TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2017 - اس شخص کی دلیل کا بیان جو مفصل سورتوں میں تلاوت کے سجدوں کے نہ ہونے کا قائل ہے - سجدۂ تلاوت اور سجدۂ شکر کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
اس شخص کی دلیل کا بیان جو مفصل سورتوں میں تلاوت کے سجدوں کے نہ ہونے کا قائل ہے
۔ (۲۰۱۷) عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّجْمَ فَلَمْ یَسْجُدْ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۲۷)
سیدنازید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سورۂ نجم کی تلاوت کی اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں سجدۂ تلاوت نہیں کیا۔
2017
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۰۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۰۷۲، ۱۰۷۳، ومسلم: ۵۷۷ (انظر: ۲۱۵۹۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے لے کر قرآن مجید کے آخر تک کے حصے کو مُفَصَّل کہتے ہیں۔ اس حدیث سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا ہے کہ سورۂ نجم میںیا مفصل سورتوں میں سرے سے سجدۂ تلاوت نہیں ہے، کیونکہ اگلے باب کی احادیث سے یہ ثبوت مل رہا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا ہے، البتہ اِس باب کی حدیث سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ سجدۂ تلاوت کو چھوڑا بھی جا سکتا ہے، اس کا معنییہ ہوا کہ سجدہ فرض اور واجب نہیں ہے، اس ضمن میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک عمل بھی قابل توجہ ہے، ایک دفعہ انھوں نے جمعہ کے دن منبر پر سورۂ نحل کی تلاوت کی اور جب سجدہ والی آیت آئی تو انھوں نے اتر کر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا، اگلے خطبہ جمعہ میں انھوں نے پھر یہی سورت تلاوت کی، جب سجدے والی آیت آئی تو انھوں نے کہا: یَا اَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّا لَمْ نُؤْمَرْ بِالسُّجُوْدِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ اَصَابَ وَمَنْ لَّمْ یَسْجُدْ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ۔ (لوگو! یقینا ہمیں ان سجدوں کا حکم نہیں دیا گیا، لہٰذا جس شخص نے سجدہ کیا تو یقینا اس نے درست کام کیا اور جس نے سجدہ نہ کیا، اس پر کوئی گناہ نہیں )۔ (صحیح بخاری: ۱۰۷۷)

Related Chapters

188
1
(۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
2
(10) CHAPTER. Whoever thinks that Allah has not made prostration of recitation (i.e., during the recitation of the Quran) compulsory.
اس شخص کی دلیل جس کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت کو واجب نہیں کیا
Sahih Bukhari
3
CHAPTER: A View That There Is No Prostration In Mufassal Surahs.
باب: مفصل میں سجدہ نہ ہونے کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
4
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو چمڑے کو رنگنے کے بعد مردار کے بالوں کی طہارت کے قائل ہیں
Musnad Ahmad
5
موزوں پر مسح کی مدت کے عدم تعین کے قائلین کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
6
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
Musnad Ahmad
7
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
Musnad Ahmad
8
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو صبح کی نماز میں مصائب کے علاوہ قنوت نہ کرنے کے قائل ہیں
Musnad Ahmad
9
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
Musnad Ahmad
10
(105) CHAPTER. Whoever said: “Nothing annuls As-Salat (the prayer) (i.e. nothing of what others do, not the praying person himself).”
اس شخص کی دلیل جس نے یہ کہا کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی
Sahih Bukhari
11
(32) CHAPTER. Whoever did not dislike to offer optional prayers except after the compulsory prayers of Asr and Fajr only.
اس شخص کی دلیل جس نے فقط عصر اور فجر کے بعد نماز کو مکروہ رکھا ہے
Sahih Bukhari
12
(146) CHAPTER. Whoever considered that the first Tashah-hud is not compulsory. As the Prophet stood up after the second Raka (without sitting for Tashah-hud) and did not perform it.
اس شخص کی دلیل جو پہلے تشہد کو ( چار رکعت یا تین رکعت نماز میں ) واجب نہیں جانتا ( یعنی فرض ) کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں ۔
Sahih Bukhari
13
(12) CHAPTER. Whoever dose not find a place for prostration (with the Imam) because of overcrowding.
جو شخص ہجوم کی وجہ سے سجدہ تلاوت کی جگہ نہ پائے
Sahih Bukhari
14
(74) CHAPTER. Whoever thinks that no bath is required for the martyrs.
اس شخص کی دلیل جو شہداء کا غسل مناسب نہیں سمجھتا
Sahih Bukhari
15
(22) CHAPTER. Whoever said: “No suckling is to be carried on after the baby is two years old, As the Statement of Allah: ...two whole years, (that is) 'for those (parents) who desire to complete the term of suckling (breast feeding)... (V.2:233)
اس شخص کی دلیل جس نے کہا کہ دو سال کے بعد پھر رضاعت سے حرمت نہ ہو گی ۔
Sahih Bukhari
16
(92) CHAPTER. Whoever disliked to sit on pictures.
