TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رات کی نماز اور وتر کے ابواب - رات کی نماز اور وتر کے ابواب - Book 37 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 37 of Musnad Ahmad, with 5 chapters and 56 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

56 Hadith · 5 Chapters
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
۔ (۲۱۳۲) عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤُمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بَأَیِّ شَیْئٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْتَتِحُ الصَّلَاۃَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ؟ قَالَتْ: کَانَ إِذَا قَامَ کَبَّرَ وَیَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَإِسْرَافِیْلَ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِیَخْتَلِفُوْنَ، اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِکَ، إِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَائُ إِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ۔)) قَالَ یَحْیٰی: قَالَ أَبُوْ سَلَمَۃَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِیَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْثِہِ وَنَفْخِہِ۔)) قَالَ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا ھَمْزُہُ وَنَفْخُہُ وَنَفْثُہُ؟ قَالَ: ((أَمَّا ھَمْزُہُ فَہٰذِہِ الْمُوْتَۃُ الَّتِی تَأْخُذُ بَنِیْ آدَمَ، وَأَمَّا نَفْخُہُ فَالْکِبْرُ، وَأَمَّا نَفْثُہُ فَالشِّعْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۴۱)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کوقیام کرتے تونماز کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور یہ دعاء پڑھتے: اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَإِسْرَافِیْلَ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِیَخْتَلِفُوْنَ، اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقَّ بِإِذْنِکَ، إِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَائُ إِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ۔ (اے اللہ! اے جبریل،میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے! غیب وحاضر کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے، جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، اپنے حکم سے اس حق کی طرف میری راہنمائی کر جس میں اختلاف کیا گیا ہے، یقینا تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے) یحیی کہتے ہیں: سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کا قیام کرتے توکہتے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْثِہِ وَنَفْخِہِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، شیطان مردود سے، یعنی اس کے جنون، تکبر اور شعروں سے) مزید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: شیطان مردود کے ھَمْز ، نَفْخ اور نَفْث سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے ھَمْز ، نَفْخ اور نَفْث سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے ھَمْز سے مراد لوگوں کو لگنے والی مرگی ہے، اس کے نَفْخ سے مراد تکبر ہے اور نَفْث سے مراد شعر ہے۔
Takhreej
(۲۱۳۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۷۰ الی قولہ: صراط مستقیم۔ وما بعدہ حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، عکرمۃ بن عمار روایتہ عن یحییٰ ضعیفۃ، وھو مرسل، وتفسیر ھمزہ ونفخہ ونفثہ مدرجۃ فی الحدیث (انظر: ۲۵۲۲۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں ایک دعائے استفتاح اور ایک تعوذ کا بیان ہے۔ یہ تعوذ اس طرح بھی پڑھا جا سکتا ہے اور یہی الفاظ عام لوگوں کو یاد بھی ہیں: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖوَنَفْثِہٖ۔ (ابوداود: ۷۷۵، ترمذی: ۲۴۲) (میںاللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود (کی شر) سے، اس کے خطرے سے، اس کی پھونکوں سے اور اس کے وسوسے سے۔) یہ تعوذ بھی ثابت ہے: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲۵۸۹، الاوسط لابن المنذر: ۱۳۷۷) میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود (کے شر) سے۔
2132
Sahih
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
۔ (۲۱۳۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِیَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ َومَنْ فِیْہِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَ وَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَۃُ حَقٌ، اَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَ کَّلْتُ وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِی مَاقَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الَّذِی لَاإِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو نماز کے لئے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ َومَنْ فِیْہِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَ وَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَۃُ حَقٌ، اَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْکَأَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَاقَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ،أَنْتَ الَّذِیْ لَاإِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ (اے اللہ! تیرے لئے تعریف ہے، تو ہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، تیرے لئے ہی ہرقسم کی تعریف ہے، تو ہی آسمانوں و زمین اور جو ان میں ہے، ان سب کا رب ہے، توحق ہے، تیری بات حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے،جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے، اے اللہ تیرے لئے میں فرمانبردار ہوا، تیرے ساتھ میں ایمان لایا، تجھ پر میں نے توکل کیا، تیری طرف میں نے رجوع کیا ہے اور تیری توفیق سے میں نے جھگڑا کیا ہے اورتیری طرف ہی میں فیصلہ لے کر آیا ہوں، تو میرے لیے میرے وہ گناہ بخش دے، جو میں نے پہلے کیے، جو بعدمیں کیے، جو پوشیدہ طور پر کیے اور جو ظاہری طور پر کیے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔)
