TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2448 - اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان - نماز با جماعت کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 9 of 12 in this chapter
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۴۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَضْلُ صَلَاۃِ الرَّجُلِ فِی الْجَمَاعَۃِ عَلٰی صَلَاتِہِ وَحْدَہُ بِضْعٌ وَّعِشْرُوْنَ دَرَجَۃً)) (مسند احمد: ۳۵۶۴)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت میں نماز اس کے اکیلے نماز سے پچیس چھبیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
2448
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۴۴۸) تخریـج: …صحیح لغیرہ، عطاء بن السائب قد اختلط، لکنہ قد توبع أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۷۹، والبزار: ۴۵۸، وابویعلی: ۴۹۹۵، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۰۱۰۳ (انظر: ۳۵۶۴)

Related Chapters

1,006
1
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
Musnad Ahmad
2
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
Musnad Ahmad
3
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
4
یہ باب نماز تروایح کی فضیلت کے بارے میں ہے اور اس بارے میں کہ نماز تراویح سنت ہے واجب نہیں ہے
Musnad Ahmad
5
وقف کے جواز، اس کی فضیلت اورغیر منقسم اور منقول چیز کے وقف کا بیان
Musnad Ahmad
6
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
7
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
Musnad Ahmad
8
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
Musnad Ahmad
9
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
Musnad Ahmad
10
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
11
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
12
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
13
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
14
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
15
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
16
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
17
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
18
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
19
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
20
(5) CHAPTER. Superiority of offering As-Salat (the prayer) at the stated times.
نماز وقت پر پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
21
(31) CHAPTER. Superiority of the Fajr (early morning) prayer in congregation.
فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
22
(2) CHAPTER. The superiority of taking a bath on Friday. And is it necessary for boys and womens to attend the Friday (prayer)?
جمعہ کے دن نہانے کی فضیلت اور اس بارے میں بچوں اور عورتوں پر جمعہ کی نماز کے لیے آنا فرض ہے یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
23
(35) CHAPTER. The superiority of the Maniha, i.e., a milch she-camel or a sheep lent to somebody to use its milk and return it to its owner afterwards.
تحفہ منیحہ کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
24
(19) CHAPTER. The superiority of (those people for whom) the following Statement of Allah (was revealed): “Think not of those who are killed in the Way of Allah as dead. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision. They rejoice in what Allah has betowed upon them of His Bounty, and rejoice for the sake of those who have not yet joined them, but are left behind (not yet martyred) that on them no fear shall come, nor shall they grieve. They rejoice in aGrace and a Bounty from Allah, and that Allah will not waste the reward of the believers. (V.3:169-171)
ان شہیدوں کی فضیلت جن کے بارے میں ان آیات کا نزول ہوا
Sahih Bukhari
25
Chapter: The Virtue Of One Whose Child Dies And He Seeks Reward
اس شخص کی فضیلت جس کا بچہ فوت ہو جائے تو وہ اس کے بارے ثواب کی امید رکھے
Sahih Muslim
26
Chapter: The Virtue Of Remembrance, Supplication, Drawing Close To Allah And Thinking Positively Of Him
ذکر، دعا، اللہ کے قرب اور اس کے بارے میں اچھے گمان کی فضیلت
Sahih Muslim
27
باب: روزے کی فضیلت اور اس سلسلے میں علی رضی الله عنہ کی حدیث کے بارے میں ابواسحاق سبیعی پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
29
(53)Chapter: Severe Warning Against Not Shielding Oneself From Urine
