TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نمازِکسوف کے ابواب - نمازِکسوف کے ابواب - Book 53 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 53 of Musnad Ahmad, with 10 chapters and 40 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

40 Hadith · 10 Chapters
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
۔ (۲۹۰۵) عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ فِی حَیَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَکَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَائَ ہُ فَکَبَّرَ وَاقْتَرَأَقِرَائَ ۃً طَوِیلۃً، ثُمَّ کَبَّرَ فَرَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا، ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ۔)) فَقَامَ وَلَمْ یَسْجُدْ، فَاقْتَرَأَ قِرَائَ ۃً طَوِیْلَۃً ھِیَ أَدْنٰی مِنَ الْقِرَائَ ۃِ الْأُوْلٰی، ثُمَّ کَبَّرَ وَرَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا ھُوَ أَدْنٰی مِنَ الرُّکُوْعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔)) ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُخْرٰی مِثْلَ ذٰلِکَ، فَاسْتَکْمَلَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ یَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِمَا ھُوَ أَھْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّمَا ھُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَا یَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاۃِ۔)) وَکَانَ کَثِیْرُ بْنُ عَبَّاسٍ یُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یُحَدِّثُ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ کَسَفَتِ الشَّمْسُ مِثْلَ مَا حَدَّثَ عُرْوَۃُ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقُلْتُ لِعُرْوَۃَ: فَاِنَّ أَخَاکَ یَوْمَ کَسَفَتِ الشَّمْسُ بِالْمَدِیْنَۃِ لَمْ یَزِدْ عَلٰی رَکْعَتَیْنِ مِثْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ، فَقَالَ أَجَلْ اِنَّہُ أَخْطَأَ السُّنَّۃَ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۷۸)
امام زہری ، عروہ بن زبیر سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ عہد ِ نبوی میں سورج کو گرہن لگ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد کی طرف نکلے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اللہ اکبر کہہ کر (نماز شروع کر دی)، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں پھر آپ نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبی قراء ت کی،پھر اللہ اکبر کہااور لمبا رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہہ کر کھڑے ہوئے اور پھر قیام شروع کر دیا اور سجدہ نہ کیا،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبی قراء ت کی، البتہ وہ پہلی قراء ت سے کم تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ اکبر کہا اور لمبا رکوع کیا جو کہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہا اور پھر سجدہ کیا، دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ (ان دو رکعتوں میں) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اُدھر سلام پھیرنے سے قبل سورج صاف ہوگیا تھا، (نماز سے فارغ ہو کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ان الفاظ کے حمد و ثنا بیان کی جن کا وہ اہل ہے اور پھر فرمایا: بے شک یہ (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، پس جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو ڈر کر نماز کی طرف پناہ لو۔
Takhreej
(۲۹۰۵) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۴۶، ومسلم: ۹۰۲ (انظر: ۲۴۵۷۱)
2905
Sahih
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
۔ (۲۹۰۶) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَتْ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکُسُوْفِ، قَالَتْ: فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُوْدَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُوْدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ((دَنَتْ مِنِّیَ الْجَنَّۃُ حَتّٰی لَوِ اجْتَرَأْتُ لَجِئْتُکُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِھَا، وَدَنَتْ مِنِّیَ النَّارُ حَتّٰی قُلْتُ یَا رَبِّ! وَأَنَا مَعَہُمْ وَاِذَا امْرَأَۃٌ تَخْدِشُہَا ھِرَّۃٌ، قُلْتُ مَا شَأْنُ ھٰذِہِ؟ قِیْلَ لِی حَبَسَتْہَا حَتّٰی مَا تَتْ، لَاھِیَ أَطْعَمَتْھَا وَلَا ھِیَ أَرْسَلَتْھَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ)) (مسند احمد: ۲۷۵۰۳)
سیّدنا اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ کسوف پڑھائی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا، پھر قیام شروع کر دیا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سجدہ کیا اور لمبا سجدہ، پھر سر اٹھایا اور پھر طویل سجدہ کیا، (پھر دوسری رکعت مکمل کی) اور نماز سے فارغ ہو گئے، پھر فرمایا: جنت میرے اتنے قریب کی گئی کہ اگر میںجرأت کرتا تو اس کے خوشوں میں سے ایک خوشہ تمہارے پاس لے آتا اور آگ بھی اتنی قریب کی تھی کہ میں نے کہا: اے میرے رب! (تو ان کو عذاب دینے لگا ہے) حالانکہ میں ان میں موجود ہوں۔ اچانک وہاں ایک ایسی خاتون جس کو ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے کہا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ مجھے کہا گیا کہ اس عورت نے ایک بلی کو قید کیا تھا، حتیٰ کہ وہ مر گئی تھی، اس نے نہ خود اسے خود کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
Takhreej
(۲۹۰۶) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۴۵، ۲۳۶۴ (انظر: ۲۶۹۶۳)
2906
Sahih
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
۔ (۲۹۰۷)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ فَصَلّٰی فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ فَعَلَ فِی الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (الحدیث بنحو ما تقدم) ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۰۴)
