TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2924 - سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان - نمازِکسوف کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 6 in this chapter
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
۔ (۲۹۲۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَصِفُ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکُسُوْفِ بِطُوْلِ الْقِیَامِ، وَأَنَّہُ صَلَّاھَا رَکْعَتَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ رُکُوْعَانِ ((کَمَا تَقَدَّمَ فِی أَحَادِیْثِھَا السَّابِقَۃِ وَفِیْہِ)) قَالَتْ: فَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ، وَاِنَّہُمَا لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَکَبِّرُوا وَادْعُوْا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا، یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْیَرَ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یَزْنِیَ عَبْدُہُ أَوْ تَزْنِیَ أَمَتُہُ، یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ! وَاللّٰہِ! لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا، أَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) (مسند احمد: ۲۵۸۲۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نمازِ کسوف کی طوالت ِ قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہر رکعت میں دو رکوع تھے، (جیسا کہ سابقہ احادیث میں گزر چکا ہے، مزید وہ کہتی ہیں): جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، پس جب تم ان دونوں کو اس طرح دیکھو تو اللہ کی بڑھائی بیان کیا کرو، اس سے دعا کیاکرو، نماز پڑھا کرو اور صدقہ کیا کرو۔ اے امت ِ محمد! کوئی بھی نہیں جو اس معاملے میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند ہو کہ اس کا بندہ یا باندی زنا کرے۔اے امت ِ محمد! اللہ کی قسم! اگر تم وہ کچھ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے، خبر دار! کیا میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے؟!
2924
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۹۲۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۴۴، ۵۲۲۱، ومسلم: ۹۰۱ (انظر: ۲۵۳۱۲)

Related Chapters

1,413
1
سورج گرہن کی نماز کے بعد (خطبہ دینے کے لی) منبر پر بیٹھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
Chapter: What Has Been Mentioned About What Is Recommended When Sitting After The Subh Prayer Until The Sun Has Risen
باب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
3
(30) CHAPTER. What is said regarding the offering of As-Salat (the prayers) between the Fajr prayer and sunrise.
اس بیان میں کہ صبح کی نماز کے بعد سورج بلند ہونے تک نماز پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
4
(1) CHAPTER. As-Salat (the prayer) during a solar eclipse.
سورج گرہن کی نماز کا بیان
Sahih Bukhari
5
(9) CHAPTER. To offer the eclipse Salat (prayer) in congregation.
سورج گرہن کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا
Sahih Bukhari
6
(10) CHAPTER. The offering of the Eclipse Salat (prayer) by women along with men.
سورج گرہن میں عورتوں کا مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا
Sahih Bukhari
7
Chapter: The Eclipse Prayer
سورج یا چاند گرہن کی نماز
Sahih Muslim
8
CHAPTER: Crying Out ’The Prayer’ For it.
باب: نماز کسوف ( سورج یا چاند گرہن کی نماز ) کے اعلان کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
9
سورج اور چاند گرہن کی نماز کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
10
سورج گرہن کے وقت نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
سورج گرہن کی نماز کے لیے اعلان کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
سورج گرہن کی نماز میں صف بندی کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
سورج گرہن کی نماز کی کیفیت کا بیان؟
Sunnan Nisai
14
سورج گرہن کی نماز کی ایک اور قسم کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی سورج گرہن کی نماز کی ایک اور قسم کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
سورج گرہن کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
سورج گرہن کی نماز میں بلند آواز سے قرأت کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
سورج گرہن کی نماز میں بلند آواز سے قرأت نہ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
سورج گرہن کی نماز میں سجدے میں کیا کہا جائے ؟
Sunnan Nisai
21
سورج گرہن کی نماز میں تشہد پڑھنے اور سلام پھیرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
Chapter: : What Has Been Related About Prayer After Asr And After Fajr Is Disliked
باب: عصر اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: : What Has Been Related About Salat After Asr
باب: عصر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih At The End Of Salat
باب: نماز کے بعد کی تسبیح (اذکار) کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat After Fajr Begins Except For Two Rak'ah'
باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About One Who Misses The Two Rak'ah Before Fajr Praying Them After The Subh Prayer
باب: فجر سے پہلے کی دونوں سنتیں چھوٹ جائیں تو انہیں نماز فجر کے بعد پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Waiting To Perform Them After The Sun Has Risen
باب: سورج نکلنے کے بعد فجر کی سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Salat At The (Time Of) Az-Zawal
باب: زوال (سورج ڈھلنے) کے وقت کی نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat Before The Two Eid And No Salat After Them'
باب: نماز عید سے پہلے اور اس کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Salat Al-Kusuf (The Eclipse Prayer)
باب: گرہن کی نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: The Manner Of The Recitation For The Eclipse
باب: گرہن کی نماز میں قرأت کا طریقہ
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The One Who Prays The Obligatory Prayer, Then Leads The People In Prayer After That
باب: فرض نماز پڑھنے کے بعد لوگوں کی امامت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Mentioned About Salat After Maghrib Is More Virtuous In The House
باب: مغرب کے بعد کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Stoning After The Sun Has Passed The Zenith
باب: زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد جمرات کی رمی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Pray The Funeral Salat While The Sun Is Rising And While It Is Setting
باب: سورج نکلنے اور اس کے ڈوبنے کے وقت نماز جنازہ پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has been Related About Slaughtering After The Salat
باب: نماز عید کے بعد قربانی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
بَاب الذّكر بعد الصَّلَاة
نماز کے بعد ذکر کا بیان
Mishkat
39
وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
Musnad Ahmad
40
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
Musnad Ahmad
41
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
Musnad Ahmad
44
نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
45
نمازی کا نماز کے بعد نماز والی جگہ میں ہی بیٹھنے رہنا، اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
46
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
Musnad Ahmad
47
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
Musnad Ahmad
48
نماز سے فارغ ہونے کے بعد بآواز بلند ذکر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز
Musnad Ahmad
50
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

