TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب کی قسمِ اوّل … توحید اور دین کے اصولوں کا حصہ - کتاب کی قسمِ اوّل … توحید اور دین کے اصولوں کا حصہ - Book 1 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 1 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 50 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

50 Hadith · 4 Chapters
All books
Previous Book Next Book
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
۔ (۲۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یُؤْذِیْنِیْ ابْنُ آدَمَ، یَسُبُّ الدَّہْرَ وَ أَنَا الدَّہْرُ، بِیَدِی الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَ النَّہَارَ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۴۴)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: آدم کا بیٹا مجھے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ وہ زمانے کو برابھلا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں اختیار ہے، میں شب و روز کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔
Takhreej
(۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۸۲۶، ۷۴۹۱، ومسلم: ۲۲۴۶(انظر: ۷۲۴۳)
Explanation
فوائد: …اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ زمانہ میں ہوں ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ امورِ کائنات کا متصرف اور مُدَبِّر وہ ہے، زمانے کے سارے نظم و نسق میں اسی کی مشیت اور کاریگری کارفرما ہے، اس لیے انسان جب آزمائشوں کے دور سے گزر رہا ہو، مثلا: قحط، سیلاب، زلزلہ، آندھی، شکست، بیماری، فقیری، تو وہ زمانے اور وقت کو برا بھلا کہنے کی بجائے صبر کرے اور ایسی صورتوں میں اس کے وجود پر اللہ تعالیٰ کے کیا تقاضے ہیں، ان کو پورا کرے۔
21
Sahih
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
۔ (۲۲)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الشَّیْطَانَ یَأْتِیْ أَحَدَکُمْ فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَائَ؟ فَیَقُوْلُ: اَللّّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ فَیَقُوْلُ: اَللّٰہُ، فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ اللّٰہَ؟ فَإِذَا أَحَسَّ أَحَدُکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ ہَذَا، فَلْیَقُلْ: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ بِرُسُلِہٖ۔)) (مسند أحمد:۸۳۵۸)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے: کس نے آسمان کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ وہ پھر سوال کرتا ہے: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ اتنے میں وہ یہ سوال کر دیتا ہے: اچھا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ پس جب تم میں سے کوئی اس سوال کو محسوس کرے تو وہ کہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ بِرُسُلِہٖ (میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں)۔
Takhreej
(۲۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۷۶، ومسلم: ۱۳۴(انظر: ۸۳۷۶)
Explanation
فوائد: …اللہ تعالیٰ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، اس عظیم ذات کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا، اُس کے علاوہ کائنات کی ہر چیز اپنے وجود میں اور اس کو برقرار رکھنے میں اسی کی محتاج ہے، اس لیے اہل ایمان کے سینوں میں یہ سوال نہیں اٹھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا، اگر اس سے متعلقہ کوئی وسوسہ پیدا ہو جائے تو مسنون دعاؤں کے ذریعے ایسی سوچ کو دور کر دے۔
22
Sahih
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
۔ (۲۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: شَکَوْا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا یَجِدُوْنَ مِنَ الْوَسْوَسَۃِ وَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّا لَنَجِدُ شَیْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ کَانَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یَتَکَلَّمَ بِہٖ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَاکَ مَحْضُ الْإِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۲۵۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ لوگ اپنے دل میں جو وسوسہ محسوس کرتے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کا شکوہ کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی ایسی چیزیں محسوس کر جاتے ہیں کہ ان کو زبان سے بیان کرنے کی بہ نسبت ہمیں آسمان سے گرنا آسان لگتا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو خالص ایمان ہے۔
Takhreej
(۲۳) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۸۵۳۷، وابویعلی: ۴۶۴۹(انظر: ۲۴۷۵۲)
Explanation
فوائد: …یہ ایک اصولی بات ہے کہ جو آدمی غلط وسوسے کو محسوس کرنے لگے گا اور اس سے ڈرنے لگے گا کہ وہ اس کے تقاضے کے مطابق گفتگو کرے، تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ اس کے اعتقاد میں پختگی اور ایمان میں خلوص اور مضبوطی پیدا ہو گئی ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کا مقصود ہے، رہا اس آدمی کا مسئلہ جو فرائض کو ترک کرنے اور محرمات کا ارتکاب کرنے پر تلا ہوا ہو تو شیطان ملعون نے اس بیچارے کو وسوسوں میں ڈال کر کیا کرنا ہے؟
23
