TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جن چیزوں میں زکوۃ واجب ہے، ان کا اور ان میں سے ہر ایک کے نصاب کا بیان

Chapter 3 of زکوۃ کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 7 · 5 Hadith
۔
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پانچ اوقیوں سے کم چاندی پر کوئی زکوۃ نہیں، پانچ اونٹوں سے کم پر زکوۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم کھجور پر کوئی زکوۃ نہیں۔
Takhreej
(۳۳۸۲) تخر یـج:…أخرجہ البخاری: ۱۴۰۵، ۱۴۴۷، ومسلم: ۹۷۹(انظر: ۱۱۳۰)
Explanation
فوائد: اونٹوں کے نصاب اور شرح کی تفصیل گزشتہ باب میں گزر چکی ہے، باقی دو چیزوں کی وضاحت یہ ہے:
3382
Sahih
۔ (۳۳۸۳) عَنْ قَزْعَۃَ وَقَدْ سَأَلَ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ أَشْیَائَ قَالَ وَسَأَلْتُہُ عَنِ الزَّکَاۃِ (لَا أَدْرِی أَرَفَعَہُ إِلٰی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمْ لَا) فِی مَائَتَیْ دِرْہَمٍ خَمْسَۃُ دَرَاہِمَ، وَفِی أَرْبَعِیْنَ شَاۃً شَاۃٌ إِلٰی عِشْرِیْنَ وَمِائَۃٍ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَۃٌ فَفِیْہَا شَاتَانِ إِلٰی مِائَیْتَنِْ فَإِذَا زَادَتْ فَفِیْہَا ثَلَاثُ شِیَاہٍ إِلٰی ثَلَاثِمِائَۃٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِی کُلِّ مِائَۃٍ شَاۃٌ،وَفِی الإِبِلِ فِی خَمْسٍ شَاۃٌ وَفِی عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِی خَمْسَ عَشْرَۃَ ثَلَاثُ شِیَاہٍ، وَفِی عِشْرِیْنَ أَرْبَعُ شِیَاہٍ ،وَفِی خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ ابْنَۃُ مَخَاضٍ إِلٰی خَمْسٍ وَثَلَاثِیْنَ’ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃٌ فَفِیْہَا ابْنَۃُ لَبُوْنٍ إِلٰی خَمْسٍ وَأَرْبَعِیْنَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃٌ فَفِیْہَا حِقَّۃٌ إِلٰی سِتِّیْنَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃٌ فَفِیْہَا جَذَعَۃٌ إِلٰی خَمْسٍ وَسَبْعِیْنَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃٌ فَفِیْھَا اِبْنَتَا لَبُوْنٍ إِلٰی تِسْعِیْنَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃٌ فَفِیْہَا حِقَّتَانِ إِلٰی عِشْرِیْنَ وَمِائَۃٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِی کُلِّ خَمْسِیْنَ حِقَّۃٌ، وَفِی کُلِّ أَرْبَعِیْنَ بِنْتُ لَبُوْنٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۲۷)
قزعہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مختلف اشیاء میں زکوۃ کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے جواب تو دیا، لیکن مجھے یہ یاد نہیں کہ انہوں نے اس جواب کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف منسوب کیا تھا یا نہیں، بہرحال انھوں نے کہا: (۲۰۰)درہم چاندی میں پانچ درہم اور بکریوں میں (۴۰)سے (۱۲۰) تک ایک بکری زکوۃ ہے، (۱۲۰) سے ایک بھی بڑھ جائے تو (۲۰۰) تک دو بکریاں، (۲۰۰) سے زائد بکریاں ہو جائیں تو (۳۰۰) تک تین بکریاں اور اس کے بعد ہر (۱۰۰) میں ایک بکری زکوۃ ہو گی۔پانچ اونٹوں میں ایک بکری، دس میں دو، پندرہ میں تین، بیس میں چار بکریاں، (۲۵) سے (۳۵) تک ایک بنت ِ مخاض، (۳۶) سے (۴۵) تک ایک بنت ِ لبون، (۴۶) سے (۶۰) تک ایک حِقّہ، (۶۱) سے (۷۵) تک ایک جذعہ، (۷۶) سے (۹۰) تک دو عدد بنت ِ لبون اور (۹۱) سے (۱۲۰) تک دو عدد حِقّے زکوۃ ہو گی، اس کے بعد ہر (۵۰) میں ایک عدد حقّہ اور ہر (۴۰) میں ایک بنت ِ لبون کی زکوۃ فرض ہو گی۔
Takhreej
(۳۳۸۳) تخر یـج:…اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۱۳۰۷)
Explanation
فوائد: یہ سارے احکام رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بھی ثابت ہیں۔
3383
Sahih