(دوسری سند) وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا،پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا۔(باقی حدیث ایسے ہی ہے جیسے گزر چکی ہے)۔ کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا، اس حالت میں کہ وہ استغفار کرتے ہوں ۔
Takhreej
(۲۹۰۷)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول۔
2907
Sahih
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
۔ (۲۹۰۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ فَقَرَأَ سُوْرَۃً طَوِیْلَۃً ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرَأ ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ وَرَکَعَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ فِی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۴)
سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سورج کو گرہن لگ گیا،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے (نماز کا) قیام شروع کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طویل سورت تلاوت کی، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر قراء ت شروع کر دی، پھر رکوع کیا اور دو سجدے کیے، پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے اور قراء ت کے اور رکوع کیا، پھر دو سجدے کیے، اس طرح یہ دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے ہو گئے۔
Takhreej
(۲۹۰۸) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۴۶، ومسلم: ۹۰۲ (انظر: ۱۸۶۴)
2908
Sahih
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
۔ (۲۹۰۹) حدّثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ یَعْنِی ابْنَ عِیْسٰی قَالَ أَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدٍ یَعْنِی ابْنَ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالنَّاسُ مَعَہُ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیْلًا قَالَ نَحْواً مِنْ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ الْقِیَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ الرُّکُوْعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ الرُّکُوْعِ الْأَوَّلِ۔ قَالَ أَبِی وَفِیْمَا قَرَأْتُ عَلٰی عَبْدِالرَّحْمٰنِ قَالَ ثُمَّ قَامَ قِیَامًا طَوِیْلًا دُوْنَ الْقِیَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ الرُّکُوْعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ الْقِیَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ الرُّکُوْعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ۔ ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی حَدِیْثِ اِسْحَاقِ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ فَاِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَاذْکُرُو اللّٰہَ۔)) قَالُوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَأَیْنَاکَ تَنَاوَلْتَ شَیْئًا فِی مَقَامِکَ ثُمَّ رَأَیْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ؟ فَقَالَ: ((اِنِّی رَأَیْتُ الْجَنَّۃَ تَنَاوَلْتُ مِنْہَا عُنْقُوْدًا وَلَوْ أَخَذْتُہُ لَأَکَلْتُمْ مِنْہُ مَا بَقِیَتِ الدُّنْیَا وَرَأَیْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ کَالْیَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَیْتُ أَکْثَرَ أَھْلِہَا النِّسَائَ۔)) قَالُوا: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((بِکُفْرِ ھِنَّ۔)) قِیْلَ: أَیَکْفُرْنَ بِاللّٰہِ؟ قَالَ: ((یَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ وَیَکْفُرْنَ الْاِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ اِلٰی اِحْدَاھُنَّ الدَّھْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَیْئًا قَالَتْ مَا رَأَیْتُ مِنْکَ خَیْرًا قَطُّ)) (مسند احمد: ۲۷۱۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سورج بے نور ہوگیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی، لوگ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ بقرہ جتنا لمبا قیام کیا، پھرطویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، البتہ وہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا، جو کہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے اور لمبا قیام کیا، البتہ وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں: میرے باپ نے کہا: اور جو میں نے عبد الرحمن پر پڑھا، اس کے مطابق انہوںنے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سر اٹھایا، پس لمبا قیام کیا، البتہ وہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کچھ کم تھا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا اور نماز سے فارغ ہو گئے۔ پھر امام احمد اسحاق کی حدیث کی طرف لوٹے اور کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا، جبکہ سورج صاف ہوچکا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتیں، پس جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ کوئی چیز پکڑ رہے تھے اور پھر دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیچھے ہٹ رہے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک میں نے جنت کو دیکھا اور میں نے اس کے ایک گچھے کو پکڑنا چاہا تھا اور اگر میں اس کو پکڑ لیتا (اور تمہارے پاس لے آتا) تو تم رہتی دنیا تک اس سے کھاتے رہتے اور میں نے آگ کو دیکھا، پس آج جیسا (ہولناک) منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔میں نے اس میں اکثر عورتیں دیکھیں۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ ہے۔ کسی نے کہا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ خاوندوں کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان کی قدر نہیں کرتیں، اگر تو ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر احسان کرتا رہے، لیکن جب وہ تجھ سے کوئی کمی ہوتی ہوئی دیکھے گی تو کہہ دے گی کہ اس نے تجھ سے خیر والا معاملہ دیکھا ہی نہیں۔
Takhreej
(۲۹۰۹) تخریـج: …أخرجہ مطوّلا و مقطعا البخاری: ۲۹، ۴۳۱، ۷۴۸، ۱۰۵۲، ۳۲۰۲، ۵۱۹۷، ومسلم: ۹۰۷ (انظر: ۲۷۱۱)
2909
Sahih
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
