TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2707 - جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان - نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 8 in this chapter
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
۔ (۲۷۰۷) عَنْ أَبِی النَّضْرِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ، اِنَّا نَجِدُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَھُوَ فِی الصَّلَاۃِ فَیَسْأَلُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ شَیْئًا اِلَّا أَعْطَاہُ مَا سَأَلَہُ، فَأَشَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ بَعْضَ سَاعَۃٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: صَدَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ أَبُو النَّضْرِ: قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ: سَأَلْتُہُ أَیَّۃُ سَاعَۃٍ ھِیَ؟ قَالَ: آخِرُ سَاعَاتِ النَّہَارِ، فَقُلْتُ: اِنَّہَا لَیْسَتْ بِسَاعَۃِ صَلَاۃٍ، فَقَالَ: بَلٰی، اِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ فِی صَلَاۃٍ اِذَا صَلّٰی ثُمَّ قَعَدَ فِی مُصَلَّاہُ لَا یَحْبِسُہُ اِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۹)
سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف فرما تھے، کہ ہم اللہ کی کتاب (تورات) میں یہ بات پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں، جبکہ وہ نماز میں ہو، اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ اشارہ کیا کہ اس گھڑی کا وقت تھوڑا سا ہوتا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول نے سچ فرمایا (واقعی اس کا وقت مختصر ہوتا ہے)۔ ابو سلمہ نے کہا: میں نے ان سے سوال کیا کہ یہ گھڑی کا وقت کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ دن کی آخری گھڑی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ تو نماز کا وقت ہی نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، بیشک جب مسلمان آدمی نماز پڑھ کر اپنے جائے نماز میں نماز ہی کی انتظار میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔
2707
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۷۰۷) تخریـج: …اسنادہ قوی أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱۳۹، وانظر الحدیث السابق: ۱۵۱۶ (انظر: ۲۳۷۸۱)ٔ

Related Chapters

804
1
Chapter: [What Has Been Related] About The Hour That Is Hoped For On Friday
باب: جمعہ کے دن کی وہ گھڑی جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے
Jam e Tirmazi
2
(61) CHAPTER. To invoke Allah during a particular time on Friday (when the invocation is accepted).
اس قبولیت کی گھڑی میں دعا کرنا جو جمعہ کے دن آتی ہے ۔
Sahih Bukhari
3
جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کے وقت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
4
جمعہ کے دن کی قبولیت دعا کی گھڑی کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
Chapter: What Has Been Related About The Time For The Friday Prayer
باب: نماز جمعہ کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
جمعہ کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
7
(16) CHAPTER. The time for the Jumuah (prayer) due when the sun declines, i.e., just after mid-day.
جمعہ کا وقت سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے
Sahih Bukhari
8
(25) CHAPTER. To pronounce the Adhan before delivering the Khutba (religious talk).
جمعہ کی اذان خطبہ کے وقت دینا
Sahih Bukhari
9
(36) CHAPTER. One should keep quiet and listen while the Imam is delivering the Khutba (religious talk) on friday.
جمعہ کے دن خطبہ کے وقت چپ رہنا
Sahih Bukhari
10
(37) CHAPTER. An hour (opportune - lucky time) on Friday.
جمعہ کے دن وہ گھڑی جس میں دعا قبول ہوتی ہے
Sahih Bukhari
11
(7) CHAPTER. To invoke Allah for rain in the Khutba of Friday facing a direction other than the Qiblah.
جمعہ کا خطبہ پڑھتے وقت جب منہ قبلہ کی طرف نہ ہو پانی کے لیے دعا کرنا
Sahih Bukhari
12
Chapter: Encouragement to supplicate and recite statements of remembrance at the end of the night, and the response to that
رات کے آخری حصے میں دعا اور یا د الہی کی ترغیب ‘اور اس وقت ان کی قبولیت
Sahih Muslim
13
Chapter: The (special) time that occurs on Friday
اس خاص گھڑی کے بارے میں جو جمعہ کے دن میں ہوتی ہے
Sahih Muslim
14
CHAPTER: Answering Which Hour Is The Hour Of Response On Friday.
