TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان - اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان - نماز با جماعت کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of نماز با جماعت کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 4 · 12 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۲۴۴۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ تَزِیْدُ عَلٰی صَلَاتِہِ فِی بَیْتِہِ وَصَلَاتِہِ فِی سُوقِہِ بِضْعًا وَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً، وَذٰلِکَ أَنَّ أَحَدَکُمْ اِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ لَا یُرِیْدُ اِلَّا الصَّلَاۃَ، لَا یَنْہَزُہُ اِلَّا الصَّلَاۃُ لَمْ یَخْطُ خَطْوَۃً اِلَّا رُفِعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃٌ وَحُطَّ بِھَا عَنْہُ خَطِیْئَۃٌ حَتّٰی یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَاِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِی صَلَاۃٍ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ ھِیَ تَحْبِسُہُ وَالْمَلَائِکَۃُ یُصَلُّوْنَ عَلٰی أَحَدِھِمْ مَادَامَ فِیْ مَجْلِسِہِ الَّذِی صَلّٰی فِیْہِ یَقُوْلُوْنَ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ، اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ، اَللّٰہُمَّ تُبْ عَلَیْہِ، مَالَمْ یُؤْذِ فِیْہِ، مَالَمْ یُحْدِثْ فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۷۴۲۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز اس کی گھر والی اور بازار والی نماز سے پچیس چھبیس گنا زیادہ ہوتی ہے اور وہ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر وہ مسجد میں آتا ہے، اس کا نماز کے علاوہ اور کوئی ارادہ نہ ہوتا، اس کو کھڑا کرنے والی نماز ہی ہوتی ہے، تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے، اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک غلطی کو مٹادیا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے۔ جب وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ نماز میں ہی رہتا ہے ، جب تک نماز اس کومسجد میں روکے رکھتی ہے اور جب تک آدمی اس جگہ میں رہتا ہے، جس میں اس نے نماز پڑھی ہوتی ہے تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہوئے یوں کہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول کر۔ (دعا کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) جب تک وہ شخص کسی تکلیف نہیں دیتا یا جب تک بے وضوء نہیں ہوجاتا۔
Takhreej
(۲۴۴۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۴۷۷، ۶۴۷، ۲۱۱۹، ومسلم: ص ۴۵۹ (انظر: ۷۴۳۰)
2440
Sahih
۔ (۲۴۴۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَلْقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْیُحَافِظْ عَلٰی ھٰؤُلَائِ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ حَیْثُ یُنَادٰی بِہِنَّ فَاِنَّھُنَّ مِنْ سُنَنِ الْھُدَی وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِیِّکُمْ سُنَنَ الْھُدَی، وَمَا مِنْکُمْ اِلَّا وَلَہُ مَسْجِدٌ فِی بَیْتِہِ، وَلَوْ صَلَّیْتُمْ فِی بُیُوْتِکُمْ کَمَا یُصَلِّی ھٰذَا الْمُتْخَلِّفُ فِی بَیْتِہِ لَتَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ، وَلَوْ تَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ لَضَلَلْتُمْ وَلَقَدْ رَأَیْتُنِی وَمَا یَتَخَلَّفُ عَنْہَا اِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُوْمٌ نِفَاقُہُ وَلَقَدْ رَأَیْتُ الرَّجُلَ یُہَادٰی بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ حَتّٰی یُقَامَ فِی الصَّفِّ، وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَتَوَضَّأُ فَیُحْسِنُ الْوُضُوئَ ثُمَّ یَأْتِی مَسْجِدًا مِنَ الْمَسَاجِدِ، فَیَخْطُوْ خَطْوۃً اِلَّا رُفِعَ بِہَا دَرَجَۃٌ أَوْ حُطَّ بِہَا عَنْہُ خَطِیْئَۃٌ وَکُتِبَتْ لَہُ بِھَا حَسَنَۃٌ، حَتّٰی أَنْ کُنَّا لَنُقَارِبُ بَیْنَ الْخُطَا وَاِنْ فَضْلَ صَلَاۃِ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ عَلٰی صَلَاتِہِ وَحْدَہُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً۔)) (مسند احمد: ۳۶۲۳)
سیّدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جس کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کو بحیثیت ِ مسلمان ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ فرض نمازوں کی حفاظت اس مقام پر کرے جہاں ان کے لیے بلایا جاتا ہے،کیونکہ یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اوربے شک اللہ نے اپنے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں۔تم میں سے ہر ایک کی اس کے گھر میں مسجد ہونی چاہیے اور اگر تم اپنے گھر وںمیں نماز پڑھنا شروع کر دو گے، جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا گھر میں نماز ادا کرتاہے تو تم اپنے نبی کی سنت کو ترک کر دو گے اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت چھوڑ دی تو تم گمراہ ہوجاؤ گے۔ میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق واضح ہوتا تھا اور میں نے دیکھا کہ ایک آدمی کو دو آدمیوں کا سہارادے کر (مسجد کی طرف) لایا جاتا، یہاں تک کہ اس کو صف میںکھڑا کردیا جاتا۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف آتا ہے تو وہ جو قدم اٹھاتاہے، اس کے عوض اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے یا اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتاہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ (ہماری صورتحال تو یہ تھی کہ ہم مسجد کی طرف آتے وقت) قریب قریب قدم رکھتے تھے(تاکہ کثرتِ قدم کی وجہ سے نیکیاں زیادہ ہوجائیں) اور بے شک آدمی کی جماعت کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اکیلے پڑھی ہوئے نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۱) تخریـج: …صحیح، وھذا اسناد فیہ ابراہیم بن مسلم الھجری، وفیہ لین أخرجہ دون قولہ: ((وان فضل صلاۃ الرجل…)) ابن ماجہ: ۷۷۷، وعبد الرزاق: ۱۹۷۹، وأما قولہ: ((وان فضل صلاۃ الرجل…)) أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۷۹، والبزار: ۴۵۸، وابویعلی: ۴۹۹۵، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۰۱۰۳ (انظر: ۳۵۶۴، ۳۶۲۳)
2441
Sahih
۔ (۲۴۴۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَفْضُلُ الصَّلَاۃُ فِی الْجَمِیْعِ صَلَاۃَ الرَّجُلِ وَحْدَہُ خَمْسًا وَعِشْرِیْنَ وَیَجْتَمِعُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃُ النَّھَارِ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔)) ثُمَّ یَقُوْلُ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: اِقْرَئُ وا اِنْ شِئْتُمْ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا}۔ (مسند احمد: ۷۱۸۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت میں پڑھی ہوئی نماز آدمی کے اکیلی ادا کی ہوئی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے اور دن رات کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا} یعنی: اور فجر کا قرآن، بے شک فجر کا قرآن حاضر کیا گیا ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۴۸، ۴۷۱۷، ومسلم: ۶۴۹(انظر: ۷۱۸۵)
2442
Sahih
۔ (۲۴۴۳) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ یَعْلَمُ أَنَّہُ اِذَا شَہِدَ الصَّلَاۃَ مَعِی کَانَتْ لَہُ أَعْظَمَ مِنْ شَاۃٍ سَمِیْنَۃٍ أَوْ شَاتَیْنِ لَفَعَلَ، فَمَا یُصِیْبُ مِنَ الْأَجْرِ أَفْضَلُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۷۱)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرتم میں سے کوئی جان لے کہ جب وہ میرے ساتھ نماز میں حاضر ہو گا تو یہ نماز اس کے حق میں ایک یا دو موٹی موٹی بکریوں سے بہتر ہو گی تو وہ ضرور حاضر ہو گا، (یاد رکھو کہ اِس نماز میں) اسے جو اجر ملے گا، وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۴۴، ۲۴۲۰، ۷۲۲۴، ومسلم: ۶۵۱ (انظر: ۷۳۲۸، ۷۹۸۴)
2443
Sahih
۔ (۲۴۴۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃٌ فِی الْجَمِیْعِ تَزِیْدُ عَلٰی صَلَاۃِ الرَّجُلِ وَحْدَہُ سَبْعًا وَعِشْرِیْنَ)) (مسند احمد: ۴۶۷۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی باجماعت نماز، اس کی اکیلی نماز سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۴۵، ومسلم: ۶۵۰(انظر: ۴۶۷۰، ۵۳۳۲)