اس شخص کی دلیل جس نے توشک اور تکیہ اور فرش پر جب اس پر تصویریں بنی ہوئی ہوں بیٹھنا مکروہ رکھا ہے
Sahih Bukhari
17
Chapter: The evidence that one who dies believing in tawhid will definitely enter paradise
اس بات کی دلیل کہ جو شخص توحید پر فوت ہوا ، وہ لازماً جنت میں داخل ہو گا
Sahih Muslim
18
اس بات کی دلیل کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ، اسلام کے دین اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے رسول ہونے پر راضی ہوا وہ مومن ہے ، چاہے کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو
Sahih Muslim
19
Chapter: The evidence that the blood of one who aims to seize other people's wealth without right may be shed, if he is killed he will be in the fire, and the one who is killed defending his property is a martyr
اس بات کی دلیل کہ کوئی شخص دوسرے کا مال ناحق چھیننا چاہے تو اس کے خون کا قصاص نہ ہو گا اور اگر (ایسا کرتے ہوئے ) وہ مارا گیا تو جہنم میں جائے گا اور جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے
Sahih Muslim
20
Chapter: Being kind to one for whose faith there is concern because it is weak; Prohibition of attributing Faith to someone without definitive evidence
ایسے شخص کی تالیف قلب کرنا، جس کے ایمان کے بارے میں اس کی کمزوری کی وجہ سے خوف ہو اور قطعی دلیل کے بغیر کسی کے ایمان کے بارے میں حتمی بات کہنے کی ممانعت
Sahih Muslim
21
Chapter: The evidence that whoever dies upon disbelief, no good deed will benefit him
اس بات کی دلیل کہ کفر پر مرنے والے شخص کو اس کے عمل فائدہ نہ پہنچائیں گے
Sahih Muslim
22
47جس شخص کی فضیلت جو خود قرآن کے ساتھ(اس کی تلاوت کرتے ہوئے)قیام کرتا ہے اور (دوسروں کو)اس کی تعلیم دیتا ہے اور اس انسان کی فضیلت جس نے فقہ وغیرہ پر مشتمل حکمت (سنت )سیکھی ‘اس پر عمل کیا اور اس کی تعلیم دی
Sahih Muslim
23
CHAPTER: Whoever Said That A Donkey Does Not Nullify The Prayer.
باب: نمازی کے آگے سے گدھا کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: Whoever Said That A Dog Does Not Nullify The Prayer.
باب: نمازی کے آگے سے کتوں کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER: Whoever Said That Nothing Nullifes The Prayer.
باب: نمازی کے آگے کسی بھی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
26
CHAPTER: Those Who Recited It Out Loud.
باب: «بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے پڑھنے کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
27
CHAPTER: Those Who Held That One Should Recite (Al-Fatihah) In Other Than The Aloud Prayers.
باب: امام زور سے قرآت نہ کرے تو مقتدی قرآت کرے اس کے قائلین کی دلیل
Sunnan Abu Dawood
28
CHAPTER: Whoever Said The Doubt Should Be Ignored When One Is Confused Regarding (Whether He Has Prayed) Two Or Three Rak’ah.
باب: جب دو یا تین رکعت میں شک ہو جائے تو شک کو دور کرے ( اور کم کو اختیار کرے ) اس کے قائلین کی دلیل کا ذکر ۔
Sunnan Abu Dawood
29
CHAPTER: Those Who Said He Should Complete (The Prayers) Based Upon His Strongest Judgement.
باب: غالب گمان کے مطابق رکعات پوری کرے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
30
CHAPTER: Those Who Said (The Prostrations Should Be) After The Taslim.
باب: سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
31
CHAPTER: Whoever Said That It Should Be Prayed With Four Rak’ahs.
باب: نماز کسوف میں چار رکوع کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: Whoever Said That Only Two Ruku’ Should Be Performed (In Eclipse Prayer).
باب: نماز کسوف کی ہر رکعت میں ایک ایک رکوع ہے اس کے قائلین کی دلیل ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: Regarding Whoever Said That It Is The Twenty First Night.
باب: شب قدر اکیسویں رات میں ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: Whoever Said It Was The Twenty-Seventh Night.
باب: شب قدر ستائیسویں رات میں ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: Whoever Said It Was Throughout Ramadan.
باب: شب قدر سارے رمضان میں ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: A View That There Is Prostration In Mufassal Surahs.
باب: سورۃ والنجم میں سجدہ ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: Whoever Said That It (The Fatihah) Is From The ’Long’ Surahs.