۔ (۲۹۱۰) عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ فِی عَہْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَبِالْمَدِیْنَۃِ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَخَرَجَ عُثْمَانُ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ تِلْکَ الصَّلَاۃَ رَکْعَتَیْنِ وَسَجْدَتَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ دَارَہُ وَجَلَسَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ اِلٰی حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وَجَلَسْنَا اِلَیْہِ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُنَا بِالصَّلَاۃِ عِنْدَ کُسُوْفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ قَدْ أَصَابَہُمَا فَافْزَعُوا اِلَی الصَّلَاۃِ فَاِنَّہَا اِنْ کَانَتِ الَّتِی تَحْذَرُوْنَ کَانَتْ وَأَنْتُمْ عَلٰی غَیْرِ غَفْلَۃٍ، وَاِنْ لَمْ تَکُنْ کُنْتُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَیْرًا وَاکْتَسَبْتُمُوْہُ۔ (مسند احمد: ۴۳۸۷)
ابوشریح خزاعی کہتے ہیں:سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں سورج کو گرہن لگ گیا، مدینہ منورہ میں سیّدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے۔ سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکلے اورلوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی، ہر رکعت میں دو رکوع اور دو سجدے تھے، جب سیّدناعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سورج اور چاند کے گرہن کے وقت ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے، جب تم دیکھو کہ ان کو گرہن لگ گیا ہے تو نماز کی طرف لپکو، اگرتو یہ وہی چیز ہوئی، جس کا تم کو ڈر ہے، تو (اس نماز کی وجہ سے) تم غافل نہیں ہو گے اور وہ چیز نہ ہوئی تو خیر کو پا لو گے اور ثواب کماؤ گے۔
Takhreej
(۲۹۱۰) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، لضعف سفیان بن أبی العوجاء السلمی أخرجہ البزار: ۶۷۴، وأبویعلی: ۵۳۹۴، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۹۷۸۲۔ وصلاۃ الکسوف وردت من أحادیث عدد من الصحابۃ (انظر: ۴۳۸۷)
2910
Zaeef
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
۔ (۲۹۱۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمٍ شَدِیْدِ الْحَرِّ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَصْحَابِہِ فَأَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی جَعَلُوْا یَخِرُّوْنَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ جَعَلَ یَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ یَتَأَخَّرُ، فَکَانَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَالَ اِنَّہُ عُرِضَ عَلَیَّ کُلُّ شَیْئٍ تُوْعَدُوْنَہُ فَعُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ حَتّٰی لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْہَا قِطْفًا أَخَذْتُہُ أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ یَدِیَ عَنْہُ شَکَّ ھِشَامٌ (أَحَدُالرُّوَاۃِ) وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَھْبَۃَ أَنْ تَغْشَاکُمْ فَرَأَیْتُ فِیْہَا امْرَأَۃً حِمْیَرِیَّۃً سَوْدَائَ طَوِیْلَۃً تُعَذَّبُ فِی ھِرَّۃٍ لَھَا رَبَطَتْہَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَسْقِہَا، وَلَمْ تَدَعْہَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَرَأَیْتُ أَبَا ثُمَامَۃَ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ، وَاِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یُرِیْکُمُوْھَا، فَاِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوْا حَتّٰی تَنْجَلِیَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۸۲)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سخت گرمی والے دن سورج بے نور ہوگیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ لوگ گرنے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا، پھر اپناسر اٹھایا اورلمبا قیام کیا، اس کے بعد طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبی دیر تک کھڑے رہے، پھر دو سجدے کیے اور کھڑے ہو گئے اور(دوسری رکعت بھی) اسی طریقے سے ادا کی، اس نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے کو بڑھے تھے اور پھر پیچھے ہٹ آئے تھے، یہ چار رکوع اور چار سجدوں والی (دو رکعت) نماز تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر ہر وہ چیز پیش کی گئی ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ مجھ پر جنت پیش کی گئی اور (اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں اس سے خوشہ پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا: میں نے اس سے ایک خوشہ پکڑنا چاہا، لیکن میرے ہاتھ کو روک دیا گیا۔ مجھ پر آگ بھی پیش کی گئی اور میں اس ڈرسے پیچھے ہونے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ کہ وہ تم کو ڈھانپ لے، پھر میں نے اس میں حمیر اس نے قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی لمبی عورت دیکھی، اس کو اُس بلی کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا، جس کو اس نے باندھ دیا تھا، نہ اسے خود کھلایا اور نہ پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ میں نے ابوثمامہ عمرو بن مالک کو بھی دیکھا وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھنچ رہا تھا۔ یہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، پس جب یہ بے نور ہوجائے تو تم نماز پڑھا کرو، حتیٰ کہ وہ صاف ہوجائے۔
Takhreej
(۲۹۱۱) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۰۴ (انظر: ۱۵۰۱۸)
2911
Sahih
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ یہ دو رکعت نماز ہے اور ہر رکعت میں تین رکوع ہیں