2444
Sahih
۔ (۲۴۴۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلَاۃَ أَحَدِکُمْ بِسَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً۔)) (مسند احمد: ۵۷۷۹)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے کسی ایک کی نماز سے ستائیس گنا زیادہ فضیلت والی ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۵) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2445
Sahih
۔ (۲۴۴۶) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَفْضُلُ صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ عَلَی الْوَحْدَۃِ سَبْعًا وَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً أَوْ خَمْسًا وَّ عِشْرِیْنَ)) (مسند احمد: ۹۸۶۰)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز، اکیلے کی نماز پر ستائیس یا پچیس درجہ زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۶) تخریـج: …حدیث صحیح۔ انظر: ۱۲۸۹(۲۴۴۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۰۳ (انظر: ۲۴۲۲۱)
2446
Sahih
۔ (۲۴۴۷) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فُضِّلَتِ الْجَمَاعَۃُ عَلٰی صَلَاۃِ الْفَذِّ خَمْسًا وَّعِشْرِیْنَ)) (مسند احمد: ۲۴۷۲۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اکیلے کی نماز پر جماعت کو پچیس گنا زیادہ فضیلت دی گئی ہے۔
2447
Sahih
۔ (۲۴۴۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَضْلُ صَلَاۃِ الرَّجُلِ فِی الْجَمَاعَۃِ عَلٰی صَلَاتِہِ وَحْدَہُ بِضْعٌ وَّعِشْرُوْنَ دَرَجَۃً)) (مسند احمد: ۳۵۶۴)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت میں نماز اس کے اکیلے نماز سے پچیس چھبیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۸) تخریـج: …صحیح لغیرہ، عطاء بن السائب قد اختلط، لکنہ قد توبع أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۷۹، والبزار: ۴۵۸، وابویعلی: ۴۹۹۵، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۰۱۰۳ (انظر: ۳۵۶۴)
2448
Sahih
۔ (۲۴۴۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ صَلَاۃُ الْجَمْعِ تَفْضُلُ عَلٰی صَلَاۃِ الرَّجُلِ وَحْدَہُ خَمْسَۃً وَعِشْرِیْنَ ضِعْفًا کُلُّہَا مِثْلُ صَلَاتِہِ ۔ (مسند احمد: ۳۵۶۷)
(دوسری سند)بے شک اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز، اکیلے کی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے، ان میں سے ہر ایک اس اکیلے کی نماز کی طرح ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۹)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2449
Sahih
۔ (۲۴۵۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاۃِ أَحَدِکُمْ وَحْدَہُ بِخَمْسَۃٍ وَعِشْرِیْنَ جَزْئً ا۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۱۰)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے اکیلے کی نماز سے پچیس حصے زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۴۵۰) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۴۹، وانظر الحدیث : ۱۲۸۹ (انظر: ۱۰۱۲۱)
2450
Sahih
۔ (۲۴۵۱) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوئَ ہُ ثُمَّ رَاحَ فَوَجدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا أَعْطَاہُ اللّٰہُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاھَا أَوْ حَضَرَھَا لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ أُجُوْرِھِمْ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۸۹۳۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح مکمل وضو کیا، پھر وہ مسجد گیا، لیکن اس نے دیکھا کہ لوگ تو نماز پڑھ چکے ہیں، اللہ اس کو اتنا اجر عطا کرے گا، جتنا کہ ان لوگوں کو دیا جو اس نماز میں حاضر ہوئے ، جبکہ ان کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی ۔
Takhreej
(۲۴۵۱) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۶۴ (انظر: ۸۹۴۷)
2451
Sahih