TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1541 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 9 in this chapter
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
۔ (۱۵۴۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجُلٍ وَھُوَ یُصَلِّیْ وَقَدْ وَضَعَ یَدَہُ الْیُسْرٰی عَلَی الْیُمْنٰی فَانْتَزَعَہَا وَوَضَعَ الْیُمْنٰی عَلَی الْیُسْرٰی۔ (مسند احمد: ۱۵۱۵۶)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے ،وہ نماز پڑھ رہا تھا اور اس نے بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ نکال کر دائیں کو بائیں پر رکھ دیا۔
1541
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۵۴۱) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، الحجاج بن ابی زینب الصیقل فیہ ضعف، وقد اضطرب فی اسناد ھذا الحدیث، أخرجہ ابوداود: ۷۵۵، والنسائی: ۲/ ۱۲۶، وابن ماجہ: ۸۱۱، وفی باب وضع الیمنی علی الیسری فی الصلاۃ أحادیث أخری ثابتۃ (انظر: ۱۵۰۹۰)

Related Chapters

181
1
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
Musnad Ahmad
2
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے اس موضوع سے متعلقہ مروی احادیث
Musnad Ahmad
3
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Musnad Ahmad
4
Chapter: It Is Recommended To Raise The Hands Level With The Shoulders When Saying The Opening Takbir, When Bowing And When Rising From Bowing. But That Is Not To Be Done When Rising From The Prostration
تکبیرتحریمہ اور رکوع کی تکبیر کے ساتھ اور رکوع سے اٹھتے وقت کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا مستحب ہےاور یہ کہ جب (نمازی) سجدے سے سر اٹھائے تو رفع الیدین نہ کرے
Sahih Muslim
5
CHAPTER: Whoever Said That They Say The Takbr Together.
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ سارے لوگ ایک ساتھ تکبیر ( تحریمہ ) کہیں ۔
Sunnan Abu Dawood
6
(50)Chapter: Something Else For That
باب: پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
7
Chapter: Something else (about the timings of Salat)
باب: اوقات نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Something Else
باب: اذان کے بعد آدمی کیا دعا پڑھے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: Something Else
باب: رکوع اور سجود کے وقت ”اللہ اکبر“ کہنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
10
Chapter: Something Else About That
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت جو کہنا ہے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
11
Chapter: Something Else About That
باب: سجدے میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
12
Chapter: Something Else About That
باب: سجدہ سے اٹھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Something Else About That
باب: تشہد سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
14
Chapter: Something Else About That
باب: تشہد میں بیٹھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
15
Chapter: Something Else About That
باب: سلام پھیرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
16
Chapter: Something else about that
باب: طریقہ نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Something Else About That
باب: امام کی پیروی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
18
Chapter: Something Else About That
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Something Else About That
باب: فضائل نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
20
Chapter: Something Else About That
باب: شب قدر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
21
Chapter: (Purchasing the Hadi)
باب: قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
22
Chapter: The Talbiyah On Behalf Of Women And Stoning On Behalf Of Boys
باب: بچوں کے حج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
23
Chapter: Some Else (What Has Been Related About Hajj On Behalf Of The Dead)
باب: حج میں نیابت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
24
Chapter: Something Else From That (Umrah Has Been Entered Into Hajj Until the Day of Resurrection)
باب: حج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
25
Chapter: Something Else About That
باب: حج میں شرط لگانے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
26
Chapter: Hope In Allah And Fear Of Ones Sins In The Presence Of Death
باب: مومن کی موت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
27
Chapter: Ordering The Believer To Shroud His Brother With The Best
باب: کفن سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
28
Chapter: Something Else (Regarding The Sunnah For Visiting The Sick And Attending The Funeral)
باب: جنازہ سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
29
Chapter: Where Are The Prophets To Be Buried?