باب: جمعہ کے دن دعا قبول ہونے کی گھڑی کون سی ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
15
CHAPTER: The Time Of The Friday Prayer.
باب: جمعہ کے وقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
16
CHAPTER: Supplication When Meeting (The Enemy).
باب: مڈبھیڑ کے وقت دعا ( کی قبولیت ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
17
جمعہ کے وقت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
18
جمعہ کے وقت کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
(4)Chapter: What Is Said When entering The Toilet
باب: بیت الخلاء (پاخانہ) میں داخل ہونے کے وقت کی دعا​
Jam e Tirmazi
20
5)Chapter: What Is Said When Exiting The Toilet
باب: بیت الخلاء (پاخانہ) سے نکلتے وقت کی دعا​
Jam e Tirmazi
21
6)Chapter: Regarding The Prohibition Of Facing The Qiblah When Defecating And Urinating.
باب: پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
22
(10)Chapter: [What Has Been Related] About Being Screened While Relieving Oneself
باب: قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
23
(77)Chapter: Should A Woman Undo Her Hair For Ghusl?
باب: کیا عورت غسل کے وقت اپنے بال کھولے؟
Jam e Tirmazi
24
(96)Chapter: What Has Been Related About Al-Mustahadah That She Is To Perform Ghusl For Every Salat
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے وقت غسل کرے
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Time For Maghrib
باب: مغرب کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Time For The Last Isha Prayer
باب: نماز عشاء کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Forgetting The rime Of Asr
باب: عصر کے وقت کو بھول جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Misses Multiple Prayers And Which Of Them He Begin With
باب: کئی وقت کی نماز چھوٹ جائے تو آدمی پہلے کون سی پڑھے؟
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Putting The Fingers In The Ears For The Adhan
باب: اذان کے وقت شہادت کی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Spreading The Fingers With The Takbir
باب: اللہ اکبر کہتے وقت انگلیاں کھلی رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Is Said During The Opening Of The Salat
باب: نماز شروع کرتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Takbir For The Bowing And Prostration Positions
باب: رکوع اور سجدہ جاتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: Something Else
باب: رکوع اور سجود کے وقت ”اللہ اکبر“ کہنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
36
Chapter: Raising The Hands For the Bowing Position
باب: رکوع کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے (رفع یدین) کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What A Man Is To Say When Raising His Head From the Bowing Position
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت آدمی کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
38
Chapter: Something Else About That
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت جو کہنا ہے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Bringing The Backs To Rest When Raising One's Head From The Prostration And Bowing Positions
باب: رکوع اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت پیٹھ سیدھی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Is Said When One Enters Into The Masjid
باب: مسجد میں داخل ہوتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Salat When Sleepy
باب: اونگھتے وقت نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: Regarding One Who Has Doubts Over Addition Or A Omission
باب: آدمی کو نماز پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک و شبہ ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Salat At The (Time Of) Az-Zawal
باب: زوال (سورج ڈھلنے) کے وقت کی نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Day Of Jumu'ah
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Performing Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن کے غسل کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن غسل کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: [What Has Been Related] About Wudu On Friday
باب: جمعہ کے دن وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Going Early To The Friday Prayer
باب: جمعہ کے لیے مسجد سویرے آنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Neglecting The Friday Prayer Without An Excuse.