۔ (۲۹۱۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ ذٰلِکَ الْیَوْمُ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّاسُ: اِنَّمَا کَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ اِبْرَاھِیْمَ، فَقَامَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی بِالنَّاسِ سِتَّ رَکَعَاتٍ فِی أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، کَبَّرَثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَائَ ۃَ ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرَأَ دُوْنَ الْقِرَائَ ۃِ الْأُوْلٰی، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرَأَ دُوْنَ الْقِرَائَ ۃِ الثَّانِیَۃِ، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوٌ مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَانْحَدَرَ لِلسُّجُوْدِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ ثَـلَاثَ رَکَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ یَسْجُدَ لَیْسَ فِیْھَا رَکْعَۃٌ اِلَّا الَّتِی قَبْلَہَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِی بَعْدَھَا، اِلَّا أَنَّ رُکُوْعَہُ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہِ ثُمَّ تَأَخَّرَ فِی صَلَاتِہِ وَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوْفُ مَعَہُ ثُمَّ تَقَدَّم فَقَامَ فِی مَقَامِہِ وَتَقَدَّمَتِ الصُّفُوْفُ فَقَضَی الصَّلَاۃَ وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاِنَّہُمَا لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَاِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْ ذٰلِکَ فَصَلُّوا حَتّٰی تَنْجَلِیَ، اِنَّہُ لَیْسَ مِنْ شَیْئٍ تُوْعَدُوْنَہُ اِلَّا قَدْ رَأَیْتُہُ فِی صَلَاتِی ھٰذِہ،ِ وَلَقَدْ جِیْئَ بِالنَّارِ فَذَالِکَ حِیْنَ رَأَیْتُمُوْنِی تَأَخَّرْتُ مَخَافَۃَ أَنْ یُصِیْبَنِی مِنْ لَفْحِہَا حَتّٰی قُلْتُ: أَیْ رَبِّ! وَأَنَا فِیْہِمْ، وَرَأَیْتُ فِیْھَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ، کَانَ یَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِہِ فَاِنْ فُطِنَ بِہِ قَالَ: اِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِی، وَاِنْ غُفِلَ عَنْہُ ذَھَبَ بِہِ، وَحَتّٰی رَأَیْتُ فِیْھَا صَاحِبَۃَ الْھِرَّۃِ الَّتِیْ رَبَطَتْہَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَتْرُکْھَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتّٰی مَاتَتْ جُوْعًا، وَجِیْئَ بِالْجَنَّۃِ فَذَالِکَ حِیْنَ رَأَیْتُمُوْنِیْ تَقَدَّمْتُ حَتّٰی قُمْتُ فِی مَقَامِی فَمَدَدْتُّ یَدِیَ وَأَنَا أُرِیْدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِھَا لِتَنْظُرُوْا اِلَیْہِ، ثُمَّ بَدَا لِیْ أَنْ لَا أَفْعَلَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۷۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا، لوگوں نے کہا: بے شک ابرہیم کی موت کی وجہ سے سورج بے نور ہو گیا ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، چار سجدوں (یعنی دو رکعتوں ) میں چھ رکوع کیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ اکبر کہا اور لمبی قراء ت کی، پھر اسی قیام کے بقدر طویل رکوع کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور قراء ت کی ، جو کہ پہلی قراء ت سے کم تھی، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا رکوع کیاجتنی دیر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیام کیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور پھر قراء ت شروع کر دی، یہ دوسرے (نمبر والی) قراء ت سے کم تھی، پھر رکوع کیا، جوکہ اس سے پہلے والے قیام کے بقدر تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور سجدے کے لیے جھک گئے اور دو سجدے کیے،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور (پہلے کی طرح) سجدہ کرنے سے پہلے تین رکوع کیے، اس میں سے ہر رکوع بعد والے رکوع کی بہ نسبت لمبا تھا، البتہ ہر رکوع اپنے سے پہلے والے قیام کے برابر ہوتا تھا۔ (یوں بھی ہوا کہ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس نماز کے دوران پیچھے ہٹے اور صفیں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پیچھے ہٹیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے بڑھے او راپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور صفیں بھی آگے بڑھ گئیں، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کر لی او راُدھر سورج صاف ہو چکا تھا۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی انسان کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتیں، جب تم اس طرح کا معاملہ دیکھو تو سورج کے صاف ہونے تک نماز پڑھا کرو، میں نے اس نماز میں ہر وہ چیز دیکھی ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، میرے پاس آگ لائی گئی، یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا تھا، میں ڈرنے لگ گیا تھا کہ کہیں اس کی گرمی مجھ تک پہنچ نہ جائے، میں نے اس وقت کہا: اے رب! (ابھی تک تو) میں ان میں موجود ہوں۔ میں نے لاٹھی والے کو دیکھا، وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا تھا، وہ اپنی لاٹھی سے حاجیوں کی چوری کرتا تھا، اگر اس کی چوری کا پتہ چل جاتا تو وہ کہتا یہ چیز تو میری لاٹھی کے ساتھ ویسے لٹک گئی ہے، اور اگر پتہ نہ چلتا تو وہ اس کو لے جاتا، مجھے وہاں بلی والی عورت بھی نظر آئی، اس نے بلی کو باندھ دیا تھا، نہ تو اس نے خود اسے کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے وغیرہ کھالیتی، حتیٰ کہ وہ بھوک کی وجہ سے مرگئی۔ میرے پاس جنت بھی لائی گئی، اس وقت تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے کو بڑھا، حتیٰ کہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا، پھر میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ اس کے پھل کو پکڑلوں تاکہ تم اس کو دیکھ سکو، پھر میرے لیے یہ ظاہر کیا گیا کہ میں ایسے نہ کروں۔
Takhreej
(۲۹۱۲) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۰۴ (انظر: ۱۴۴۱۷)
2912
Sahih
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ یہ دو رکعت نماز ہے اور ہر رکعت میں تین رکوع ہیں
۔ (۲۹۱۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْمُ فِی صَلَاۃِ الْآیَاتِ فَیَرْکَعُ ثَـلَاثَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ یَسْجُدُ، ثُمَّ یَرْکَعُ ثَـلَاثَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ یَسْجُدُ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۷۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نشانیوں والی نماز میں کھڑے ہوئے اور تین رکوع کرنے کے بعد سجدہ کیا، پھر (دوسرے رکعت) میں تین رکوع کیے اور پھر سجدہ کیا۔
