میت پر رونے، سوگ کرنے اور موت کی اطلاع دینے کے ابواب - میت پر رونے، سوگ کرنے اور موت کی اطلاع دینے کے ابواب - Book 57 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 57 of Musnad Ahmad, with 5 chapters and 50 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا گریبان چاک کرے،رخسار پیٹے اور جاہلیت والی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب احد سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصاری خواتین کی آواز سنی، جو اپنے شوہروں کی شہادت پر رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن حمزہ، اس کے لیے تو رونے والیاں کوئی نہیں ہیں۔ جب یہ بات انصاری خواتین کو پہنچی تو وہ آئیں اور سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اور ان کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا: ان پر افسوس ہے، یہ رات سے روتی رہیں، ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کوئی کسی فوت ہونے والے پر نہ روئیں۔
Takhreej
(۳۰۴۸) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۹۱(انظر: ۵۵۶۳)
Explanation
فوائد: …’’وَیْح‘‘ کا لفظ کبھی رحمت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کبھی عذاب کے لیے، سیاق و سباق کو دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔اس حدیث سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہے کہ شروع میں اس قسم کا رونا جائز تھا، بعد میں آپaنے اس سے منع فرما دیا۔
یزید بن اوس کہتے ہیں:سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب لوگ رونے لگے تو انہوں نے کہا: جس آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے براء ت کا اظہار کیا ، میں بھی اس سے بری ہوں۔ لوگوں نے ان کی بیوی سے پوچھا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن لوگوں سے براء ت کا اظہار کیا)۔ اس نے کہا: جو مصیبت کے وقت سرمنڈائے، یا دامن پھاڑے یا ممنوعہ الفاظ کہتے ہوئے بلند آواز میں روئے۔
صفوان بن محرز کہتے ہیں:سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہوئی، لوگ رونے لگے۔ جب ان کو افاقہ ہوا تو انھوں نے کہا: جس آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے براء ت کا اظہار کیا، میں بھی اس سے بری ہوں، یعنی اس سے جو (مصیبت کے وقت) سرمنڈائے یا کپڑے پھاڑے یا بلند آواز سے واویلا کرے۔
Takhreej
(۳۰۵۰) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۷۰
Explanation
فوائد: …صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب لوگ رو رہے تھے، اس وقت سیّدنا ابو موسیbمیں ان کا ردّ کرنے کی طاقت نہیں تھی، بعد میں جب افاقہ ہوا تو انھوں نے شرعی حکم کی وضاحت کر دی۔
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی:{ ٰٓیاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَکَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔ ان معروف کاموں میں سے ایک نوحہ بھی تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں خاندان والوں نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میرا ساتھ دیا تھا۔ اب میرے لیے ضروری ہے کہ میں بھی ان کا ساتھ دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) مگر فلاں خاندان والے۔
فوائد: …اس حدیث میں آپaنے خاص طور کر سیدہ ام عطیہ c کو نوحہ کرنے کی اجازت دی، جبکہ شارع کو عام حکم سے تخصیص کرنے کا حق حاصل ہے، لہٰذا سیدہ ام عطیہc کی اس رخصت کے علاوہ نوحہ کرنا حرام ہے۔
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن امور پر ہم سے بیعت لی، ان میں سے ایک چیز یہ تھی کہ ہم نوحہ نہ کریں، لیکن اتنے میں ایک انصاری عورت نے کہا: فلاں خاندان والوں نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کے سلسلے میں میرا تعاون کیا، اب ان کے ہاں ایک مرگ ہو چکی ہے، اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت اس وقت تک نہیں کروں گی جب تک ان کے تعاون کی طرح ان کی مدد نہ کر آؤں۔ پس وہ چلی گئی، پھر واپس کر آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:ہم میں بیعت کرنے والی کسی ایک خاتون نے بھی وفا نہیں کی، ما سوائے اِس عورت اور ام سلیم بنت ملحان کے۔
Takhreej
(۳۰۵۲) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۷۲
Explanation
فوائد: …مجموعۂ روایات سے پتہ چلتاہے کہ جس عورت کو مبہم انداز میں ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد سیدہ ام عطیہ cخود ہیں۔
