صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی
اور سب سے بری صفوں کا بیان
۔ (۲۶۴۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُقْبِلُ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ قَبْلَ أَنْ یُکَبِّرَ فَیَقُوْلُ: ((تَرَاصُّوْا (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ وَتَرَاصُّوا) وَاعْتَدِلُوْا فَاِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی)) (مسند احمد: ۱۳۴۲۹)
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے ہماری طرف متوجہ ہوتے اورفرماتے: آپس میں مضبوطی سے مل جاؤ، (اور ایک روایت میں ہے: اپنی صفوں کو سیدھا کرلو، اور آپس میں مل جاؤ) اور برابر ہو جاؤ ، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
2641
Sahih