باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ
کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں
فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Chapter 82 of خلافت و امارت کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق ارشاد فرمایا: یااللہ! مجھے اس سے محبت ہے،پس تو اس سے بھی محبت کرے اور اس سے محبت کرنے والے سے بھی محبت کر۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مدینہ کے ایک بازار میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف گئے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بلاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: او بچے! او چھوٹو! او بچے! کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کا جواب نہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آگئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لوٹ آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر جاکر بیٹھ گئے، اتنے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی آگئے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کو ان کی والدہ نے ان کے گلے میں ہار کی مانند کوئی چیز ڈالنے کے لیے روک لیا تھا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو گلے لگالیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گلے سے لگ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت تین بار فرمایا: یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، پس تو اس سے بھی محبت کر اور اس سے محب کرنے والے سے بھی محبت کر۔
Takhreej
(۱۲۳۹۷) تخریج: اخرجہ البخاری:۵۸۸۴، وأخرجہ مسلم مختصرا: ۲۴۲۱ (انظر: ۸۳۸۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے بنو قینقاع کے بازار کی طرف تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں چکر لگایا، اس کے بعد واپس آکر مسجد میں بیٹھ گئے اور فرمایا: چھوٹا کہاںہے؟ چھوٹو کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ اتنے میں سیدنا حسن علیہ السلام آگئے اور دوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا منہ اس کے منہ کے ساتھ لگایا اور تین بار فرمایا: یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، تو بھی اس سے اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں جب بھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زبان کو یا ہونٹ کو چوس رہے تھے اور جس زبان یا ہونٹوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوما ہو، اسے عذاب نہیں ہوگا۔
عمیر بن اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا کہ ہم سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آملے اور انہوں نے لپا: حسن! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے اس مقام کو بوسہ دوں، جس مقام پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیتے دیکھا ہے، پھر انہوں نے ان کی قمیص اوپر اٹھا کر ان کی ناف پر بوسہ دیا۔
Takhreej
(۱۲۴۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، تفرد بہ عمیر بن اسحاق مختلف فیہ، اخرجہ ابن حبان: ۵۵۹۳، والطبرانی: ۲۷۶۵، والحاکم: ۳/ ۱۶۸ (انظر: ۷۴۶۲)