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیعت لیتے وقت اس بات کا عہد لیا تھا کہ ہم نوحہ بھی نہیں کریں گی۔ ہم میں سے صرف ان پانچ عورتوں نے اس عہد کو پورا کیا تھا: ام سلیم، زوجۂ معاذ، بنت ِ ابو سبرہ اور ایک اور خاتون۔
Takhreej
(۳۰۵۳) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۳۶ (انظر: ۲۷۳۰۵)
Explanation
فوائد: …پانچویں خاتون سیدہ ام عطیہ cخود تھیں۔ ان کی مراد یہ ہے کہ جن عورتوں نے آپaکی بیعت کی تھی، ان میں سے پانچ نے پوری طرح اس عہد کو نبھایا تھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب سیّدنا جعفر بن ابی طالب، سیّدنازید بن حارثہ اور سیّدنا عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر غم کے آثار نمایاں تھے۔ میں دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی کہ ایک آدمی نے آ کر کہا:اے اللہ کے رسول! جعفر کے خاندان کی عورتیں رو رہی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ان کو روکے۔ وہ گیا اور پھر واپس آ کر کہنے لگا: میں نے انہیں منع تو کیا ہے، لیکن انھوں نے میری بات نہیں مانی، تیسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پھر ان کے مونہوں میں مٹی ڈال دو۔ میں نے کہا: اللہ تیری ناک خاک آلود کرے! اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے جو حکم دیا، نہ تو تو نے اس پر عمل کیا اور نہ تو نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوا۔
فوائد: …یہ تینوں صحابہ آٹھ سن ہجری میں ہونے والے غزوۂ مؤتہ میں شہید ہو گئے تھے۔ آپaکا کہنا: ’’تم پھر ان کے مونہوں میں مٹی ڈال دو۔‘‘ اس سے مراد رونے پر مبالغہ کے ساتھ انکار کرنا اور منع کرنا ہے۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں سیدہ عائشہ cکے قول کا مطلب یہ ہے کہ اس آدمی کو چاہیے تھا کہ آپaکے حکم پر عمل کرتے ہوئے عورتوں کو رونے سے روکتا، وگرنہ چپ ہو جاتا اور آپaکو مزید پریشان نہ کرتا۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا: پردیسی تھا اور پردیس میں فوت ہو گیا، پس میں رو پڑی۔ (مدینہ کی) بالائی بستیوں سے ایک خاتون آئی، اس کا ارادہ تھا کہ (نوحہ کرنے میں) میری مدد کرے گی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس گھر سے شیطان کونکال دیا ہے تم دوبارہ اس کو وہاں داخل کرنا چاہتی ہو۔ پس یہ سن کر میں نہ روئی۔
Takhreej
(۳۰۵۵) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۲۲ (انظر: ۲۶۴۷۲)
Explanation
فوائد: …سیدہ ابو سلمہ b مکہ مکرمہ سے تعلق رکھتے تھے اور مدینہ منورہ میں فوت ہو گئے تھے، ان کی اہلیہ پردیس سے یہی کچھ مراد لے رہی ہیں۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے نوحہ کرنے والی اور بلند آواز سے رونے والی عورت کے لیے رحمت کی دعا نہیں کرتے۔
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
Takhreej
(۳۰۵۷) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، محمد بن عطیۃ وأبوہ وجدہ ضعفاء أخرجہ ابوداود: ۳۱۲۸ (انظر: ۱۱۶۲۲)
Explanation
فوائد: …لعنت کے معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کے ہوتے ہیں۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دورِ جاہلیت کے دو کام ہیں، لوگ ان کو کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے: نوحہ کرنا اور نسب پر طعن کرنا۔
فوائد: …نسب پر طعن کرنے سے مراد آدمی کا اپنے آپ کو غیر باپ کی طرف منسوب کرنا ہے، یا کسی کو اس کے باپ، ماں یا برادری کی بنا پر طعنہ مارنا کہ وہ تو فلاں کمینے باپ کا بیٹا ہے یا اس کا تعلق تو فلاں گھٹیا برادری سے ہے۔
سیّدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار امورِ جاہلیت ہیں،لیکن ان کو چھوڑا نہیں جائے گا: حسب پر فخر کرنا، نسب پر طعن کرنا، تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا اورنوحہ کرنا۔ نوحہ کرنے والی عورت اگر وفات سے پہلے توبہ نہیں کر لیتی تو اسے اس حال میں قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول یا خارش کی قمیص ہو گی۔
Takhreej
(۳۰۵۹) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۳۴ (انظر: ۲۲۹۰۳)
Explanation