Takhreej
(۲۹۱۳) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۰۱ (انظر: ۲۴۴۷۲)
2913
Sahih
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ یہ دو رکعت نماز ہے اور ہر رکعت میں تین رکوع ہیں
۔ (۲۹۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: وَجَدْتُ فِی کِتَابِ أَبِی بِخَطِّ یَدِہِ حَدَّثَنِی عَبْدُالْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِالْوَھَّابِ ثَنَا یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ الْأُمَوِیُّ ثَنَا الْمُجَالِدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: کَسفِت الشَّمْسُ ضَحْوَۃً حَتّٰی اشْتَدَّتْ ظُلْمَتُہَا فَقَامَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ فَقَامَ قَدْرَمَا یَقْرَأُ سُوْرَۃً مِنَ الْمَثَانِیْ ثُمَّ رَکَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ، ثُمَّ رَکَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَامَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ رَکَعَ الثَّانِیَۃَ مِثْلَ ذَلِکَ، ثُمَّ اِنَّ الشَّمْسَ تَجَلَّتْ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَمَا یَقْرَأُ سُوْرَۃً، ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: اِنَّ الشَّمْسَ کَسَفَتْ یَوْمَ تُوُفِّیَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَاِنَّمَا ھُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِذَا انْکَسَفَ وَاحِدٌ مِنْہُمَا فَافْزَعُوا اِلَی الصَّلَاۃِ۔)) ثُمَّ نَزَلَ فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ فِی الصَّلَاۃِ فَجَعَلَ یَنْفُخُ بَیْنَ یَدَیْہِ، ثُمَّ اِنَّہُ مَدَّ یَدَہُ کَأَنَّہُ یَتَنَاوَلُ شَیْئًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّ النَّارَ أُدْنِیَتْ مِنِّی حَتّٰی نَفَخْتُ حَرَّھَا عَنْ وَجْہِی، فَرَأَیْتُ فِیْہَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ وَالَّذِی بَحَّرَ الْبَحِیْرَۃَ وَصَاحِبَۃَ حِمْیَرَ صَاحِبَۃَ الْھِرَّۃِ)) (مسند احمد: ۱۸۳۲۳)
مجالد کہتے ہیں: چاشت کے وقت سورج کو گرہن لگ گیا اور اس کا اندھیرا سخت ہوگیا، سیّدنامغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی،مثانی میں سے ایک سورت کی قراء ت کے بقدر قیام کیا، پھر اسی طرح کا رکوع کیا، پھر اپناسر اٹھایا، (قیام کیا اور ) پھر اسی کے مثل رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، اتنا ہی قیام کیا، پھر اسی طرح دوسرا رکوع کیا، اتنے میں سورج صاف ہوگیا، پھر انھوں نے سجدہ کیا اور (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے اور ایک سورت کی قراء ت کے بقدر قیام کیا اور پھر رکوع اور سجدہ کیا، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد منبر پر چڑھے اور کہا: بے شک جس دن فرزند ِ رسول ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تھے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کی موت پر بے نور نہیں ہوتے، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب ان میں سے کوئی ایک بے نور ہوجائے تو نماز کی طرف پناہ لو۔ پھر منبر سے نیچے اترے اور بیان کیا کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اِس نماز میں اپنے سامنے پھونکیں ماری اور پھر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، ایسے لگتا تھا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوئی چیز پکڑ رہے ہیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: بے شک آگ میرے اتنی قریب کی گئی کہ اپنے چہرے سے اس کی حرارت کو ہٹانے کے لیے میں نے پھونک ماری اور میں نے اس میں لاٹھی والے، بحیرہ ایجاد کرنے والے اور حمیر قبیلے کی بلی والی خاتون کو دیکھا۔
Takhreej
(۲۹۱۴) تخریـج: …مرفوعہ صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف مجالد بن سعید أخرج مرفوعَہ البخاری: ۱۰۶۰، ومسلم: ۹۱۵ (انظر: ۱۸۱۴۲، ۱۸۱۷۸)
2914
Zaeef
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ یہ دو رکعت نماز ہے اور ہر رکعت میں تین رکوع ہیں
۔ (۲۹۱۵) عَنْ رَجُلٍ یُدْعَی حَنَشًا عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلّٰی عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لِلنَّاسِ فَقَرَأَ یٰسٓ أَوْ نَحْوَھَا، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ السُّوْرَۃِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّوْرَۃِ یَدْعُو وَیُکَبِّرُ، ثُمَّ رَکَعَ قَدْرَ قِرَائَ تِہِ أَیْضًا، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، ثُمَّ قَامَ أَیْضًا قَدْرَ السُّوْرَۃِ، ثُمَّ رَکَعَ قَدْرَ ذٰلِکَ أَیْضًا حَتّٰی صَلّٰی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَفَعَلَ کَفِعْلِہِ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی ثُمَّ جَلَسَ یَدْعُوْ وَیُرَغِّبُ حَتَّی انْکَشَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ حَدَّثَہُمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَذٰلِکَ فَعَلَ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۶)
حنش نامی آدمی کہتا ہیں: سورج کو گرہن لگ گیا، سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے سورۂ یس یا اس جیسی کسی اور سورت کی تلاوت کی، پھراس سورت کے بقدر رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا، : پھر ایک سورت کی مقدار جتنا قیام کیا اور مزید دعا کی اور اللہ کی بڑائی بیان کی، پھر قراء ت کی مقدار کے برابر رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا اور پھر ایک سورت کے بقدر قیام کیا، اور پھر اسی مقدار کے مطابق رکوع کیا، بہرحال چار رکوع پورے کیے، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا،اس کے بعد سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح اس کو ادا کیا، (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) بیٹھ گئے اور دعا کرنے لگے، اور (لوگوں کو) رغبت دلانے لگے، حتیٰ کہ سورج صاف ہوگیا، پھر لوگوں کو بیان کیا کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔
Takhreej
