TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس شخص کی دلیل کا بیان جو مفصل سورتوں میں تلاوت کے سجدوں کے نہ ہونے کا قائل ہے - اس شخص کی دلیل کا بیان جو مفصل سورتوں میں تلاوت کے سجدوں کے نہ ہونے کا قائل ہے - سجدۂ تلاوت اور سجدۂ شکر کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of سجدۂ تلاوت اور سجدۂ شکر کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 7 · 1 Hadith
۔ (۲۰۱۷) عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّجْمَ فَلَمْ یَسْجُدْ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۲۷)
سیدنازید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سورۂ نجم کی تلاوت کی اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں سجدۂ تلاوت نہیں کیا۔
Takhreej
(۲۰۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۰۷۲، ۱۰۷۳، ومسلم: ۵۷۷ (انظر: ۲۱۵۹۱)
Explanation
فوائد:… سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے لے کر قرآن مجید کے آخر تک کے حصے کو مُفَصَّل کہتے ہیں۔ اس حدیث سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا ہے کہ سورۂ نجم میںیا مفصل سورتوں میں سرے سے سجدۂ تلاوت نہیں ہے، کیونکہ اگلے باب کی احادیث سے یہ ثبوت مل رہا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا ہے، البتہ اِس باب کی حدیث سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ سجدۂ تلاوت کو چھوڑا بھی جا سکتا ہے، اس کا معنییہ ہوا کہ سجدہ فرض اور واجب نہیں ہے، اس ضمن میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک عمل بھی قابل توجہ ہے، ایک دفعہ انھوں نے جمعہ کے دن منبر پر سورۂ نحل کی تلاوت کی اور جب سجدہ والی آیت آئی تو انھوں نے اتر کر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا، اگلے خطبہ جمعہ میں انھوں نے پھر یہی سورت تلاوت کی، جب سجدے والی آیت آئی تو انھوں نے کہا: یَا اَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّا لَمْ نُؤْمَرْ بِالسُّجُوْدِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ اَصَابَ وَمَنْ لَّمْ یَسْجُدْ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ۔ (لوگو! یقینا ہمیں ان سجدوں کا حکم نہیں دیا گیا، لہٰذا جس شخص نے سجدہ کیا تو یقینا اس نے درست کام کیا اور جس نے سجدہ نہ کیا، اس پر کوئی گناہ نہیں )۔ (صحیح بخاری: ۱۰۷۷)
2017
Sahih