فوائد: …’’حسب پر فخر کرنا‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ آباء و اجداد کے مناقب بیان کر کے اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنا اور غرور اور تکبر کرتے ہوئے یہ کہنا کہ میں فلاں عالم، فلاں بہادر، فلاں ڈاکٹر یا فلاں مالدار کا بیٹا ہوں۔ اس میں کمال کسی کا ہوتا ہے اور بڑائی کوئی کر رہا ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ اگر کسی کا دادا بڑا انسان تھا تو اس میں پوتے کا کیا کمال ہے، اسے چاہیے کہ اپنے اندر اس قسم کی صلاحیتیں پیدا کرے اور عاجزی و انکساری سے زندگی گزارے۔ نسب پر طعن کرنا اور حسب پر فخر کرنا، دونوں نحوستیں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں، ان کے ذریعے نااہل اور جاہل لوگ اپنے بڑے پن کو ثابت کر کے مطمئن رہنا چاہتے ہیں، ایک دن میں نے اچھے بھلے لکھے پڑے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جن کے ماموں کو فلاں نواب نے اس کرسی یا مقام پر بٹھایا تھا، جہاں آصف علی زرداری کو بٹھایا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ زرداری عام مالدار آدمی تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی کو زرداری کی سیٹ پر بٹھا دیا جائے تو اس سے بیٹھنے والے کو کتنی عظمت ملی، یہ فیصلہ تو منصف حضرات سے کروانا پڑے گا، بھلا بھانجوں کو اس پر اترانے کا کیا حق حاصل ہے۔ ’’تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا‘‘ ہم ’’ابواب الاستسقائ‘‘ کے آخر میں اس پر بحث کر آئے ہیں۔
(دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں جاہلیت کے چار کام ایسے ہیں، جنہیں وہ ترک نہیں کریں گے:حسب پر فخر کرنا، نسب پرطعن کرنا، تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔ نیز فرمایا: اگر نوحہ کرنے والی عورت نے مرنے سے پہلے توبہ نہ کی تو قیامت کے دن اس طرح کھڑی ہو گی کہ اس پر تارکول کرے کرتے ہوں گے پھر ان پر آگ کے شعلوں کی قمیص چڑھا دی جائے گی۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اورفرمایا: اس میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اب عذاب ہو رہا ہے۔ یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن کو معاف فرمائے، انہیں غلطی لگ گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا تو ارشاد یہ ہے: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی} (سورۂ انعام: ۱۶۴) یعنی: کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا: بیشک اس میت کو اب عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔
فوائد: …سیّدنا عبد اللہ بن عمر bنے جو حدیث ِ مبارکہ بیان کی، وہ واقعی آپaکی حدیث ہے، کئی دوسرے صحابہ سے بھی مروی ہے۔ یہ سیدہ عائشہ cکا ذاتی فہم ہے کہ وہ اس آیت ِ مبارکہ کی روشنی میں سیّدنا ابن عمرb کو بھول جانے کی رائے دے رہی ہیں، حالانکہ اِس حدیث اور اِس آیت میں کوئی تضاد نہیں ہے، آگے اس کا بیان آئے گا اور سیدہ عائشہ cجو روایت بیان کر رہی ہیں، وہ بھی اپنی جگہ پر درست ہے، جمع و تطبیق کا بیان آگے آ رہا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کسی نے ان سے کہا کہ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: ابوعبد الرحمن کو غلطی لگ گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا کہ: میت کے لواحقین اس پر رو رہے ہیں، جبکہ اسے اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔
(دوسری سند)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ سے کہا: میرے بھانجے! ابو عبد الرحمن یعنی ابن عمر کو سننے میں غلطی لگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ایک آدمی کا ذکر کیا تھا، جسے اس کے اعمال کے جرم میں عذاب ہو رہا تھا اور اس کے اہل و عیال اس پر رو رہے تھے۔ اللہ کی قسم ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے نفس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
Takhreej
(۳۰۶۳)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …سیدہ عائشہ اور سیّدنا ابن عمرeسے مروی دو الگ الگ احادیث ہیں اور دونوں کا مفہوم بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ میت کو اہل میت کے رونے کی وجہ سے عذاب کیوں ہوتا ہے؟ اس کا جواب آگے آ رہا ہے۔
عمرہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یہ ذکر ہواکہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میت کو زندگان کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن کو معاف کرے، وہ جھوٹ نہیں بول رہے، یوں لگتا ہے کہ وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہو گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ایک ایسی یہودی عورت کے پاس سے ہوا تھا کہ جس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: یہ لوگ رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس پر نوحہ کیا گیا تو اس کو نوحہ کی وجہ سے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