کرنے کی روش اختیار کر لیں، ذرا درج ذیل امور پر غور کریں: ٭ خود نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اِن ارشادات کی روشنی میں اعمال صالحہ کی مشکل روٹین کو متأثر نہ ہونے دیا۔ ٭ ان احادیث ِ مبارکہ کے اولین سامعین صحابۂ کرام تھے، لیکن اِن کی وجہ سے ان کی عملی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑھا۔ ٭ اگر عہد ِ نبوی میں صحابہ کے نفوس قدسیہ سے ایسے جرائم سرزد ہوئے، جن کی بنا پر حدود لگائی جاتی ہیں، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان پر وہ حدود نافذ کر دیں۔ ٭ بے شمار نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کئی مؤحدین کو موت کے وقت، قبر میں، حشر میں اور جہنم کی صورت میں سزا دی جائے گی، لیکن بالآخر وہ جنت میں پہنچ جائیں گے۔ ٭ کئی آیات اور احادیث میں نجات کے لیے ایمان اور عمل صالح کو شرط قرار دیا گیا ہے۔ ٭ احادیث نمبر (۳۱،۴۵) کے مطابق یہ احادیث ان لوگوں سے مخفی رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے، جن میں ان خوشخبریوں کی وجہ سے اعمال صالحہ کا رجحان کم پڑ سکتا ہے۔ پس خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث ِ مبارکہ برحق ہیں، ان میں توحید اور توحید کے کلمات کی بنا پر جو اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے، وہ بھی برحق ہے اور یہ کلمات ادا کر کے اہل ایمان کو یہ حسن ظن قائم کر لینا چاہیے کہ وہ ان شاء اللہ ان کے مصداق بنیں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کرنے اور برائیوں کو ترک کرنے کا رجحان کم نہیں پڑنا چاہیے۔
50
Sahih