TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان

Chapter 2 of زکوۃ کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 7 · 18 Hadith
۔ (۳۳۶۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌إِلٰی الْیَمَنِ، قَالَ: ((إِنَّکَ تَأْتِیْ قَوْمًا أَہْلَ کِتَابٍ، فَادْعُہُمْ إِلٰی شَہَادَۃِ أَنْ لَّااِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوْکَ لِذَالِکَ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوْکَ لِذَالِکَ، فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً فِی أَمْوَالِہِمْ تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِہِمْ، وَتُرَدُّ فِی فُقُرَائِہِمْ فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوَکَ لِذَالِکَ فَإِیَّاکَ وَکَرَائِمَ أَمْوَالِہِمْ ، وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّہَا لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حِجَابٌ)) (مسند احمد: ۲۰۷۱)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: تم اہل کتاب لوگوں کے ہاں جا رہے ہو، تم سب سے پہلے ان کویہ دعوت دینا کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات تسلیم کر لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان کے مالوں پر زکوۃ بھی فرض کی ہے جو ان کے مالدار وں سے لے کر ان کے فقیروں میں تقسیم کی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی تسلیم کر لیں تو (زکوۃ لیتے وقت) ان کے قیمتی مال سے بچنا اورمظلوم کی بددعا سے بھی بچ کر رہنا، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔
Takhreej
(۳۳۶۴) تخر یـج:…أخرجہ البخاری: ۲۴۴۸، ومسلم: ۱۹(انظر: ۲۰۷۱)
Explanation
فوائد: آپ a کی اس ترتیب سے داعی کو سبق حاصل کرنا چاہیے اور اہم امور سے پہلے زیادہ اہم کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وتر نفلی نماز ہے، کیونکہ آپ a نے سیدنا معاذbکو ۱۰ ہجری میں یمن کی طرف بھیجا تھا، جبکہ اس وقت وتر ایک معروف نماز تھی۔
3364
Sahih
۔ (۳۳۶۵) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا إِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ، فَإِذَا قَالُوْہَا عَصَمُوْا مِنِّی دِمَائَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ، وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔)) قَالَ: فَلَمَّا قَامَ أَبُوْ بَکْرٍ، وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ، أَرَادَ أَبُوْ بَکْرٍ قِتَالَہُمْ، قَالَ عُمَرُ: کَیْفَ تُقَاتِلُ ہٰؤُلَائِ الْقَوْمَ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: وَاللّٰہِ! لَأُقَاتِلَنَّ قَوْمًا ارْتَدُّوْا عَنِ الزَّکَاۃِ وَاللّٰہِ! لَوْ مَنَعُوْنِیْ عَنَاقًا مِمَّا فَرَضَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ لَقَاتَلْتُہُمْ۔ قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا رَأَیْتُ اللّٰہَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ لِقِتَالِہِمْ عَرَفْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ۔ (مسند احمد: ۱۰۸۵۲) (۳۳۶۶) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ قَالَ: لَمَّا ارْتَدَّ أَہْلُ الرِّدَّۃِ فِی زَمَانِ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: کَیْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ یَا أَبَا بَکْرٍ! وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَإِذَا قَالُوْا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ عَصَمُوْا مِنِّی دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہِمْ إِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَاللّٰہِ! لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ، فَإِنَّ الزَّکَاۃَ حَقُّ الْمَالِ وَاللّٰہِ! لَوْ مَنَعُوْنِی عَنَاقًا کَانُوْا یُؤَدُّوْنَہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَقَاتَلْتُہُمْ عَلَیْہَا، قَالَ عُمَر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَوَاللّٰہِ! مَا ہُوَ إِلَّا أَنْ رَأَیْتُ أَنَّ اللّٰہَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ۔ (مسند احمد: ۲۳۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لَا إِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ کا اعتراف نہ کر لیں، جب وہ اس کا اعتراف کر لیں گے تو وہ اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ جب سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خلافت سنبھالی اور مرتدّ ہونے والے مرتد ہو گئے تو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے قتال کا ارادہ کیا۔ لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو لوگ نماز پڑھتے ہیں، آپ ان سے کیسے قتال کریں گے؟ لیکن سیدناابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے ضرور قتال کروں گا جو زکوۃ ادا کرنے سے انکاری ہیں۔اللہ کی قسم ہے،اگر ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی فرض کی ہوئی ایک بکری بھی نہ دی تو میں ان سے لڑوں گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے (زکوۃ کے اِن انکاریوں سے) لڑنے کے لیے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سینہ کھول دیا ہے تو میں جان گیا کہ یہی حق ہے۔
Takhreej
(۳۳۶۵) تخر یـج:…أخرجہ البخاری: ۶۹۲۴، ۶۹۲۵، ۷۲۸۴، ومسلم: ۲۰(انظر: ۶۷، ۱۰۸۴۰)
3365
Sahih
۔ (۳۳۶۶) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ قَالَ: لَمَّا ارْتَدَّ أَہْلُ الرِّدَّۃِ فِی زَمَانِ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: کَیْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ یَا أَبَا بَکْرٍ! وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَإِذَا قَالُوْا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ عَصَمُوْا مِنِّی دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہِمْ إِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَاللّٰہِ! لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ، فَإِنَّ الزَّکَاۃَ حَقُّ الْمَالِ وَاللّٰہِ! لَوْ مَنَعُوْنِی عَنَاقًا کَانُوْا یُؤَدُّوْنَہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَقَاتَلْتُہُمْ عَلَیْہَا، قَالَ عُمَر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَوَاللّٰہِ! مَا ہُوَ إِلَّا أَنْ رَأَیْتُ أَنَّ اللّٰہَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ۔ (مسند احمد: ۲۳۹)
عبید اللہ بن عبداللہ کہتے ہیں: جب سیدناابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عہد ِ خلافت میں لوگ مرتدّ ہو گئے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابوبکر! بھلا آپ ان لوگوں سے قتال کیسے کر سکتے ہیں، جب کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو فرمایا تھا کہ مجھے اس وقت تک لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ نہ کہہ دیں، اور جب وہ یہ کلمہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھ لیں گے تو اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، مگر حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ لیکن سیدناابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جو لوگ نماز اور زکوۃ میں فرق کریں گے، میں ان سے ضرور لڑوں گا، بے شک زکوۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم ہے، اگر ان لوگوں نے ایک بکری روک لی، جو یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ادا کیا کرتے تھے، تو میں اس وجہ سے ان سے لڑوں گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے فوراً پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سینہ قتال کے لیے کھولا ہے، پس میں نے یہ جان لیا کہ یہی بات برحق ہے۔
