TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

پانچیا سات سے کم وتر نہ ہونے اور ایک رات میں دو وتر نہ ہونے کا بیان - پانچیا سات سے کم وتر نہ ہونے اور ایک رات میں دو وتر نہ ہونے کا بیان - رات کی نماز اور وتر کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of رات کی نماز اور وتر کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 5 · 8 Hadith
۔ (۲۲۲۵) عَنِ الْحَکَمِ قَالَ: قُلْتُ لِمِقْسَمٍ: أُوْتِرُ بِثَلَاثٍ ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَی الصَّلَاۃِ مَخَافَۃَ أَنْ تَفُوْتَنِیْ، قَالَ: لَا وِتْرَ إِلاَّ بِخَمْسٍ أَوْسَبْعٍ، قَالَ: فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِیَحَیٰ بْنِ الْجَزَّارِ وَمُجْاھِدٍ، فَقَالَا لِیْ: سَلْہُ عَمَّنْ؟ فَقُلْتُ لَہُ؟ فَقَالَ: عَنِ الثِّقَۃِ عَنْ عاَئِشَۃََ وَمَیْمُونَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۳۴)
حکم کہتے ہیں: میں نے مقسم سے کہا: میں اس ڈر سے کہ نمازِ فجر فوت نہ ہو جائے، (جلدی جلدی) تین وتر پڑھ کر نماز کی طرف نکلتا ہوں، لیکن انھوں نے کہا: وتر تو کم از کم پانچ یا سات ہوتے ہیں۔ میں نے ان کییہ بات یحییٰ بن جزار اور مجاہد کو بتلائی، انھوں نے کہا: ان سے پوچھو کہ یہ روایت کس سے بیان کرتے ہیں، جب میں نے ان سے یہ بات پوچھی تو انھوں نے کہا: مجھے ایک ثقہ راوی نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے۔
Takhreej
(۲۲۲۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الثقۃ الراوی عنہ مقسم۔ أخرجہ النسائی فی الکبری : ۴۳۱، ۱۴۰۶،والبخاری فی التاریخ الصغیر : ۱/۲۹۳، و الطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۹۵۴، وأخرجہ النسائی: ۳/ ۲۳۹ موقوفا۔ (انظر: ۲۵۶۱۶)
2225
Zaeef
۔ (۲۲۲۶) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانَ ثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو السُّحَیْمِیُّ ثَنَا جَدِّی عَبْدُاللّٰہِ بْنُ بَدْرٍ قَالَ وَحَدَّثَنِیْ سِرَاجُ بْنُ عُقْبَۃَ أَنَّ قَیْسَ بْنَ طَلْقٍ حَدَّثَہُمَا أَنَّ أَبَاہُ طَلْقَ بْنَ عَلِیٍّ أَتَانَا فِی رَمَضَانَ وَکَانَ عِنْدَنَا حَتّٰی أَمْسٰی فَصَلّٰی بِنَا الْقِیَامَ فِیْ رَمَضَانَ وَأَوْتَرَ بِنَا ثُمَّ انْحَدَرَ إِلٰی مَسْجِدِ رِیْمَانَ فَصَلّٰی بِہِمْ حَتّٰی بَقِیَ الْوِتْرُ فَقَدَّمَ رَجُلاً فَأَوْتَرَ بِھِمْ وَقَالَ سَمِعْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا وِتْرَانِ فِی لَیْلَۃٍ)) (مسند احمد: ۱۶۴۰۵)
قیس بن طلق کہتے ہیں: میرے باپ طلق بن علی رمضان میں ہمارے پاس آئے اور یہیں ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ شام ہوگئی، پھر انہوں نے ہمیں رمضان میں قیام کروایا اور وتر بھی پڑھا دیئے، اس کے بعد وہ رَیمان مسجد کی طرف چلے گئے اور جا کر ان کو رات کی نماز پڑھائی، جب نمازِ وتر کی باری آئی تو انھوں نے ایک اور آدمی کو آگے کر دیا، پس اس نے وتر پڑھائے اور انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں۔
Takhreej
(۲۲۲۶) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۳۹، والترمذی: ۴۷۰، والنسائی: ۳/ ۲۲۹ (انظر: ۱۶۲۹۶)
Explanation
فوائد:… ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم لوگ ایک رات میں دو دفعہ نمازِ وتر نہ پڑھا کرو، بلکہ صرف ایک دفعہ پڑھا کرو۔
2226
Sahih
۔ (۲۲۲۷) عَنِ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الْوِتْرِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ أَوْتَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ثُمَّ أَرَدْتُّ أَنْ أُصَلِّیَ بِاللَّیْلِ شَفَعْتُ بِوَا حِدَۃٍ مَا مَضٰی مِنْ وِتْرِیْ ثُمَّ صَلَیْتُ مَثْنٰی مَثْنٰیفَإِذَا قَضَیْتُ صَلَاتِیْ أَوْتَرْتُ بِوَاحِدَۃٍ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَنْ یُجْعَلَ آخِرَ صَلَاۃِ اللَّیْلِ الْوِتْرُ۔ (مسند احمد: ۶۱۹۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب ان سے وتر کے بارے میں سوال کیاجاتا تو وہ کہتے: جہاں تک میری بات کا تعلق ہے تو اگر میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں، لیکن پھر رات کو نماز پڑھنے کا ارادہ کر لوں تو ایک رکعت ادا کر کے پہلے والے وتر کو جفت بنالیتا ہوں،پھر دو دو رکعت کرکے نماز پڑھتا رہتا ہوں، اور جب مطلوبہ نماز پوری کرلیتا ہوں تو آخر میں ایک وتر پڑھ لیتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا ہے کہ وتر کو رات کی آخری نماز بنایا جائے۔
Takhreej