باب: دفن سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
30
Chapter: Something Else (Regarding The Order To Mention Good Things About The Deceased And To Refrain From Mentioning Their Evil)
باب: میت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
31
Chapter: Something Else (About The Extend Of What Is Acceptable (To Fulfill The Obligation) For Following The Funeral And Carrying It)
باب: جنازے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح نہ ہونے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
33
Chapter: Something Else
باب: مہر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
34
Chapter: The warning about that due to the Shaitan flowing (through the body) like the flow of blood
باب: غیر محرم عورتوں سے خلوت کی حرمت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
35
Chapter: The Shaitan seeks to tempt the woman when she goes out
باب: عورتوں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
36
Chapter: The revelation of Allah's saying: Divorce is two times
باب: طلاق سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Option Of The Buyer And The Seller
باب: بائع اور مشتری کی رضا مندی اور اختیار سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
38
Chapter: 'Fulfill The Trust For The One Who Entrusted You'
باب: خرید و فروخت (بیع و شرائط) سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
39
Chapter: Permission Regarding The Price Of A Hunting Dog
باب: کتے کی قیمت کھانے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
40
Chapter: Something Else About That
باب: بیع عرایا سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
41
Chapter: About Share-Cropping
باب: مزارعت ہی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
42
Chapter: The Best Sacrifice Is The Male Sheep
باب: قربانی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
43
Chapter: About The 'Aqiqah
باب: عقیقہ سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
44
Chapter: The Prohibition Of Attacking If A Masjid Is Seen Or The Adhan Is Heard
باب: جہاد سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
45
Chapter: Also About That
باب: ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Verbally Abusing The Muslim Is Disobedience, And Fighting Him Is Disbelief
باب: گالی گلوچ کی مذمت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
47
باب: بخار کے علاج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
48
باب: سابقہ موضوع سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
49
باب: شفاء حاصل کرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
50
باب: مریض کی عیادت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

468
Musnad Ahmad
218
۔ (۲۱۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِیْ یَدِہِ کِتَابَانِ فَقَالَ: ((أَتَدْرُوْنَ مَا ہٰذَانِ الْکِتَابَانِ؟۔)) قَالَ: قُلْنَا: لَا اِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ لِلَّذِیْ فِیْ یَدِہِ الْیُمْنٰی: ((ھٰذَا کِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِأَسْمَائِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ أَسْمَائِ آبَائِ ہِمْ وَ قَبَائِلِہِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلٰی آخِرِہِمْ لَا یُزَادُ فِیْھِمْ وَلَا یُنْقَصُ مِنْہُمْ أَبَدًا۔)) ثُمَّ قَالَ لِلَّذِیْ فِیْ یَسَارِہِ: ((ھٰذَا کِتَابُ أَہْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِ ہِمْ وَ أَسْمَائِ آبَائِہِمْ وَقَبَائِلِہِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلٰی آخِرِہِمْ لَا یُزْادُ فِیْھِمْ وَلَا یُنْقَصُ مِنْہُمْ أَبَدًا۔))فقَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: فَلِاَیِّ شَیْئٍ اِذَنْ نَعْمَلُ اِنْ کَانَ ھٰذَا أَمْرٌ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا! فَاِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّۃِ یُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ وَ اِنْ عَمِلَ أَیَّ عَمَلٍ، وَاِنَّ صَاحِبَ النَّارِ لَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ وَاِنْ عَمِلَ أَیَّ عَمَلٍ۔)) ثُمَّ قَالَ بِیَدِہِ فَقَبَضَہَا، ثُمَّ قَالَ: ((فَرَغَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الْعِبَادِ۔)) ثُمَّ قَالَ بِالْیُمْنٰی فَنَبَذَہَا فَقَالَ: ((فَرِیْقٌ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) وَ نَبَذَ بِالْیُسْرٰی فَقَالَ: ((فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۶۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھ مبارک میں دو کتابیں تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سی دو کتابیں ہیں؟ ہم نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے رسول! الّا یہ کہ آپ ہمیں بتا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا: یہ کتاب ربّ العالمین کی طرف سے ہے، اس میں اہل جنت اور ان کے آباء اور قبائل کے نام ہیں اور اخیر پر ان کی میزان جوڑ دی گئی ہے (ٹوٹل)نہ ان میں بیشی ہو سکتی ہے، نہ کمی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں کہا: یہ جہنمیوں کی کتاب ہے، اس میں ان کے نام اور ان کے آباء اور قبائل کے نام ہیں اور اخیر پر ان کی میزان جوڑ دی گئی، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ صحابہ نے کہا: اگر اس معاملے سے اس قدر فارغ ہوا جا چکا ہے تو پھر ہم کس چیز کے لیے عمل کریں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: راہِ صواب پر چلتے رہو اور میانہ روی اختیار کرو، بیشک جنتی آدمی کا اختتام جنت والوں کے عمل کے ساتھ ہو گا، اگرچہ وہ جون سا مرضی عمل کرتا رہے اور جہنمی آدمی کا اختتام اہلِ جہنم کے عمل کے ساتھ ہو گا، اگرچہ وہ جو مرضی عمل کرتا رہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ کو بند کیا اور فرمایا: تمہارا ربّ اپنے بندوں سے فارغ ہو گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دائیں سے اس کتاب کو پھینکا اور فرمایا: ایک فریق جنت میں جائے گا۔ پھر بائیں ہاتھ سے کتاب کو پھینکا اور فرمایا: ایک فریق جہنم میں جائے گا۔