Takhreej
(۳۳۶۶) تخر یـج:…أخرجہ البخاری: ۱۳۹۹، ۱۴۵۶، ۱۴۵۷، ومسلم: ۲۰، وھو الحدیث المتقدم (انظر:۱۱۷، ۲۳۹ )
Explanation
فوائد: سیدنا ابوبکرbکے دورِ خلافت میں مختلف انداز میں بعض لوگ مرتدّ ہو گئے تھے، کسی نے دوبارہ بتوں کی پوجا اختیار کر لی، کوئی مسیلمہ کذاب سے جا ملا اور بعض لوگ ایمان پر تو برقرار تھے، لیکن انھوں نے بغاوت اور لالچ کرتے ہوئے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ سیدنا عمرbنے صرف ’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘‘ کے الفاظ کے مصداق کو سامنے رکھ کر مانعینِ زکوۃ سے لڑائی نہ کرنے کامشورہ دیا، لیکن سیدنا ابو بکرbاس کلمہ کے مفہوم کو سامنے رکھ کر نماز اور زکوۃ کو اسی کا تقاضا قرار دیا اور یہی معنی درست تھا، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ bسے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا اَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، وَیُقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوْا الزَّکَاۃَ، ثُمَّ قَدْ حُرِّمَ عَلَیَّ دِمَاؤُھُمْ وَاَمْوَالُھُمْ، وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ یعنی: ’’مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ (ان امور کو سرانجام نہ دیں): (۱)یہ شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد a اسے کے رسول ہیں، (۲) نماز قائم کریں اور (۳) زکوۃ ادا کریں۔ تب مجھ پر ان کے خون اور مال حرام ہوں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔‘‘ (مسند احمد: ۸۵۴۴، ۲/ ۳۴۵)
3366
Sahih
۔ (۳۳۶۷) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ صَاحِبِ کَنْزٍ، لَا یُؤَدِّی زَکَاتَہُ إِلَّا جِیْئَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَبِکَنْزِہِ فَیُحْمٰی عَلَیْہِ صَفَائِحُ فِی نَارِجَہَنَّمَ فَیُکْوٰی بِہَا جَبِیْنُہُ وَظَہْرُہُ حَتّٰی یَحْکَمَ اللّٰہُ بَیْنَ عِبَادِہِ فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِیْنَ أَلْفَ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ، ثُمَّ یَرٰی سَبِیْلَہُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّۃِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لایُؤَدِّی زَکَاتَہَا إِلاَّجِیْئَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَبِإِبِلِہِ کَأَوْفَرِ مَا کَانَتْ عَلَیْہِ، فَیُبْطَحُ لَہَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ کُلَّمَا مَضٰی أُخْرَاہَا رُدَّ عَلَیْہِ أُوْلَاہَا حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہَ بَیْنَ عِبَادِہِ فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِیْنَ أَلْفَ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ، ثُمَّ یَرٰی سَبِیْلَہُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّۃِ وَاِمَّا اِلَی النَّارِ،وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لاَ یُؤَدِّیْ زَکَاتَہَا إِلاَّجِیْ ئَ بِہِ وَبِغَنَمِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَوْفَرِ مَا کَانَتْ فَیُبْطَحُ لَہَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُہُ بِأَظْلَافِہَا، وَتَنْطَحُہُ بِقُرُوْنِہَا کُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاہَا رُدَّتْ عَلَیْہِ أُوْلَاہَا حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ بَیْنَ عِبَادِہِ فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِیْنَ أَلْفَ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ، ثُمَّ یَرٰی سَبِیْلَہُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّۃِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالْخَیْلُ؟ قَالَ: ((اَلْخَیْلُ مَعْقُوْدٌ بِنَوَاصِیْہَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَالْخَیْلُ ثَلَاثَۃٌ، وَہِیَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَہِیَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَہِیَ عَلٰی رَجُلٍ وِزْرٌ (فَأَمَّا الَّذِی ہِیَ لَہُ أَجْرٌ) الَّذِی یَتَّخِذُہَا وَیَحْبِسُہَا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَمَا غَیَّبَتْ فِی بَطُوْنِہَا فَہُوَ لَہُ أَجْرٌ، وَإِنِ اسْتَنَّتْ مِنْہُ شَرَفًا أَوْشَرَفَیْنِ کَانَ لَہُ فِی کُلِّ خُطْوَہٍ خَطَاہَا أَجْرٌ، وَلَوْ عَرَضَ لَہُ نَہْرٌ فَسَقَاہَا مِنْہُ کَانَ لَہُ بِکُلِّ قَطْرَۃٍ غَیِّبَتْہُ فِی بُطُوْنِہَا أَجْرٌ،حَتّٰی ذَکَرَ الْأَجْرَ فِی أَرْوَاثِہَا وَأَبْوَالِہَا، (وَأَمَّا الَّذِی ہِیَ لَہُ سِتْرٌ) فَرَجُلٌ یَتَّخِذُہَا تَعَفُّفًا وَتَجَمُّلًا وَتَکَرُّمًا وََلَا یَنْسٰی حَقَّہَا فِی ظُہُوْرِہَا وَبُطُوْنِہَا فِی عُسْرِہَا وَیُسْرِہَا (وَأَمَّا الَّذِی عَلَیْہِ وِزْرٌ) فَرَجُلٌ یَتَّخِذُہَا أَشَرًا وَرِئَائَ النَّاسِ وَبَذَخًا عَلَیْہِمْ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالْحُمُرُ؟ قَالَ: ((مَا اُنْزِلَ عَلَیَّ فِیْہَا شَیْئٌ إِلَّا ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ۔})) (مسند احمد: ۸۹۶۵)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خزانے کامالک، جو اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا، اسے قیامت کے دن خزانے سمیت لایا جائے گا اور اس کے خزانے کو تختیوں کی شکل دے کر جہنم کی آگ پر خوب گرم کیا جائے گا، پھر اس سے اس کی پیشانی، پہلو اور پیٹھ کو داغا جاتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرنے سے فارغ ہو جائے گا، تمہارے حساب کے مطابق یہ پچاس ہزار سال کے برابر دن ہو گا، اس کے بعد وہ بندہ اپنا راستہ دیکھے گا کہ وہ جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف۔ اسی طرح جو کوئی اونٹوں کا مالک ہو اور وہ ان کی زکوۃ ادا نہ کرے تو اسے قیامت کے دن اونٹوں سمیت لایا جائے گا، جبکہ وہ اونٹ بھی خوب موٹے تازے ہوں گے، پھر اس مالک کو ایک وسیع چٹیل میدان میں لٹا کر اونٹ اس کے اوپر سے گزارے جائیں گے، جب آخری اونٹ گزر جائے گا تو پہلے اونٹ کو دوبارہ لایا جائے گا۔اس کے ساتھ یہ سلوک اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرنے سے فارغ نہ ہو جائے،وہ دن تمہارے حساب کے مطابق پچاس ہزار برس کا ہو گا، اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اس کا راستہ جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف۔ اسی طرح جو آدمی بکریوں کا مالک ہو اور وہ ان کی زکوۃ ادا نہ کرتا ہو تو اسے بھی قیامت کے دن بکریوں سمیت لایا جائے گا، جبکہ وہ بکریاں خوب موٹی تازی ہوں گی۔ اس آدمی کو وسیع چٹیل میدان میں لٹا دیا جائے گا اور وہ بکریاں اپنے کھروں سے اسے روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی، جب آخری بکری گزر جائے گی تو پہلی بکری کو دوبارہ لایا جائے گا اور اس کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتارہے گا، تاآنکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے کرنے سے فارغ ہوجائے، وہ دن تمہارے اعداد و شمار کے مطابق پچاس ہزار سالوں کے برابر ہوگا، اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اس کا راستہ جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! گھوڑوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت تک گھوڑوں کی پیشانی میں خیر وبرکت رکھ دی گئی ہے، (دراصل) گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک (اپنے مالک کے لیے) اجرو ثواب، ایک پردہ پوشی اور ایک گناہ کا سبب ہوتا ہے، جو اجر وثواب کا ذریعہ ہوتا ہے، وہ وہ گھوڑا ہوتا ہے کہ جس کو اس کا مالک جہاد فی سبیل اللہ کی غرض سے پالتا ہے، ایساگھوڑا اپنے پیٹ میں جو کچھ ڈالے گا، وہ اس کے مالک کے لیے اجر ہو گا، جب وہ ایک دو ٹیلوں تک چلے گا تو اس کے ہر ہر قدم کے بدلے مالک کو اجر ملے گا اور اگر اس کے سامنے نہر آجاتی اور وہ اس سے پانی پی لیتا ہے تو ہر قطرہ، جو وہ اپنے پیٹ میں داخل کرتا ہے، اس کے عوض اس کو اجر ملے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے پیشاب اور لید کی وجہ سے بھی اجر کا ذکر کیا۔ جو گھوڑا آدمی کے لیے پردہ پوشی کا ذریعہ ہے، یہ وہ گھوڑا ہے کہ جس کو پالنے کا سبب یہ ہے کہ ضرورت کے وقت کسی سے مانگنا نہ پڑے اور اس سے اسے زینت وجمال اور عزت حاصل ہو، ہاں یہ بات ہے کہ ایسا مالک اپنے گھوڑے کی پشت اور پیٹ کے حق سے غافل نہ ہو، رہا اس گھوڑے کا مسئلہ جو اپنے مالک کے لیے گناہ کا سبب بنتا ہے تو وہ وہ ہوتاہے کہ جس کا مالک فخر، تکبر اور لوگوں کے سامنے ریاکاری کرنے کے لیے اسے پالتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! گدھوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کے متعلق مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں کیا گیا، البتہ ایک آیت ہے جو بے مثال اور (ہر خیر کو) شامل ہے، یعنی: {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ} (سورۂ زلزال:۸) یعنی: جو کوئی ایک ذرہ برابرنیکی کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ذرہ برابر گناہ کرے گا تو وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔
Takhreej
(۳۳۶۷) تخر یـج:…أخرجہ مسلم:۹۸۷ (انظر: ۷۵۶۳)
Explanation
فوائد: حدیث ِ مبارکہ کے شروع میں مذکورہ ’’خزانے‘‘ سے مراد وہ مال ہے کہ جو نصابِ زکوۃ تک پہنچ چکا ہو، لیکن اس کی زکوۃ ادا نہ کی جاتی ہو، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
3367
Sahih
۔ (۳۳۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی عُمَرَ الْغُدَانِیِّ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ جَالِسًا فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَامِرِ ابْنِ صَعْصَعَۃَ، فَقِیْلَ لَہُ: ہَذَا أَکْثَرُ عَامِرِیٍّ مَالاً، فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: رُدُّوْہُ إِلَیَّ فَرَدُّوْہُ عَلَیْہِ، فَقَالَ نُبِّئْتُ أَنَّکَ ذُوْمَالٍ کَثِیْرٍ؟ فَقَالَ الْعَامِرِیُّ: وَاللّٰہِ! إِنَّ لِیْ مِائۃَ حُمْرٍ وَمِائَۃَ أُدْمٍ، حَتّٰی عَدَّ مِنْ أَلَوانِ الإِبِلِ وَأَفَنََانِ الرَّقِیْقِ وَرِبَاطِ الْخَیْلِ، فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِیَّاکَ وَأَخْفَافَ الإِبِلِ وَأَظْلَافَ الْغَنَمِ، یُرَدِّدُ ذَالِکَ عَلَیْہِ حَتّٰی جَعَلَ لَوْنُ الْعَامِرِیِّ یَتَغَیَّرُ أَوْ یَتَلَوَّنُ، فَقَالَ: مَا ذَاکَ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ!؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ إِبِلٌ لَا یُعْطِیْ حَقَّہَا (فَذَکَرَ مِثْلَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ ثُمَّ قَالَ) وَإِذَا کَانَتْ لَہُ بَقَرٌ لاَ یُعْطِیْ حَقَّھَا فِی نَجْدَتِہَا وَرِسْلِہَا فَإِنَّہَا تَأْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَغَذِّ مَا کَانَتْ وَأَکْبَرِہِ وَأَسْمَنِہِ وَأَسَرِّہُ، ثُمَّ یُبْطَحُ لَہَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُہٗ فِیْہِ کُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِہَا وَتَنْطَحُہُ کُلُّ ذَاتٍ قَرْنٍ بِقَرْنِہَا، إِذَا جَاوَزَتْہُ أُخْرَاہَا أُعِیْدَتْ عَلَیْہِ أُوْلَاہَا فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ أَلْفَ سَنَۃٍ حََتّٰی یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ یَرٰی سَبِیْلَہُ، وَإِذَا کَانَتْ لَہُ غَنَمٌ، (فَذَکَرَ نَحْوَالْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ ثُمَّ قَالَ) فَقَالَ الْعَامِرِیُّ: وَمَا حَقُّ الْإِبِلِ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ!؟ قَالَ أَنْ تُعْطِیَ الْکَرِیْمَۃَ وَتَمْنَحَ الْغَزِیْرَۃَ وَتُفْقِرَالظَّہْرَ، وَتَسْقِیَ اللَّبَنَ وَتُطْرِقَ الْفَحْلَ۔ (مسند احمد: ۱۰۳۵۵)
ابوعمر غدانی کہتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے بنو عامر بن صعصعہ کے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس کے بارے میں ان کو بتایا گیا کہ یہ اپنے قبیلہ کا امیر ترین آدمی ہے، سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اسے میرے پاس بلائو، لوگوں نے اسے بلایا، سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم کافی مالدار ہو؟ عامری نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میرے پاس ایک سو گدھے اور ایک سو سفید رنگ کے اونٹ ہیں، پھر اس نے مختلف قسم کے اونٹوں، غلاموں اور گھوڑوں کا ذکر کیا۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے کہا: تم ذرا اونٹوں کے پائوں اور بکریوں کے کھروں سے بچ کر رہنا۔ آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اتنی بار یہ بات دوہرائی کہ اس عامری کا رنگ بدلنا شروع ہو گیا، بالآخر اس نے کہا: اے ابوہریرہ! بھلا آپ کی اس بات کا مطلب کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس آدمی کے پاس اونٹ ہوں اور وہ ان کا حق ادا نہ کرے، … … (پھر گزشتہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی) اورجس کے پاس گائیں ہوں اور وہ تنگدستی و خوشحالی میں ان کا حق ادا نہ کرے تو وہ قیامت کے دن خوب ہوشیار بن کر اور خوب موٹی تازی ہو کر آئیں گی، پھر ان کے لیے ایک چٹیل میدان تشکیل دیا جائے گا (اس مالک کو وہاں لٹا دیا جائے گا)، وہ گائیں اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی، جب آخری گائے گزر جائے گی تو پہلی کو دوبارہ لایا جائے گا، (یہ سزا اس وقت تک ہوتی رہے گی) جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کر دیا جائے، جبکہ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال کے برابر ہو گی، پھر دیکھا جائے گا کہ اس کا راستہ (جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف)۔ اور جس کے پاس بکریاں ہوں، … …(گزشتہ حدیث کی مانند حدیث ذکر کی)عامری نے کہا:اے ابوہریرہ! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اونٹوں کا حق یہ ہے کہ زکوۃ ادا کرتے وقت بہترین اونٹ ادا کرو، دودھ والا جانور کسی کو عاریۃً دے دیا کرو، ضرورت مند کو سواری کے لیے اونٹ دیا کرو، اسی طرح دودھ بھی لوگوں کو پلایا کرو اور جفتی کے لیے بھی عاریۃً نر اونٹ دے دیا کرو۔