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۲۴)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ؓعَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ وَ أَنَّ عِیْسٰی عَبْدُاللّٰہِ وَ رَسُوْلُہُ وَ کَلِمَتُہُ أَلْقَاہَا إِلٰی مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِنْہُ وَ أَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ، أَدْخَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی الْجَنَّۃَ عَلَی مَا کَانَ مِنَ عَمَلٍ، (وَفِی رِوَایَۃٍ:) أَدْخَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی الْجَنَّۃَ مِنْ أَبْوَابِہَا الثَّمَانِیَۃِ مِنْ أَیِّہَا شَائَ دَخَلَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۵۱)
سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ عیسیؑ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جو اس نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا اور وہ اس کی طرف سے روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے تو اس شخص کا عمل جیسا مرضی ہو، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، ایک روایت میں ہے: وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی دروازے سے داخل کرے گا۔
Takhreej
(۲۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۳۵، ومسلم: ۲۸(انظر: ۲۲۶۷۵)
Explanation
فوائد: …ہر آدمی ہی اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہے، کیونکہ ہر ایک کی تخلیق کا تعلق اللہ تعالیٰ کے کلمے کُنْ سے ہوتا ہے، لیکن بیچ میں مردو زن کے تعلق کا ایک ظاہری سبب بھی ہوتا ہے، چونکہ حضرت عیسی ؑکی ولادت میں ظاہری اسباب کا کوئی دخل نہیں تھا، بلکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کے کلمے کُنْ کی بنیاد پر وجود میں آئی، اس لیے حضرت عیسی ؑکو خاص طور پر اللہ تعالیٰ کا کلمہ کہا جاتا ہے۔
24
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۲۵)۔وَ عَنْہُ أَیْضًا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ حُرِّمَ عَلَی النَّارِ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) حَرَّمَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَیْہِ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۸۷)
سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے رسول ہیں، تووہ آگ پر حرام کر دیا جائے گا، ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام کر دے گا۔
Takhreej
(۲۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹(انظر: ۲۲۷۱۱)
25
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۲۶)۔عَنْ یُوْسُفَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ أَبِیْہِ(ؓ) قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَہُمْ یَقُوْلُوْنَ: أَیُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِیْمَانٌ بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ وَ جِہَادٌ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) ثُمَّ سُمِعَ نِدَائٌ فِی الْوَادِی یَقُوْلُ: أَشْہَدُ أَن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَ أَنَا أَشْہَدُ وَ أَشْہَدُ أَنْ لَا یَشْہَدَ بِہَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِیَٔ مِنَ الشِّرْکِ۔))، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: وَ سَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ ہٰرُوْنَ۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۹۱)
سیدنا عبد اللہ بن سلامؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چل رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لانا، اللہ کے راستے میںجہاد کرنا اور حج مبرور۔ پھر وادی سے یہ آواز سنی گئی، کوئی کہہ رہا تھا: أَشْہَدُ أَن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اور میں بھی یہی گواہی دیتا ہوں اور میں یہ شہادت بھی دیتا ہوں کہ جو آدمی بھی یہ گواہی دے گا، وہ شرک سے بری ہو جائے گا۔ امام احمد i کے بیٹے عبد اللہ بن احمد نے کہا: میں نے یہ حدیث ہارون راوی سے براہِ راست سنی ہے۔
Takhreej
(۲۶) تخریج:صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن حبان: ۴۵۹۵، الطبرانی فی الکبیر : ۳۶۹، وفی الاوسط : ۸۸۹۱ (انظر: ۲۳۷۸۳)
26
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۲۷)۔عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ مَا تَ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۵۶)
سیدناابوایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔
Takhreej
(۲۷) تخریج: صحیح بمجموع طرقہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۰۴۴، وابن ابی شیبۃ: ۵/ ۳۲۰ (انظر: ۲۳۵۶۰)
27
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۲۸)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۵۹)
سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۲۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی الشیخین ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۷۶(انظر: ۲۲۰۰۹)
28
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۲۹،۳۰)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ الْبَیْضَائِ ؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أَنَا رَدِیْفُہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا سُہَیْلَ بْنَ الْبَیْضَائِ!)) وَرَفَعَ صَوْتَہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، کُلُّ ذٰلِکَ یُجِیْبُہُ سُہَیْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَظَنُّوْا أَنَّہُ یُرِیْدُہُمْ، فَحَبَسَ مَنْ کَانَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَ لَحِقَہُ مَنْ کَانَ خَلْفَہُ حَتَّی إِذَا اجْتَمَعُوْا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ وَ أَوْجَبَ لَہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) أَوْجَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بِہَا الْجَنَّۃَ وَ أَعْتَقَہُ بِہَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۳۰، ۱۵۹۳۳)