باب: بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About How Much Distance One Should Cover To Go To The Friday Prayer
باب: جمعہ میں کتنی دوری سے آیا جائے؟
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

578
Musnad Ahmad
2705
۔ (۲۷۰۵) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ (بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ) قَالَ: کَانَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا مُسْلِمٌ وَھُوَ فِی صَلَاۃٍ سَأَلَ اللّٰہَ خَیْرًا اِلَّا آتَاہُ اِیَّاہُ، قَالَ وَقَلَّلہَا أَبُو ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ۔ قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّیَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ، قُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعَیْدٍ الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ھٰذِہِ السَّاعَۃِ أَنْ یَکُوْنَ عِنْدَہُ مِنْھَا عِلْمٌ، فَأَتَیْتُہُ (فَذَکَرَ حَدِیثًا طَوِیلًا ثُمَّ قَالَ) قُلْتُ: یَا أَبَا سَعِیْدٍ! اِنَّ أَبَا ھُرَیْرَۃَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَۃِ الَّتِی فِی الْجُمُعَۃِ فَہَلْ عِنْدَکَ مِنْہَا عِلْمٌ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہَا فَقَالَ: ((اِنِّی کُنْتُ قَدْ أُعْلِمْتُہَا ثُمَّ أُنْسِیْتُہَا کَمَا أُنْسِیْتُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۴۷)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں مسلمان نماز کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے جس خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے۔ سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے اس کے قلیل ہونے کی طرف اشارہ کیا۔ جب سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو میں نے (دل میں کہا کہ) اللہ کی قسم! اگر میں سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جاؤں اور ان سے اس گھڑی کے بارے میں سوال کروں، ممکن ہے کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی علم ہو۔ پس میں ان کے پاس گیا، … طویل حدیث ذکر کی…، میں ان کے پاس گیا اور کہا: اے ابو سعید! سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن کی گھڑی کے بارے میں ایک حدیث بیان کی ہے، کیا آپ کے پاس اس (کے وقت کے تعین) کا کوئی علم ہے؟ سیّدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس گھڑی کے بارے بتلایا تو گیا تھا، لیکن پھر شب ِ قدرکی طرح مجھے یہ بھلا دی گئی۔ پھر میں ان کے پاس سے نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا۔
Musnad Ahmad
2695
۔ (۲۶۹۵) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ ثَنَا زُھَیْرٌ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی لُبَابَۃَ الْبَدْرِیِّ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیِّدُ الْأَیَّامِ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَأَعْظَمُہَا عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالٰی، وَأَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ یَوْمِ الْفِطْرِ وَیَوْمِ الْأَضْحٰی وَفِیْہِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ، وَأَھْبَطَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ اِلَی الْأَرْضِ، وَفِیْہِ تَوَفَّی اللّٰہُ آدَمَ، وَفِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یَسْأَلُ الْعَبْدُ فِیْہَا شَیْئًا اِلَّا آتَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِیَّاہُ، مَالَمْ یَسْأَلْ حَرَامًا وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، مَا مِنْ مَلَکٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَائٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا رِیَاحٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا بَحْرٍ اِلَّا ھُنَّ یُشْفِقْنَ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۳۳)
سیّدنا ابولبابہ بدری بن عبد المنذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن اللہ تعالیٰ کے ہاں دنوں کا سردار اور عظیم ترین ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں سے بھی عظیم ہے، اس میں پانچ خصائل ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ نے اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا،(۲) اسی میں ان کو زمین پر اتارا، (۳) اور اسی میں ان کو فوت کیا، (۴)اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا بھی سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے، جب تک حرام کاسوال نہ کرے، اور (۵)اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، یہی وجہ ہے کہ مقرب فرشتے، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر، یہ تمام جمعہ کے دن سے ڈرتے ہیں (کہ کہیں اسی جمعہ کو قیامت برپا نہ ہو جائے)۔