Takhreej
(۲۱۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۲۰، ۶۳۱۷، ومسلم: ۷۶۹ (انظر: ۲۷۱۰، ۳۳۶۸)
2133
Sahih
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
۔ (۲۱۳۴) عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ رَمَقَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّیْ فَجَعَلَ یَقُوْلُ فِیْ صَلَاتِہِ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا رَزَقْتَنِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۱۶)
ایک صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے تو نماز میں یہ دعا کر رہے تھے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا رَزَقْتَنِیْ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، اور میرےلئے میرا گھر وسیع کر دے اورمیرے لئے اس رزق میں برکت ڈال جو تو نے مجھے عنایت کیا ہے۔
Takhreej
(۲۱۳۴) تخریج: المرفوع منہ حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ حال عبید بن القعقاع، وقد اختلف فیہ علی شعبۃ (انظر: ۱۶۵۹۹)
2134
Sahih
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
۔ (۲۱۳۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَیْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ کَیْفَ کَانَ نَوْمُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْجَنَابَۃِ، أَیَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ یَّنَامَ؟ فَقَالَتْ: کُلَّ ذَالِکَ قَدْ کَانَ یَفْعَلُ، رُبَمَا اِغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ، قَالَ: قُلْتُ لَھَا: کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ أَیَجْہَرُ أَمْ یُسِرُّ؟ قَالَتْ: کُلَّ ذَالِکَ قَدْ کَانَ یَفْعَلُ، وَرُبَمَا جَہَرَ وَرُبَمَا أَسَرَّ ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۷۵)
عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جنابت کی حالت میں سونا کیسے ہوتا تھا؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے؟ انہوں نے کہا: آپ اس طرح کرتے تھے کہ بسا اوقات غسل کر کے سو جاتے اور بسا اوقات وضو کر کے سو جاتے۔ میں نے ان سے پھر کہا: رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کیسے ہوتی تھی؟ کیا آپ بلند آواز سے قراء ت کرتے تھے یا آہستہ آواز سے؟ انہوں نے کہا: آپ دونوں طرح کرتے تھے، بسا اوقات بآواز بلند قراء ت کرتے تھے اور کبھی کبھار پست آواز میں کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۳۵) تخریج: أخرجہ مسلم: بقصۃ الغسل من الجنابۃ: ۳۰۷ (انظر: ۲۵۱۶۰)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابوبکر! تیرے پاس سے میرا گزر ہوا، تم بالکل پست آواز میں نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس ہستی کو تو سنا رہا تھا، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تیرے پاس سے میرا گزر ہوا، تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے کہا: میں اونگھنے والے کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو بکر! تم اپنی آواز کو معمولی بلند کرو۔ اور عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم اپنی آواز کو معمولی پست کرو۔ (ابوداود: ۱۳۲۹، ترمذی: ۴۴۷) معلوم ہوا کہ جب نمازی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو دھیمی آواز کے ساتھ تلاوت کیا کرے۔
2135
Sahih
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
۔ (۲۱۳۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا بَدَّنَ وَثَقُلَ یَقْرَأُ مَا شَائَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَھُوَ جَالِسٌ فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّوْرَۃِ ثَلَاثُوْنَ أَوْأَرْبَعُوْنَ آیَۃً قَامَ فَقَرَأَھَا ثُمَّ سَجَدَ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۹۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب عمر رسیدہ اور بھاری ہوگئے، تو جتنی اللہ تعالیٰ چاہتا آپ بیٹھ کر تلاوت کرتے اور جب سورت کی تیسیا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے اور ان کی تلاوت کر کے پھر سجدہ کرتے۔
Takhreej
(۲۱۳۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۴۸، ومسلم: ۷۳۱ (انظر: ۲۴۱۹۱، ۲۴۲۵۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایک ہی رکعت میں بیٹھنا اور پھر کھڑے ہو جانا درست ہے۔
2136
Sahih
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
۔ (۲۱۳۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنَ اللَّیْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقَرْآنُ عَلٰی لِسَانِہِ فَلَمْ یَدْرِ مَایَقُولُ فَلْیَضْطَجِعْ)) (مسند احمد: ۸۲۱۴)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میںسے کوئی رات کاقیام کرے ، لیکن (نیند کے غلبے کی وجہ سے) اس کی زبان پر قرآن مشکل ہوجائے اور اسے یہ سمجھ بھی نہ آ رہی ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے، تو وہ لیٹ جائے۔
Takhreej
(۲۱۳۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۸۷ (انظر: ۸۲۳۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں جو مسئلہ بیان کیا گیا ہے، وہ تو واضح ہے، لیکن اس نقطہ پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ نماز کے اندر کتنی فکر مطلوب ہے، اگر ایک آدمی کو نیند تو نہ آ رہی ہو اور وہ نماز میں تلاوت بھی کر رہا ہو، لیکن سرے سے اس کی تلاوت اور کہے ہوئے اذکار پر کوئی توجہ نہ ہو تو یہ ایسا شخص ہو گا جس کا جسم جاگ رہا ہو گا اور روح سوئی ہوئی ہو گی۔ اس باب میں استفتاح کی بعض دعاؤں کا ذکر ہے، ان کے علاوہ احادیث سے اور دعائیں بھی ثابت ہیں، بعض کا ذکر نمازوں کے ابواب میں اس عنوان دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان میں گزر چکا ہے۔
2137
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