سیدنا سہیل بن بیضاءؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو یا تین مرتبہ بآواز بلند فرمایا: اے سہیل بن بیضاء! آگے سے سیدنا سہیل ؓجواب بھی دے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اوراس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۹،۳۰) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ الحاکم: ۳/ ۶۳۰، والطبرانی فی الکبیر : ۶۰۳۳(انظر: ۱۵۷۳۸)
29
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۲۹،۳۰)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ الْبَیْضَائِ ؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أَنَا رَدِیْفُہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا سُہَیْلَ بْنَ الْبَیْضَائِ!)) وَرَفَعَ صَوْتَہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، کُلُّ ذٰلِکَ یُجِیْبُہُ سُہَیْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَظَنُّوْا أَنَّہُ یُرِیْدُہُمْ، فَحَبَسَ مَنْ کَانَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَ لَحِقَہُ مَنْ کَانَ خَلْفَہُ حَتَّی إِذَا اجْتَمَعُوْا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ وَ أَوْجَبَ لَہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) أَوْجَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بِہَا الْجَنَّۃَ وَ أَعْتَقَہُ بِہَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۳۰، ۱۵۹۳۳)
سیدنا سہیل بن بیضاءؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو یا تین مرتبہ بآواز بلند فرمایا: اے سہیل بن بیضاء! آگے سے سیدنا سہیل ؓجواب بھی دے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اوراس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۹،۳۰) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ الحاکم: ۳/ ۶۳۰، والطبرانی فی الکبیر : ۶۰۳۳(انظر: ۱۵۷۳۸)
30
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۳۱)۔عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ مَعِیَ نَفَرٌ مِنْ قَوْمِیْ، فَقَالَ:((أَبْشِرُوْا وَ بَشِّرُوْا مَنْ وَرَائَ کُمْ أَنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ صَادِقًا بِہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُبَشِّرُ النَّاسَ،فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ(ؓ) فَرَجَعَ بِنَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِذًا یَتَّکِلُ النَّاسُ، فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۲۶)
سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، جبکہ میرے ساتھ میری قوم کے کچھ لوگ بھی موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خود بھی خوش ہو جاؤ اور اپنے پچھلوں کو بھی یہ خوشخبری سنا دو کہ جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ یہ سن کر ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس سے نکل پڑے، تاکہ لوگوں کو خوشخبری سنائیں، لیکن جب ہمیں آگے سے سیدنا عمرؓ ملے توانھوں نے ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کویہ مشورہ دیا کہ (اس طرح کی باتیں عام لوگوںکو نہ بتائی جائیں وگرنہ) وہ توکل کر کے (عمل چھوڑ دیں گے)، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ خاموش ہو گئے۔
Takhreej
(۳۱) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۴۰۰۳ (انظر: ۱۹۵۹۷)
31
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۳۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَہِدَ مُعَاذًا حِیْنَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ یَقُوْلُ: اِکْشِفُوْا عَنِّی سَجْفَ الْقُبَّۃِ، أُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أُحَدِّثَکُمُوْہُ إِلَّا أَنْ تَتَّکِلُوْا، سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِہِ أَوْ یَقِیْنًا مِنْ قَلْبِہِ لَمْ یَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّۃً: دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَلَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۱۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ ؓکی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انھوں نے کہا: قبّے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، اور ایک دفعہ کہا: تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔
Takhreej
(۳۲) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الحمیدی: ۳۶۹، وابن حبان: ۲۰۰، والطبرانی فی الکبیر : ۲۰/۶۳ (انظر: )
32
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۳۳)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍؓ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَفَاتِیْحُ الْجَنَّۃِ شَہَادَۃُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۵۳)
سیدنا معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: جنت کی چابیاں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی شہادت دینا ہے۔
Takhreej
(۳۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، شھر بن حوشب ضعیف ولم یدرک معاذا، واسماعیل بن عیاش روایتہ عن غیر اھل بلدہ ضعیفۃ وھذا منھا۔ أخرجہ البزار فی مسندہ : ۲۶۶۰(انظر: ۲۲۱۰۲ )
33
Zaeef
