سلام کے ساتھ نماز سے خارج ہونے اور اس کے متعلقات کا بیان - سلام کے ساتھ نماز سے خارج ہونے اور اس کے متعلقات کا بیان - Book 31 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 31 of Musnad Ahmad, with 7 chapters and 28 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے آپ نیچے جاتے، اوپر ہوتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے اور دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ رخساروں کی سفیدی نظر آجاتی تھی، پھر میں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ایسے کرتے دیکھا۔
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسار کی سفیدی کی طرف دیکھ رہا ہوں، جبکہ آپ بائیں طرف سلام پھیر رہے ہوتے۔
Takhreej
(۱۸۲۷) تخریج: صحیح، وھذا اسناد ضعیف، مغیرہ بن مقسم الضبی ضعیف فی حدیثہ عن ابراہیم النخعی اذا عنعن ولم یصرح بالسماع، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۴۴۳۲)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں اور بائیں طرف یہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے تھے: اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا چہرہ پھیرتے کہ) رخساروں کی سفیدی نظر آجاتی۔
جناب واسع نے جب سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: آپ جب بھی نیچے جاتے اور اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر دائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ اور بائیں طرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہتے۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ دائیں طرف سلام پھیرتے تو آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آجاتی، اسی طرح جب بائیں طرف سلام پھیرتے تو رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی۔
Takhreej
(۱۸۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۸۲ (انظر: ۱۴۸۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے پتہ چلا کہ بائیں طرف صرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہنا بھی درست ہے۔
سیدہ عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے توآپ کی بغل کی سفیدی نظر آ جاتی، اسی طرح جب سلام پھیرتے تو اپنے چہرے کو دائیں طرف اس قدر متوجہ کرتے کہ رخسار کی سفیدی نظر آجاتی، پھر جب بائیں طرف سلام پھیرتے تو اپنے چہرے کو اتنا پھیرتے کہ بائیں طرف سے چہرے کی سفیدی نظر آ جاتی۔
فوائد:… ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ سلام کے الفاظ کے دو طریقے ہیں: (۱) دونوں طرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ کہنا اور (۲) دائیں طرف تو یہی الفاظ کہنا، لیکن بائیں طرف صرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہنا۔ نیزیہ بھی ثابت ہوا کہ دائیں بائیں سلام پھیرتے وقت چہرے کو مکمل طور پر دائیں بائیں پھیرنا چاہیے۔ الفاظ کا تیسرا طریقہیہ ہے کہ دائیں طرف چہرہ پھیرتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ کہا جائے اور بائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ ۔ (ابوداود: ۹۹۷) صرف ایک طرف سلام پھیرنا بھی درست ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ وتر میں ایک ہی سلام پر اکتفا کیا۔ (صحیح مسلم: ۷۴۶) صرف ایک سلام پھیرتے وقت چہرے کو معمولی سا دائیں طرف پھیرا جائے گا۔ (جامع ترمذی: ۲۹۶) نماز سے خارج ہونے کے لیے سلام ہی پھیرنا چاہیے، مذکورہ بالا دلائل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی عمل پیش کیا گیا ہے، نیز سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں صرف یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھو اور اپنے دائیں بائیں والے بھائیوں پر سلام (یعنی اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ) کہو۔ (صحیح مسلم: ۴۳۱)امام نوویؒ نے کہا: جان لو! سلام نماز کے ارکان میں سے ایک رکن اور فرضوں میں سے ایک فرض ہے، اس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہے، یہ مذہب جمہور علماء صحابہؓوتابعینؒ اور ان کے بعد آنے والے لوگوں کا ہے۔ (شرح النووی: ۵/۸۳) اٹھارہ (۱۸)صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ مبارک فعل روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے خارج ہونے کیلئے سلام کہتے تھے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ)) یعنی تم نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔ (صحیح بخاری: ۶۳۱)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الطُّہُوْرُ وَتَحْرِیْمُہَا التَّکْبِیْرُ