(۲۲۲۷) تخریج: المرفوع منہ صحیح وھذا اسناد حسن۔ أخرج البخاری: ۹۹۸، ومسلم: ۷۵۱ بلفظ: عن ابن عمر عن النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قال: ((اجعلوا آخر صلاتکم باللیل وترا۔)) (انظر: ۴۷۱۰، ۶۱۹۰)
Explanation
فوائد:… یہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ذاتی عمل اور استدلال ہے، حالانکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رات میں دو دفعہ وتر پڑھنے سے منع فرمایا، جمہور اہل علم کا خیال ہے کہ اس طرح نیند وغیرہ کے بعد ایک رکعت کو دوسری رکعت کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں دیئے گئے حکم کو استحباب پر محمول کیا جائے اور دوسرے دلائل کی روشنی میں نماز وتر کے بعد بھی نماز پڑھنے کی گنجائش نکالی جائے اور وتر کا اعادہ یا اسے جفت بنانے کا عمل نہ دوہرایا جائے۔
2227
Sahih
۔ (۲۲۲۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ، فإِذَا انْصَرَفَ قَالَ لِیْ: ((قُوْمِیْ فَأَوْتِرِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۹۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو نماز پڑھتے رہتے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوتے تومجھے فرماتے: اٹھو اور وتر پڑھو۔
Takhreej
(۲۲۲۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۴۴ (انظر: ۲۵۱۸۴)
Explanation
(۲) سیدناثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ ھٰذَا السَّفَرَ جَھْدٌ وَثِقْلٌ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُکُمْ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ، فَإِنِ اسْتَیْقَظَ وَإِلَّا کَانَتَا لَہُ۔)) چونکہ یہ سفر باعث ِ مشقت و زحمت ہے، اس لیے ہر کوئی وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھ لے، اگر (قیام کرنے کے لیے) جاگ آ گئی تو ٹھیک، وگرنہ یہی دو رکعتیں اسے کفایت کر جائیں گی۔ (الدارمي: ۱/۳۷۴، ابن خزیمۃ: ۲/۱۵۹/۱۱۰۳، ابن حبان: ۶۸۳، الدار قطنی: صـ ۱۷۷، صحیحہ:۱۹۹۳) (۲) پچھلی رات کے قیام اور وتر کے ابواب میں کئی احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ وتر کے بعد پھر دو نفل پڑھے تھے۔ ان احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ روٹین کے ساتھ نمازِ تہجد پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ آخر میں نمازِ وتر ادا کیا کرے، نیز وہ وتروں کے بعد مزید دو رکعات پڑھ سکتا ہے اور جو آدمی کسی عذر کی وجہ سے رات کے شروع میں ہی وتر سمیت نماز تہجد پڑھ لینا چاہتا ہو، تو وہ پڑھ لے، لیکن اگر وہ رات کے آخری حصے میں بیدار ہو جائے تو وتر توڑے بغیر مزید نفلی نماز پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح وہ آدمی جو نماز وتر پڑھ کر سو جاتا ہو،لیکن رات کو اتفاقی طور پر کھڑا ہو کر نفلی نماز ادا کرنا چاہتا ہو تو وہ پڑھ سکتا ہے، اسے وتر توڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امام ابن خزیمہ نے سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا: جو چاہے، وتر کے بعد نفلی نماز پڑھ سکتا ہے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وتر کے بعد جو دو رکعات ادا کرتے تھے، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خاصہ نہیں تھا۔ امام عبید اللہ مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: ائمۂ اربعہ، امام ثوری اور امام ابن مبارک وغیرہ کا خیال ہے کہ نمازِ وتر کے بعد اس کو توڑے بغیر مزید نفلی نماز ادا کی جا سکتی ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں، ان علمائے کرام نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث میں دیے گئے حکم کو استحباب پر محمول کیا اور مزید نماز کی ادائیگی کو جائز سمجھا۔ جمع و تطبیق کی ایک اور صورت یہ بھی ہے کہ سیدنا عبد اللہ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم رات کو قیام کرنا چاہو تو نمازِ وتر کو شروع میںیا درمیان میں ادا کرنے کی بجائے آخر میں ادا کرو۔ (مرعاۃ المصابیح: ۲/ ۴) اس دوسری تطبیق کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی روٹین کے ساتھ رات کو قیام کرتا ہے، اس کو آخر میں نمازِ وتر ادا کرنی چاہیے، مثلا ہر کوئی رمضان میں نماز تراویح باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتا ہے، جو نمازِ تہجد ہی کی ایک صورت ہے، ایسی صورت میں اس حدیث کی روشنی مین یہ درست نہیں ہو گا کہ آٹھ رکعت تراویح سے پہلے یا چار رکعتوں کی ادائیگی کے بعد وتر پڑھ لیے جائیں اور باقی نماز بعد میں پوری کر لی جائے۔ لیکن اگر کوئی آدمی رات کو وتر کی نماز پڑھ لیتا ہے اور پھر اسے سابقہ روٹین کے بغیر قیام کرنے کا خیال آ جاتا ہے، یا اگر کوئی آدمی سفر یا کسی اور عذر کی وجہ سے رات کے آخری پہر کو بیدار نہ ہونے کا خطرہ محسوس کرتا ہے، تو اسے چاہیے کہ اس باب کی پہلی روایتیعنی سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث پر عمل کر لے۔ بہرحال دونوں صورتوں میں نمازِ وتر کے بعد دو رکعت ادا کرنا تو درست ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیام مکمل کرنے اور نماز وتر ادا کر چکنے کے بعد دو رکعتیں ادا کیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
