TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2641 - صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان - امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 21 in this chapter
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان
۔ (۲۶۴۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقْبِلُ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ قَبْلَ أَنْ یُکَبِّرَ فَیَقُوْلُ: ((تَرَاصُّوْا (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ وَتَرَاصُّوا) وَاعْتَدِلُوْا فَاِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی)) (مسند احمد: ۱۳۴۲۹)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے ہماری طرف متوجہ ہوتے اورفرماتے: آپس میں مضبوطی سے مل جاؤ، (اور ایک روایت میں ہے: اپنی صفوں کو سیدھا کرلو، اور آپس میں مل جاؤ) اور برابر ہو جاؤ ، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
2641
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۶۴۱) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۱۸، ۷۲۵، ومسلم: ۴۳۴ (انظر: ۱۲۰۱۱، ۱۳۳۹۶)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …سیّدنا عبدا للہ بن عمر bروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ aنے فرمایا: ((أَقِیْمُوْا الصُّفُوْفَ وَ حَاذُوْا بَیْنَ الْمَنَاکِبِ وَ سُدُّوْا الْخَلَلَ وَلِیْنُوْا بِاَیْدِیْ اِخْوَانِکُمْ وَلَا تَذَرُوْا فُرُجَاتٍ لِلشَّیْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَہُ اللّٰہُ وَ مَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَہُ اللّٰہُ۔)) (ابوداود) یعنی: ’’صفوں کو سیدھا کرو، کندھوں کو برابر کرو، خلا کو پر کرو، اپنے بھائیوں کے لیے نرم ہو جاؤ، شیطان کے لیے (صف میں) خالی جگہیں مت چھوڑو، جس نے صف کو ملایا اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا اور جس نے صف کو کاٹا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے گا‘‘۔

Related Chapters

156
1
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان
Mishkat
2
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
3
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
4
عاریۃً چیز کے جائز ہونے اور اس میں رغبت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
5
وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
6
قرآن پاک کو سیکھنے سکھانے، اس کو حفظ کرنے پر رغبت دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
7
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
8
CHAPTER: Straightening The Rows.
باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
9
CHAPTER: Regarding the virtue of knowledge.
باب: علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
10
امام کے نکلنے سے پہلے صفوں کی درستگی کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
باب: نکاح پر رغبت دلانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
Chapter: : What Has Been Related About Keeping the Rows Straight
باب: صفوں کو سیدھی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About How Long The Prayer Is Shortened
باب: کتنے دنوں تک قصر کرنا درست ہے؟
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With Proof (Bayyinah)
باب: گواہ کے بغیر نکاح درست نہیں
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About That Wheat Is To Be Exchanged For Wheat, Kind For Kind, And That An Increase In It Is Disliked
باب: گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچنے اور اس کے اندر کمی و بیشی کے درست نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
باب: ان لوگوں کا بیان جن کی گواہی درست نہیں
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Health And Free Time Are Two Favors Squandered By Many Of The People
باب: تندرستی اور فرصت کی نعمتوں میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں
Jam e Tirmazi
18
باب: تین آدمی ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو کانا پھوسی کریں یہ درست نہیں ہے
Jam e Tirmazi
19
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
20
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
Musnad Ahmad
21
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
Musnad Ahmad
22
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے
Musnad Ahmad
23
قاضی کے فیصلے میں درستی اور خطا دونوں کے امکان، مجتہد قاضی کے اجر اور اس کے فیصلہ کرنے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
24
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
25
زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
Musnad Ahmad
26
تہمت لگانے سے نفرت دلانے اور اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
27
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
28
اس چیز کا بیان کہ بچہ اس کا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوا، نیز بچے کو اس کے والد سے ملانے اور نسب کا دعوی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
29
خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
30
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
31
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
32
اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
33
نرمی کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
34
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
Musnad Ahmad
35
تواضع کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
36
توکل کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
37
قناعت اور عفت کی ترغیب دلانے کابیان
Musnad Ahmad
38
فقراء مساکین کی فضیلت اور ان سے محبت کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
39
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
40
کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
41
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
42
غزوۂ احد میں مقامِ جنگ، صفوں کی تنظیم وترتیب، قائدین کا تقرر، امام کی اطاعت کے وجوب اور اس کے امر کی مخالفت کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
43
آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا
Musnad Ahmad
44
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
45
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
Musnad Ahmad
46
(27) CHAPTER. To fix the duties in rotation for learning (religious) knowledge.