وَتَحْلِیْلُہَا التَّسْلِیْمُ (وَفِیْ لَفْظٍ) مِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الْوُضُوْئُ وَتَحْرِیْمُہَا التَّکْبِیْرُ وَتَحْلِیْلُہَا التَّسْلِیْمُ۔)) یعنی: نماز کی چابی وضو ہے اور اس کی تحریم اللہ اکبر ہی ہے اور اس کی تحلیل سلام ہی ہے۔ (ابوداود: ۶۱، ۶۱۸، ابن ماجہ: ۲۷۵، الترمذی: ۳، مسند احمد: ۱۰۰۶، ۱۰۷۲) تحریم سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام امور حرام ہو جاتے ہیں، جو نماز کے اندر ناجائز ہیں، اور تحلیل سے مطلب یہ ہے کہ جو امور نماز کی وجہ سے حرام ہو گئے تھے ، وہ حلال ہو گئے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں داخل ہونے کے لیے صرف اللہ اکبر کہا جائے گا اور نماز سے خارج ہونے کے لیے صرف سلام کہا جائے گا۔ چونکہ حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ آخری دو جملوں میں خبر مقدم اور مبتدا مؤخر ہے، اس لیے معنی میں حصر پیدا ہو گیا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں نماز سے خارج ہونے کے لیے سلام کا اہتمام کیا، اسی کا حکم دیا اور اسی کا پابند رہنے کی تلقین کی، لہٰذا ہمیں بھی اسی پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن احناف کا مسلک یہ ہے کہ نمازی نماز کے منافی کوئی حرکت کر کے نماز مکمل کر سکتا ہے، سلام پھیرنا ضروری نہیں، جیسے کلام کرکے، جان بوجھ کر وضو توڑ کر، کھڑے ہو کر وغیرہ وغیرہ۔ اگر مذکورہ بالا احادیث ذہن نشین کر لی جائیں تو اس قسم کی رائے کے سوچنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام کی تخفیف سنت ہے۔
Takhreej
(۱۸۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف قرۃ بن عبد الرحمن۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۰۴، وبأثرہ: قال عیسی: نھانی ابن المبارک عن رفع ھذ الحدیث، وأخرجہ مرفوعا ابن خزیمۃ: ۷۳۴، والحاکم: ۱/ ۲۳۱ (انظر: ۱۰۸۸۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سلام کے الفاظ کو لمبا کر کے ادا نہ کیا جائے، بلکہ امام کو چاہیے کہ وہ مناسب جلدی کے ساتھ سلام کہہ دے۔ اہل علم نے اسی صورت کو مستحب سمجھا ہے۔
سیدناجابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے تو ہاتھوں کے ساتھ دائیں بائیں اشارہ کر کے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیاحال ہے جو نماز میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ یوں اشارہ کرتے ہیں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیا تم میں سے ہر ایک کو یہ صورت کفایت نہیں کرتی کہ اپنا ہاتھ ران پر ہی رکھے اور دائیں بائیں سلام پھیر دے۔
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں جب سلام پھیرتے تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے اور ہم میں سے ہر کوئی اپنے ہاتھ سے دائیں اور بائیں اشارہ بھی کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنے ہاتھوں سے یوں اشارہ کرتے ہیں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیاتم میں سے ایک فرد کو اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ ران پر ہی رکھے اور پھردائیں بائیں سلام پھیر دے۔
Takhreej
(۱۸۳۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۰۹۷۲)
Explanation
فوائد:… حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم واضح ہے اور ہمارے ہاں اسی سنت کے مطابق سلام پھیرا جاتا ہے۔ ایک تنبیہ ضروری ہے کہ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی اس موضوع سے متعلقہ مختصر روایت سے احناف نے یہ استدلال کشید کرنے کی کوشش کی ہے کہ رکوع والے رفع الیدین سے منع کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ان کا یہ استدلال انتہائی کمزور ہے، کیونکہ تفصیلی روایت میں سلام کے وقت اشارہ کرنے کی وضاحت موجود ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کی چابی وضو ہے اور اس کی تحریم اللہ اکبر ہی ہے اور اس کی تحلیل سلام ہی ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز بیان کرتی ہوئی کہتی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر تشہد پڑھتے اور دعا کرتے اور پھر اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہہ کر ایک سلام پھیرتے اور آواز کو اتنا بلند کرتے کہ ہمیںجگا دیتے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز کے بعد یہ دعا پڑھنے کے بقدر ٹھہرتے تھے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلَالِ وَالإِْکْرَامِ۔ (اے اللہ! تو السلام ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے، اے جلال و اکرام والے تو بڑا ہی بابرکت ہے۔)
فوائد:… اس حدیث کے دو مفہوم ممکن ہیں: (۱) بیٹھنے سے مراد قبلہ رخ ہو کر بیٹھنا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ رخ ہی رہ کر یہ دعا پڑھتے، پھر دائیں، بائیںیا لوگوں کی طرف پھر جاتے اور دوسرے اذکار کرتے اور (۲) یہ معنی بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسااوقات نماز کے بعد اتنی دیر ہی بیٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہوں۔ بہرحال فرضی نماز کے بعد مسنون اذکار کا اہتمام انتہائی اہم عمل ہے، اگرچہ ان کے لیے اسی مقام پر بیٹھارہنا شرط نہیں ہے، بلکہ کھڑے ہو کر سنتوں یا کسی دوسرے کام میں مصروف ہو جانا بھی درست ہے۔