4
Musnad Ahmad
2895
۔ (۲۸۹۵) عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ لَبِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ یَوْمَ مَاتَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوا: کَسَفَتٍ الشَّمْسُ لِمَوْتِ اِبْرَاھِیْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، أَلَا وَاِنَّہُمَا لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا کَذٰلِکَ فَافْزَعُوا اِلَی الْمَسَاجِدِ۔)) ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فِیْمَا نُرَی بَعْضَ {الٓرکِتَابٌ} ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِی الْأُوْلٰی۔ (مسند احمد: ۲۴۰۲۹)
سیّدنا محمود بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا۔پس لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا: جناب ابرہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موت کی وجہ سے سورج کو گرہن لگا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ خبردار! یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو ڈر کر مسجد کی طرف پناہ لو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہمارا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ ابراہیم کی بعض آیات تلاوت کیں، پھر رکوع کیا، اس کے بعدسیدھے ہوئے اور پھر دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت ادا کی۔
Musnad Ahmad
2905
۔ (۲۹۰۵) عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ فِی حَیَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَکَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَائَ ہُ فَکَبَّرَ وَاقْتَرَأَقِرَائَ ۃً طَوِیلۃً، ثُمَّ کَبَّرَ فَرَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا، ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ۔)) فَقَامَ وَلَمْ یَسْجُدْ، فَاقْتَرَأَ قِرَائَ ۃً طَوِیْلَۃً ھِیَ أَدْنٰی مِنَ الْقِرَائَ ۃِ الْأُوْلٰی، ثُمَّ کَبَّرَ وَرَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا ھُوَ أَدْنٰی مِنَ الرُّکُوْعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔)) ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُخْرٰی مِثْلَ ذٰلِکَ، فَاسْتَکْمَلَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ یَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِمَا ھُوَ أَھْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّمَا ھُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَا یَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاۃِ۔)) وَکَانَ کَثِیْرُ بْنُ عَبَّاسٍ یُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یُحَدِّثُ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ کَسَفَتِ الشَّمْسُ مِثْلَ مَا حَدَّثَ عُرْوَۃُ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقُلْتُ لِعُرْوَۃَ: فَاِنَّ أَخَاکَ یَوْمَ کَسَفَتِ الشَّمْسُ بِالْمَدِیْنَۃِ لَمْ یَزِدْ عَلٰی رَکْعَتَیْنِ مِثْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ، فَقَالَ أَجَلْ اِنَّہُ أَخْطَأَ السُّنَّۃَ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۷۸)
امام زہری ، عروہ بن زبیر سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ عہد ِ نبوی میں سورج کو گرہن لگ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد کی طرف نکلے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اللہ اکبر کہہ کر (نماز شروع کر دی)، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں پھر آپ نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبی قراء ت کی،پھر اللہ اکبر کہااور لمبا رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہہ کر کھڑے ہوئے اور پھر قیام شروع کر دیا اور سجدہ نہ کیا،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبی قراء ت کی، البتہ وہ پہلی قراء ت سے کم تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ اکبر کہا اور لمبا رکوع کیا جو کہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہا اور پھر سجدہ کیا، دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ (ان دو رکعتوں میں) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اُدھر سلام پھیرنے سے قبل سورج صاف ہوگیا تھا، (نماز سے فارغ ہو کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ان الفاظ کے حمد و ثنا بیان کی جن کا وہ اہل ہے اور پھر فرمایا: بے شک یہ (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، پس جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو ڈر کر نماز کی طرف پناہ لو۔
Musnad Ahmad
2887
۔ (۲۸۸۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ وَلٰکِنَّھُمَا آیَۃٌ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی،فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَصَلُّوا)) (مسند احمد: ۵۸۸۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کی زندگی اور موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں، اس لیے جب تم ان دونوں کو (گرہن زدہ) دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔
Musnad Ahmad
2889
۔ (۲۸۸۹) عَنْ أَبِی مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، قَالَ یَزِیْدُ (أَحد الرواۃ) وَلَا لِحِیَاتِہِ وَلَکِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَعَالیٰ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَصَلُّوا۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۳۰)
سیّدناابومسعودبدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کی موت اور زندگی کے موقع پر بے نور نہیں ہوتے، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم ان کو اس حالت میں دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