باب: سورۃ الفاتحہ لمبی سورتوں میں سے ہے اس کے قائل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: The View That Half A Sa’ Of Wheat Is To Be Given As Sadaqah.
باب: گیہوں میں آدھا صاع صدقہ فطر دینے کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: Whoever Said That A Sermon Is Delivered On The Day Of Sacrifice.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو خطبہ دیا اس قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: Who So Said That He Was A Free Man.
باب: بریرہ کا شوہر آزاد تھا اس کے قائلین کی دلیل ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: The Preference To Break The Fast (While On A Journey).
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے اس کے قائلین کی دلیل ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: Whoever Preferred To Fast (While On A Journey).
باب: سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے اس کے قائلین کی دلیل
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: Regarding Whoever Said That The Khumus Is Before The Nafl.
باب: مال غنیمت میں سے نفل ( انعام ) دینے سے پہلے خمس ( پانچویں حصہ ) نکالا جائے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Whoever Mentioned Working In Order To Pay Off The Remaining Portion, In This Hadith.
باب: جس شخص کے نزدیک آزاد کرنے والا مفلس ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے اس کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: Whoever Reported That Skins Of Dead Animals Cannot Be Used.
باب: مردار کی کھال کا استعمال ممنوع ہے اس کے قائلین کی دلیل ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: The view that Prophet’s name and kunyah should not be combined in one person’s name.
باب: محمد نام اور ابوالقاسم کنیت ایک ساتھ نہ رکھے اس کے قائلین کی دلیل ۔
Sunnan Abu Dawood
47
سود صرف ادھار میں ہے کے قائلین کی دلیل
Sunnan Ibn e Maja
48
مردار کی کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھانے کے قائلین کی دلیل کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
49
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Squat Between The Two Prostrations
باب: سجدوں کے درمیان اقعاء کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Is Said Between The Two Prostrations
باب: دونوں سجدوں کے درمیان کی دعا
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,019
Musnad Ahmad
748
۔ (۷۴۸)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: قَرَأْتُ فِی کِتَابٍ لِعَطَائِ بْنِ یَسَارٍ مَعَ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: فَسَأَلْتُ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ، قَالَتْ: قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَکُلُّ سَاعَۃٍ یَمْسَحُ الْاِنْسَانُ عَلٰی الْخُفَّیْنِ وَلَا یَنْزِعُہُمَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۶۴)
کرنے کی گنجائش ہے، البتہ اس موضوع پر درج ذیل روایت قابل توجہ ہے: حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: خَرَجتُ مِنَ الشَّامِ إِلٰی الْمَدِیْنَۃِ یَوْمَ الْجُمَعَۃِ، فَدَخَلْتُ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَتٰی أَوْلَجْتَ خُفَّیْکَ فِی رِجْلَیْکَ؟ قُلْتُ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: فَھَلْ نَزَعْتَھُمَا؟ قُلْتُ: لَا۔ قَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّۃَ۔…میں جمعہ کے روز شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا، (جب وہاں پہنچا تو) حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس گیا۔ انھوں نے کہا: تم نے موزے کب پہنے تھے؟ میں نے کہا: جمعہ کے روز۔ انھوں نے پوچھا: کیا پھر ان کو اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے کہا: تم نے سنت کی موافقت کی ہے۔ (شرح معانی الآثار: ۱/۴۸،دارقطنی: ص۷۲، حاکم: ۱/۱۸۰ـ ۱۸۱،صحیحہ: ۲۶۲۲) جب صحابی کسی عمل یا قول کو سنت کہہ دے تو اس کی مراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت ہوتی ہے۔ اس حدیث کا پچھلے باب کی احادیث سے تعارض ہے، کیونکہ ان میں مسافر کو تین دنوں کی اور اس میں سات دنوں کی گنجائش دی گئی ہے۔ ان دو احادیث میں اس طرح جمع و تطبیق ممکن ہے کہ سات دنوں والی روایت کو ضرورت اور جماعت کی معیت میں رہنے کی وجہ سے موزے نہ اتار سکنے پر محمول کیا جائے، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا بھی یہی خیال ہے۔
Musnad Ahmad