اس بارے میں کہ ( طلباء کا حصول ) علم کے لیے ( استاد کی خدمت میں ) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے ۔
Sahih Bukhari
47
(5) CHAPTER. To perform a light ablution.
اس بارے میں کہ ہلکا وضو کرنا بھی درست اور جائز ہے
Sahih Bukhari
48
(2) CHAPTER. Taking a bath by a man along with his wife.
اس بارے میں کہ مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ غسل کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
49
(4) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayers) with a single garment wrapped round the body.
اس بیان میں کہ صرف ایک کپڑے کو بدن پر لپیٹ کر نماز پڑھنا جائز و درست ہے
Sahih Bukhari
50
(48) CHAPTER. Is it permissible to dig the graves of pagans of the Period of Ignorance, and to use that place as a mosque?
کیا دور جاہلیت کے مشرکوں کی قبروں کو کھود ڈالنا اور ان کی جگہ مسجد بنانا درست ہے ؟
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Musnad Ahmad
2649
۔ (۲۶۴۹) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ لَا یَتَخَلَّلُکُمْ کَأَوْلَادِ الْحَذَفِ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا أَوْلَادُ الْحَذَفِ؟ قَالَ: ((سُودٌ جُرْدٌ تَکُوْنُ بِأَرْضِ الْیَمَنِ)) (مسند احمد: ۱۸۸۲۱)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر کیا کرو، شیطان حَذَف کی اولاد کی طرح تمہارے اندر نہ گھسنے پائے ۔کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! حَذَف کی اولاد سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سیاہ رنگ کی بھیڑیں ہوتی ہیں، ان کے بال نہیں ہوتے اوریہ یمن کے علاقے میں پائی جاتی ہیں۔
Musnad Ahmad
2653
۔ (۲۶۵۳) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ فَاِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاۃِ اِقَامَۃَ الصَّفِّ)) (مسند احمد: ۱۳۹۳۹)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، بے شک صف کو سیدھا رکھنا نماز کی خوبصورتی میں سے ہے۔
Musnad Ahmad
2639
۔ (۲۶۳۹) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقِیْمُوا الصَّفَّ فِی الصَّلَاۃِ فَاِنَّ اِقَامَۃَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۴۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز میں صف کو سیدھا اور برابر کرو، پس بے شک صف کا سیدھا اور برابر کرنا نماز کی خوبصورتی ہے۔
Musnad Ahmad
2647
۔ (۲۶۴۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: أَقِیْمُوا الصُّفُوْفَ فَاِنَّمَا تَصُفُّوْنَ بِصُفُوْفِ الْمَلَائِکَۃِ وَحَاذُوا بَیْنَ الْمَنَاکِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِینُوا فِی أَیْدِی اِخْوَانِکُمْ وَلَا تَذَرُوْا فُرُجَاتٍ لِلشَّیْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۵۷۲۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، (خیال تو کرو کہ) تم نے فرشتوں کی صفوں کی طرح صفیں بنانی ہیں، اپنے کندھوں کو برابر رکھو، خالی جگہوں کو پر کردو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو او رشیطان کے لیے کوئی خالی جگہ نہ چھوڑو۔ (یاد رکھو کہ) جس نے صف کو ملایا اللہ اس کو (اپنے فضل اور رحمت سے) ملائے گا، اور جس نے صف کو کاٹا اللہ اس کو (اپنی رحمت سے)کاٹ دے گا۔
Musnad Ahmad
6740