۔ (۲۱۳۸) عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ بَاتَ عِنْدَ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وَھِیَ خَالَتُہُ قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِیْ عَرْضِ الْوِسَادَۃِ وَاضْطَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَھْلُہُ فِیْ طُوْلِھَا، فَنَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا انْتَصَفَ اللَّیْلُ أَوْ قَبْلَہُ بِقَلِیْلٍ أَوْ بَعْدَہُ بِقَلِیْلِ، اِسْتَیْقَظَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ یَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْہِہِ بِیَدِہِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَا الْآیَاتِ خَوَاتِیْمَ سُوْرَۃِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلٰی شَنٍّ مُعَلَّقَۃٍ فَتَوَضَّأَ مِنْہَا فَأَحْسَنَ وُضُوْئَہُ ثُمَّ قَامَ یُصَلِّیْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِیْ صَنَعَ، ثُمَّ ذَھَبْتُ فَقُمْتُ إِلٰی جِنْبِہِ فَوَضَعَ یَدَہُ عَلیَ رَأْسِیْ وَأَخَذَ أَذُنِیَ الْیُمْنَی فَفَتَلَھَا فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ رَکَعَتَیْنِ ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتّٰی أَتَاہُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الصُّبْحَ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس رات گزاری،یہ ان کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں: میں تکیے کی چوڑائی والی طرف میں لیٹ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کی لمبائی والی طرف میں لیٹ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوگئے، جب نصف رات یا اس سے تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد کا وقت ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ گئے اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نیند کو دور کرنے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی، بعد ازاں لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کی طرف گئے اور اس سے بڑے اچھے انداز میں وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جیسا وضو کر کے آپ کی ایک جانب کھڑا ہوگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑکر اسے بل دیا، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، اور پھر وتر پڑھ کر لیٹ گئے، حتیٰ کہ آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس مؤذن آیا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھے اورہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں اور پھر چلے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔
Takhreej
(۲۱۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۳، ۹۹۲، ۱۱۹۸، ومسلم: ۷۶۳ (انظر: ۲۱۶۴)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کانوں کو مروڑنا، اس کی وجہ یہ تھی ان پر نیند غالب آ رہی تھی، اس سے بچوں کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ روایات میں صراحت آ رہی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا کان پکڑ کر اسے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ وہ پہلے آپ کی بائیں جانب آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ کان مروڑنے کی ظاہری وجہ تو یہ محسوس ہوتی ہے۔ و اللہ اعلم بالصواب۔ (عبداللہ رفیق)
2138
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
۔ (۲۱۳۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِیْ مِیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِشَائَ، ثُمَّ جَائَ فَصَلّٰی أَرْبَعًا ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی أَرْبَعًا، قَالَ: ((نَامَ الْغُلَیِّمُ؟)) أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَھَا، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ یَّسَارِہٖ فَجَعَلَنِیْ عَنْ یَّمِیْنِہِ ثُمَّ صَلّٰی خَمْسَ رَکْعَاتٍ ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ نَامَ حَتّٰی سَمِعْتُ غَطِیْطَہُ أَوْ خَطِیْطَہُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاۃِ ۔ (مسند احمد: ۳۱۷۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: میں نے زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ میری خالہ ہیں، کے پاس رات گزاری، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر گھر آکر چار رکعتیں ادا کیں اور پھر سوگئے، پھر اٹھے اور چار رکعت نماز پڑھی اور پوچھا: کیا چھوٹا بچو سویا ہوا ہے؟ یا اس قسم کی بات کی،پس میں آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانچ رکعتیں ادا کیں، اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کی اور پھر سوگئے اور اس قدر سوئے کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپ نمازِ فجر کے لیے تشریف لے گئے۔
Takhreej
(۲۱۳۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۷، ۱۳۴۲ (انظر: ۳۱۷۰)
2139
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
۔ (۲۱۴۰) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: بِتُّ عَنْدَ خَالَتِیْ مِیْمُوْنَۃَ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ قَأَتٰی حَاجَتَہُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ ثُمَّ قَامَ فَأَتَی الْقِرْبَۃ َفَأَطَلَقَ شِنَاقَہَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوْأً بَیْنَ الْوُضُوْئَیْنِ لَمْ یُکْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی فَقُمْتُ فَتَمَطَّاْتُ کَرَاھِیْۃَ أَنْ یَرٰی أَنِّیْ کُنْتُ أَرْتَقِبُہُ، فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ یُصَلِّیْ فَقُمْتُ عَنْ یَّسَارِہِ فَأَخَذَ بِأُذُنِیْ فَأَدَارَنِیْ عَنْ یَّمِیْنِہِفَتَتَامَّتْ صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتّٰی نَفَخَ، وَکَانَ إِذَانَامَ نَفَخَ، فَأَتَاہُ بِلَالٌ فَآذَنَہُ بِالصَّلَاۃِ فَقَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ وَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ دُعَائِہِ: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَفِیْسَمْعِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَّسَارِیْ نُوْرًا، وَمِنْ فَوْقِیْ نُوْرًا، وَمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا، وَمِنْ أَمَامِیْ نُوْرًا، وَمِنْ خَلْفِیْ نُوْرًا، وَأَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا۔)) قَالَ کُرَیْبٌ وَسَبْعٌ فِی التَّابُوتِ، قَالَ فَلَقِیْتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِیْ بِہِنَّ فَذَکَرَ عَصَبِیْ وَلَحْمِیْ وَدَمِیْ وَشَعْرِیْ وَبَشَرِیْ قَالَ وَذَکَرَ خَصْلَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۳۱۹۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس رات گزاری، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضائے حاجت کی، پھر (صفائی اور نشاط کے لیے) چہرہ اور ہاتھ دھوئے، پھر اٹھ کر مشکیزے کے پاس آئے، اس کا تسمہ کھولا اور درمیانہ سا وضو کیا، بہرحال وضو مکمل ضرور تھا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز شروع کر دی، میں بھی اٹھا اور میں نے انگڑائی لی (اور ظاہر کرایا کہ میں سو رہا تھا)، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس چیز کا پتا نہ چلے کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (کی حرکات و سکنات کو نوٹ کرنے کے لیے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نگاہ رکھی ہوئی ہے، بہرحال میں نے وضوء کیا، اُدھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، میں بھی آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا کان پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف گھمادیا، اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعات رہی، پھر آپ لیٹ کر سوگئے حتیٰ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خراٹے سنائی دینے لگے،عام طور پر آپ جب بھی سوتے تو خراٹوں کی آواز آتی تھی، اتنے میں سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ کے پاس آکر آپ کو نماز کی اطلاع دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اٹھ کر نماز پڑھی اور وضوء نہیں کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی دعا میں یہ کہہ رہے تھے: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَّسَارِیْ نُوْرًا، وَمِنْ فَوْقِیْ نُوْرًا، وَمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا، وَمِنْ أَمَامِیْ نُوْرًا، وَمِنْ خَلْفِیْ نُوْرًا، وَأَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا۔ (اے اللہ! میرے دل میں، میری آنکھ میں، میرے کان میں، میری دائیں جانب، میری بائیں جانب، میرے اوپر، میرے نیچے، میرے سامنے اور میرے پیچھے نور بنادے اور میرے لیے نور بڑا کر دے) کریب کہتے ہیں: سات چیزیں تابوت میں تھیں، (لیکن اب مجھے بھول گئی ہیں)، میں سیدنا عباس کے کسی بچے کو ملا، اس نے مجھے وہ چیزں بیان کرتے ہوئے اس طرح ذکر کیں: عَصَبِیْ وَلَحْمِیْ وَدَمِیْ وَشَعْرِیْ وَبَشَرِیْ (میرے پٹھے، میرے گوشت، میرے خون، میرے بال اور میرے چمڑے میںنور بنا دے) اور انھوں نے دو اور خصلتوں کا ذکر بھی کیا تھا۔
Takhreej
(۲۱۴۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۱۶، ومسلم: ۷۶۳ (انظر: ۳۱۹۴)
Explanation
فوائد:… کریب کہتے ہیں: وَسَبْعٌ فِی التَّابُوتِ (سات چیزیں تابوت میں ہیں) کا معنی و مفہوم مختلف فیہ ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: ابن بطال اور داودی نے کہا: اس سے مراد سینہ ہے، ابن بطال نے یہ مثال بھی بیان کی کہ جیسے علم یاد کرنے والے شخص کو کہا جاتا ہے کہ اس کا علم تابوت میں رکھا ہوا ہے۔ امام نووی وغیرہ نے کہا: تابوت سے مراد دل کا احاطہ کرنے والی پسلیاں اور دوسری اشیا ہیں، ان کو اس تابوت سے تشبیہ دی گئی ہے، جس میں حفاظت سے سامان رکھا جاتا ہے، مرادی معنییہ ہے کہ راوییہ کہنا چاہتا ہے کہ سات کلمات اس کے دل میں تھے، لیکن وہ بھول گیا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد سات انوار ہیں، جو اس تابوت میں لکھے ہوئے تھے، جس میں بنی اسرائیل کے لیے سکینت تھی۔ ابن جوزی نے کہا: تابوت سے راوی کی مراد صندوق ہے، یعنی سات چیزیں اس کے پاس صندوق میں لکھی ہوئی، جو اسے اس وقت یاد نہیں ہیں۔ میں (ابن حجر) کہتا ہوں: آخری معنی کی تائید ابو عوانہ (۲/ ۳۱۲) کی اس روایت سے ہوتی ہے، جس کے مطابق کریب کہتے ہیں: اور چھ میرے پاس تابوت میں لکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ قرطبی نے المفھم میں اور کوئی ایک نے بالیقین کہا ہے کہ تابوت سے مراد جسم ہے، یعنیسات مذکورہ چیزیں انسان کے جسم سے متعلقہ ہیں، بخلاف ان کے جو گزر گئی ہیں، کیونکہ ان کا تعلق معانی اور اعراض سے ہے، جیسے جہاتِ ستّہ ہیں۔ داودی نے کہا: تابوت سے مراد صحیفہ ہے جو عباس کی اولاد کے پاس تھا۔ حدیث کے آخر میں دو خصلتوں سے مراد زبان اور نفس ہیں، جیسا کہ مسلم (۷۶۳) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۱۱۷) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مختلف جہات اور اعضاء میں جس نور کا سوال کیا ہے، اس سے مراد حق کی وضاحت، اس کی روشنی اور اس کی طرف ہدایت ہے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی جہاتِ ستّہ اور بیشتر اعضاء کا تذکرہ کر کے نور کا سوال کیا ہے، تاکہ کہیں سے بھی ہدایت سے دور ہونے کی گنجائش نہ رہے۔
2140
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