Takhreej
(۳۳۶۸) تخر یـج:…حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ ابی عمر أخرجہ ابوداود: ۱۶۶۰، والنسائی: ۵/ ۱۲ (انظر: ۱۰۳۵۰)
Explanation
فوائد:اکثر و بیشتر نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ زکوۃ، نصاب تک پہنچ جانے والے مال کا حق ہے، لیکن اس حدیث کے آخر میں مندرج سیدنا ابو ہریرہ bکے قول سے پتہ چلتا ہے کہ زکوۃ کے علاوہ بھی مال میں حق ہے، کئی دوسری نصوص سے بھی یہی مسئلہ سمجھ آتا ہے، مثلا:
3368
Sahih
۔ (۳۳۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالاَ ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُوْ الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا یَفْعَلُ فِیْہَا حَقَّہَا (فَذَکَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ فِی الإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ ثُمَّ قَالَ) وَلَا صَاحِبِ کَنْزٍ لاَ یَفْعَلُ فِیْہِ حَقَّہُ إِلَّا جَائَ کَنْزُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًا أَقْرَعَ، یَتْبَعُہُ فَاغِرًا فَاہُ۔ فَإِذَا رَآہُ فَرَّ مِنْہُ فَیُنَادِیْہِ رَبُّہُ خُذْ کَنْزَکَ الَّذِی خَبَّأْتَہُ فَأَنَا عَنْہُ أَغْنٰی مِنْکَ، فَإِذَا رَأٰی أَنَّہُ لَا بُدَّ لَہُ مِنْہُ سَلَکَ یَدَہُ فِی فِیْہِ فَقَضِمَہَاقَضْمَ الْفَحْلِ۔)) قَالَ أَبُوْ الزُّبَیْرِ: وَسَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنِ عُمَیْرٍ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِی حَدِیْثِہِ: قَالَ رَجُلٌ: یاَ رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا حَقُّ الإِبِلِ؟ قَالَ: ((حَلْبُہَا عَلَی الْمَائِ، وَإِعَارَۃُ دَلْوِہَا، وَإِعَارَۃُ فَحْلِہَا وَمَنِیْحَتُہَا، وَحَمْلٌ عَلَیْہَا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِیْہَا کُلِّہَا وَقَعَدَ لَہَا، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِیْہِ، قَالَ أَبُوْ الزَّبِیْرِ سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ یَقُوْلُ ہٰذَا الْقَوْلَ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرًا الأَنْصَارِیَّ عَنْ ذَالِکَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۹۶)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اونٹوں کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرتا ہو، … (اونٹ، گائے اور بکری کی زکوۃ کے بارے میں جو تفصیل گزر چکی ہے، وہی یہاں ذکر کی، پھر فرمایا:) جو خزانے کا مالک ہو اور اس میں سے اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اس کا خزانہ ایک گنجے سانپ کی صورت میں منہ کھولے ہوئے آئے گا اور اپنے مالک کا پیچھا کرے گا، مالک اسے دیکھ کربھاگنا شروع کر دے گا، لیکن اس کا رب اسے آواز دے گا: یہ تیرا وہی خزانہ ہے جسے تو نے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا، اسے
Takhreej
(۳۳۶۹) تخر یـج:…أخرجہ مسلم۹۸۸ (انظر: ۱۴۴۴۲)
3369
Sahih
۔ (۳۳۷۰) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَلَمْ یُؤَدِّ زَکَاتَہُ مُثِّلَ لَہُ مَالُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَہُ زَبِبْبَتَانِ، یَأْخُذُ بِلِہْزِمَتَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، ثُمَّ یَقُوْلُ: أَنَا مَالُکَ أَنَا کَنْزُکَ)) ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الآیَۃَ: {وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ۔الخ الآیَۃ}۔ (مسند احمد: ۸۶۴۶)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ نے جس آدمی کو مال دیا ہو اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اس کے لیے اس کے مال کو گنجے سانپ کی شکل دی جائے گی،اس (کی آنکھوں) پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ قیامت کے دن اپنے مالک کے جبڑوں کو پکڑ کر کہے گامیں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَ خَیْرًا لَّھُمْ بَلْ ھُوَ شَرٌّلَّھُمْ سُیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ} (سورۂ آل عمران۱۸۰) یعنی اور جو لوگ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے بخل کرتے ہیں وہ اسے اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں، وہ تو ان کے حق میں بہت ہی برا ہے، وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اسی کو اس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو وہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔
Takhreej
(۳۳۷۰) تخر یـج:…أخرجہ البخاری: ۱۴۰۳، ۴۵۶۵(انظر: ۸۶۶۱)
3370
Sahih
۔ (۳۳۷۱) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَکُوْنُ کَنْزُ أَحَدِہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ذَا زَبِیْبَتَیْنِ یَتْبَعُ صَاحِبَہُ وَہُوَ یَتَعَوَّذُ مِنْہُ، وَلَایَزَالُ یَتْبَعُہُ حَتّٰی یُلْقِمَہُ إِصْبَعَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۹۲۰)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کا خزانہ قیامت کے دن دو سیاہ نقطوں والے گنجے سانپ کی شکل اختیار کر لے گا، پھر وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گااور وہ اس سے بچنے کی کوشش کرے گا، لیکن وہ سانپ اس کا پیچھا کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ اپنی انگلی اس کے منہ میں ڈال دے گا۔
Takhreej
(۳۳۷۱) تخر یـج:…اسنادہ قوی، وھو الحدیث المتقدم (انظر: ۸۹۲۰)
3371
Sahih
۔ (۳۳۷۲) عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَأْتِیْ رَجُلٌ مَوْلَاہُ فَیَسْأَلُہُ مِنْ فَضْلٍ ہُوَ عِنْدَہُ فَیَمْنَعُہُ إِلَّا دُعِیَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعٌ یَتَلَمَّظُ فَضْلُہُ الَّذِی مَنَعَہُ (وَفِی رِوَایَۃٍ:) مَا مِنْ مَوْلًی یَأْتِیْ مَوْلًی لَہُ فَیَسْأَلُہُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَہُ فَیَمْنَعُہُ إِلَّا جَعَلَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ شُجَاعًا یَنْہَسُہُ قَبْلَ الْقَضَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۸۵)
سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو آدمی اپنے رشتہ دار کے پاس آکر اس سے ایسی چیز کا سوال کرتا ہے جو اس کی ضرورت سے زائد ہو، لیکن وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس مالک کے لیے ایک سانپ بلایا جائے گا جو اپنی زبان کو ہلاتا ہوگا، یہ (سانپ) اسی کا زائد مال ہو گا، جو اس نے مانگنے والے کو نہیں دیا تھا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: جو رشتہ دار اپنے کسی رشتہ دار سے زائد چیز کا سوال کرتا ہے اور وہ اسے نہیں دیتا تو اللہ تعالیٰ ایسے مال کو اس کے لیے سانپ بنا دے گا، جو قیامت کے دن فیصلہ مکمل ہونے تک اسے ڈستا رہے گا۔
Takhreej
(۳۳۷۲) تخر یـج:…اسنادہ حسن أخرجہ ابوداود باثر الحدیث: ۵۱۳۹، والنسائی: ۵/ ۸۲(انظر: ۲۰۰۲۰، ۲۰۰۳۲)