۔ (۶۷۴۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَرْسَلَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَمَۃٍ لَہُ سَوْدَائَ زَنَتْ لِأَجْلِدَھَا، قَالَ: فَوَجَدْتُہَا فِیْ دِمَائِہَا، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ بِذٰلِکَ، فَقَالَ: ((إِذَا تَعَالَتْ مِنْ نِفَاسِہَا فَاجْلِدْھَا خَمْسِیْنَ، (وَفِیْ لَفْظٍ: فَحُدَّھَا) ثُمَّ قَالَ: ((أَقِیْمُوا الْحُدُوْدَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنی ایک سیاہ فام لونڈی کی طرف بھیجا، اس نے زنا کیا تھا، جب میں نے اسے نفاس کے خون میں پایا تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹ آیا اور آپ پر حقیقت ِ حال واضح کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب وہ نفاس کے خون سے پاک صاف ہو جائے تو اس کو پچاس کوڑے لگانے ہیں، ایک روایت میں ہے: اس کو یہ حد لگانی ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حدیں قائم کیا کرو۔
Musnad Ahmad
10481
۔ (۱۰۴۸۱)۔ عَنْ اَبِیْ صَخْرٍ الْعُقَیْلِیِّ حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنَ الَأَعْرَابِ قَالَ: جَلَبْتُ جَلُوْبَۃً اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فِیْ حَیَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَیْعَتِیْ قُلْتُ: لَأَلْقَیَنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْہُ، قَالَ: فَتَلَقَّانِیْ بَیْنَ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ یَمْشُوْنَ فَتَبِعْتُھُمْ فِیْ أَفْقَائِھِمْ حَتّٰی أَتَوْا عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْیَھُوْدِ نَاشِرًا التَّوْارَۃِیَقْرَؤُھَا،یُعَزِّیْ بِھَا نَفْسَہُ عَلَی ابْنٍ لَہُ فِی الْمَوْتِ کَأَحْسَنِ الْفِتْیَانِ وَأَجْمَلِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُنْشِدُکَ بِالَّذِیْ أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ ھَلْ تَجِدُ فِیْ کِتَابِکَ ذَا صِفَتِیْ وَمَخْرَجِیْ؟)) فَقَالَ بِرَأْسِہِ ھٰکَذَا أَیْ لَا، فَقَالَ ابْنُہُ: اِنِّیْ وَالَّذِیْ أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ أَنَا لَنَجِدُ فِیْ کِتَابِنَا صِفَتَکَ وَمَخْرَجَکَ وَأَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((أَقِیْمُوا الْیَھُوْدَ عَنْ أَخِیْکُمْ۔)) ثُمَّّ وَلِیَ کَفْنَہُ وَحَنَّطَہُ وَصَلّٰی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۸۸)
۔ ایک بدّو سے مروی ہے ، وہ کہتا ہے: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حیات ِ مبارکہ میں کچھ سامانِ تجارت مدینہ منورہ میں لے کر آیا، جب میں اپنی تجارت سے فارغ ہوا تو میں نے کہا: میں اس آدمی کو ضرور ملوں گا اور اس کی باتیں سنوں گا، پس جب وہ (نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) مجھے ملے تو وہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے درمیان چل رہے تھے، میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا، یہاں تک کہ وہ ایکیہودی آدمی کے پاس پہنچ گئے، وہ تورات کھول کر پڑھ رہا تھا اور اپنے نفس کو تسلی دے رہا تھا، کیونکہ اس کا انتہائی خوبصورت نوجوان بیٹا قریب المرگ تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس یہودی سے فرمایا: میں تجھ کو تورات کو نازل کرنے والی ذات کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ کیا تو اپنی کتاب میں میری صفات اور جائے خروج کا ذکر پاتا ہے؟ اس نے سر سے نہیں کا اشارہ کیا، لیکن اس کے نوجوان بیٹے نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے تورات کو نازل کیا، ہم اپنی کتاب میں آپ کی صفات اور جائے خروج کا ذکر پاتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب ان یہودیوں کواپنے بھائی کے پاس سے کھڑا کر دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے کفن کاانتظام و انصرام کیا اور اس کو خوشبو لگائی اور اس نماز جنازہ ادا کی۔