۔ (۲۱۴۱) عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُوْمِیِّ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَیْتُ خَالَتِیْ مَیْمُوْنَۃَ بِنْتَ الْحَارِثَ فَبِتُّ عِنْدَھَا فَوَجَدْتُّ لَیْلَتَہَا تِلْکَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِشَائِ ثُمَّ دَخَلَ بَیْتَہُ فَوَضَعَ رَأَسَہُ عَلٰی وِسَادَۃٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُھَا لِیْفٌ، فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ رَأْسِیْ عَلٰی نَاحِیَۃٍ مِنْہَا، فَاسْتَیْقَظَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَظَرَ فَإِذَا عَلَیْہِ لَیْلٌ فَسَبَّحَ وَکَبَّرَ حَتّٰی نَامَ ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَقَدْ ذَھَبَ شَطْرُ اللَّیْلِ أَوْ قَالَ ثُلُثَاہُ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَضٰی حَاجَتَہُ، ثُمَّ جَائَ إِلٰی قِرْبَۃٍ عَلٰی شَجْبٍ، فِیْہَا مَائٌ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَأُذُنَیْہِ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَیْہِ، قَالَ یَزِیْدُ حَسِبْتُہُ قَالَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَتٰی مُصَلاَّہُ فَقُمْتُ وَصَنَعْتُ کَمَا صَنَعَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ وَأَنَا أُرِیْدُ أَنْ أُصَلِِّیَ بِصَلَاتِہِ، فَأَمْہَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا عَرَفَ أَنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أُصَلِّیَ بِصَلَاتِہِ لَفَتَ یَمِیْنَہُ فَأَخَذَ بِأْذُنِیْ فَأَدَارَنِیْ حَتّٰی أَقَامَنِیْ عَنْ یَمِیْنِہِ، فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا رَاٰی أَنَّ عَلَیْہِ لَیْلاً رَکْعَتَیْنِ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ دَنَا قَامَ فَصَلّٰی سِتَّ رَکَعَاتِ أَوْتَرَ بِالسَّابِعَۃِ، حَتّٰی إِذَا ضَائَ الْفَجْرُ قَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَہٗفَنَامَحَتّٰی سَمِعْتُ فَخِیْخَہُ ثُمَّ جَائَ بَلَالٌ فَآذَنَہُ بِالصَّلَاۃِ فَخْرَجَ فَصَلّٰی وَمَا مَسَّ مَائً، فَقُلْتُ لِسَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ: مَا أَحْسَنَ ھٰذَا، فَقَالَ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ: أَمَا وَاللّٰہِ! لَقَدْ قُلْتُ ذَاکَ لِأِبْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَہْ، إِنَّہَا لَیْسَتْ لَکَ وَلَا لِأَ صْحَابِکَ، إِنَّہَا لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّہُ کَانَ یُحْفَظُ۔ (مسند احمد: ۳۴۹۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آیا اور ان کے پاس رات گزاری،اس رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی باری انہی کے گھر تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر اپنے گھر میں داخل ہوئے اورچمڑے کے ایک تکیے پر سر رکھا اور سو گئے، اس تکیے میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، میں آیا اور اس کے کنارے پر سر رکھ کر سو گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے تو دیکھا کہ ابھی تک تو رات کا بڑا حصہ باقی ہے، اس لیے آپ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کا ذکر کرتے کرتے سو گئے، پھر آپ بیدار ہوئے، یہ نصف یا دو تہائی رات گزر جانے کا وقت تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھے، قضائے حاجت کی،پھر لکڑیوں پر لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کی طرف آئے، اس میں پانی تھا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین تین مرتبہ بازو دھوئے اور اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا، پھر پاؤں بھی تین تین بار دھوئے، پھر اپنی جائے نماز کی طرف آگئے،میں بھی اٹھا اور ایسے ہی کیا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا تھا، پھر میں آکر آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا، میں چاہتا تھا کہ آپ کے ساتھ نماز پڑھوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کچھ دیر تو ٹھہرے رہے،لیکن جب آپ نے جان لیا کہ میں بھی آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتا ہوں تو آپ نے اپنا دایاں ہاتھ موڑ کر میرا کان پکڑا اور مجھے گھماکر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب تک سمجھا کہ ابھی تک رات باقی ہے، دو رکعتیں پڑھتے رہے، پھر جب سمجھا کہ فجر قریب آ چکی ہے، تو اٹھ کر چھ رکعات ادا کیں اور ساتواں وتر پڑھا، پھر جب فجر روشن ہوئی تو اٹھ کر دو رکعتیں پڑھیں، پھر اپنے پہلو پر سوگئے، حتیٰ کہ مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، اتنے میں سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آکر آپ کو نمازِ فجر کی اطلاع دی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے اور نماز ادا کی، لیکن پانی کو تو چھوا تک نہیں۔ یہ سن کر عکرمہ نے سعید بن جبیرسے کہا: یہ تو بڑی اچھی بات ہے (کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سونے کے بعد وضو نہیں کیا)۔ لیکن سعید بن جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! میں نے یہی بات سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کی تھی، لیکن انھوں نے کہا تھا: رہنے دو اس بات کو، یہ رخصت نہ تیرے لیے ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کے لیے،یہ صرف رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے تھی، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کی جاتی تھی۔
Takhreej
(۲۱۴۱) تخریج: حدیث حسن، وھذا اسناد ضعیف، عباد بن منصور ضعیف لسوء حفظہ وتغیرہ و تدلیسہ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۰۹۴، وأخرج ابوداود قصۃ الوضوء فقط: ۱۳۳ (انظر: ۳۴۹۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک نئی چیز کا ذکر موجود ہے، اور وہ یہ کہ اگر بندے کو رات کو جاگ آ جائے اور وہ دوبارہ سونا چاہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تکبیر کرتے ہوئے دوبارہ سو جانا چاہیے۔ یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کاخاصہ تھا کہ نیند آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ناقضِ وضو نہیں تھی، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دل بیدار رہتا تھا۔رہا مسئلہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے امتیوں کا تو ان کے لیے نیند ناقضِ وضو ہے۔
2141
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