۔ (۳۳۸۴) عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ (مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: سَمِعْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فِی کُلِّ إِبِلٍ سَائِمَۃٍ فِی کُلِّ أَرْبَعِیْنَ ابْنَۃُ لَبُوْنٍ لاَ تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِہَا، مَنْ أَعْطَاہَا مُؤْتَجِرًا فَلَہُ اَجْرُہَا وَمَنْ مَنَعَہَا فَإِنَّا آخِذُوْہَا مِنْہُ وَشَطْرَ إِبِلِہِ، عَزْمَۃً مِنْ عَزَمَاتِ رَبَّنَا عَزَّوَجَلَّ،لاَیحَلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْہَا شَیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۶۵)
سیدنامعاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چرنے والے چالیس اونٹوں میں ایک بنت ِ لبون کی زکوۃ ہو گی، (زکوۃ سے بچنے کے لیے مشترک) اونٹوں کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا، جو آدمی اجر وثواب کی نیت سے زکوۃ دے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور جو یہ ادا نہیں کرے گا، تو ہم خود اس سے (جبراً) وصول کریں گے اور (بطورِ جرمانہ) اس کے اونٹوں میں سے کچھ اونٹ بھی لیں گے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے واجب حقوق میں سے ہے اور آلِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس میں سے کچھ لینا حلال نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۳۸۴) تخر یـج:…اسنادہ حسن أخرجہ ابوداود: ۱۵۷۵، والنسائی: ۵/ ۲۵(انظر: ۲۰۰۱۶)
Explanation
فوائد: اگر کسی سے جبراً زکوۃ لی جائے تو یہ اسے کفایت کرے گی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خلیفہ کو رعایا کے کسی جرم پر ان سے جرمانہ لینے کا حق حاصل ہے، سنن ابی داود کی روایات کے مطابق اس کی دو مثالیں اور بھی ہیں: (۱)گم شدہ اونٹ کو چھپا لینے والے سے اس وجہ سے ایک اونٹ زائد لینا اور (۲) جو آدمی درخت پر لگے ہوئے پھل اپنے ساتھ لے کر جائے گا، اس سے اس پھل کا دو گنا جرمانہ لیا جائے گا۔
3384
Sahih
۔ (۳۳۸۵) عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِی الْاِبِلِ صَدَقَتُہَا، وَفِی الْغَنَمِ صَدَقَتُہَا، وَفِی الْبَقَرِ صَدَقَتُہَا، وَفِی الْبُرِّ صَدَقَتُہُ)) (مسند احمد: ۲۱۸۹۰)
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اونٹوں میں زکوۃ ہے، بکریوں میں زکوۃ ہے، گایوں میں زکوۃ ہے اور گندم میں بھی زکوۃ ہے۔
Takhreej
(۳۳۸۵) تخر یـج:…اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابن جریج لم یسمعہ من عمران بن ابی انس أخرجہ الدارقطنی: ۲/ ۱۰۲، والحاکم: ۱/ ۳۸۸، والبیھقی: ۴/ ۱۴۷(انظر: ۲۱۵۵۷)
3385
Zaeef
۔ (۳۳۸۶) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَعَثَنِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْیَمَنِ وَأَمَرَنِیْ أَنْ آخُذَ مِنْ کُلِّ حَالِمٍ دِیْنَارًا أَوْ عِدْلَہُ مَعَافِرَ وَأَمَرَنِی أَنْ آخُذَ مِنْ کُلِّ أَرْبَعِیْنَ بَقَرَۃً مُسِنَّۃً وَمِنْ کُلِّ ثَلَاثَیْنِ بَقَرَۃً تَبِیْعًا حَوْلِیًّا، وَأَمَرَنِی فِیْمَا سَقَتِ السَّمَائُ الْعُشْرُ وَمَا سُقِیَ بِالدَّوَالِی نِصْفُ الْعُشْرِ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۸۷)
سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یمن کی طرف عامل بنا کر بھیجا اورمجھے حکم دیا کہ میں ہر بالغ ذمِّی سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا (بطورِ جزیہ) وصول کروں اور ہر چالیس گائیوں پر دو دانتا اور ہر تیس پر ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی بطورِ زکوۃ وصول کروں اور جن کھیتوں کو بارش کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے، ان کی پیدا وار کا دسواں حصہ اور جن کو ڈول یا رہٹ کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہے، ان کی پیداوار کا بیسواں حصہ زکوۃ لوں۔
Takhreej
(۳۳۸۶) تخر یـج:…حدیث صحیح أخرجہ ابوداود: ۵۷۶، ۳۰۰۳۸، والنسائی: ۵/ ۴۲، وابن ماجہ: ۱۸۱۸(انظر: ۲۲۰۳۷)
Explanation
فوائد:… گائیوں اور فصلوں کی زکوۃ کا بیان اگلے ابواب میں اور ذمِّی لوگوں کے جزیے کی تفصیل کتاب الجھاد میں آئے گی۔
3386
Sahih