1605
۔ (۱۶۰۵) عَنْ نَہِیْکِ بْنِ سِنَانٍ السَّلَمِیِّ أَنَّہُ أَتٰی عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الَّلیْلَۃَ فِی رَکْعَۃٍ، فَقَالَ: ھَذًّا مِثْلَ ھَذِّ الشِّعْرِ أَوْنَثْرًا مِثْلَ نَثْرِ الدَّقَلِ، إِنَّمَا فُصِّلَ لِتُفَصِّلُوا، لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْرِنُ عِشْرِ یْنَ سُورَۃً، الرَّحْمٰنَ وَالنَّجْمَ عَلٰی تَأْلِیْفِ ابْنِ مَسْعُودٍ کُلَّ سُورَتَیْنِ فِی رَکْعَۃِ، وَذَکَرَ الدُّخَانَ وَعَمَّ یَتَسَائَ لُونَ فِی رَکْعَۃٍ۔ (مسند احمد: ۳۹۵۸)
نہیک بن سنان سلمی کہتے ہیں: میں سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے رات کو ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کی ہے، انہوں نے کہا: شعروں کو پڑھنے کی طرح یا ردی کھجوروں کو بکھیرنے کی طرح تیزی تیزی سے پڑھا ہو گا۔ قرآن کو تو اس لیے مفصل بیانکیا گیا کہ تم بھی اس کے الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ یقینا میں اُن ملتی جلتی بیس سورتوں کو جانتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جن کو ملا کر پڑھتے تھے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تالیف کے مطابق سورۂ رحمن اور سورۂ نجم ایک رکعت میں، پھر سورۂ دخان اور سورۂ {عَمَّ یَتَسَائَ لُونَ} کا ایک رکعت میں پڑھنے کا ذکر کیا۔
Musnad Ahmad
3028
۔ (۳۰۲۸) عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی جَنَازَۃِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَہَیْنَا إِلی الْقَبْرِ، وَلَمَّا یُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَجَلَسْنَا حَوْلَہُ وَکَاَنَّ عَلٰی رُؤُوْسِنَا الطَّیْرَ، وَفِی یَدِہِ عُوْدٌ یَنْکُتُ فِی الْأَرْضِ فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((اِسْتَعْیْذُوا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔)) مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَـلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ، نَزَلَ إِلَیْہِ مَلَائِکَۃٌ مِنَ السَّمَائِ بِیْضُ الْوُجُوْہِ کَأَنَّ وَجُوْہَہُمْ الشَّمْسُ مَعَہُمْ کَفَنٌ مِنْ أَکْفَانِ الْجَنَّۃِ وَحَنُوْطٌ مِنْ حَنُوْطِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی یَجْلِسُوْا مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ یَجِیْئُ مَلَکُ الْمَوْتِ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہٖ، فَیَقُوْلُ: أَیَّتُہَا النَّفْسُ الطَّیِّبَۃُ اُخْرُجِی إِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ، قَالَ: فَتَخَرُجُ تَسِیْلُ کَمَا تَسِیْلُ الْقَطْرَۃُ مِنْ فِی السِّقَائِ، فَیَأْخُذُہَا، فَإِذَا أَخَذَہَا لَمْ یَدَعُوْہَا فِی یَدِہِ طَرْفَۃَ عَیْنٍ حَتَّی یَأْخُذُوْہَا فَیَجْعَلُوْہَا فِی ذَالِکَ الْکَفَنِ وَفِی ذَالِکَ الْحَنُوْطِ، وَیَخْرُجُ مِنْہَا کَأَطْیَبِ نَفْحَۃِ مِسْکٍ، وُجِدَتْ عَلٰی وَجْہِ الأَرْضِ، قَالَ: فَیَصْعَدُوْنَ بِہَا فَـلَا یَمُرُّوْنَ یَعْنِی بِہَا عَلٰی مَلَاٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ إِلَّا قَالُوْا: مَا ہٰذَا الرُّوْحُ الطَّیِّبُ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِہِ الَّتِی کَانُوْا یُسَمُّوْنَہُ بِہَا فِی الدُّنْیَا حَتّٰی یَنْتَہُوا بِہَا إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا فَیَسْتَفِتُحْوَن لَہُ فَیُفْتَحُ لَہُمْ، فَیُشَیِّعُہُ مِنْ کُلِّ سَمَائٍ مُقَرَّبُوْہَا إِلَی السَّمَائِ الَّتِی تَلِیْہَا حَتّٰی یُنْتَہٰی بِہِ إِلَی السَّمَائِ السَّابِعَۃِ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُکْتُبُوْا کِتَابَ عَبْدِی فِی عِلِّیِّیْنَ، وَأَعِیْدُوْہُ إِلَی الأَرْضِ فَإِنِّی مِنْہَا خَلَقْتُہُمْ وَفِیْہَا أُعِیْدُہُمْ وَمِنْھَا أُخْرِجُہُمْ تَارَۃً أُخْرَی، قَالَ: فَتُعَادُ رُوْحُہُ فِی جَسَدِہِ فَیَأْتِیْہِ مَلَکَانِ فَیُجْلِسَانِہِ، فَیَقُوْلُوْنَ لَہُ: مَنْ رَبَّکَ؟ فَیَقُوْلُ: رَبِّیَ اللّٰہُ، فَیَقُوْلُوْنَ لَہُ: مَا دِیْنُکَ؟ فَیَقُوْلُ: دِیْنِیَ الْاِسْلَامُ، فَیَقُوْلُوْنَ لَہُ: مَا ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِی بُعِثَ فِیْکُمْ؟ فَیَقُوْلُ: ہُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَیَقُوْلُوْنَ لَہُ: وَمَا عِلْمُکَ؟ فَیَقُوْلُ: قَرَأْتُ کِتَابَ اللّٰہِ فَآمَنْتُ بِہِ وَصَدَّقْتُ، فَیُنَادِیْ مُنَادٍ فِی السَّمَائِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِیْ فَأَفْرِشُوْہُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَأَلْبِسُوْہُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَافْتَحُوْا لَہُ بَابًا إِلَی الْجَنَّۃِ، قَالَ: فَیأْتِیْہِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْہِ حَسَنُ الثِّیَابِ طَیِّبُ الرِّیْحِ، فَیَقُوْلُ: أَبْشِرْ بِالَّذِی یَسُرُّکَ، ہٰذَا یَوْمُکَ الَّذِی کُنْتَ تُوْعَدُ، فَیَقُوْلُ لَہُ: مَنْ أَنْتَ، فَوَجْہُکَ الْوَجْہُ یَجِیْئُ بِالْخَیْرِ، فَیَقُوْلُ: أَنَا عَمَلُکَ الصَّالِحُ، فَیَقُوْلُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَۃَ حَتّٰی أَرْجِعَ إِلٰی أَہْلِی وَمَالِی، وَقَالَ: وَإِنَّ الْعَبْدَ الْکَافِرَ، إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ نَزَلَ إِلَیْہِ ِمَن السَّمَائِ مَلَائِکَۃٌ سُوْدُ الْوُجُوْہِ مَعَہُمْ الْمُسُوْحُ، فَیَجِْلُسْوَن مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرَ، ثُمَّ یَجِیْئُ ْمَلَکُ الْمَوْتِ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہِ فَیَقُوْلُ: أَیُّتُہَا النَّفْسُ الْخَبِیْثَۃُ! اُخْرُجِی إِلٰی سَخَطٍ مِنَ اللّٰہِ وَغَضَبٍ ، قَالَ: فَتَفَرَّقَ فِی جَسَدِہِ، فَیَنْتَزِعُہَا کَمَا یُنْتَزَعُ السَّفُّوْدُ مِنَ الصُّوْفِ الْمَبْلُوْلِ فَیَأْخُذُہَ، فَإِذَا أَخَذَہَا لَمْ یَدَعُوْہَا فِی یَدِہٖ طَرْفَۃَ عَیْنٍ حَتّٰی یَجْعَلُوْہَا فِی تِلْکَ الْمُسُوْحِ وَیَخْرُجُ مِنْہَا کَأَنْتَنِ رِیْحٍ وُجِدَتْ عَلٰی وَجْہِ ِالأَرْضِ فَیَصْعَدُوْنَ بِہَا، فَـلَا یَمُرُّوْنَ بِہَا عَلٰی مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ إِلَّا قَالُوْا: مَا ہٰذَا الرُّوْحُ الْخَبِیْثُ، فَیَقُوْلُوْنَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَقْبِحِ أَسْمَائِہِ الَّتِی کَانَ یُسَمّٰی بِہَا فِی الدُّنْیَا حَتّٰی یُنْتَھٰی بِہِ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَیُسْتَفْتَحُ لَہُ، فَـلَا یُفْتَحُ لَہُ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَابُ السَّمَائِ ، وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ۔} فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُکْتُبُوْا کِتَابَہُ فِی سِجِّیْنٍ فِی الْأَرْضِ السُّفْلٰی فَتُطْرَحُ رُوْحُہُ طَرْحًا، ثُمَّ قَرَئَ: {وَمَنْ یُشْرِکَ بِاللّٰہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ، فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِی بِہِ الرَّیْحُ فِی مَکَانٍ سَحِیْقٍ۔} فَتُعَادُ رُوْحُہُ فِی جَسَدِہِ وَیَأْتِیْہِ مَلَکَانِ فَیُجْلِسَانِہِ فَیَقُوْلَانِ لَہُ: مَنْ رَبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: ہَاہْ ہَاہْ، لَا أَدْرِی، فَیَقُوْلَانِ: مَا دِیْنُکَ؟ فَیَقُوْلُ: ہَاہْ ہَاہْ لَا أَدْرِی، فَیَقُوْلَانِ لَہُ: مَا ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِی بُعِثَ فِیْکُمْ؟ فَیَقُوْلُ: ہَاہْ ہَاہْ لَا أَدْرِی، فَیُنَادِی مُنَادٍ مِنَ السَّمَائِ أَنْ کَذَبَ فَأَفْرِشُوْا لَہُ مِنَ النَّارِ وَافْتَحُوْا لَہُ بَابًا إِلَی النَّارِ، فَیأْتِیْہِ مِنْ حَرِّہَا وَسُمُوْمِہَا، وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِ قَبْرُہُ حَتّٰی یَخْتَلِفَ فِیْہِ أَضْلَاعُہُ، وَیأْتِیْہِ رَجُلٌ قَبِیْحُ الْوَجْہِ قَبِیْحُ الثِّیَابِ مُنْتِنُ الرِّیْحِ، فَیَقُوْلُ: أَبْشِرْ بِالَّذِی یَسُوْئُ کَ، ہٰذَا یَوْمُکَ الَّذِی کُنْتَ تُوْعَدُ، فَیَقُوْلُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْہُکَ الْوَجْہُ یَجِیْئُ بِالشَرِّ، فَیَقُوْلُ: أَنَا عَمَلُکَ الْخَبِیْثُ، فَیَقُوْلُ: رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۳۳)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ایک انصاری کے جنازہ میں گئے، جب قبر پر پہنچے تو دیکھا کہ ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے، ایسے لگتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی،اس کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زمین کو کریدنے لگ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور دو تین بار فرمایا: عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن آدمی جب اس دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے مراحل میں ہوتاہے توآسمان سے سورج کی طرح کے انتہائی سفید چہروں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، ان کے پاس جنت کا کفن اورخوشبو ہوتی ہے، وہ آ کر اس آدمی کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے پاکیزہ روح! اللہ کی بخشش اور رضامندی کی طرف نکل۔ اس کی روح آرام سے بہتی ہوئی یوں نکل آتی ہے، جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکل آتا ہے۔ جنت کے فرشتے اس روح کو موت کے فرشتے کے ہاتھوں میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ فوراًاسے وصول کر کے جنت والے کفن اور خوشبو میں لپیٹ دیتے ہیں، اس سے روئے زمین پر کستوری کی عمدہ ترین خوشبو جیسی مہک آتی ہے، فرشتے اسے لے کر اوپر جاتے ہیں اور وہ فرشتوں کی جس جماعت اور گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں،وہ پوچھتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ اسے دنیا میں جن بہترین ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ فرشتے ان میں سے سب سے عمدہ نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے، یہاں تک وہ اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور اس کے لیے دروازہ کھلواتے ہیں، ان کے کہنے پر دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ پھر ہر آسمان کے مقرَّب فرشتے اس روح کو اوپر والے آسمان تک چھوڑ کر آتے ہیں، اس طرح اسے ساتویں آسمان تک لے جایاجاتا ہے۔ اللہ تعالٰ فرماتا ہے: میرے بندے کے (نامۂ اعمال والی) کتاب عِلِّیِّیْنَ میں لکھ دو اور اسے زمین کی طرف واپس لے جائو، کیونکہ میں نے اس کو اسی سے پیدا کیا ہے، اس لیے میں اس کو اسی میں لوٹائوں گا اور پھر اس کو دوسری مرتبہ اسی سے نکالوں گا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:پھر اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے:میرا رب اللہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوت کیا گیا تھا ، وہ کون ہے؟وہ جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ کہتے ہیں: یہ باتیں تمہیں کیسے معلوم ہوئیں؟وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور میں نے اس کی تصدیق کی، اس کے بعد آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتے ہوئے کہتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا ہے، اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دواور اس کے لیے جنت کی طرف سے ایک دروازہ کھول دو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اس کی طرف جنت کی ہوائیں اورخوشبوئیں آنے لگتی ہیں اور تاحدِّ نظر اس کے لیے قبر کو فراخ کر دیا جاتا ہے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے پاس ایک انتہائی حسین و جمیل، خوش پوش اور عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور کہتا ہے: تمہیں ہر اس چیز کی بشارت ہو جوتمہیں اچھی لگے، یہی وہ دن ہے جس کا تیرے ساتھ وعدہ تھا۔وہ قبر والا پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ لگتا ہے، جو خیر کے ساتھ آتا ہے۔ وہ جواباً کہتا ہے: میں تیرا نیک عمل ہوں۔ وہ کہتا ہے: اے میرے ربّ! قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل اور مال کی طرف لوٹ سکوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر آدمی جب اس دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتاہے تو آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں، ان کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں، وہ آ کر اس کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے خبیث روح! اللہ کے غصے اور ناراضگی کی طرف نکل آ، وہ اس کے جسم میں بکھر جاتی ہے۔پھر فرشتہ اسے یوں کھینچتا ہے جیسے کانٹے دار سلاخ کو تر اون میں سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔ جب فرشتہ اسے نکال لیتا ہے تو دوسرے فرشتے اس روح کو اس کے ہاتھ میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ اسے فوراً ٹاٹوں میں لپیٹ لیتے ہیں، روئے زمین پر پائے جانے والی سب سے گندی بدبو اس سے آتی ہے، فرشتے اسے لے کر اوپر کو جاتے ہیں۔ وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ اس آدمی کو دنیا میں جن برے ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ ان میں سے سب سے برا اور گندا نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے، یہاں تک کہ فرشتے اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھلوانے کا کہتے ہیں، لیکن اس کے لیے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَابُ السَّمَائِ ، وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ۔} (سورۂ اعراف:۴۰) یعنی: اوپر جانے کی خاطر ان کی روحوں کے لیے آسمان کے درواز ے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں اس وقت تک نہ جا سکیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے سے نہ گزر جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس کے (نامۂ اعمال) کی کتاب زمین کی زیریں تہ سِجِّیْنٍ میں لکھ دو۔ پھر اس کی روح کو زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے۔