Explanation
فوائد: لیکن صورتحال یہ ہے کہ مالدار لوگوں کی اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وہ غریب رشتہ داروں سے دور ہو جائیں، اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ان کو زکوۃ دینے سے بھی گریز کرتے ہیں، جبکہ اس حدیث ِ مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے رشتہ دار محتاج کی ضرورت پوری کر دی جائے۔
3372
Sahih
۔ (۳۳۷۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَمْنَعُ عَبْدٌ زَکَاۃَ مَالِہِ إِلَّا جُعِلَ شُجَاعٌ أَقْرَعُ یَتْبَعُہُ یَفِرُّ مِنْہُ وَہُوَ یَتْبَعُہُ، فَیَقُوْلُ: أَنَا کَنْزُکَ۔)) ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللّٰہِ مِصْدَاقَہُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔} قَالَ سُفْیَانُ، مَرَّۃً یُطَوَّقُہُ فِی عُنُقِہِ۔ (مسند احمد: ۳۵۷۷)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے مال کو گنجے سانپ کی شکل دی جائے گی اور وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا، یہ اس سے بچنے کے لیے بھاگے گا، لیکن وہ سانپ یہ کہتے ہوئے اس کا پیچھا کرتا رہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کتاب اللہ سے اس حدیث کی مصداق آیت تلاوت کی: {سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔} (سورۂ آل عمران، ۱۸۰) یعنی: یہ لوگ جو بخل کرتے رہے، عنقریب قیامت کے دن ان کی گردنوں میں اس کا طوق پہنا دیا جائے گا۔ امام سفیان نے ایک دفعہ کہا: ان کی گردن میں طوق پہنایا جائے گا۔
Takhreej
(۳۳۷۳) تخر یـج:…اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ الترمذی: ۳۰۱۲، والنسائی ۵/ ۱۱، وابن ماجہ: ۱۷۸۴(انظر: ۳۵۷۷)
Explanation
فوائد: بخل سے مراد زکوۃ کی عدم ادائیگی ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث سے معلوم ہو رہا ہے۔
3373
Sahih
۔ (۳۳۷۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الَّذِی لَا یُؤَدِّیْ زَکَاۃَ مَالِہِ یُمَثِّلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ مَالَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَہُ زَبِیْبَتَانِ ، ثُمَّ یَلْزَمُہُ یُطَوِّقُہُ یَقُوْلُ أَنَا کَنْزُکَ أَنَا کَنْزُکَ۔)) (مسند احمد: ۵۷۲۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیںکرتا،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مال کو دو نقطوں والے گنجے سانپ کی شکل دے دے گا، وہ سانپ اس آدمی کے ساتھ ساتھ رہے گا، بلکہ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور وہ کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔
Takhreej
(۳۳۷۴) تخر یـج:…اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ النسائی: ۵/ ۳۸(انظر: ۵۷۲۹، ۶۴۴۸)
3374
Sahih
۔ (۳۳۷۵) عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ وَأَنَا اُرِیْدُ الْعَطَائَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَجَلَسْتُ إِلٰی حَلْقۃٍ مِنْ حِلَقِ قُرَیْشٍ فَجَائَ رَجُلٌ عَلَیْہِ أَسْمَالٌ لَہُ قَدْ لَفَّ ثَوْبًا عَلٰی رَأْسِہِ قَالَ: بَشِّرِ الْکَنَّازِیْنَ بِکَیٍّ فِی الْجِبَاہِ وَبِکَیٍّ فِی الظُّہُوْرِ وَبِکَیٍّ فِی الْجُنُوْبِ، ثُمَّ تَنَحّٰی إِلٰی سَارِیَۃٍ فَصَلّٰی خَلْفَہَا رَکْعَتَیْنِ فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقِیْلَ: ہٰذَا أَبُوْ ذَرٍّ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) فَقُلْتُ: مَا شَیْئٌ سَمِعْتُکَ تُنَادِی بِہِ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ لَہُمْ إِلَّا شَیْئًا سَمِعُوْہُ مِنْ نَبِیِّہِم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، إِنِّی کُنْتُ آخَذُ الْعَطَائَ مِنْ عُمَرَ فَمَا تَرٰی، قَالَ خُذْہُ فَإِنَّ فِیْہِ الْیَوْمَ مَعُوْنَۃً وَیُوْشِکُ أَنْ یَکُوْنَ دَیْنًا، فَإِذَا کَانَ دَیْنًا فَارْفُضْہُ(وَفِی لَفْظٍ) فَإِذَا کَانَ ثَمَنًا لِدِیْنِکَ فَدَعْہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۱۷)
احنف بن قیس کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا، میں سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عطیہ لینا چاہتا تھا۔ میں قریش کے ایک حلقہ میں جا بیٹھا، پراگندہ لباس والا ایک آدمی وہاں آیا، اس نے سر پر ایک کپڑا لپیٹا ہوا تھا، وہ یوں کہنے لگا: خزانے جمع کرنے والوں کو یہ بشارت دے دو کہ ان کی پیشانی، پشت اور پہلو آگ سے داغے جائیں گے۔ پھر وہ علیحدہ ہوا اور ایک ستون کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ بتایا گیا: یہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔ پس میں ان کے پاس گیا اور کہا: یہ جو کچھ تم کہہ رہے تھے، اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: جی میںنے تو صرف وہ بات کی ہے جو ان لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی۔ میں نے کہا: اللہ تم پر رحمت کرے، میں سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عطیہ لیا کرتا تھا، اس کے بارے میں تمہاراکیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: لے لیا کرو، آج کل تو اس کی شکل تعاون کی ہے، لیکن قریب ہے کہ یہ قرضہ بن جائے گا، جب یہ صورت پیدا ہو جائے تو ترک کر دینا۔ (ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:) جب ایسا مال تمہارے دین کی قیمت بن جائے تو اسے ترک کر دینا۔
Takhreej
(۳۳۷۵) تخر یـج:…أخرجہ مسلم: ۹۹۲ (انظر: ۲۱۴۷۰)
Explanation
فوائد: مرفوع حدیث کا مفہوم تو پہلے بھی گزر چکا ہے، حدیث کے آخر میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جس صورت سے منع کیا، وہ اب شادی اور خوشی کے دوسرے موقعوں پر بدرجۂ اتم پیدا ہو چکی ہے، اگر ایک آدمی کسی کی شادی، بچے کی پیدائش، منگنی، امتحان میں کامیابی، گھر کی تعمیر اور حج وعمرہ کی ادائیگی کے موقعوں پر اگر کسی کو نقدی اور کسی اور چیز کی صورت میں تحفہ دے رہا ہے تو اسے آئندہ اس سے بہتر یا اس جیسے تحفے کی امید بھی ہوتی ہے اور لینے والا بھی اسی نیت سے ریکارڈ تیار کر رہا ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ بڑے لوگوں نے محبت اور تعاون کے لیے ان چیزوں کی بنیاد رکھی ہو، لیکن اب ان کا نتیجہ نفرت اور پریشانی کے علاوہ کچھ نہیں رہا، بندۂ غریب نے خود اچھے بھلے سنجیدہ اور مذہبی لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم نے ان کے بیٹے کی شادی کے موقع پر پانچ سو نیوندرا دیا تھا، لیکن انھوں نے تو سو روپے پر ٹرکا دیا ہے۔ اللہ کی قسم ہے کہ آج اچھی خاصی آمدنی والے شادی کی دعوت ملنے پر پریشان ہو جاتے ہیں کہ انہیں دولہا کو ہار بھی ڈالنا پڑے گا، نیوندرا بھی دینا پڑے گا، دلہن کو دیکھنے کا کرایہ بھی ادا کرنا پڑے گا، علی ہذا القیاس۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب لین دین کی بنیاد یہ چیز بن جائے تو اس وقت عطیوں کا سلسلہ بند کر دینا چاہیے، بڑی حکمت و دانائی والے تھے وہ لوگ، جو کہ حقیقی محبّتوں کے علم بردار تھے۔
3375
Sahih