Musnad Ahmad
1785
۔ (۱۷۸۵) عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَنِ افْتِرَاشِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخِذَہُ الْیُسْرٰی فِی وَسَطِ الصَّلاَۃِ وَفِی آخِرِھَا وَقُعُودِہِ عَلٰی وَرِکِہِ الْیُسْرٰی وَوَضْعِہِ یَدَہُ الیُسْرٰی عَلٰی فَخِذَہِ الْیُسْرٰی وَنَصْبِہِ قَدَمَہُ الْیُمْنٰی وَوَضْعِہِ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذَہِ الْیُمْنٰی وَنَصْبِہِ إِصْبَعَہُ السَّبَابَۃَیُوَحِّدُ بِہَا رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ عِمْرَانُ ابْنُ أَبِیْ أَنَسٍ أَخُوْ بَنِیْ عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ وَکَانَ ثِقَۃً عَنْ أَبِی الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلٰیعَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِیِْ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ قَالَ صَلَّیْتُ فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ غِفَارٍ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِیْ صَلاَتِیْ اِفْتَرَشْتُ فَخِذِیْ الْیُسْرٰی وَنَصَبْتُ السَّبَّابَۃَ، قَالَ: فَرَآنِیْ خُفَافُ بُنْ إِیِمَائِ ابْنِ رَحَضَۃَ الْغِفَارِیُّ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أَصْنَعُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلاَتِیْ، قَالَ لِیْ: أَیْ بُنَیَّ لِمَ نَصَبْتَ إِصْبَعَکَ ھٰکَذَا؟ قَالَ: وَمَا تُنْکِرُ رَأَیْتُ النَّاسَ یَصْنَعُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: فَإِنَّکَ أَصَبْتَ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا صَلّٰییَصْنَعُ ذٰلِکَ، فَکَانَ الْمُشْرِکُوْنَ یَقُوْلُوْنَ إِنَّمَا یَصْنَعَ ھٰذَا مُحَمَّدٌ بِإِصْبَعِہِ یَسْحَرُ بِہَا وَکَذَبُوْا، إِنَّمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ ذٰلِکَ یُوَحِّدُ بِہَا رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۸)
ابن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز کے درمیان اور اس کے آخر میں بائیں ران کو بچھانے، دائیں قدم کو کھڑا رکھنے، دائیں ہاتھ کو ران پر رکھنے اور انگلی کے ساتھ ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرنے کے بارے میں مجھے عمران بن ابو انس نے بیان کیا، … … مدینہ منورہ کے ایک باشندے نے کہا: میں نے مسجد بنو غفار کی مسجد میں نماز پڑھی، جب میں بیٹھا تو بائیں ران کو بچھا دیا اور انگشت ِ شہادت کو گاڑھ دیا، مجھے صحابی رسول خفاف بن ایماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس طرح کرتے ہوئے دیکھا، جب میں نماز سے فارغ ہواتو انھوں نے مجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو اس طرح اپنی انگلی کو کیوں گاڑھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: آپ کون سے چیز کا انکار کرنا چاہتے ہیں، بس میں نے لوگوں کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا؟ انھوں نے کہا: بیشک تو نے سنت کے مطابق کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز پڑھتے تھے تو اسی طرح کرتے تھے اور ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرتے تھے، جبکہ مشرکین کہتے تھے: محمد اپنی انگلی سے اس طرح کر کے جادو کرتا ہے، اور انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔
Musnad Ahmad
1792
۔ (۱۷۹۲) عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَلَسَ فِی التَّشَہُّدِ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلَی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی وَأَشَارَ باِلسَّبَّابَۃِ وَلَمْ یُجَاوِزْ بَصَرُہُ إِشَارَتَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۹۹)
سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اورسبابہ کے ساتھ اشارہ کرتے اور آپ کی نظر آپ کے اشارے سے آگے نہ گزرتی تھی۔
Jam e Tirmazi
826
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ فَانْطَلَقَ يُهِلُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَزِيدُ مِنْ عِنْدِهِ فِي أَثَرِ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے تلبیہ پکارا اور تلبیہ پکارتے ہوئے چلے، وہ کہہ رہے تھے: «لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
Nafi` narrated: When Ibn Umar would say the talbiyah he would continue saying: Labbaik Allahumma labbaik. Labbaik la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni`mata laka wal-mulk, la sharika laka (I respond to Your call O Allah! I respond to Your call, You have no partner, I respond to You call. All praise, thanks and blessings are for You. And You have no partners with You). He said: Abdullah bin Umar would say: 'This is the Talbiyah of the Messenger of Allah.' He would himself add the following after the Talbiyah of the Messenger of Allah: Labbaik labbaika wa-sa'daik, wal-khairuu fi yadaik. Labbaika war-raghba'u ilaika wal-amal ('I respond to Your call, and I am obedient to Your orders, all good is in Your Hands. I respond to Your call and the requests and deeds are for You).'