Musnad Ahmad
913
۔ (۹۱۳)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عُقْبَۃَ بْنِ الْفَاکِہِ عَنْ جَدِّہِ الْفَاکِہِ بْنِ سَعْدٍ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَغْتَسِلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیَومَ عَرَفَۃَ وَیَوْمَ الْفِطْرِ وَیَومَ النَّحْرِ، قَالَ: وَکَانَ الْفَاکِہُ بْنُ سَعْدٍ یَأْمُرُ أَہْلَہُ بِالْغُسْلِ فِی ہٰذِہِ الْأَیَّامِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۴۰)
سیدنا فاکہ بن سعدؓ، جو کہ صحبت یافتہ تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جمَعَہُ کے دن، عرفہ کے دن، عید الفطر کے دن اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے، اسی بنا پر سیدنا فاکہؓ اپنے اہل و عیال کو ان دنوں میں غسل کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
1545
۔ (۱۵۴۵) عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ النَّاسُ یُؤْمَرُوْنَ أَنْ یَضَعُوْا الْیُمْنٰی عَلَی الْیُسْرٰی فِی الصَّلَاۃِ۔ قَالَ أَبُوْ حَازِمٍ: وَلَا أَعْلَمُ إِلاَّ یَنْمِیْ ذَلِکَ، قَالَ أَبُوْعَبْدِالرَّحْمٰنِ: یَنْمِییَرْفَعُہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۳۷)
سیّدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ لوگوںکو نماز میں بائیں ہاتھ پر دایاں ہاتھ رکھنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ ابو حازم کہتے ہیں: میں نہیں جانتا مگر وہ اسے منسوب کرتے ۔ ابو عبد الرحمن کہتے ہیں :یعنی وہ مرفوع بیان کرتے ہوئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
1898
۔ (۱۸۹۸) عَنْ عَلَیِّ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْمَعَاوِیِّ قَالَ صَلَّیْتُ إِلٰی جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَلَبْتُ الْحَصٰی، فَقَالَ: لاَ تَقْلِبِ الْحَصٰی فَإِنَّہُ مِنَ الشَّیْطَانِ وَلٰکِنْ کَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ، کَانَ یُحَرِّکُہُ ھٰکَذَا، قَالَ أَبُوْ عَبْدِاللّٰہِ یَعْنِی مَسْحَۃً۔ (مسند احمد: ۴۵۷۵)
علی بن عبدالرحمن معاوی کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی اور نماز میں کنکریوں کو الٹ پلٹ کیا، انہوں نے کہا: کنکریوںکو الٹ پلٹ نہ کرو، کیونکہ ایسا کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، البتہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح حرکت دے لیتے تھے۔ امام ابو عبد اللہ احمد نے کہا: یعنی ایک دفعہ
Musnad Ahmad
2377
۔ (۲۳۷۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ عُثْمَانَ ابْنَ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلّٰی بِمِنًی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فَأَنْکَرَہُ النَّاسُ عَلَیْہِ، فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ اِنِّی تَأَھَّلْتُ بِمَکَّۃَ مُنْذُ قَدِمْتُ وَاِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَأَھَّلَ فِی بَلَدٍ فَلْیُصَلِّ صَلَاۃَ الْمُقِیْمِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۳)
عبد الرحمن بن ابی ذباب کہتے ہیں کہ سیّدناعثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی، جب لوگوں نے ان پر اس چیز کا انکار کیا تو انھوں نے کہا: لوگوں میں نے مکہ آتے ہی شادی کر لی تھی اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو کسی شہر میں شادی کرلے تو وہ وہاں مقیم والی نماز پڑھے۔
Musnad Ahmad
2623
۔ (۲۶۲۳) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَۃُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ بِالْھَاجِرَۃِ فَلَمَّا مَالَتِ الشَّمْسُ أَقَامَ الصَّلَاۃَ وَقُمْنَا خَلْفَہُ، فَأَخَذَ بِیَدِیْ وَبِیَدِ صَاحِبِیْ فَجَعَلَنَا عَنْ نَاحِیَتَیْہِ وَقَامَ بَیْنَنَا، ثُمَّ قَالَ: ھٰکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ اِذَا کَانُوْا ثَـلَاثَۃً، ثُمَّ صَلّٰی بِنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: اِنَّہَا سَتَکُوْنُ أَئِمَّۃٌ یُؤَخِّرُوْنَ الصَّلَاۃَ عَنْ مَوَاقِیْتِہَا فَـلَا تَنْتَظِرُوْھُمْ بِہَا وَاجْعَلُوْا الصَّلَاۃَ مَعَہُمْ سُبْحَۃً۔ (مسند احمد: ۴۳۴۷)