۔ (۲۱۴۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَدَّثَ أَنَّہُ بَاتَ عِنْدَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقَامَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِی السَّمَائِ ثُمَّ تَـلَا ھَذِہِ الْآیَۃَ الَّتِیْ فِیْ آلِ عِمْرَانَ {إِنَّ فِیْ خَلَقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ… حَتّٰی بَلَغَ …سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّاِر} ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الْبَیْتِ فَتَسَوَّکَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ رَجَعَ أَیْضًا فَنَظَرَ فِی السَّمَائِ ثُمَّ تَـلَا ھَذِہِ الْآیَۃَ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّکَ وَتَوَضَّا ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی۔ (مسند احمد: ۳۲۷۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں ایک رات گزاری، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدار ہوئے اور باہر آ کر آسمان کی طرف دیکھا اورسورۂ آل عمران کییہ آیات تلاوت کیں: {إِنَّ فِیْ خَلَقِ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ… … …سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّاِر} پھر گھر کی طرف واپس آئے، مسواک کیا، وضوء کیا اور پھر قیام شروع کر دیا، پھر لیٹ گئے، پھر جب دوبارہ جاگے تو باہر گئے، آسمان کی طرف دیکھ کر یہی آیات تلاوت کیں، پھر واپس آئے، وضو کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔
Takhreej
(۲۱۴۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۶ (انظر: ۲۴۸۸، ۳۲۷۶)
Explanation
فوائد:… رات کو بیدار ہونے کے بعد سورۂ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت کرنا، اذکار کی بحثوں میں اس کا تذکرہ آئے گا، اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب یہ آیات تلاوت کی جائیں تو ایک دفعہ آسمان کی طرف دیکھا جائے تاکہ ان آیات میں جن مخلوقات کا ذکر ہے، حسب ِ امکان وہ بھی سامنے ہوں اور مخلوقات کے الق کی طرف توجہ کرنے کا بھی ایک انداز آسمان کی طرف نظر اٹھانا ہے کیونکہ وہ آسمانوں کے اوپر ہے۔
2142
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
۔ (۲۱۴۳) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کُنْتُ فِی بَیْتِ مَیْمُونَۃَ فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ فَقُمْتُ مَعَہُ عَلٰییَسَارِہِ فَأَخَذَ بِیَدِیْ فَجَعَلَنِیْ عَنْ یَمِیْنِہِ ثُمَّ صَلّٰی ثَلَاثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً حَزَرْتُ قَدْرَ قِیَامِہِ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ قَدْرَ {یَآ أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ۔} (مسند احمد: ۳۴۵۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر میں تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھ کر رات کو نماز پڑھنے لگے، میں بھی آپ کے ساتھ آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیرہ رکعت نماز پڑھی، میرے اندازے کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہر رکعت سورۂ مزمل کے برابر تھی۔
Takhreej
(۲۱۴۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۶۵ (انظر: ۳۴۵۹)
2143
Sahih
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
۔ (۲۱۴۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِیُصَلِّیْ اِفْتَتَحَ الصَّلَاۃَ بِرَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۱۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو اٹھ کر نماز پڑھتے تو ہلکی پھلکی دو رکعتوں سے اپنے قیام کا آغاز کرتے۔
Takhreej
(۲۱۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۶۷ (انظر: ۲۴۰۱۷)
Explanation
فوائد:… یہ دو رکعتیں قیام اللیل کی تمہید ہیں، ان سے نمازی قیام کے لیے مستعد اور نشیط ہو جاتا ہے، درج ذیل حدیث ِ مبارکہ میں اس انداز میں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے : سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ فَلْیَبْدَ أْ بِرَکْعَتَیْنِ خَفِیَفَتَیْنِ۔)) جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو نماز پڑھنے لگے تو وہ ہلکی پھلکی دو رکعتوں سے اپنے قیام کی ابتدا کرے۔ (مسلم: ۷۶۸)
2144
Sahih
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
۔ (۲۱۴۵) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ إِلَی الْفَجْرِ إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً،یُسَلِّمُ فِی کُلِّ اثْنَتَیْنِ وَیُوتِرُ بِوَاحِدَۃٍ وَیَسْجُدُ فِی سُبْحَتِہِ بِقَدْرِ مَا یَقْرَأُ أَحَدُ کُمْ بِخَمْسِیْنَ آیَۃً قَبْلَ أَنْ یَرْفَعَ رَأْسَہُ فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذَّنُ بِالْأُوْلَی مِنْ أَذَانِہِ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلٰی شِقِّہِ الْأَیْمَنِ حَتّٰییَأْتِیَہُ الْمُؤَذِّنُ فَیَخْرُجُ مَعَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۶۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ عشاء سے نمازِ فجر تک کل گیارہ رکعات پڑھتے تھے، ہر دو رکعتوں میں سلام پھیرتے اور ایک وتر پڑھتے تھے، اس نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک ایک سجدہ پچاس پچاس آیتوں کے برابر ہوتا، جب مؤذن پہلی اذان سے فارغ ہوتا تو آپ اٹھ کر ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھتے اور پھر اپنی دائیں جانب پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس مؤذن آ جاتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ساتھ مسجد میں تشریف لے جاتے۔
Takhreej
(۲۱۴۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۳۶، ۱۳۳۷، والنسائی: ۲/۳۰، وابن ماجہ: ۱۱۷۷، ۱۳۵۸ (انظر: ۲۴۴۶۱)
Explanation
فوائد: … اس سے اذان مراد ہے۔ حدیث میں اقامت کو بھی اذان کہا گیا ہے اور وہ بعد میں ہوتی ہے گویا وہ دوسری اذان ہے تو اس جگہ اقامت نہیں اذان مراد ہے جس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر کی دو رکعت ادا کرتے تھے۔
2145
Sahih
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