2228
Sahih
۔ (۲۲۲۹) عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ عَلٰی رَاحِلَتِہٖوَیُوْتِرُ عَلَیْہَا وَیَذْکُرُ ذَالِکَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۶۲۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھتے تھے اور اس پر وتر بھی ادا کر لیتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۲۹) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم۔ أخرجہ النسائی: ۳/ ۲۳۲ (انظر: ۴۶۲۰)
2229
Sahih
۔ (۲۲۳۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْتَرَ عَلَی الْبَعِیْرِ۔ (مسند احمد: ۴۵۱۹)
سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ پر نمازِ وتر ادا کی۔
Takhreej
(۲۲۳۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹۹۹، ۱۰۰۰، ومسلم: ۷۰۰ (انظر: ۴۵۱۹)
2230
Sahih
۔ (۲۲۳۱) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: قَالَ لِی ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَمَالَکَ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُسْوَۃٌ؟ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ عَلٰی بَعِیْرِہِ۔ (مسند احمد: ۵۲۰۸)
سعید بن یسار کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیاتیرے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں نمونہ نہیں ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو اپنے اونٹ پر وتر پڑھ لیتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۳۱) تخریج: انظر الحدیث السابق: ۱۱۰۲
2231
Sahih
۔ (۲۲۳۲) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یُصَلِّیْ عَلٰی رَاحِلَتِہٖتَطَوُّعًا،فَإِذَاأَرَادَأَنْیُّوْتِرَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ عَلَی الْأَرْضِ۔ (مسند احمد: ۴۴۷۶)
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھتے تھے، لیکن جب نمازِ وتر ادا کرنے کا ارادہ کرتے تو زمین پر اتر کر وتر ادا کرتے۔
Takhreej
(۲۲۳۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/۴۲۹ (انظر: ۴۴۷۶)
Explanation
فوائد:… اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ سواری پر نمازِ وتر ادا کرنا درست ہے، سابق حدیث میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سعید بن یسار کو اس سنت پر عمل کرنے کی ترغیب دلائی،یہ علیحدہ بات ہے کہ اگر کوئی آدمی سواری سے اتر کر نمازِ وتر ادا کرنا چاہے تو یہ بھی بلاشبہ درست ہے۔ نماز وتر سے متعلقہ مزید کچھ احکام (۱)قنوتِ وتر: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ، وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، اِنَّکَ تَقْضِیْ وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ، وَاِنَّہٗ لَایَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ (ابوداود: ۱۴۲۵) ترجمہ: اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا اور وہ شخص عزت نہیں پا سکتا جس سے تو دشمنی کرے۔ اے ہمار ے ربّ! تو بے حد برکت والا اور بلند و بالا ہے۔ (۲) مروجہ دعا اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ … کو قنوتِ وتر قرار دینا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ثابت نہیں ہے، البتہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ثابت ہے کووہ قنوتِ نازلہ مین یہ دعا کرتے تھے۔ (۳) وتر کی آخری رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوتِ وتر پڑھی جائے۔ (نسائی:۱۷۰۰، ابن ماجہ: ۱۱۸۲) قنوتِ وتر رکوع کے بعد بھی جائز اور درست ہے۔ چنانچہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حسن بن علی کو رکوع کے بعد قنوتِ وتر پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ مستدرک حاکم، نیل الاوطار کے مولف ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے بھی مستدرک حاکم کی حدیث کو قابلِ حجت قرار دیا ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں: احکام و مسائل، ج ۲، ص: ۲۸۸ از حافظ عبدالمنان نور پوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌۔
2232
Sahih