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۳۴)۔عَنْ رِفَاعَۃَ الْجُہَنِیِّ ؓ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِالْکَدِیْدِ أَوْ قَالَ: بِقُدَیْدٍ فَجَعَلَ رِجَالٌ یَسْتَأْذِنُوْنَ إِلَی أَہْلِیْہِمْ فَیَأْذَنُ لَہُمْ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ وَ أَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا بَالُ رِجَالٍ یَکُوْنُ شِقُّ الشَّجَرَۃِ الَّتِی تَلِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبْغَضَ إِلَیْہِمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ۔))،فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذٰلِکَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاکِیًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الَّذِی یَسْتَأْذِنُکَ بَعْدَ ہٰذَا لَسَفِیْہٌ،فَحَمِدَ اللّٰہَ وَقَالَ حِیْنَئِذٍ: ((أَشْہَدُ عِنْدَ اللّٰہِ لَا یَمُوْتُ عَبْدٌ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِہِ ثُمَّ یُسَدِّدُ إِلَّا سَلَکَ فِی الْجَنَّۃِ۔))، قَالَ: ((وَقَدْ وَعَدَنِیْ رَبِّی أَنْ یُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعِیْنَ أَلْفًا، لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ، وَ إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ لَا یَدْخُلُوْہَا حَتَّی تَبَوَّؤُا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِکُمْ وَ أَزْوَاجِکُمْ وَ ذُرِّیَّاتِکُمْ مَسَاکِنَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۳۱۶)
سیدنا رفاعہ جہنیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف) سفرمیں تھے، جب ہم کَدِیْد یا قُدَید مقام پر پہنچے تو لوگوں نے اپنے گھروں کی طرف جانے کے لیے اجازت لینا شروع کر دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کو اجازت دیتے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہو گا کہ درخت کی جو طرف رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے ملی ہوئی ہے، وہ ان کو دوسری طرف کی بہ نسبت زیادہ ناپسند ہے۔ ہم نے دیکھا کہ یہ الفاظ سن کر سارے لوگ رونے لگ گئے، ایک آدمی (یعنی سیدنا ابو بکرؓ) نے کہا: اس کے بعد جو آدمی آپ سے اجازت طلب کرے گا، وہ بیوقوف ہو گا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی اور فرمایا: جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے گا تو میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے بارے میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ وہ جنت کی طرف چلا جائے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی ایسے جنت میں داخل کرے گا کہ ان کا کو ئی حساب اور عذاب نہیں ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ تم اور تمہارے نیک آباء، بیویاں اور اولاد جنت میں اپنے گھر بنا چکے ہوں گے۔
Takhreej
(۳۴) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ مطولا و مختصرا الطیالسی: ۱۲۹۱، ۱۲۹۲، والدارمی: ۱/ ۳۴۸، والبزار: ۳۵۴۳، والطبرانی فی الکبیر : ۴۵۵۹(انظر: ۱۶۲۱۵)
34
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۳۵) (وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ)۔ قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَکَّۃَ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَسْتَأْذِنُوْنَہُ،فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ قَالَ: قَالَ أَبُوبَکْرٍ(ؓ): إِنَّ الَّذِی یَسْتَأْذِنُکَ بَعْدَ ہَذِہِ لَسَفِیْہٌ فِی نَفْسِی، ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمِدَ اللّٰہَ وَ قَالَ خَیْرًا، ثُمَّ قَالَ: ((أَشْہَدُ عِنْدَ اللّٰہِ۔)) وَکَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! مَا مِنْ عَبْدٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ ثُمَّ یُسَدِّدُ إِلَّا سَلَکَ فِی الْجَنَّۃِ۔))،فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۳۱۷)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس آ رہے تھے کہ لوگوں نے اجازتیں لینا شروع کر دیں، … پھر اوپر والی حدیث بیان کی…۔ سیدنا ابو بکرؓ نے کہا: جو آدمی اس کے بعد آپ سے اجازت طلب کرے گا، وہ میرے نزدیک تو بیوقوف ہی ہو گا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور خیر والی بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ شہادت دیتا ہوں کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے تو وہ جنت کی طرف چلے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب قسم اٹھاتے تھے تو یوں فرماتے تھے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔
Takhreej
(۳۵) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۰۹۰، ۴۲۸۵، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر:۱۶۲۱۶)
35
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۳۶)(وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ:)قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْکََدِیْدِ أَوْ قَالَ بِعَرَفَۃَ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۳۱۸)
۔ (تیسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم کدید یا عرفہ مقام پر تھے، پھر وہی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۳۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول(انظر: ۱۶۲۱۷)
36
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۳۷)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَاتَ یَعْلَمُ أَن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد:۴۶۴)
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ یہ جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے تووہ جنت میں داخل ہو گا۔
Takhreej
(۳۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶(انظر: ۴۶۴)