۔ (۲۱۴۶) عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ ھِشَامٍ أَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَسَأَلَھَا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ ثَمَانَ رَکَعَاتٍ وَیُوْتِرُ بِالتَّاسِعَۃِ وَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ وَذَکَرَتِ الْوُضُوئَ أَنَّہُ کَانَ یَقُوْمُ إِلَی صَلَاتِہِ فَیَأْمُرُ بِطُہْرِہِ وَسِوَاکِہِ فَلَمَّا بَدَّنَ صَلّٰی سِتَّ رَکْعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِالسَّابِعَۃِ وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ، قَالَتْ: فَلَمْ یَزَلْ عَلٰی ذَالِکَ حَتّٰی قُبِضَ، قُلْتُ: إِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أَسْئَلَکَ عَنٍ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَیْنَ فِیْہِ؟ قَالَتْ: فَلَا تَفْعَلْ، أَمَا سَمِعْتَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ أَزَوَاجًا وَّذُرِّیَّۃً}فَلَا تَبَتَّلْ، قَالَ فَخَرَجَ وَقَدْ فَقُہَ فَقَدِمَ الْبَصْرَۃَ فَلَمْ یَلْبَثْ إِلاَّ یَسِیْرًا حَتَّی خَرَجَ إِلٰی أَرْضِ مَکْرَانَ فَقُتِلَ ھُنَاکَ عَلٰی أَفْضَلِ عَمَلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۶۵)
سعد بن ہشام سے روایت ہے، وہ ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئے اور ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو آٹھ رکعت نماز پڑھتے، نواں یعنی ایک رکعت وتر ادا کرتے اور اس کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھرسیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے وضو کا ذکر کیا،رات کو نماز کے لیے اٹھنے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کے پانی اور مسواک کا اہتمام کر دینے کا حکم دیتے تھے، ، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمر رسیدہ ہوگئے تو چھ رکعات ادا کرتے، ساتواں وتر پڑھتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی روٹین پر برقرار رہے کہ وفات پا گئے۔ سعد بن ہشام نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: میں آپ سے (عبادت میں مشغول ہونے کے لیے) شادی نہ کرنے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: ایسے نہیں کرنا، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑھا: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ أَزَوَاجًا وَّذُرِّیَّۃً} (اور یقینا ہم نے آپ سے پہلے کئی رسول بھیجے ہیں اور ہم نے ان کے لئے بیویاں اور اولادیں بنائیں)، لہٰذا تبتّل نہیں کرنا۔ اس طرح سعد بن ہشام فقیہ بن گئے اور پھر بصرہ روانہ ہو گئے، لیکن کچھ دن ہی ٹھہرے تھے کہ پھر مکران کے علاقہ کی طرف گئے اور وہاں اپنے سب سے بہتر عمل پر شہید ہو گئے۔
Takhreej
(۲۱۴۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی مختصرا: ۳/ ۲۴۲ (انظر: ۲۴۶۵۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی لوگوں کو چاہیے کہ وہ رات کو وضو کے پانی اور مسواک وغیرہ کااہتمام کر کے سوئیں، مسواک کی اہمیت کا اندازہ لگانا چاہیے، وضو تو نماز کی شرط ہے، چونکہ اس آیت سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ انبیاء و رسل نے شادیاں کیں، بلکہ کئی ہستیوں کی ایک سے زائد بیویاں تھیں ، پھر ان کی اولادیں ہوئیں، جبکہ وہ سب سے بڑھ کر عبادت کرنے والے بھی تھے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کی رہنمائی کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کی ہے، اس طرح سے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے استدلال کر کے سعد بن ہشام کو مسئلہ سمجھا اور کیا خوب استدلال کیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ سیدہ نے کس گہرے فہم سے قرآن مجید کا مطالعہ کیا ہوا تھا۔
2146
Sahih
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
۔ (۲۱۴۷) عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ یَزِیْدَ عَمَّا حَدَّثَتْہُ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ یَنََامُ أَوَّلَ اللَّیْلِ وَیُحْیِیْ آخِرَہُ، ثُمَّ إِنْ کَانَتْ لَہُ حَاجَۃٌ إِلٰی أَھْلِہِ قَضٰی حَاجَتَہُ ثُمَّ نَامَ قَبْلَ أَنْیَمَسَّ مَائً، فَإِذَا کَانَ عِنْدَ النِّدَائِ الْأَوَّلِ قَالَتْ: وَثَبَ، وَلَا وَاللّٰہِ! مَاقَالَتْ قَامَ، فَأَفَاضَ عَلَیْہِ الْمَائَ وَلَا وَاللّٰہِ! مَاقَالَتْ اِغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا تُرِیْدُ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ جُنُبًا تَوَ ضَّأَ وُضُوئَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ صَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۱۳)
ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے اسود بن یزید سے اس چیز کے بارے میں پوچھا، جو انہیںسیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے حوالے سے بیان کی تھی، انھوں نے جواب دیا کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا تھا: آپ رات کے ابتدائی حصہ میں سوتے اور اس کے آخر میں جاگتے تھے، پھر اگر آپ ہم بستری کی ضرورت محسوس کرتے تو حق زوجیت ادا کر کے سو جاتے، جبکہ پانی کو چھوا تک نہ ہوتا، جب پہلی اذان ہوتی تو یوں سمجھیں کہ اچھل پڑھتے، اپنے اوپر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو عام نماز والا وضو کرتے اور پھر دو رکعتیں ادا کرتے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ نے یہ نہیں کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوتے اور غسل کرتے، جبکہ مجھے علم تھا کہ آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کیا کہنا چاہتی ہیں۔
Takhreej
(۲۱۴۷) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ البخاری: ،مسلم: ۷۳۹ دون لفظۃ: قبل ان یمس مائ، واخرجہ ھذہ اللفظ ابوداود، والنسائی وابن ماجہ (انظر: ۲۴۷۰۶)
2147
Sahih
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
۔ (۲۱۴۸) عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاللَّیْلِ، فَقَالَتْ: کَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ فَصَلّٰی۔ (مسند احمد: ۲۵۲۹۹)