اس موقعہ پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَمَنْ یُشْرِکَ بِاللّٰہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ، فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِی بِہِ الرَّیْحُ فِی مَکَانٍ سَحِیْقٍ۔}(سورۂ حج:۳۱) یعنی: اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، وہ گویا آسمان سے گر پڑا اور اسے پرندوں نے اچک لیا یا ہوا اسے اڑا کر دور دراز لے گئی۔ اس کے بعد اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے اور دو فرشتے اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں:تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں تونہیں جانتا۔وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں تو نہیں جانتا۔وہ پوچھتے ہیں: یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوث کیا گیا تھا، وہ کون ہے؟وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں نہیں جانتا۔ آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے: یہ جھوٹا ہے، اس کے لیے جہنم کا بستر بچھا دو اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، پس وہاں سے اس کی طرف جہنم کی حرار ت اور بدبو آنے لگتی ہے۔ اس کی قبر اس پر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں۔ایک انتہائی بدشکل، بدصورت، گندے لباس والا بدبودار آدمی اس کے پاس آ کر کہتا ہے: تجھے ہر اس چیز کی بشارت ہو جو تجھے بری لگتی ہے، یہ وہی دن ہے کہ جس کا تجھ سے وعدہ کا جاتا تھا۔وہ پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ ہے جو شرّ کے ساتھ آتا ہے؟ وہ کہتا ہے: میں تیرا برا عمل ہوں۔ وہ قبر والا کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت قائم نہ کرنا۔
Musnad Ahmad
13125
۔ (۱۳۱۲۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْکَوْثَرُ نَہْرٌ فِی الْجَنَّۃِ وَعَدَنِیْہِ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۱۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک نہر کا نام کوثر ہے اور میرے ربّ نے مجھ سے اس کا وعدہ کیا ہے۔
Musnad Ahmad
13296
۔ (۱۳۲۹۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَھْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی لَیَرَاھُمْ مَنْ تَحْتَھُمْ کَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِیْ الْاُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ، وَاَبُوْ بَکْرٍ وعُمَرُ مِنْہُمْ وَاَنْعَمَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۳۱)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں بلند درجات والے کو ان سے کم درجوں والے لوگ اس طرح دیکھیںگے، جیسے تم لوگ آسمان کے کنارے پر دمکتے ستارے کو دیکھتے ہو، اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ایسے ہی بلند مقام لوگوں میں سے ہیں اور کیا خوب مقام ہے ان کا۔
Musnad Ahmad
1
۔ (۱)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ یَعْنِی ابْنَ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ کُلْثُوْمٍ ابْنِ جَبْرٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَخَذَ اللّٰہُ الْمِیْثَاقَ مِنْ ظَہْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ یَعْنِی عَرَفَۃَ، فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہِ کُلَّ ذُرِّیِّۃٍ ذَرَأَہَا، فَنَثَرَہُمْ بَیْنَ یَدَیْہِ کَالذَّرِّ، ثُمَّ کَلَّمَہُمْ قُبُلاً،قَالَ: {أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَآ أَنْ تَقُولُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غَافِلِیْنَ۔ أَوْ تَقُوْلُوْآ اِنَّمَا أَشْرَکَ آبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِہِمْ أَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ}۔)) (مسند أحمد: ۲۴۵۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نعمان یعنی عرفہ کے مقام پر حضرت آدمؑ کی پشت (یعنی ان کی اولاد)سے مضبوط عہد لیا، اس کا طریق کار یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی پیٹھ سے وہ ساری اولاد نکالی، جو اس نے پید اکرنی تھی اور ان کو آپؑ کے سامنے چیونٹیوںکی طرح بکھیر دیا اور پھر ان سے آمنے سامنے کلام کرتے ہوئے کہا: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ یا یوں کہو کہ پہلے پہل یہ شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔
Musnad Ahmad
3