37
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۳۸)۔وَ عَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنِّی لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَایَقُوْلُہَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِہِ إِلَّا حُرِّمَ عَلَی النَّارِ۔)) فَقَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؓ: أَنَا أُحَدِّثُکَ مَا ہِیَ، ہِیَ کَلِمَۃُ الْإِخْلَاصِ الَّتِی أَعَزَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِہَا مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أَصْحَابَہُ، وَ ہِیَ کَلِمَۃُ التَّقْوَی الَّتِی أَلاَصَ عَلَیْہَا نَبِیُّ اللّٰہِ عَمَّہُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ شَہَادَۃُ أَنْ لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ۔ (مسند أحمد: ۴۴۷)
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو آدمی دل کی سچائی کے ساتھ اس کو کہے گا، وہ آگ کے حق میں حرام ہو جائے گا۔ یہ سن کر سیدناعمرؓ نے کہا: میں بتلاتا ہوں کہ وہ کلمہ کون سا ہے، وہ تو وہ کلمہ اخلاص ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ذریعے حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ کو عزت بخشی، وہ کلمۂ تقوی ہے جو اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے چچا ابو طالب کی موت کے وقت اس پر پیش کیا تھا اور وہ ہے لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ کی شہادت دینا۔
Takhreej
(۳۸) تخریج: اسنادہ قوی ۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۳۵۱(انظر: ۴۴۷)
38
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۳۹)۔عَنْ أَبِی الْأَسْوَدِ الدُّئَلِیِّ عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ عَلَیْہِ ثَوْبٌ أَبْیَضُ فَإِذَا ہُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ أُحَدِّثُہُ فَإِذَا ہُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ وَ قَدِ اسْتَیْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ثُمَّ مَاتَ عَلٰی ذٰلِکَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))،قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ۔))،قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ۔)) ثَلَاثًا،ثُمَّ قَالَ فِی الرَّابِعَۃِ: ((عَلَی رَغْمِ أَبِی ذَرٍّ۔)) قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ یَجُرُّ إِزَارَہُ وَہُوَ یَقُوْلُ: وَ إِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِی ذَرٍّ۔ (مسند أحمد: ۲۱۷۹۸)
سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سفید کپڑا اوڑھ کر سوئے ہوئے تھے، پھر دوبارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے باتیں کرنے کے لیے آیا، لیکن ابھی تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آرام فرما رہے تھے، اس کے بعد جب میں آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیدار ہو چکے تھے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آ کر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ کہے گا اور پھر اسی پر مر جائے گا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ میں دوسری بار پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ تین دفعہ تو ایسے ہی ہوا اور چوتھی بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ فرمایا: ابو ذر کا ناک خاک آلود ہونے کے ساتھ ساتھ۔ یہ سن کر سیدنا ابو ذر ؓوہاں سے ازار کو گھسیٹتے اور یہ کہتے ہوئے نکل پڑے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے۔
Takhreej
(۳۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۸۲۷، ومسلم: ۹۴ (انظر: ۲۱۴۶۶)
39
Sahih
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۴۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مَا ذَا رَدَّ إِلَیْکَ رَبُّکَ فِی الشَّفَاعَۃِ؟ فَقَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّکَ أَوَّلُ مَنْ یَسْأَلُنِیْ عَنْ ذٰلِکَ مِنْ أُمَّتِیْ لِمَا رَأَیْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْعِلْمِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! مَا یَہُمُّنِیْ مِنَ انْقِصَافِہِمْ عَلَی أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ أَہَمُّ عِنْدِیْ مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِیْ، وَ شَفَاعَتِیْ لِمَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا یُصَدِّقُ قَلْبُہُ لِسَانَہُ وَ لِسَانُہُ قَلْبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۵۶)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا: آپ کے ربّ نے سفارش کے بارے میں آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) کی جان ہے! میرا یہ خیال تھا کہ اس کے بارے میں سوال کرنے والا میری امت میں سے تو ہی پہلا فرد ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ تیرے اندر علم کی حرص پائی جاتی ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) کی جان ہے! مجھے جنت کے دروازوں پر اپنی امت کے لوگوں کے ہجوم کے بارے میں جو فکر ہے، وہ میرے نزدیک میری سفارش کی تکمیل سے زیادہ اہم ہے، اور میری سفارش ہر اس آدمی کے لیے ہے جو اخلاص کے ساتھ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی شہادت اس طرح دے کہ اس کا دل، اس کی زبان کی اور اس کی زبان، اس کے دل کی تصدیق کر رہی ہو۔
Takhreej
(۴۰) تخریج: حدیث بعضہ صحیح و بعضہ حسن۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۲/ ۶۹۷، وابن حبان: ۶۴۶۶، والحاکم: ۱/ ۶۹ (انظر: ۸۰۷۰)
40
Sahih