سلام کے ساتھ نماز سے خارج ہونے اور اس کے متعلقات کا بیان - سلام کے ساتھ نماز سے خارج ہونے اور اس کے متعلقات کا بیان - Book 31 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 31 of Musnad Ahmad, with 7 chapters and 28 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: پھر لوگ اٹھ پڑے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں پر ملنے لگے، میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے سے لگایا اور محسوس کیا کہ وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور خوشبو کے لحاظ سے کستوری سے زیادہ عمدہ ہے۔
سیدناابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت بطحاء کی طرف نکلے،وضو کیا اور دو رکعت نمازِظہر اور دو رکعت نمازِ عصر ادا کی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک برچھی (بطورِ سترہ) تھی اور اس کے پیچھے سے عورتیں اور گدھے گزرتے رہے، پھر لوگ کھڑے ہوئے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں سے ملنے لگے۔ میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے پر رکھا (اور محسوس کیا کہ) وہ تو برف سے زیادہ ٹھنڈا اور خوشبو کے لحاظ سے کستوری سے زیادہ عمدہ تھا۔
فوائد:… ان دوابواب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ نماز سے فراغت کے بعد امام کے پھرنے کے تین طریقے مشروع ہیں، دائیں طرف، بائیں طرف اور لوگوں کی طرف۔ آج کل کئی لوگوں کو نہ صرف ایک طریقے پر پابندپایا گیا ہے، بلکہ وہ دوسرے طریقوں کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سلام پھیرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں اٹھ کر چلی جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھنے سے پہلے اپنی جگہ میں تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے۔
۔ (دوسری سند) عہدِ نبوی میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرضی نماز سے سلام پھیرتے تو عورتیں کھڑی ہو کر چلی جاتیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد بیٹھے رہتے،جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے تو مرد بھی اٹھ جاتے تھے۔
سائب بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز جمعہ مقصورہ میںادا کی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ میں ہی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ (اپنی منزل میں)داخل ہوئے تو مجھے بلا بھیجا، جب میں ان کے پاس گیا تو انھوں نے کہا: تو نے جو کچھ آج کیا، آئندہ اس طرح نہ کرنا، جب تو جمعہ کی نماز ادا کر لے تو اس کے ساتھ یعنی اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھ، جب تک تو کلام کر لے یا وہاں سے نکل جائے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے کہ تو کسی (فرضی) نماز کے ساتھ کوئی نماز نہ ملا، حتی کہ تو وہاں سے نکل جائے یا کلام کر لے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم اس سے عاجز آگئے ہو کہ (فرضی) نماز پڑھنے کے بعد آگے یا پیچھےیا دائیںیا بائیں ہو جاؤ (اور پھر اگلی نماز پڑھو)۔
Takhreej
(۱۸۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، ابراہیم بن اسماعیل و حجاج بن عبید مجھولان، ولیث بن ابی سلیم ضعیف، واسانید الحدیث فیھا اضطراب لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ روایت شواہد کی بنا پر صحیح ہے، جیسا کہ امام البانی کا نظریہ ہے۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۰۶ (انظر: ۹۴۹۶)
Explanation
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی الْعَصْرَ، فَقَامَ رَجُلٌ یُصَلِّیْ فَرَآہُ عُمَرُ، فَقَالَ لَہُ: اِجْلِسْ، فَإِنَّمَا ھَلَکَ أَھْلُ الْکِتَابِ أَنَّہُ لَمْ یَکُن لِصَلاَتِھِمْ فَصْلٌ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : (( أَحْسَنَ ابْنُ الْخَطَّابِ۔)) یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی، (سلام کے بعد) ایک آدمی نے فورًا نماز پڑھنا شروع کر دی، عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا اور کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب اس لئے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوںمیں وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب نے اچھا کیا۔ (مسند أحمد: ۵/۳۶۸، الصحیحۃ: ۲۵۴۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَلّٰی الْعَصْرَ، فَقَامَ رَجُلٌ یُصَلِّیْ بَعْدَھَا فَرَآہُ عُمَرُ فَأَخَذَ بِرِدَائِہٖأَوْبِثَوْبِہٖفَقَالَ لَہُ: اِجْلِسْ، فَإِنَّمَا ھَلَکَ أَھْلُ الْکِتَابِ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ لِصَلاَتِھِمْ فَصْلٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : (( أَحْسَنَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: صَدَقَ) ابْنُ الْخَطَّابِ۔)) یعنی:عبداللہ بن رباح رضی اللہ عنہ ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی، ایک آدمی مزید نماز پڑھنے کے لئے اُس نماز کے بعد فوراًکھڑا ہو ا، عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا اور اس کی چادر یا کپڑے کوپکڑ کر کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب اس لئے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں میںوقفہ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب نے اچھا کیا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: (ابن خطاب نے) سچ کہا ہے۔ (مسند أحمد: ۵/۳۶۸، وابو یعلی فی مسندہ : ۱۳/ ۱۰۷/ ۳۱۶۶، الصحیحۃ: ۳۱۷۳) امام البانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: یہ حدیث اس امر پر واضح نص ہے کہ فرضی نماز کے متصل بعد نفلی نماز ادا کرنا حرام ہے، الایہ کہ وہ نمازی خارجی کلام کر لے یا آگے پیچھے ہو جائے۔ اکثر عجمیوں اور بالخصوص ترکوں کییہ عادت ہے کہ وہ فرض نماز کے فوراً بعد اسی مقام پر سنتوں کی ادائیگی شروع کر دیتے ہیں۔ حرمین شریفین میں بھی ان کا یہی انداز ہوتا ہے کہ جونہی امام سلام پھیرتا ہے، یہ لوگ اسی مقام پر سنت رکعات کی ادائیگی کے لیے فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں۔ (صحیحہ: ۲۵۴۹) معلو م ہوا کہ فرض نماز اور اس کے بعد ادا کی جانے والی نفلی نماز کے درمیان کچھ وقفہ ہونا چاہئے، اگرچہ وہ آگے پیچھے ہو جانے یا خارجی کلام کر لینے کی صورت میں ہو۔ لیکن اس وقت یہ سنت چھوڑی جاچکی ہے، شاذ و نادر لوگ ہیں جو اس کا خیال رکھتے ہیں۔ اصل مصیبتیہ ہے کہ عوام و خواص کے ہاں کسی سنت کے زیادہ اہم یا کم اہم ہونے یا اس پر عمل کرنے یا نہ کرنے کے سلسلے میں معیار ان کا اپنا ذہن یا اپنا مسلک ہے، جس سنت کو ہمارے بڑوں نے اہمیت دیئے رکھی، وہ ہمارے نزدیک بھی اہم ہو گی اور جس سنت پر ہم سے پہلے عمل نہیں کیا گیا، اس کے بارے میں ہم بھی خیال نہیں ہوتے۔ یہاںیہ مثال ذکر کر دینا بھی مناسب ہے کہ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ جب لوگوں سے ان کی نماز کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو بے نمازییوں جواب دیتے ہیں: جھوٹ کیوں بولیں جی، نماز کے بارے میں ہم سے غفلت ہو جاتی ہے۔ قارئین کرام! آپ خود سوچیں کہ ایک آدمی نماز کے بارے میں قطعاً سنجیدہ نہیں ہے اور وہ نماز چھوڑ کر کفر اور بغاوت کا اظہار کرتا ہے، لیکن جھوٹ بولتے ہوئے اسے ڈر لگنے لگتا ہے، جو تقوی جھوٹ بولنے کے سامنے روڑے اٹکاتا ہے، وہ نماز ترک کرنے کے سامنے حائل کیوں نہیں ہوتا؟ دراصل بات یہ ہے کہ ہم اسلام کے ایک دو امور کا اہتمام کر لینے کے بعد اپنے آپ کو کامل مسلمان سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح اپنے حق میں بڑے دھوکے باز ثابت ہوتے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ بندہ جب نماز کے بعد اپنی نماز والی جگہ میں بیٹھارہتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں رحمت کی دعا کرتے ہیں اور ان کی رحمت کی دعا یہ ہوتی ہے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ، اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔ (اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما)۔
Takhreej
(۱۸۵۲) تخریج: حسن لغیرہ، وانظر الحدیث بالطریق الثانی (انظر: ۱۲۱۹)
۔ (دوسری سند)عطا بن سائب کہتے ہیں: میں ابو عبد الرحمن سُلَمی کے پاس گیا، جبکہ وہ نماز فجر پڑھ کر اپنی جائے نماز میں ہی بیٹھے ہوئے تھے، میں نے ان سے کہا: اگر آپ اٹھ کر اپنے بستر پر چلے جائیں تو یہ آپ کے لیے زیادہ موافق ہو گا۔ انھوں نے جواباً کہا: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نمازِ فجر ادا کر کے اپنی جائے نماز میں بیٹھ جائے تو فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں، …۔ پھر گزشتہ حدیث کی طرح ذکر کیا۔
Takhreej
(۱۸۵۳) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ البزار: ۵۹۶ (انظر: ۱۲۵۱)
Explanation
فوائد:… دوسری روایات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فضیلت نمازِ فجر کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ ہر فرضی نماز سے متعلقہ ہے، نیز اس کی دو شرطیں بھی ہیں، درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِیْ صَلَاۃٍ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ تَحْبِسُہٗوَالْمَلَائِکَۃُیُصَلُّوْنَ عَلٰی اَحَدِکُمْ مَا دَامَ فِیْ مَجْلِسِہِ الَّذِیْ صَلّٰی فِیْہِیَقُوْلُوْنَ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ،اَللّٰھُمَّارْحَمْہُ، اَللّٰھُمَّ تُبْ عَلَیْہِ، مَا لَمْیُحْدِثْ فِیْہِ مَا لَمْ یُؤْذِ فِیْہِ))… جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہوتا ہے تو جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے، وہ نمازمیں ہی رہتا ہے، اور جب تک تم میں سے کوئی آدمی (نماز کے بعد) اسی جگہ میں بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیےیوں دعا کرتے رہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس پر رجوع کر، (یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک) وہ بے وضو نہ ہو جائے اور یا کسی کو تکلیف نہ دے دے۔