TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سلام پھیر دینے والا وہ آدمی کیا کرے، جس کی ابھی تک ایک رکعت باقی ہو - سلام پھیر دینے والا وہ آدمی کیا کرے، جس کی ابھی تک ایک رکعت باقی ہو - سجدہ سہو کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of سجدہ سہو کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 6 · 2 Hadith
۔ (۱۹۹۵) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَلَّمَ فِیْ ثَلَاثِ رَکَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ الْخِرْبَاقُ وَکَانَ فِییَدِہِ طُوْلٌ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَخَرَجَ إِلَیْہِ، فَذَکَرَ لَہُ صَنِیْعَہُ، فَجَائَ فَقَالَ: ((أَصَدَقَ ھٰذَا؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، فَصَلَّی الرَّکْعَۃَ الَّتِیْ تَرَکَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۶۶)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عصر کی تین رکعات کے بعد سلام پھیر دیا اور پھر اٹھ کر گھر چلے گئے، ایک آدمی اٹھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف گیا، اسے خرباق کہا جاتاتھااور اس کے ہاتھ کچھ لمبے تھے اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی طرف آئے تو اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر یہ بات واضح کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ سن کر تشریف لائے اور فرمایا: کیایہ سچ کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا:جی ہاں! تو آپ نے جو رکعت چھوڑی تھی، وہ ادا کی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔
Takhreej
(۱۹۹۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۷۴ (انظر: ۱۹۸۲۸)
1995
Sahih
۔ (۱۹۹۶) عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حُدَیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰییَوْمًا وَانْصَرَفَ وَقَدْ بَقِیَ مِنَ الصَّلَاۃِ رَکْعَۃٌ فَأَدْ رَکَہُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِیْتَ مِنَ الصَّلَاۃِ رَکْعَۃً، فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالاً فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ رَکْعَۃً، فَأَخْبَرْتُ بِذَالِکَ النَّاسَ، فَقَالُوْا لِی: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا، إِلاَّ أَنْ أَرَاہُ، فَمَرَّ بِی، فَقُلْتُ ھُوَ ھٰذَا، فَقَالُوْا: طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۹۶)
سیدنامعاویہ بن حدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ایک نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر چلے گئے، جب کہ اس نماز سے ایک رکعت باقی تھی، ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جا ملا اور کہا: آپ نماز سے ایک رکعت بھول گئے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوبارہ مسجد میں داخل ہوئے اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا، پس انھوں نے نماز کو کھڑا کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی۔ جب میں نے یہ بات لوگوں کو بتائی تو وہ مجھ سے پوچھنے لگے: کیا تم اس آدمی کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، ہاں اگر میں اس کو دیکھ لوں تو پہنچان لوں گا، اتنے میں وہ میرے پاس سے گزر پڑا، میں نے کہا کہ یہ وہ آدمی ہے، لوگوں نے کہا: یہ تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Takhreej
(۱۹۹۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۲۳، والنسائی: ۲/ ۱۸ (انظر: ۲۷۲۵۴)
Explanation
فوائد:… اس باب کا مفہوم پچھلے باب والا ہی ہے کہ جب کوئی آدمی کم رکعات پر سلام پھیر دے تو وہ ان رکعات کی ادائیگی کر کیے سجدۂ سہو کرے۔
1996
Sahih