۔ (۳۳۷۶) عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ، فَقَالَ: ((ہُمُ الْأَخْسَرُوْنَ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ! ہُمُ الأَخْسَرُوْنَ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ!)) فَأَخَذَنِیْ غَمٌّ وَجَعَلْتُ أَتَنَفَّسُ، قَالَ: قُلْتُ: ہٰذَا شَیْئٌ حَدَثَ فِیَّ! قَالَ: قُلْتُ: مَنْ ہُمْ فَدَاکَ أَبِیْ وَ أُمِّیْ: قَالَ: ((اَلْأَکْثَرُوْنَ، إِلَّا مَنْ قَالَ فِی عِبَادِ اللّٰہِ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا وَہٰکَذَا وَقَلِیْلٌ مَا ہُمْ، مَا مِنْ رَجُلٍ یَمُوْتُ فَیَتْرُکُ غَنَمًا أَوْ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ یُؤَدِّ زَکَاتَہُ، إِلَّا جَائَ تْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْظَمَ مَا تَکُوْنُ وَأَسْمَنَ حَتّٰی تَطَأَہُ بِأَظْلَافِہَا وَتَنْطَحَہُ بِقُرُوْنِہَا حَتّٰی یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ، ثُمَّ تَعُوْدُ أُوْلاَہَا عَلٰی اُخْرَاھَا۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((کُلَّمَا نَفَدَتْ اُخْرَاھَا عَادَتْ عَلَیْہِ اُوْلَاھَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۷۸)
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: ربِّ کعبہ کی قسم! وہی بہت زیادہ خسارے والے ہیں، ربِّ کعبہ کی قسم! وہی خسارے میں ہیں۔ مجھے شدید غم نے دبوچ لیا اور اور میں ٹھنڈی آہیں بھرنے لگا، ( میں دل میں ہی کہنے لگا کہ) کیا میرے اندر کوئی خرابی آگئی ہے، جس کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ کچھ فرما رہے ہیں، اس لیے میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، کون لوگ خسارے میں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے، ماسوائے ان لوگوں کے جو (صدقہ کرتے ہوئے) مال کو اِدھر اُدھر لٹا دیتے ہیں، لیکن ایسے لوگ تھوڑے ہیں، جو شخص بکریاں، اونٹ اور گائے وغیرہ اس حالت میں چھوڑ کر مرتا ہے کہ وہ ان کی زکوۃ ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن یہ جانور خوب موٹے تازے ہو کر آئیں گے اور اپنے مالک کو اپنے پائوں، کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے اس کو ماریں گے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا، آخری جانور کے گزرنے کے بعد پھر پہلے کو دوبارہ لایا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: جب آخری جانور گزر جائے گا تو پہلے کو لوٹا لیا جائے گا۔
Takhreej
(۳۳۷۶) تخر یـج:…أخرجہ مسلم: ۹۹۰ (انظر: ۲۱۳۵۱)
Explanation
فوائد: مال کو ادھر ادھر لٹانے سے مراد کثرت سے صدقہ و خیرات کرنا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمانا کہ زیادہ مال والے خسارے میں ہیں، اس فرمانِ عالی شان کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیاتِ مبارکہ اور غرباء و فقراء کی فضیلت پر مشتمل احادیث ِ مبارکہ اور صحابۂ کرام اور سلف صالحین کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کرناضروری ہے، بہرحال سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے عام طور پر ان حقائق کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
3376
Sahih
۔ (۳۳۷۷) عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَبِیْصَۃَ بْنَ ہُلْبٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْہِ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَذَکَرَ الصَّدَقَۃَ قَالَ: ((لاَ یَجِیْئَنَّ أَحَدُکُمْ بِشَاۃٍ لَہَا یُعَارٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۱۷)
سیدنا ہُلب طائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زکوۃ پر مشتمل ایک حدیث بیان، اس میں یہ فرمایا تھا کہ: تم میں سے کوئی آدمی قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس کے ساتھ اس کی بکری ہو، جو ممیا رہی ہو۔
Takhreej
(۳۳۷۷) تخر یـج:…صحیح لغیرہ أخرجہ الطیالسی فی مسندہ : ۱۰۸۶(انظر: ۲۱۹۷۰)
Explanation
فوائد: زکوۃ ایک اہم رکنِ اسلام اور نماز کی طرح کا فریضہ ہے، اس کی عدم ادائیگی پر کئی وعیدیں بیان کی گئی ہیں، بعض کا ذکر اس باب میں ہو چکا ہے۔ آخری حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی مالک اپنے جانوروں کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تو ایسا جانور قیامت والے دن اس کے ساتھ ہو گا اور اپنی مخصوص آواز نکال رہا ہو گا۔
3377
Sahih
۔ (۳۳۷۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیْدَ یَعْنِی الْوَاسِطِیَ عَنْ سُفْیَانَ یَعْنِی بْنَ حُسَیْنٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیْہِ (عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا) قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ کَتَبَ الصَّدَقَۃَ وَلَمْ یُخْرِجْہَا، اِلٰی عُمَّالِہِ حَتّٰی تُوُفِّیَ، قَالَ فَأَخْرَجَہَا أَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ بَعْدِہِ فَعَمِلَ بِہَا حَتّٰی تُوُفِّیَ، ثُمَّ أَخْرَجَہَا عُمَرُ مِنْ بَعْدِہِ فَعَمِلَ بِہَا، قَالَ فَلَقَدْ ہَلَکَ عُمَرُ یَوْمَ ہَلَکَ وَإِنَّ ذَالِکَ لَمَقْرُوْنٌ بِوَصِیَّتِہِ، فَقَالَ کَانَ فِیْہَا فِی الإِبِلِ فِی کُلِّ خَمْسٍ شَاۃٌ، حَتّٰی تَنْتَہِیَ إِلٰی أَرْبَعٍ وَعِشْرِیْنَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِلٰی خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ فَفِیْہَا بِنْتُ مَخَاضٍ، إِلٰی خَمْسٍ وَثَلاَثِیْنَ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ ابْنَۃُ مَخَاضٍ فَأبْنُ لَبُوْنٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلٰی خَمْسٍ وَثَلَاثِیْنَ فَفِیْہَا ابْنَۃُ لَبُوْنٍ، إِلٰی خَمْسٍ وَأَرْبَعِیْنَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃٌ فَفِیْہَا حِقَّہٌ، إِلٰی سِتِّیْنَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِیْہَا حِقَّتَانِ إِلٰی عِشْرِیْنَ وَمَائَۃٍ، فَإِذَا کَثُرَتْ الإِبِلَ فَفِی کُلِّ خَمْسِیْنَ حِقَّہٌ، وَفِی کُلِّ أَرْبَعِیْنَ ابْنَۃُ لَبُوْنَ، (وَفِی الْغَنَمِ) مِنْ أَرْبَعِیْنَ شَاۃٌ إِلٰی عِشْرِیْنَ وَمَائَۃٍ، فَإِذَا زَادَتْ بَعْدُ فَلَیْسَ فِیْہَا شَیْئٌ حَتّٰی تَبلْغُ َأَرْبَعَمِائَہٍ، فَإِذَا کَثُرَتِ الْغَنَمُ فَفِی کُلِّ مِائَۃٍ شَاۃٌ، وَکَذَالِکَ لَا یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا یُجْمَعُ بَیْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَۃَ الصَّدَقَۃِ، وَمَا کَانَ مِنْ خَلِیْطَیْنِ فَہُمَا یَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوْیَّۃِ، لَا تُؤْخَذُ ہَرِمَۃٌ۔ وَلَا ذَاتُ عَیْبٍ مِنَ الْغَنَمِ۔ (مسند احمد: ۴۶۳۴)
ٔٔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زکوۃ کے احکام تحریر کروائے، لیکن ابھی تک ان کو عاملین کی طرف نہیں بھیجاتھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انتقال فرما گئے، پھر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ تحریر عمال کی طرف بھجوائی اور ان کی وفات تک اس پر عمل ہوتا رہا، ان کے بعد سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی وہی تحریر اپنے عمال کو بھجوائی اور اس پر عمل ہوتا رہا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے وقت وہ تحریر ان کی وصیت کے ساتھ موجود تھی، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: اس میں یہ تفصیل لکھی ہوئی تھی: چوبیس اونٹوں تک ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری بطور زکوۃ مقرر ہے، جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو ایک بنت ِ مخاض فرض ہے، اگر بنت ِ مخاض نہ ہو تو ابن لبون دیا جا سکتا ہے، زکوۃ کی یہ مقدار پینتیس اونٹوں تک ہے، جب چھتیس ہو جائیں تو پینتالیس اونٹوں تک بنت ِ لبون واجب ہے، پھر چھیالیس سے ساٹھ تک حِقّہ ہے، اس سے بڑھ جائیں تو پچھتر تک جذعہ ہے، جب اونٹ اس مقدار سے بھی بڑھ جائیں تو نوے (۹۰) تک دو عدد بنت ِ لبون ہوں گی۔ اس کے بعد اکانوے سے ایک سو بیس تک تین حقّے واجب ہیں اور جب اونٹ اس سے بھی زائد ہوں تو ہر پچاس پرایک حقّہ اور ہر چالیس میں ایک بنت ِ لبون بطور زکوۃ فرض ہے۔ رہا مسئلہ بکریوں کی زکوۃ کا تو (۴۰) سے (۱۲۰) بکریوں تک ایک بکری اور (۱۲۱) سے (۲۰۰)تک دو بکریاں بطورِ زکوۃ فرض ہیں، اگر وہ اس سے زیادہ ہو جائیں تو (۳۰۰) تک تین بکریاں اور اس کے بعد (۴۰۰) ہو جائیں تو چار بکریاں ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بکریاں ہوں تو ہر (۱۰۰) میں ایک بکری۔زکوۃ سے بچنے کے لیے ایک ریوڑ کو الگ الگ یا الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا نہ کیا جائے۔ اگر ایک سے زائد شرکاء کی بکریوں میں سے زکوۃ واجب ہو گئی تو وہ آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیں گے۔ زکوۃ میں کوئی بوڑھی یا عیب والی بکری نہ لی جائے۔
Takhreej
(۳۳۷۸) تخر یـج:…حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف سفیان بن حسین فی روایتہ عن الزھری أخرجہ ابوداود: ۱۵۶۸، والترمذی: ۶۲۱، وابن ماجہ: ۱۷۷۹۸، ۱۸۰۵(انظر: ۴۶۳۲، ۴۶۳۴)
Explanation
فوائد: ساری حدیث واضح احکام پر مشتمل ہے، استعمال ہونے والی اصطلاحات کے معانی یہ ہیں:
3378
Sahih
۔ (۳۳۷۹) عَنْ طَارِقٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِیٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَا عِنْدَنَا شَیْئٌ مِنَ الْوَحْیِ أَوْ قَالَ کِتَابٌ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا مَا فِی کِتَابِ اللّٰہِ، وَہٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ، الْمَقْرُوْنَہِ بِسَیْفِی، وَعَلَیْہِ سَیْفٌ حِلْیَتُہُ حَدِیْدٌ، وَفِیْہَا فَرَائِضُ الصَّدَقَاتِ۔ (مسند احمد: ۷۹۸)
طارق کہتے ہیں:سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں یہ بھی کہا:ہمارے پاس کوئی مخصوص وحی یا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی الگ تحریرنہیں ہے، ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس صحیفہ والی ہدایات دی گئی ہیں، جو صحیفہ میری تلوار کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ اس وقت سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک تلوار تھی اور اس کا زیور لوہے کا تھا، اس میں زکوۃ کا نصاب تحریر تھا۔
Takhreej
(۳۳۷۹) تخر یـج:…حسن لغیرہ أخرجہ البزار: ۵۱۳ (انظر: ۷۸۲)
3379
Sahih
۔ (۳۳۸۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: مَا عِنْدَنَا کِتَابٌ نَقْرَؤُہُ عَلَیْکُمْ إِلَّا مَا فِی الْقُرْآنِ وَمَا ہٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ، صَحِیْفَۃٌ کَانَتْ فِی قِرَابِ سَیْفٍ کَانَ عَلَیْہِ، حِلْیَتُہُ حَدِیْدٌ، أَخَذْتُہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہَا فَرَائِضُ الصَّدَقَۃِ۔ (مسند احمد: ۸۷۴)
(دوسری سند) طارق کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:ہمارے پاس کوئی علیحدہ تحریر نہیں ہے جو ہم تم لوگوں پر پڑھیں، ما سوائے قرآن اور اس صحیفہ کے، اس وقت وہ صحیفہ ان کی تلوار کے میان میں تھا، جس کا زیور لوہے کا تھا،میں نے یہ صحیفہ خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے لیا تھا، اس میں زکوۃ کا نصاب تحریر کیا گیا ہے۔
Takhreej
(۳۳۸۰) تخر یـج:…انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: یہ وہی صحیفہ تھا، جس کا ذکر پچھلی حدیث میں گزر چکا ہے۔
3380
Sahih
۔ (۳۳۸۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا أَبُوْ کَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالَ: أَخَذْتُ ہَذَا الْکِتَابَ مِنْ ثُمَامَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَتَبَ لَہُمْ: أَنَّ ہٰذِہِ فَرَائِضُ الصَّدَقَۃِ الَّتِی فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ الَّتِی أَمَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَنْ سُئِلَہَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ عَلٰی وَجْہِہَا فَلْیُعْطِہَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَ ذَالِکَ فَلَا یُعْطِہِ۔ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ مِنَ الْاِبِلِ، فَفِی کُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاۃٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِیْنَ فَفِیْہَا ابْنَۃُ مَخَاضٍ اِلی خِمْسٍ وَّ ثَلَاثِیْنَ، فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ اِبْنَۃُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُوْنٍ ذَکَرٌ، فَإِذَا بَلَغْتْ سِتَّۃً وَثَلاثِیْنَ فَفِیْہَا ابْنَۃُ لَبُوْنٍ إِلٰی خَمْسٍ وَأَرْبَعِیْنَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّۃً وَأَرْبَعِیْنَ فَفِیْہَا حِقَّہٌ طَرُوْقَۃَ الْفَحْلِ إِلٰی سِتَّیْنَ،فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدٰی وَسِتِّیْنَ فَفِیْہَا جَذَعَۃٌ إِلٰی خَمْسٍ وَسَبْعِیْنَ، فَإِذَا بَلَغْتْ سِتَّۃً وَسَبْعِیْنَ فَفِیْہَا ابْنَتَا لَبُوْنٍ إِلٰی تِسْعِیْنَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدٰی وَتِسْعِیْنَ فَفِیْہَا حِقَّتَانِ طَرُوْقَتَا الْفَحْلِ إِلٰی عِشْرِیْنَ وَمَائَۃٍ، فَإِنْ زَادَتْ عَلٰی عِشْرِیْنَ وَمَائَۃٍ فَفِی کُلِّ أَرْبَعِیْنَ ابْنَۃُ لَبُوْنٍ، وَفِی کُلِّ خَمْسیْنَ حِقَّہٌ، فَإِذَا تَبَایَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فِی فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ، فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَہُ صَدَقَۃُ الْجَذَعَۃِ وَلَیْسَ عِنْدَہُ جَذَعَۃٌ وَعِنْدَہُ حِقَّہٌ، فَإِنَّہَا تُقْبَلُ مِنْہُ وَیَجْعَلُ مَعَہَا َشَاتَیْنِ إِنْ اسْتَیْسَرَتَا لَہُ أَوْ عِشْرِیْنَ دِرْہَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَہُ صَدَقَۃُ الْحِقَّۃِ وَلَیْسَتْ عِنْدَہُ إِلَّا جَذَعَۃٌ فَإِنَّہَا تُقْبَلُ مِنْہُ وَیُعْطِیْہِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِیْنَ دِرْہَمًا أَوْ شَاتِیْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَہُ صَدَقَۃُ ابْنَۃِ لَبُوْنٍ وَلَیْسَتْ عِنْدَہُ ابْنَۃُ لَبُوْنٍ وَعِنْدَہُ ابْنَۃُ مَخَاضٍ فَإِنَّہَا تُقْبَلُ مِنْہُ وَیَجْعَلُ مَعَہَا شَاتَیْنِ إِنَّ اسْتَیْسَرَنَا لَہُ أَوْ عِشْرِیْنَ دِرْہَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَہُ صَدَقَۃُ بِنْتِ مَخَاضٍ وَلَیْسَ عِنْدَہُ إِلَّا ابْنُ لَبُوْنٍ ذَکَرٌ فَإِنَّہُ یُقْبَلُ مِنْہُ وَلَیْسَ مَعَہُ شَیْئٌ وَمَنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَیْسَ فِیْہَا شَیْئٌ إِلَّا أَنْ یَشَائَ رَبُّھَا وَفِی الْغَنَمِ فِی سَائِمَتِہَا، إِذَا کَانَتْ أَرْبَعِیْنَ فَفِیْہَا شَاۃٌ إِلٰی عِشْرِیْنَ وَمَائِۃٍ فَإِنْ زَادَتْ فَفِیْہَا شَاتَانِ إِلٰی مِائَتَیْنِ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃٌ فَفِیْھَا ثَلَاثُ شِیَاہٍ إِلٰی ثَلَاثِمِائَۃِ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِی کُلِّ مِائَۃٍ شَاۃٌ وَلَا تُؤْخَذُ فِی الصَّدَقَۃِ ہَرِمَۃٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ، وَلَا تَیْسٌ إِلَّا أَنْ یَشَائُ الْمُتَصَدِّقُ وَلَا یُجْمَعُ بَیْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْیَۃَ الصَّدَقَۃِ، وَمَا کَانَ مِنْ خَلِیْطَیْنِ فَإِنَّہُمَا یَتَرَاجَعَانِ بَیْنَہُمَا بِالسَّوِیَّۃِ ، وَإِذَا کَانَتْ سَائِمَۃُ الرَّجُلِ نَاقِصَۃً مِنْ أَرْبَعِیْنَ شَاۃً وَاحِدَۃً فَلَیْسَ فِیْہَا شَیْئٌ اِلَّا اَنْ یَشَائَ رَبُّہَا وَفِی الرِّقَۃِ رُبْعُ الْعُشُوْرِ، فَإِذَا لَمْ یَکُنِ الْمَالُ اِلَّا تِسْعِیْنَ وَمَائَۃَ دِرْہَمٍ فَلَیْسَ فِیْہَا شَیْئٌ إِلَّا أَنْ یَشَائَ رَبُّہَا)) (مسند احمد: ۷۲)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان (بحرین والوں) کی طرف یہ تحریر لکھ کر بھیجی: یہ زکوۃ کا وہ نصاب ہے جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا اور جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے، جس مسلمان سے اس کے مطابق زکوۃ وصول کی جائے، وہ ادا کرے اور جس سے اس سے زائد کا مطالبہ کیا جائے، وہ نہ دے۔ (تفصیل یہ ہے:) اونٹوں کی تعداد (۲۵) سے کم ہو تو ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکری ہے۔ (۲۵) سے (۳۵) تک ایک بنت ِ مخاض یا ابن لبون ، (۳۶) سے (۴۵) تک بنت ِ لبون،(۴۶) سے (۶۰) تک نر کی جفتی کے قابل حِقّہ،(۶۱) سے (۶۵) تک جذعہ، (۷۶) سے (۹۰) تک دو عدد بنت ِ لبون اور (۹۱)سے (۱۲۰) تک دو عدد حقّے ہیں۔ جب اونٹوں کی تعداد اس سے بڑھ جائے تو ہر (۴۰) پر ایک بنت ِ لبون اور ہر (۵۰) پر ایک حقّہ زکوۃ ہو گی اور اگر زکوۃ کے اس سلسلے میں اونٹوں کی عمریں مختلف ہو جائیں، یعنی جس نے زکوۃ میں جذعہ ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس جذعہ نہ ہو، البتہ حِقّہ ہو تو اس سے وہی لیا جائے گا اور اس کے ساتھ اگر میسر ہو تو دو بکریاں دے دے یا بیس درہم، اسی طرح اگر کسی نے زکوۃ میں حقّہ ادا کرنا ہو، لیکن اس کے پاس جذعہ ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے گی، لیکن زکوۃ وصول کرنے والا نمائندہ بیس درہم یا دو بکریاں اسے واپس کرے گا، اور جس پر حِقّہ کی زکوۃ ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے وہی لے لی جائے گی، لیکن (اس کمی کو پورا کرنے کے لیے) اگر میسر ہو تو دو بکریاں دینا پڑیں گی، نہیں تو بیس درہم، اسی طرح جس پر بنت ِ لبون کی زکوۃ پڑ جائے، لیکن اس کے پاس حِقّہ ہو تو وہی اس سے لے لیا جائے گا، لیکن زکوۃ وصول کنندہ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا، اسی طرح جس نے زکوۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ بنت ِ مخاض ہو تو اس سے یہی لے لی جائے گی، لیکن اسے اس کے ساتھ اگر میسر ہوں تو بکریاں، وگرنہ بیس درہم دینا پڑیں گے، اور جس نے زکوۃ میں بنت ِ مخاض ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ ابن لبون ہو تو اس سے وہی قبول کیا جائے گا، لیکن اس کے ساتھ مزید کوئی چیز نہیں لی جائے گی۔ اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر زکوۃ نہیں ہے، ہاں اگر وہ از خود (بطورِ نفل) کچھ دینا چاہے تو (ٹھیک ہے)۔ چرنے والی بکریوں کا نصابِ زکوۃ یہ ہے: (۴۰) سے (۱۲۰) تک ایک بکری، (۱۲۱) سے (۲۰۰) تک دو بکریاں اور (۲۰۰) سے (۳۰۰) تک تین بکریاںزکوۃ لی جائے گی، اس کے بعد ہر (۱۰۰) میں ایک بکری وصول کی جائے گی۔زکوۃ میں بوڑھی، کانی یا نر جانور نہیں لیا جائے گا، اگر مالک چاہے تو نر جانور بھی دے سکتا ہے، زکوۃ سے بچنے کے لیے نہ الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا کیا جا سکتا اور نہ اکٹھے ریوڑ کو علیحدہ علیحدہ کیا جا سکتا ہے، اگر کسی (ریوڑ میں) دو آدمیوں کا اشتراک ہو تو وہ (ادا شدہ زکوۃ) کو برابر تقسیم کریں گے، اگر چرنے والی بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک بھی کم ہو تو ان پر زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ہاں اگر مالک (از خود بطورِ نفل) دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔ چاندی میں چالیسواں حصہ بطور زکوۃ واجب ہے، اگر چاندی (۱۹۰) درہم ہو، تو اس میں زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ہاں اگر مالک از خود بطور نفل دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔
Takhreej
(۳۳۸۱) تخر یـج:…أخرجہ البخاری مفرقا ۱۴۴۸، ۱۴۵۰، ۱۴۵۱، ۱۴۵۳، ۱۴۵۴، ۲۴۸۷، ۳۱۰۶، ۵۸۷۸، ۶۹۵۵، رواہ ابوداود:۱۵۶۷، وابن ماجہ: ۱۸۰۰، والنسائی: ۵/ ۲۷(انظر: ۷۲)
Explanation
وصول کرنے والا نمائندہ بیس درہم یا دو بکریاں اسے واپس کرے گا، اور جس پر حِقّہ کی زکوۃ ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے وہی لے لی جائے گی، لیکن (اس کمی کو پورا کرنے کے لیے) اگر میسر ہو تو دو بکریاں دینا پڑیں گی، نہیں تو بیس درہم، اسی طرح جس پر بنت ِ لبون کی زکوۃ پڑ جائے، لیکن اس کے پاس حِقّہ ہو تو وہی اس سے لے لیا جائے گا، لیکن زکوۃ وصول کنندہ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا، اسی طرح جس نے زکوۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ بنت ِ مخاض ہو تو اس سے یہی لے لی جائے گی، لیکن اسے اس کے ساتھ اگر میسر ہوں تو بکریاں، وگرنہ بیس درہم دینا پڑیں گے، اور جس نے زکوۃ میں بنت ِ مخاض ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ ابن لبون ہو تو اس سے وہی قبول کیا جائے گا، لیکن اس کے ساتھ مزید کوئی چیز نہیں لی جائے گی۔ اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر زکوۃ نہیں ہے، ہاں اگر وہ از خود (بطورِ نفل) کچھ دینا چاہے تو (ٹھیک ہے)۔ چرنے والی بکریوں کا نصابِ زکوۃ یہ ہے: (۴۰) سے (۱۲۰) تک ایک بکری، (۱۲۱) سے (۲۰۰) تک دو بکریاں اور (۲۰۰) سے (۳۰۰) تک تین بکریاںزکوۃ لی جائے گی، اس کے بعد ہر (۱۰۰) میں ایک بکری وصول کی جائے گی۔زکوۃ میں بوڑھی، کانی یا نر جانور نہیں لیا جائے گا، اگر مالک چاہے تو نر جانور بھی دے سکتا ہے، زکوۃ سے بچنے کے لیے نہ الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا کیا جا سکتا اور نہ اکٹھے ریوڑ کو علیحدہ علیحدہ کیا جا سکتا ہے، اگر کسی (ریوڑ میں) دو آدمیوں کا اشتراک ہو تو وہ (ادا شدہ زکوۃ) کو برابر تقسیم کریں گے، اگر چرنے والی بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک بھی کم ہو تو ان پر زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ہاں اگر مالک (از خود بطورِ نفل) دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔ چاندی میں چالیسواں حصہ بطور زکوۃ واجب ہے، اگر چاندی (۱۹۰) درہم ہو، تو اس میں زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ہاں اگر مالک از خود بطور نفل دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔
3381
Sahih