باب: پیشاب کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Prescribed Times for Salat From The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے منقول اوقات نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of The First Row
باب: پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tamin
باب: آمین کہنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Performing Many Bowings and Prostrations [And Its Virtues]
باب: رکوع اور سجدہ کثرت سے کرنے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sending Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Day Of Jumu'ah
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

480
Musnad Ahmad
2441
۔ (۲۴۴۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَلْقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْیُحَافِظْ عَلٰی ھٰؤُلَائِ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ حَیْثُ یُنَادٰی بِہِنَّ فَاِنَّھُنَّ مِنْ سُنَنِ الْھُدَی وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِیِّکُمْ سُنَنَ الْھُدَی، وَمَا مِنْکُمْ اِلَّا وَلَہُ مَسْجِدٌ فِی بَیْتِہِ، وَلَوْ صَلَّیْتُمْ فِی بُیُوْتِکُمْ کَمَا یُصَلِّی ھٰذَا الْمُتْخَلِّفُ فِی بَیْتِہِ لَتَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ، وَلَوْ تَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ لَضَلَلْتُمْ وَلَقَدْ رَأَیْتُنِی وَمَا یَتَخَلَّفُ عَنْہَا اِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُوْمٌ نِفَاقُہُ وَلَقَدْ رَأَیْتُ الرَّجُلَ یُہَادٰی بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ حَتّٰی یُقَامَ فِی الصَّفِّ، وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَتَوَضَّأُ فَیُحْسِنُ الْوُضُوئَ ثُمَّ یَأْتِی مَسْجِدًا مِنَ الْمَسَاجِدِ، فَیَخْطُوْ خَطْوۃً اِلَّا رُفِعَ بِہَا دَرَجَۃٌ أَوْ حُطَّ بِہَا عَنْہُ خَطِیْئَۃٌ وَکُتِبَتْ لَہُ بِھَا حَسَنَۃٌ، حَتّٰی أَنْ کُنَّا لَنُقَارِبُ بَیْنَ الْخُطَا وَاِنْ فَضْلَ صَلَاۃِ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ عَلٰی صَلَاتِہِ وَحْدَہُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً۔)) (مسند احمد: ۳۶۲۳)
سیّدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جس کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کو بحیثیت ِ مسلمان ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ فرض نمازوں کی حفاظت اس مقام پر کرے جہاں ان کے لیے بلایا جاتا ہے،کیونکہ یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اوربے شک اللہ نے اپنے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں۔تم میں سے ہر ایک کی اس کے گھر میں مسجد ہونی چاہیے اور اگر تم اپنے گھر وںمیں نماز پڑھنا شروع کر دو گے، جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا گھر میں نماز ادا کرتاہے تو تم اپنے نبی کی سنت کو ترک کر دو گے اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت چھوڑ دی تو تم گمراہ ہوجاؤ گے۔ میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق واضح ہوتا تھا اور میں نے دیکھا کہ ایک آدمی کو دو آدمیوں کا سہارادے کر (مسجد کی طرف) لایا جاتا، یہاں تک کہ اس کو صف میںکھڑا کردیا جاتا۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف آتا ہے تو وہ جو قدم اٹھاتاہے، اس کے عوض اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے یا اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتاہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ (ہماری صورتحال تو یہ تھی کہ ہم مسجد کی طرف آتے وقت) قریب قریب قدم رکھتے تھے(تاکہ کثرتِ قدم کی وجہ سے نیکیاں زیادہ ہوجائیں) اور بے شک آدمی کی جماعت کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اکیلے پڑھی ہوئے نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Musnad Ahmad
177
۔ (۱۷۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: تَدُوْرُ رَحَی الْاِسْلَامِ بِخَمْسٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: عَلٰی رَأْسِ خَمْسٍ) وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سِتٍّ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سَبْعٍ وَ ثَلَاثِیْنَ فَاِنْ یَہْلِکُوْا فَسَبِیْلُ مَنْ قَدْ ہَلَکَ وَاِنْ یَقُمْ لَہُمْ دِیْنُہُمْ یَقُمْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمِمَّا مَضٰی أَمْ مِمَّا بَقِیَ؟ قَالَ: مِمَّا بَقِیَ۔ (مسند أحمد: ۳۷۳۰)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی، اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر ان کے لیے اُن کا دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔ میں نے کہااور ایک روایت کے مطابق سیدنا عمرؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مستقل ستر سال۔