(۲۹۱۵) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، حنش بن المعتمر، الأکثرون علی تضعیفہ أخرجہ البیھقی: ۳/ ۳۳۰، وابن خزیمۃ: ۱۳۸۸، ۱۳۹۴ (انظر: ۱۲۱۶)
2915
Zaeef
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ نمازِ کسوف دورکعت ہے اور ہر رکعت میں چار رکوع ہیں
۔ (۲۹۱۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عِنْدَ کُسُوْفِ الشَّمْسِ ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۵)
سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورج کے گرہن کے وقت آٹھ رکوع اور چار سجدے کیے۔
Takhreej
(۲۹۱۶) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۰۸۔ وقد روی غیر واحد عن ابن عباسC ٔنھا أربع رکعات وأربع سجدات۔ (انظر: ۱۹۷۵)
2916
Sahih
اس شخص کا بیان جو یہ روایت بیان کرتا ہے کہ یہ نماز دو رکعت ہے اور ہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں
۔ (۲۹۱۷) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِنَّ رَسوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِہِمْ فَقَرَأَ بِسُوْرَۃٍ مِنَ الطُّوَلِ ثُمَّ رَکَعَ خَمْسَ رَکَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ قَامَ الثَّانِیَۃَ فَقَرَأَ بِسُوْرَۃٍ مِنَ الطُّوَلِ ثُمَّ رَکَعَ خَمْسَ رَکَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ جَلَسَ کَمَا ھُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ یَدْعُوا حَتَّی انْجَلٰی کُسُوْفُہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۵۴۵)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور طُوَل سورتوں میں سے ایک سورت کی تلاوت اور (پہلی رکعت میں) پانچ رکوع اور دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور طُوَل سورتوں میں سے ہی ایک سورت پڑھی، پھر پانچ رکوع کیے اور دو سجدے کیے، پھر قبلہ رخ ہو کر ہی بیٹھ کر دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ اس کا گرہن صاف ہو گیا۔
Takhreej
(۲۹۱۷) تخریـج: …حدیث منکر کما قال الذھبی، وھذا اسناد ضعیف، أبو جعفر عیسی بن عبد اللہ بن ماھان الرازی سییء الحفظ أخرجہ ابوداود: ۱۱۸۲ (انظر: ۲۱۲۲۵)
2917
Zaeef
نماز کسوف کی طوالت اور اس نماز کے لیے عورتوں کی مسجد میں جماعت کے لیے حاضری کا بیان
۔ (۲۹۱۸) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّھَا قَالَتْ: فَزِ عَ یَوْمَ کَسَفَتِ الشَّمْسُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذَ دِرْعًا حَتّٰی أُدْرِکَ بِرِدَائِہِ، فَقَامَ بِالنَّاسِ قِیَامًا طَوِیْلًا، یَقُوْمُ ثُمَّ یَرْکَعُ، فَلَوْجَائَ اِنْسَانٌ بَعْدَ مَا رَکَعَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَعْلَمْ أَنَّہُ رَکَعَ، مَا حَدَّثَ نَفْسَہُ أَنَّہُ رَکَعَ مِنْ طُوْلِ الْقِیَامِ۔ قَالَتْ: فَجَعَلْتُ اَنْظُرُ اِلَی الْمَرْأَۃِ الَّتِی ھِیَ أَکْبَرُ مِنِّیْ، وَاِلَی الْمَرْأَۃِ الَّتِی ھِیَ أَسْقَمُ مِنِّی قَائِمَۃً وَأَنَا أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلٰی طُوْلِ الْقِیَامِ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۵۰۸)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جس دن سورج کو گرہن لگا، اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھبرا گئے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (جلدی میں کسی بیوی کی) قمیص پکڑ لی (اور مسجد کی طرف نکل پڑے، پیچھے سے)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ کی چادر پہنچا دی گئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو لمبا قیام کروایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، اگر کوئی انسان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رکوع کرنے کے بعد آجاتا تو وہ یہ نہ جان سکتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کرلیا ہے، لمبے قیام کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو اس بات کا قائل نہ کر سکتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کر لیا ہے۔ سیدہ اسماء کہتی ہیں: پس میں اس عورت کی طرف دیکھتی جو مجھ سے بڑی تھی ، پھر اس عورت کی طرف دیکھتی جو مجھ سے کمزور تھی، پھر میں اپنے آپ سے کہتی کہ میں زیادہ حقدار ہوں کہ لمبے قیام پر صبر کروں۔
Takhreej
(۲۹۱۸) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۸۶، ۱۲۳۵، ۱۳۷۳، مسلم: ۹۰۵، ۹۰۶(انظر: ۲۶۹۲۵، ۲۶۹۵۴)
2918
Sahih
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
۔ (۲۹۱۹) عَنْ ھِشَامٍ عَنْ فَاطِمَۃَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ یُصَلُّوْنَ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِہَا اِلَی السَّمَائِ، فَقُلْتُ: آیَۃٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَطَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِیَامَ جِدًّا حَتّٰی تَجَلَّانِی الْغَشْیُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَۃً اِلٰی جَنْبِیْ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلٰی رَأْسِی الْمَائَ، فَانْصََرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ، مَا مِنْ شَیْئٍ لَمْ أَکُنْ رَأَیْتُہُ اِلَّا قَدْ رَأَیْتُہُ فِی مَقَامِی ھٰذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ اِنَّہُ قَدْ أُوْ حِیَ اِلَیَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ قَرِیْبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَالِ ’’لَا أَدْرِی أَیَّ ذٰلِکَ، قَالَتْ أَسْمَائُ‘‘ یُؤْتٰی أَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہُ مَا عِلْمُکَ بِہٰذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوْقِنُ لَا أَدْرِی أَیَّ ذَلِکَ، قَالَتْ أَسْمَائُ فَیَقُوْلُ ھُوَ مُحَمَّدٌ،ھُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ فَیُقَالُ لَہُ قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ اَنْ کُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِہِ فَنَمْ صَالِحًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِی أَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَیَقُوْلُ مَا أَدْرِی، سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْئًا فَقُلْتُ)) (مسند احمد: ۲۷۴۶۴)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، پس میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر داخل ہوئی(وہ بھی اسی نماز میں شریک تھیں)، میں نے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ نماز پڑھ رہے ہیں؟ انھوں نے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: یہ کوئی (عذاب کی) نشانی ہے؟ انہوں نے (اشارے سے)کہا:ہاں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بہت لمبا قیام کیا، حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، اس لیے میںنے اپنے پہلو میں پڑا ہوا ایک مشکیزہ پکڑ لیا اور اپنے سر پر پانی بہانے لگی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: حمد و ثناء کے بعد! کوئی چیزنہیں، جو میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی، مگر وہ اس مقام میں دیکھ لی ہے، میں نے جنت اور آگ کو بھی دیکھا ہے۔ بے شک میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ تم کو عنقریب قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی طرح آزمایا جائے گا، تم میںسے ایک کے پاس (قبر میں) آیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا: تو اس آدمی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے بارے میں کیا جانتا ہے ؟ پس ایمان یا یقین رکھنے والا کہے گا: وہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں، ہمارے پاس روشن دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے، پس ہم نے قبول کر لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی کی، تین مرتبہ یہ بات کہے گا۔ پس اس کو کہا جائے گا: تحقیق ہم جانتے تھے کہ بے شک تو ان کے ساتھ ایمان رکھتا ہے، پس تو اچھی حالت میں سو جا۔ رہا مسئلہ نفاق یا شک والے آدمی کا تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں سے کچھ کہتے ہوئے سناتھا، بس میں نے بھی وہ کہہ دیا تھا، (لیکن اب تو میں کچھ نہیں جانتا)۔
Takhreej
(۲۹۱۹) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۸۶، ۱۲۳۵، ۱۳۷۳، مسلم: ۹۰۵(انظر: ۲۶۹۲۵)
2919
Sahih
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
۔ (۲۹۲۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ حِیْنَ انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴۲)
سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب سورج کو گرہن لگا، اس موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: أَمَّا بَعْدُ (حمد و ثناء کے بعد)۔
Takhreej
(۲۹۲۰)تخریـج: …اسنادہ ضعیف، لجھالۃ ثعلبۃ بن عباد أخرجہ النسائی: ۳/ ۱۵۲ (انظر: ۲۰۱۸۰)
2920
Zaeef
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
۔ (۲۹۲۱) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعْتُ رَجَّۃَ النَّاسِ وَھُمْ یَقُوْلُوْنَ آیَۃً (فَذَکَرَتْ نَحْوَا الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِیْہِ) فَصَلَّیْتُ مَعَہُمْ، وَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَغَ مِنْ سَجْدَتِہِ الْأُوْلٰی قَالَتْ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِیَامًا طَوِیْلًا حَتّٰی رَأَیْتُ بَعْضَ مَنْ یُصَلِّی یَنْتَضِحُ بِالْمَائِ ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا، ثُمَّ قَامَ وَلَمْ یَسْجُدْ قِیَامًا طَوِیْلًا، وَھُوَ دُوْنَ الْقِیَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ رُکُوْعِہِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ رَقِیَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ فَاِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَافْزَعُوا اِلَی الصَّلَاۃِ وَاِلَی الصَّدَقَۃِ وَاِلَی ذِکْرِ اللّٰہِ، أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّہُ لَمْ یَبْقَ شَیْئٌ لَمْ أَکُنْ رَأَیْتُہُ اِلَّا رَأَیْتُہُ فِی مَقَامِی ھٰذَا، وَقَدْ أُرِیْتُکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی قُبُوْرِکُمْ، یُسْأَلُ أَحَدُکُمْ مَا کُنْتَ تَقُوْلُ وَمَا کُنْتَ تَعْبُدُ؟ فَاِنْ قَالَ: لَا أَدْرِی، رَأَیْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْئًا فَقُلْتُہُ وَیَصْنَعُوْنَ شَیْئًا فَصَنَعْتُہُ، قِیْلَ لَہُ أَجَلْ، عَلَی الشَّکِّ عِشْتَ وَعَلَیْہِ مُتَّ ھٰذَا مَقْعَدُکَ مِنَ النَّارِ، وَاِنْ قَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، قِیْلَ: عَلَی الْیَقِیْنِ عِشْتَ وَعَلَیْہِ مُتَّ، ھٰذَا مَقْعَدُکَ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَقَدْ رَأَیْتُ خَمْسِیْنَ أَوْ سَبْعِیْنَ أَلْفًا یَدْخَلُوْنَ الْجَنَّۃَ فِی مِثْلِ صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ فَقَامَ اِلَیْہِ رَجُلٌ۔)) فَقَالَ: ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ مِنْہُمْ، أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّکُمْ لَنْ تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ حَتّٰی أَنْزِلَ اِلَّا أَخْبَرْتُکُمْ بِہِ۔)) فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَنْ أَبِی؟ قَالَ: ((أَبُوْکَ فُلَانٌ۔)) الَّذِی کَانَ یُنْسَبُ اِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۳۲)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا، میں نے لوگوں کی ملی جلی آوازیں سنیں، وہ کہہ رہے تھے: نشانی، نشانی۔(پھر گزشتہ حدیث کی طرح اس نے حدیث بیان کی۔ اس میں مزید امور یہ بھی ہیں:) میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، (جب میں پہنچی تو) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلی رکعت سے فارغ ہو چکے تھے، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبا قیام کیا، حتیٰ کہ میں نے بعض نماز پڑھنے والے لوگوں کو دیکھا کہ وہ پانی کے چھینٹے مار رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور قیام شروع کر دیااور سجدہ نہ کیا، یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا، البتہ وہ پہلے رکوع سے کچھ کم تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو سورج صاف ہوچکا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتیں، جب تم ان کواس طرح دیکھو تو نماز پڑھنے، صدقہ کرنے اور اللہ کا ذکر کرنے کی طرف لپکو۔ اے لوگو! کوئی چیز ایسی نہیں کہ جو میں نے نہیں دیکھی تھی، مگراس مقام میں دیکھ لی اور میں نے تم کو بھی دیکھا کہ تم قبروں میں آزمائے جا رہے ہو، تم میں سے ہر ایک سے سوال کیا جا رہا ہے کہ توکیا کہتا تھا؟ تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ اگر کوئی جواباً یہ کہے گا: میں تو نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو جو کچھ کہتے ہوئے سنا، خود بھی وہی کہہ دیا، ان کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا، خود بھی وہی کچھ کر دیا۔ اس جواب پر اسے کہا جائے گا: اچھا، ٹھیک ہے، تو نے شک پر زندگی گزار دی اور اسی پر تو مرا، یہ آگ تیرا ٹھکانا ہے۔ اور اگر کوئی یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو اسے کہا جائے گا: تو نے یقین پر زندگی بسر کی اور تو اسی پر مرا، یہ جنت کا تیرا ٹھکانہ ہے۔ یقینا میں نے پچاس یا ستر ہزار لوگوں کو دیکھا کہ وہ چودہویں رات کے چاند جیسا چہرہ لے کر جنت میں داخل ہو رہے تھے۔)) ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: (اے اللہ کے رسول!) اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ان میں داخل کردے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو ان میں داخل کردے۔ لوگو! میرے اترنے سے پہلے تم جس چیز کا بھی سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب دے دوں گا۔ پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: میرا باپ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا باپ فلاں شخص ہے۔ (یعنی اسی آدمی کا نام لیا) جس کی طرف اس کو منسوب کیا جاتا تھا۔
Takhreej
(۲۹۲۱) تخریـج: …اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ، انفرد بہ فلیح بن سلیمان الخزاعی، وھو ممن لایحتمل تفرّدہ، ولم یذکروا لمحمد بن عباد بن عبد اللہ سماعا من أسماء بنت أبی بکر۔ ولبعضہ شواھد أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۳۹۹، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴/ ۲۴۰ (انظر: ۲۶۹۹۲)
2921
Zaeef
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
۔ (۲۹۲۲) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: وَلَقَدْ أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْعَتَاقَۃِ فِی صَلَاۃِ کُسُوْفِ الشَّمْسِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۶۳)
سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سورج گرہن کی نماز میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۲۹۲۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۵۴، ۲۵۱۹، ۲۵۲۰ (انظر: ۲۶۹۲۴)
2922
Sahih
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
۔ (۲۹۲۳)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ قَالَتْ) اِنْ کُنَّا لَنُؤْمَرُ بِالْعَتَاقَۃِ فِی صَلَاۃِ الْخُسُوْفِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۶۲)
(دوسری سند) ہمیں نمازِ کسوف میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
Takhreej
(۲۹۲۳)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2923
Sahih
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
۔ (۲۹۲۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَصِفُ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکُسُوْفِ بِطُوْلِ الْقِیَامِ، وَأَنَّہُ صَلَّاھَا رَکْعَتَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ رُکُوْعَانِ ((کَمَا تَقَدَّمَ فِی أَحَادِیْثِھَا السَّابِقَۃِ وَفِیْہِ)) قَالَتْ: فَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ، وَاِنَّہُمَا لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَکَبِّرُوا وَادْعُوْا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا، یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْیَرَ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یَزْنِیَ عَبْدُہُ أَوْ تَزْنِیَ أَمَتُہُ، یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ! وَاللّٰہِ! لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا، أَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) (مسند احمد: ۲۵۸۲۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نمازِ کسوف کی طوالت ِ قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہر رکعت میں دو رکوع تھے، (جیسا کہ سابقہ احادیث میں گزر چکا ہے، مزید وہ کہتی ہیں): جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، پس جب تم ان دونوں کو اس طرح دیکھو تو اللہ کی بڑھائی بیان کیا کرو، اس سے دعا کیاکرو، نماز پڑھا کرو اور صدقہ کیا کرو۔ اے امت ِ محمد! کوئی بھی نہیں جو اس معاملے میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند ہو کہ اس کا بندہ یا باندی زنا کرے۔اے امت ِ محمد! اللہ کی قسم! اگر تم وہ کچھ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے، خبر دار! کیا میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے؟!
Takhreej
(۲۹۲۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۴۴، ۵۲۲۱، ومسلم: ۹۰۱ (انظر: ۲۵۳۱۲)
2924
Sahih

Chapters

10
01
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
7 Hadith
02
نمازِ کسوف میں قراء ت اور اس کے جہری یا سرّی ہونے کا بیان
3 Hadith
03
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
8 Hadith
04
اس شخض کا بیان جو گرہن والا معاملہ صاف ہونے تک دو دو رکعت کر کے نماز کسوف ادا کرتا رہتا ہے
1 Hadith
05
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
8 Hadith
06
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ یہ دو رکعت نماز ہے اور ہر رکعت میں تین رکوع ہیں
4 Hadith
07
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ نمازِ کسوف دورکعت ہے اور ہر رکعت میں چار رکوع ہیں
1 Hadith
08
اس شخص کا بیان جو یہ روایت بیان کرتا ہے کہ یہ نماز دو رکعت ہے اور ہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں
1 Hadith
09
نماز کسوف کی طوالت اور اس نماز کے لیے عورتوں کی مسجد میں جماعت کے لیے حاضری کا بیان
1 Hadith
10
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.