TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کھڑے ہونے پر قدرت رکھنے والے کا بیٹھے ہوئے امام کی اورکسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے والے کا کھڑے ہونے والے امام کی اقتدا کرنے کا بیان - کھڑے ہونے پر قدرت رکھنے والے کا بیٹھے ہوئے امام کی اورکسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے والے کا کھڑے ہونے والے امام کی اقتدا کرنے کا بیان - مقتدیوں سے متعلقہ اور اقتداء کے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of مقتدیوں سے متعلقہ اور اقتداء کے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 6 · 3 Hadith
۔ (۲۶۰۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ فَأَقْبَلَ عَلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا ھٰؤُلَائِ! أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ؟)) قَالُوْا: بَلٰی نَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ: ((أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ اللّٰہَ أَنْزَلَ فِی کِتَابِہِ: مَنْ أَطَاعَنِی فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ؟)) قَالُوْا: بَلَی نَشْہَدُ أَنَّہُ مَنْ أَطَاعَکَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ وَاِنَّ مِنْ طَاعَۃِ اللّٰہِ طَاعَتَکَ، قَالَ: ((فَاِنَّ مِنْ طَاعَۃِ اللّٰہِ أَنْ تُطِیْعُوْنِیْ، وَاِنَّ مِنْ طَاعَتِی أَنْ تُطِیْعُوْا أَئِمَّتَکُمْ، أَطِیْعُوْا أَئِمَّتَکُمْ، فَاِنْ صَلَّوْا قُعُوْدًا فَصَلُّوْا قُعُوْدًا۔)) (مسند احمد: ۵۶۷۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صحابہ کی ایک جماعت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر متوجہ ہوئے، اور فرمایا: لوگو!کیا تم جانتے نہیں کہ بے شک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ نے اپنی کتاب میں یہ حکم نازل کیا ہے کہ جس نے میری اطاعت کی، پس اس نے اللہ کی اطاعت کی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!ہم گواہی دیتے ہیں کہ جس نے آپ کی اطاعت کی، پس اس نے اللہ کی اطاعت کی اور آپ کی اطاعت کرنا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے سے ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کی اطاعت سے ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت سے ہے کہ تم اپنے اماموں کی اطاعت کرو، اپنے اماموں کی اقتدا کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کرو۔
Takhreej
(۲۶۰۹) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابویعلی: ۵۴۵۰، وابن حبان: ۲۱۰۹، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۳۲۳۸ (انظر: ۵۶۷۹)
2609
Sahih
۔ (۲۶۱۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِشْتَکٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلَّیْنَا وَرَائَ ہُ وَھُوَ قَاعِدٌ وَأَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُکَبِّرُ یُسْمِعُ النَّاسَ تَکْبِیْرَہُ فَالْتَفَتَ اِلَیْنَا فَرَآنَا قِیَامًا فَأَشَارَ اِلَیْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّیْنَا بِصَلَاتِہٖ قُعُوْدًا، فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ((اِنْ کِدْتُّمْ آنِفًا تَفْعَلُوْنَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ یَقُوْمُوْنَ عَلٰی مُلُوْکِہِمْ وَھُمْ قُعُوْدٌ فَـلَا تَفْعَلُوْا وَائْتَمُّوْا بِأَئِمَّتِکُمْ، اِنْ صَلّٰی قَائِمًا فَصَلَّوا قِیَامًا وَاِنَّ صَلّٰی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُوْدًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۴۴)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوگئے، اس لیے ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جبکہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کو سنانے کے لیے سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تکبیر کہہ رہے تھے۔جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری طرف توجہ کی تو ہمیں کھڑے پا کر ہماری طرف اشارہ کیا (کہ ہم بیٹھ جائیں)، پس ہم نے بیٹھ کر نماز ادا کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے توفرمایا: قریب تھا کہ تم وہ کام کرو جوفارسی اور رومی کرتے ہیں، وہ اس طرح کہ ان کے بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں اور وہ ان کے پاس کھڑے ہوتے ہیں، سو تم ایسا نہ کرو اور اپنے اماموں کی اقتدا کیا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔
Takhreej
(۲۶۱۰) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۱۳ (انظر: ۱۴۵۹۰)
2610
Sahih
۔ (۲۶۱۱) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَرْضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ: ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: اِنَّ أَبَابَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیْفٌ، فَمَتٰی یَقُوْمُ مَقَامَکَ تُدْرِکُہُ الرِّقَّۃُ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسُفَ، مُرُوْا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) فَصَلّٰی أَبُوْبَکْرٍ وَصَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَلْفَہُ قَاعِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۷۷۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس بیماری میں وفات پا گئے تھے، اس میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ سیّدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ابوبکر بڑے نرم دل (اور جلد رونے والے) آدمی ہیں،جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بھی یوسفf کی صاحبات ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پھر سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز پڑھائی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔
Takhreej
(۲۶۱۱) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۳۳۸۴، ومسلم: ۴۱۸ (انظر: ۲۴۰۶۱، ۲۵۲۵۸)
Explanation
فوائد: …سیدہ عائشہcکا یہ مشورہ دینے کا اور آپaکا ’’صَوَاحِبَاتُ یُوْسُف‘‘ کہنے کا کیا مقصد تھا؟ یہ تفصیل حدیث نمبر(۱۲۷۲) میں دیکھیں۔
2611
Sahih