اسود کہتے ہیں: میں اور علقمہ دوپہر کے وقت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، جب سورج ڈھلا تو انھوں نے نماز کھڑی کی اور ہم ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے،لیکن انھوں نے میرا اور میرے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں اپنی دونوں طرف کھڑا کرلیا اور خود ہمارے درمیان کھڑے ہوگئے، پھر کہا: جب تین لوگ ہوتے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح کیا کرتے تھے، پھر انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور فارغ ہونے کے بعد کہا: عنقریب ایسے ائمہ ہوں گے جو نمازوں کوان کے اوقات سے مؤخر کردیں گے، پس تم ان کا انتظار نہ کرنا، (اور وقت پر نماز پڑھ لینا) ا ور اس کے بعد ان کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفلی بنا لینا۔
Musnad Ahmad
2706
۔ (۲۷۰۶) وَعَنْہُ أَیْضًا بِسَنَدِہِ وَلَفْظِہِ وَفِیْہِ: ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ فَسَأَلْتُ عَنْہَا، فَقَالَ: خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَأُھْبِطَ اِلٰی الْأَرْضِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَقَبَضَہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، فَھِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ، وَقَالَ سُرَیْجٌ فَھِیَ آخَرُ سَاعَتِہِ، فَقُلْتُ: اِنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ ((فِی صَلَاۃٍ)) وَلَیْسَتْ بِسَاعَۃِ صَلَاۃٍ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مُنْتَظِرُ الصَّلَاۃِ فِی صَلَاۃٍ))؟ قُلْتُ: بَلٰی ھِیَ وَاللّٰہِ ھِیَ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۷)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: (سابقہ سند اور الفاظ کے ساتھ، اس میں ہے:) پھر میں نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام جمعہ کے دن پیدا کیا، اسی میں ان کو زمین پر اتارا گیا اور اسی دن کو ان کو وفات دی، اسی دن کو قیامت برپا ہو گی اور اس کی آخری گھڑی (قبولیت والی) ہے۔ میں نے کہا: لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو فرمایا کہ وہ بندہ نماز کی حالت میں ہو اور دن کی آخری گھڑی میں تو کوئی نماز ہی نہیں پڑھی جاتی؟ انھوں نے کہا: کیا تجھے اس چیز کا علم نہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ نماز کا انتظار کرنے والا بھی نماز میں ہی ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، (سمجھ آگئی) بس یہی ہے، اللہ کی قسم! یہی ہے۔
Musnad Ahmad
2709
۔ (۲۷۰۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: فَلَقِیْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُہُ حَدِیثِیْ وَحَدِیثَ کَعْبٍ فِی قَوْلِہِ فِی کُلِّ سَنَۃٍ، قَالَ: کَذَبَ کَعْبٌ، ھُوَ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی کُلِّ یَوْمِ جُمُعَۃٍ، قُلْتُ: اِنَّہُ قَدْ رَجَعَ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِی نَفْسُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ بِیَدِہِ اِنِّی لَأَعْرِفُ تِلْکَ السَّاعَۃَ۔ قَالَ: قُلْتُ: یَا عَبْدَاللّٰہِ! فَأَخْبِرْنِی بِہَا، قَالَ: ھِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: قُلْتُ: قَالَ: ((لَا یُوَافِقُ مُؤْمِنٌ وَھُوَ یُصَلِّیْ)) قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنِ انْتَظَرَ صَلَاۃً فَہُوَ فِی صَلَاۃٍ حَتّٰی یُصَلِّیَ۔))؟ قُلْتُ: بَلٰی۔ قَالَ: فَہُوَ کَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۹۵)
(دوسری سند)سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان کو کعب سے ہونے والی اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ وہ تو یہ کہتے تھے کہ یہ گھڑی ایک سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے، انھوں نے کہا: کعب نے غلط بات کی ہے، یہ تو ہر جمعہ کو ہوتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے۔ میں نے کہا: جی انھوں نے اپنی بات سے رجوع کر لیا تھا۔ پھر انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عبد اللہ بن سلام کی جان ہے! میں اس گھڑی کو خوب جانتا ہوں۔ میںنے کہا: اے عبد اللہ! تو پھر مجھے بتائیے۔ انھوں نے کہا: یہ جمعہ کے دن آخری گھڑی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو مومن اس میں دعا کرتا ہے، جب کہ وہ نماز کی حالت میں ہوتا ہے (اور اس گھڑی میں تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی)۔ انھوں نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ نماز کا انتظار کرنے والے کو نماز میں ہی سمجھا جاتا ہے، جب تک وہ نماز پڑھ نہ لے ۔؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر یہی بات ہے۔