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے اخیر میں اپنی طرف سے ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خوش ہوں تیری تابعداری پر اور ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Musnad Ahmad
1035
۔ (۱۰۳۵)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروِ (بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا) صَلَّیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَغْرِبَ فَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ وَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَقَدْ کَادَ یَحْسِرُ ثِیَابَہُ عَنْ رُکْبَتَیْہِ، فَقَالَ: ((أَبْشِرُوْا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ، ھٰذَا رَبُّکُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَائِ یُبَاہِیْ بِکُمُ الْمَلَائِکَۃَ، یَقُوْلُ: ہٰؤُلَائِ عِبَادِیْ قَضَوْا فَرِیْضَۃً وَہُمْ یَنْتَظِرُوْنَ أُخْرٰی)) (مسند أحمد: ۶۷۵۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کی، پس بیٹھنے والے بیٹھ گئے اور واپس جانے والے واپس چلے گئے، پس اچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے، جبکہ قریب تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے گھٹنوں سے کپڑے اٹھا دیں اور فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، یہ تمہارا ربّ، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا اور تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے کہا: یہ میری بندے ہیں، ایک فرض ادا کر چکے ہیں اور دوسرے فرض کا انتظار کر رہے ہیں۔
Musnad Ahmad
1411
۔ (۱۴۱۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ فِیْ بُرْدٍ لَہُ حَضْرَمِیٍّ مُتَوَشِّحَہٗمَاعَلَیْہِ غَیْرُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: یقینا میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رات کے وقت حضر می چادرلپیٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس کے علاوہ آپ پر اور (کوئی کپڑا) نہیں تھا۔
Musnad Ahmad
1418
۔ (۱۴۱۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَرْتَدُوْا الصَّمَّائَ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَلَایَأَکُلْ أَحَدُکُمْ بِشِمَالِہِ، وَلَایَمْشِ فِی نَعْلٍ وَاحِدَۃٍ، وَلَایَحْتَبِ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۱۷)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک کپڑے میں بولی بکّل نہ مارو اور تم میں سے کوئی نہ بائیں ہاتھ کے ساتھ کھائے، نہ ایک جوتے میں چلے اور نہ ایک کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھے۔
Musnad Ahmad
1421
۔ (۱۴۲۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ مَرَابِدِ الْغَنَمِ وَلَا یُصَلِّی فِی مَرَابِدِ الإِْبِلِ وَالْبَقْرِ۔ (مسند احمد: ۶۶۵۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے اور اونٹوں اور گائیوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھتے۔
Musnad Ahmad
1450
۔ (۱۴۵۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: بَیْنَمَا النَّاسُ بِقُبَائٍ فِیْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ إِذْ أَتَاھُمْ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُنْزِلَ عَلَیْہِ قُرْآنٌ اللَّیْلَۃَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ یَسْتَقْبِلَ الْکَعْبَۃَ فَاسْتَقْبِلُوْھَا وَکَانَتْ وُجُوھُہُمْ إِلَی الشَّامِ فَاسْتَدَارُوْا إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۹۳۴)
سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ قباء میںکچھ لوگ نمازِ فجر ادا کررہے تھے، ان کے پاس ایک آنے والے نے آکر کہا: رات رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے ، جس کے مطابق آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تم بھی اس کی طرف منہ کرلو۔ ان لوگوں کے چہرے شام (یعنی بیت المقدس) کی طرف تھے، وہ (یہ اعلان سن کر) کعبہ کی طرف پھر گئے۔