مسروق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آواز دینے والے مرغے کو سنتے تو اٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۳۲، ومسلم: ۷۴۱ (انظر: ۲۴۶۲۸)
Explanation
فوائد:… عام طور پر مرغے نصف رات یا آخری ایک تہائییا آخری چھٹے حصے میں آواز نکالتے ہیں۔
2148
Sahih
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
۔ (۲۱۴۹) عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفٰی قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاللَّیْلِ، فَقَالَتْ: کَانَ یُصَلِّی الْعِشَائَ ثُمَّ یُصَلِّی بَعْدَھَا رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَنَامُ، فَإِذَا اسْتَیْقَظَ وَعِنْدَہُ وَضُوْئُہُ مُغَطًّی وَسِوَاکُہُ، اِسْتَاکَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَقَامَ فَصَلّٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ یَقْرَأُ فِیِہْنَّ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَمَاشَائَ اللّٰہُ مِنَ الْقُرْآنِ، فَلَا یَقْعُدُ فِی شَیْئٍ مِنْھُنَّ إِلاَّ فِی الثَّامِنَۃِ، فَإِنَّہُ یَقْعُدُ فِیْھَا فَیَتَشَہَّدُ ثُمَّ یَقُومُ وَلَا یُسَلِّمُ، فَیُصَلِّیْ رَکْعَۃً وَاحِدَۃً ثُمَّ یَجْلِسُ فَیَتَشَہَّدُ وَیَدْعُوْ، ثُمَّ یُسَلِّمُ تَسْلِیْمَۃً وَّاحِدَۃً ((اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ)) یَرْفَعُ بِہَا صَوْتَہُ حَتّٰییُوقِظَنَا، ثُمَّ یُکَبِّرُ وَھُوَ جَالِسٌ فَیَقْرَأُ ثُمَّ یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ وَھُوَ جالِسٌ، فَیُصَلِّیْ جَالِسًا رَکْعَتَیْنِ، فَہٰذِہِ إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، فَلَمَّا کَثُرَ لَحْمُہُ وَثَقُلَ جَعَلَ التِّسْعَ سَبْعًا لَا یَقْعُدُ إِلاَّ کَمَا یَقْعُدُ فِی الْأُوْلٰی وَیُصَلِّی الرَّکْعَتَیْنِ قَاعِدًا، فَکَانَتْ ھٰذِہِ صَلَاۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۱۴)
زرارۃ بن اوفی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: آپ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے اور سوجاتے، رات کو جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوتے اور آپ کے پاس وضو کا ڈھکا ہوا پانی اور مسواک پڑی ہوتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسواک کر کے وضو کرتے اورآٹھ رکعات ادا کرتے، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ اتنی قراء ت کرتے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ تمام رکعات اکٹھی ادا کرتے اور آٹھویں کے بعد بیٹھ جاتے، تشہد پڑھتے، پھر سلام پھیرے بغیر نویں رکعت کے لیے کھڑے ہو جاتے اور ایک رکعت پڑھ کر تشہد میں بیٹھ جاتے، تشہد پڑھتے اور دعائیں کرتے، پھر السلام علیکم کہہ کر ایک سلام پھیرتے اور آواز کو اتنا بلند کرتے حتیٰ کہ ہمیں جگا دیتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے بیٹھے تکبیر تحریمہ کہہ کر قراء ت شروع کر دیتے اور بیٹھ کر ہی دو رکعت ادا کرتے، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گیارہ رکعت نماز ہوتی تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گوشت زیادہ ہوگیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھاری ہوگئے تو آپ نے نو کے بجائے سات رکعت قیام کیا، ان کو بھی لگاتار ادا کرتے اور پہلے طریقے کی طرح (چھ رکعات کے بعد) تشہد میں بیٹھتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہی نماز جاری رہی،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وفات دے دی۔
Takhreej
(۲۱۴۹) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۴۶، ۱۳۴۷، والنسائی: ۳/ ۶۰، ۱۹۹ (انظر: ۲۴۲۶۹، ۲۵۹۸۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے نمازِ وتر کی سات اور نو رکعتیں ثابت ہوئیں، نیزیہ بھی ثابت ہوا کہ ان میں ایک سلام پھیرنا بھی درست ہے۔
2149
Sahih
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
۔ (۲۱۵۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ سَعْدِ بْنِ ھِشَامٍ قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : کَیْفَ کَانَتْ صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ؟ قَالَتْ: کَانَ یُصَلِّی الْعِشَائَ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَیُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ قَائِمًایَرْفَعُ صَوْتَہُ کَأَنَّہُ یُوْقِظُنَا بَلْ یُوْقِظُنَا، ثُمَّ یَدْعُو بِدُعَائٍ یُسْمِعُنَا، ثُمَّ یُسَلِّمُ تَسْلِیْمَۃًیَرْفَعُ بِہَا صَوْتَہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۱۵)
۔ (دوسری سند)سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کیسے تھی؟ انہوں نے کہا: آپ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر پہلے کی طرح حدیث ذکر کی، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے اور اس میں اپنی آواز کو بلند رکھتے، ایسے لگتا تھا کہ آپ ہمیں بیدار کر رہے ہیں، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں بیدار کردیتے تھے، پھر آپ دعا کرتے اور ہم سن رہے ہوتے اور پھر بلند آواز سے ایک سلام پھیرتے۔
Takhreej
(۲۱۵۰) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ مختصرا ابوداود: ۵۶، ۱۳۴۹، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۵۹۸۸)
2150
Sahih
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
۔ (۲۱۵۱) عَنْ إِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ کَیْفَ کَانَتْ صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: وَأَیُّکُمْیَسْتَطِیْعُ مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسَتَطِیْعُ، کَانَ عَمَلُہُ دِیْمَۃً۔ (مسند احمد: ۲۴۶۶۳)
علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نمازکیسی تھی؟ انھوں نے کہا: تم سے کون اس چیز کی استطاعت رکھتا ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حاصل تھی،
Takhreej
(۲۱۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۶۶، ومسلم: ۷۸۳ (انظر: ۲۴۱۶۲)
2151
Sahih