اسود نخعی کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنی نماز سے پھرنے کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا کہ آپ دائیں طرف پھرتے تھے یا بائیں طرف؟ انھوںنے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جدھر چاہتے پھرجاتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکثر پھرنا اپنی بائیں طرف اپنے حجرے کی طرف ہوتا تھا۔ ایک روایت میں ہے: عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز سے پھرنا بائیں طرف حجروں کی طرف ہوتا ہے۔
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کوئی آدمی شیطان کے لئے اپنے نفس میں سے کوئی حصہ نہ بنائے کہ وہ یہ خیال کرنے لگے کہ اس پر حق ہے کہ وہ نماز سے صرف دائیں جانب پھرے گا، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکثر پھرنا بائیں جانب ہوتا تھا۔
Takhreej
(۱۸۴۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۰۷ (انظر: ۳۶۳۱)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے پتہ چل رہا ہے کہ اگر کسی مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک سے زیادہ طریقے منقول ہوں تو کسی شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی ایک کو اپنے اوپر لازم کر دے اور دوسرے کو چھوڑ دے۔
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر، بیٹھ کر، ننگے پاؤں اور جوتا پہن کرتمام طریقوں سے نماز پڑھتے تھے، ایک روایت میں ہے:اور نماز کے بعد دائیں بائیںدونوں طرف پھرتے تھے۔
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر نماز پڑھنا اس صورت کو نفلی نماز پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر نفلی نماز ادا کرنے پر بھی پورا ثواب ملتا تھا۔ اگر فرضی نماز کو اس حدیث کا مصداق بنائیں تو بیٹھنا عذر کی بنا پر ہو گا، جیسا کہ دوسری احادیث میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عذر کی بنا پر فرضی نماز بھی بیٹھ کر پڑھی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں اور بائیں دونوں طرف پھرتے تھے، اور میں نے دیکھا کہ آپ جوتے پہن کر بھی اور ننگے پاؤںبھی نماز پڑھتے تھے، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پانی پیتے ہوئے دیکھا۔
Takhreej
(۱۸۴۳) تخریج: صحیح لغیرہ۔ ھذا الحدیث ھو ثلاثۃ احادیث: أما الحدیث الاول وھو: رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یصلیینفتل عن یمینہ وعن شمالہ۔ فأخرجہ ابن ماجہ: ۹۳۱۔ والحدیث الثانی وھو قولہ: روایتہیصلی حافیا ومنتعلا۔ فأخرجہ ابوداود: ۶۵۳، وابن ماجہ: ۱۰۳۸۔ والحدیث الثالث وھو: رایتہیشرب قائما وقاعدا۔ فأخرجہ الترمذی: ۱۸۸۳ (انظر: ۶۶۲۷، ۷۰۲۱)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے اپنی دائیں طرف پھرے۔
Takhreej
(۱۸۴۴)تخریج:أخرجہ مسلم: ۷۰۸ (انظر: ۱۳۹۸۵)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سدی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد کس سمت کی طرف پھروں۔ انھوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر دائیں جانب پھرتے تھے۔ جبکہ اوپر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزرا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر بائیں جانب پھرتے تھے۔ جمع و تطبیق کییہ صورت ہو گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی دائیں جانب پھرتے اور کبھی بائیں جانب، ہر ایک راوی نے اپنے مشاہدے کے مطابق جس عمل کو زیادہ پایا، اسے بیان کر دیا، ان میں سرے سے کوئی تضاد نہیں ہے۔
سیدنایزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع والا حج ادا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے ہی پھرے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ لوگوں کے پیچھے دو ایسے آدمی ہیں، جنھوں نے نماز نہیں پڑھی، راوی نے ان کا سارا قصہ بیان کیا، لوگ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آنے لگے، میں بھی ان کے ساتھ اٹھ پڑا، جبکہ میں اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ جوان اور طاقتور تھا، اس لیے میں لوگوں میں گھستا چلا گیا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے چہرے یا سینے پر رکھ لیا، میں نے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جو سب سے زیادہ عمدگی اور ٹھنڈک والی ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کی بہ نسبت، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد خیف میں تھے۔