Musnad Ahmad
1057
۔ (۱۰۵۷)۔ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَلَمْ یَزَلْ قَائِمًا حَتَّی ہَمَمْتُ بِأَمْرٍ سَوْئٍ، قُلْنَا: وَمَا ہَمَمْتَ بِہِ؟ قَالَ: ہَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَہُ۔ (مسند أحمد: ۴۱۹۹)
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ایک رات کو نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میں نے بری چیز کا ارادہ کر لیا۔ ہم نے کہا: تم نے کون سی بری چیز کا ارادہ کیا تھا؟ انھوں نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو چھوڑ دوں۔
Musnad Ahmad
1078
۔ (۱۰۷۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ أَنَّ الرَّجُلَ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَۃَ عَنِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ذَاکَ الشَّیْطَانُ بَالَ فِیْ أُذُنِہِ، أَوْ فِیْ أُذُنَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۳۵۵۷)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: بیشک فلاں آدمی آج رات نماز سے بھی سویا رہا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: شیطان اس آدمی کے کانوں میں پیشاب کر گیا۔
Musnad Ahmad
1101
۔ (۱۱۰۱)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروِ (بْنِ الْعَاصِ)ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَقْتُ الظُّہْرِ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ کَطُوْلِہِ مَا لَمْ یَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الْمَغْرِبَ مَا لَمْ یَغْرُبِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الْعِشَائِ اِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ الْأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الصُّبْحِِ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَاِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِکْ عَنِ الصَّلَاۃِ فَاِنَّہَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرَنَیِ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند أحمد: ۶۹۶۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ظہر کا وقت سورج ڈھلنے سے سے آدمی کو سایہ اس کے قد کے برابر ہونے تک ہے، یعنی عصر کا وقت شروع ہونے تک، نمازِ عصر کا وقت سورج کے زرد ہونے تک ہے، مغرب کی نماز کا وقت شَفَق کے غروب ہونے تک ہے،عشا کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور نماز فجر کا وقت طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ہے، جب سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رک جا، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوںکے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔
Musnad Ahmad
1160
۔ (۱۱۶۰)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاۃِ یَعْنِی الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ اِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَیْنِ مُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ)) (مسند أحمد: ۳۶۰۳)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نمازِ عشا کے بعد گفتگو کرنا نہیں ہے، ما سوائے دو آدمیوں کے، نمازی اور مسافر۔
Musnad Ahmad
1228
۔ (۱۲۲۸)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ عَلْقَمَۃَ الثَّقَفِیِّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَحْرُسُنَا اللَّیْلَۃَ؟)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَقُلْتُ: أَنَا، حَتّٰی عَادَ مِرَارًا، قُلْتُ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَأَنْتَ اِذًا۔)) فَحَرَسْتُہُمْ حَتّٰی اِذَا کَانَ وَجْہُ الصُّبْحِ أَدْرَکَنِیْ قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّکَ تَنَامُ۔)) فَنِمْتُ فَمَا أَیْقَظَنَا اِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِیْ ظُہُوْرِنَا، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَنَعَ کَمَا کَانَ یَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوْئِ وَرَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا اِنْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوْا وَلٰـکِنْ أَرَادَ أَنْ تَکُوْنُوْا لِمَنْ بَعْدَکُمْ، فَہٰکَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِیَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اِنَّ نَاقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ فَخَرَجَ النَّاسُ فِیْ طَلْبِہَا فَجَاؤُا بِاِبِلِہِمْ اِلَّا نَاقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((خُذْ ہٰہُنَا۔)) فَأَخَذْتُ حَیْثُ قَالَ لِیْ فَوَجَدْتُ زِمَامَہَا قَدِ الْتَوٰی عَلٰی شَجَرَۃٍ مَا کَانَتْ لِتَحُلَّہَا اِلَّا یَدٌ، قَالَ: فَجِئْتُ بِہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَہَا مُلْتَوِیًا عَلٰی شَجَرَۃٍ مَا کَانَتْ لِتَحُلَّہَا اِلَّا یَدٌ، قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُوْرَۃُ الْفَتْحِ: {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا}۔ (مسند أحمد: ۳۷۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ واپس لوٹے (اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس رات کو کون ہمارا پہرہ دے گا؟ سیدنا عبد اللہ نے کہا: جی میں، (لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم تو سو جاؤ گے ) لیکن جب انھوں نے بار بار یہی بات کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر تم ہی سہی۔ پس میں نے ان کا پہرہ دیا، جب صبح سے پہلے کا وقت ہوا تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قول تم تو سو جاؤ گے۔ کا مصداق بن گیا اور میں سو گیا، جب سورج کی گرمی ہماری کمروں پر پڑی تو تب ہمیں جاگ آئی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اٹھے اور عادت کے مطابق وضو کیا، فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک اگر اللہ تعالیٰ تمہارا نہ سونا چاہتا تو تم نہ سوتے، لیکن اس کا ارادہ یہ تھا کہ تم بعد والوںکے لیے اسوہ اور نمونہ بن جاؤ، پس سو جانے والے اور بھول جانے والے کے لیے یہی حکم ہے۔ پھر یوں ہوا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور لوگوں کی اونٹنیاں کہیں نکل گئیں، پس لوگ ان کو تلاش کرنے کے لیے نکلے اور وہ اپنے اپنے اونٹ پکڑ کر لے آئے، ما سوائے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی کے، سیدنا عبد اللہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: تم اس طرف جاؤ۔ پس جس طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا، میں اس طرف نکل پڑا اور دیکھا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ اس طرح بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتا تھا، پس میں اس کو لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا! میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ یوں بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتاتھا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر سورۂ فتح {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا} نازل ہوئی۔
Musnad Ahmad
1606
۔ (۱۶۰۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثاَنٍ) عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْأَ سْوَدِ بِنْ یَزِیْدَ وَعَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ)) أَنَّ رَجُلاً أَتَاہُ فَقَالَ: قَرَأَتُ الْمُفَصَّلَ فِی رَکْعَۃٍ، فَقَالَ: بَلْ ھَذَذْتَ کَہَذِّ الشِّعْرِ أَوْ کَنَثْرِ الدَّقَلِ، لٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَفْعَلْ کَمَا فَعَلْتَ، کَانَ یَقْرَ أُ النُّظُرَ الرَّحْمٰنَ وَالنَّجْمَ فِی رَکْعَۃٍ، قَالَ فَذَکَرَ أَبُوْ إِسْحَاقَ عَشْرَ رَکَعَاتٍ بِعِشْرِیْنَ سُورَۃً عَلٰی تَأْلِیْفِ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) آخِرُ ھُنَّ إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ وَالدُّخَانُ ۔ (مسند احمد: ۳۹۶۸)
۔ (دوسری سند)ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کی ہے، انہوں نے کہا: تو نے تو پھرشعر کو پڑھنے کی طرح یا ردی کھجوروں کو بکھیرنے کی طرح تیزی تیزی سے پڑھا ہو گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح تلاوت نہیں کرتے تھے، جیسے تونے کی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو ملتی جلتی سورتوں (میں سے دو دو) کو ایک رکعت میں پڑھتے تھے، مثلا سورۂ رحمن اور سورۂ نجم ایک رکعت میں۔ پھر ابو اسحاق نے بیس سورتوں کے ساتھ دس رکعات کا ذکر کیا،یہ ترتیب سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تالیف کے مطابق تھی، آخری سورتیں سورۂ تکویر اور سورۂ دخان تھیں۔
Musnad Ahmad
1669
۔ (۱۶۶۹) عَنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَنَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَبِّرُ فِی کُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِیَامٍ وَقُعُودٍ، وَیُسِلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدَّیْہِ، أَوْخَدِّہِ، وَرَأَیْتُ أَبَا بَکْرٍوَ عُمَرَ یَفْعَلَانِ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۳۶۶۰)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑا ہونے اوربیٹھنے پر تکبیر کہتے اور دائیں بائیں سلام پھیرتے وقت (چہرۂ مبارک کو اتنا پھیرتے کہ) رخساروں کی سفیدی نظر آ جاتی، پھر میں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا۔