۔ (۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ : ((یُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ أَ کُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہِ ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، قَالَ: فَیَقُوْلُ: قَدْ أَرَدْتُّ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ذَالِکَ، قَدْ أَخَذْتُ عَلَیْکَ فِی ظَہْرِ آدَمَ أَنْ لَّا تُشْرِکَ بِیْ شَیْئًا فَأَبَیْتَ اِلَّا أَنْ تُشْرِکَ بِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۱۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قیامت کے دن جہنمی آدمی سے کہا جائے گا: اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ زمین پر جو چیزیں بھی ہیں، کیا تو (اس عذاب سے بچنے کے لیے) وہ فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو تجھ سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا، میں نے تجھ سے یہ عہد لیا تھا، جبکہ تو آدم ؑ کی پیٹھ میں تھا، کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، لیکن تو نے انکار کر دیا تھا اور (اسی چیز پر ڈٹ گیا کہ) تو نے میرے ساتھ شرک ہی کرنا ہے۔
Musnad Ahmad
4
۔ (۴)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ وَہُوَ الَّذِی بَعَثَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؓ اِلَی الشَّامِ یُفَقِّہُ النَّاسَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ؓ حَدَّثَہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ رَکِبَ یَوْمًا عَلَی حِمَارٍلَہُ یُقَالُ لَہُ یَعْفُورٌ، رَسَنُہُ مِنْ لِیْفٍ، ثُمَّ قَالَ: ((ارْکَبْ یَا مُعَاذُ!))، فَقُلْتُ: سِرْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِرْکَبْ))، فَرَدِفْتُہُ فَصُرِ عَ الْحِمَارُ بِنَا فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضْحَکُ وَ قُمْتُ أَذْکُرُ مِنْ نَفْسِیْ أَسَفًا، ثُمَّ فَعَلَ ذَالِکَ الثَّانِیَۃَ ثُمَّ الثَّالِثَۃَ وَسَارَ بِنَا فَأَخْلَفَ یَدَہُ فَضَرَبَ ظَہْرِی بِسَوْطٍ مَعَہُ أَوْ عَصًا، ثُمَّ قَالَ: ((یَا مُعَاذُ! ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) فَقُلْتُ: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَ عْلَمُ، قَالَ: ((فَاِنَّ حَقَّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ أَنْ یَعْبُدُوْہُ وَلَا یُشْرِکُوْ بِہِ شَیْئًا۔))، قَالَ: ثُمَّ سَارَ مَا شَائَ اللّٰہُ، ثُمَّ أَخْلَفَ یَدَہُ فَضَرَبَ ظَہْرِی فَقَالَ: ((یَا مُعَاذُ! یَا ابْنَ أُمِّ مُعَاذٍ! ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اِذَا ہُمْ فَعَلُوْا ذَالِکَ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَاِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اِذَا فَعَلُوْا ذَالِکَ أَنْ یُدْخِلَہُمُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۲۳)
عبد الرحمن بن غنم، جن کو سیدنا عمرؓ نے لوگوں کو فقہ کی تعلیم دینے کے لیے شام بھیجا تھا، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے ان کو بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک روز اپنے یعفور نامی گدھے پر سوار ہوئے، اس کی رسی کھجور کے پتوں کی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: معاذ! تم بھی سوار ہو جاؤ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ چلیں (میں پیدل ہی ٹھیک ہوں)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: تم سوار ہو جاؤ۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار ہو گیا، ہوا یوں کہ گدھا گر پڑا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہو کر مسکرانے لگے اور میں دل ہی دل میں افسوس کرنے لگا، پھر دوسری اور تیسری بار بھی ایسے ہی ہوا، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنا ہاتھ مبارک پیچھے کیا اور کوڑے یا چھڑی کے ساتھ میری کمر پر مارا اور فرمایا: معاذ! کیا تو جانتا ہے کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس بیشک اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آگے کو چلے، اور پھر اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور میری کمر پر مارا اور فرمایا: اے معاذ! اے معاذ کی ماں کے بیٹے! کیا تم یہ جانتے ہو کہ اگر بندے ایسے ہی کریں تو اللہ تعالیٰ پر ان کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس بیشک جب بندے ایسے ہی کریں تو ان کا اللہ تعالیٰ پر حق یہ ہے کہ وہ ان کو جنت میں داخل کر دے۔
Musnad Ahmad
14
۔ (۱۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقْبِضُ اللّٰہُ الْأَرْضَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ یَطْوِی السَّمَائَ بِیَمِیْنِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ: أَنَا الْمَلِکُ،أَیْنَ مُلُوْکُ الْأَرْضِ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۵۰)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت والے دن زمین و آسمان دائیں ہاتھ میں پکڑ کر اور لپیٹ کر کہے گا: میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین والے بادشاہ؟