TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

گائے اور وقص کی زکوۃ کے بارے میں بیان

Chapter 4 of زکوۃ کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 7 · 3 Hadith
۔ (۳۳۸۷) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُصَدِّقُ أَہْلَ الْیَمَنِ وَأَمَرَنِی أَنْ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ کُلِّ ثَلَاثِیْنَ تَبِیْعًا (قَالَ ہَارُوْنَ: وَالتَّبِیْعُ الْجَذَعُ أَوْ الْجَذَعَۃُ) وَمِنْ کُلِّ أَرْبَعِیْنَ مُسِنَّۃً، قَالَ: فَعَرَضُوْا عَلَیَّ أَنْ آخَذُ مِنَ الأَرْبَعِیْنَ، قَالَ ہَارُوْنَ: مَا بَیْن الأَرْبَعِیْنَ وَالْخَمْسِیْنَ وَمَا بَیْنَ السِّتِّیْنََ وَالسَّبْعِیْنَ وَمَا بَیْنَ الثَّمَانِیْنَ وَالتِّسْعِیْنَ، فَأَبَیْتُ ذَاکَ، وَقُلْتُ لَہُمْ: حَتّٰی أَسَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذَالِکَ فَقَدِمْتُ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَمَرَنِی أَنْ آخُذَ مِنْ کُلِّ ثَلَاثِیْنَ تَبِیْعًا، وَمِنْ کُلِّ أَرْبَعِیْنَ مُسِنَّۃً وَمِنَ السِّتِّیْنَ تَبِیْعَیْنِ، وَمِنْ السَّبْعِیْنَ مُسِنَّۃً وَتَبِیْعًا وَمِنَ الثَّمَانِیْنَ مُسِنَّتَیْنِ، وَمِنَ التِّسْعِیْنَ ثَلَاثَۃَ أَتْبَاعٍ، وَمِنَ الْمِائَۃِ مُسِنَّۃً وَتَبِبْعَیْنِ وَمِنَ الْعَشَرَۃِ وَالْمَائَۃِ مُسِنَّتَیْنِ وَتَبِیْعًا، وَمِنَ الْعِشْرِیْنَ وَمِائَۃٍ ثَلَاثَ مُسِنَّاتٍ أَوْ أَرْبَعَۃَ أَتْبَاعٍ قَالَ وَأَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ لَاآخُذَ فِیْمَا بَیْنَ ذَالِکَ، وَقَالَ ہَارُوْنَ فِیْمَا بَیْنَ ذَالِکَ شَیْئًا إِلَّا أَنْ یَبْلُغَ مُسَنَّۃً أَوْ جَذَعًا، وَزَعَمَ أَنَّ الْأَوْقَاصَ لاَ فَرِیْضَۃَ فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۲۲۴۳۴)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اہلِ یمن سے زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور حکم دیا کہ ہر (۳۰) گائے پر ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی اور ہر (۴۰) پر دو دانتا وصول کروں،ان لوگوں نے میرے سامنے تجویز پیش کی کہ میں ہر چالیس کے حساب سے زکوۃ وصول کروں، ہارون راوی کہتے ہیں: یعنی چالیس اور پچاس کے درمیان اور ساٹھ اور ستر کے درمیان اور اسی اور نوے کے درمیان۔ لیکن میں نے ان کی تجویز تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہاکہ جب تک میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت نہ کرلوں، از خود میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔ پس میں آیا اور ساری بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر (۳۰) پر ایک سالہ اور ہر (۴۰) پر دو دانتا، ہر (۶۰) پر ایک سالہ دو جانور، ہر (۷۰) پر ایک جانور دو دانتا اور ایک جانور ایک سالہ، ہر (۸۰) پر دو عدد دو دانتے،ہر (۹۰) پر تین عدد ایک سالہ، ہر (۱۰۰) پر ایک عدد دو دانتا اور دو عدد ایک سالہ، (۱۱۰)پر دو عدد دو دانتے اور ایک عدد ایک سالہ ، اور (۱۲۰) پر تین عدد دو دانتے یا چار عدد ایک سالہ جانور وصول کروں۔سیدنامعاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ حکم بھی دیا کہ میں ان ہر دو نصابوں کی درمیان والی مقدار کی زکوۃ وصول نہ کروں۔ہارون کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مقدار پر ایک سالہ یا دو دانتا جانور واجب ہو، وہ وصول کر لوں اور درمیان والی مقدار جسے عربی میں وَقَص کہتے ہیں اس پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۳۸۷) تخر یـج:… اسنادہ ضعیف لجھالۃ سلمۃ بن اسامۃ، وشیخہ یحیی بن الحکم مجھول الحال أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۲۴۹(انظر: ۲۲۰۸۴)
Explanation
فوائد: سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم کی حیاتِ مبارکہ میں مدینہ منورہ میں واپس آنا ثابت نہیں ہے، بہرحال اس حدیث میں جو مسائل بیان کیے گئے ہیں، وہ درست ہیں کہ گائیوں کی مقدار کو حتی الامکان(۳۰، ۳۰)، (۴۰، ۴۰) اور (۳۰، ۴۰) میں تقسیم کر کے زکوۃ کے جانوروں کا فیصلہ کیا جائے اور باقی بچ جانے والے جانوروں پر زکوۃ نہ لی جائے، اسی تعداد کو وقص کہتے ہیں۔
3387
Zaeef
۔ (۳۳۸۸) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو (بْنِ دِیْنَارٍ) عَنْ طَاوُسٍ أُتِیَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِوَقْصِ الْبَقَرِ وَالْعَسَلِ، فَقَالَ: لَمْ یَأْمُرْنِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْھَا بِشَیْئٍ۔ قَالَ سُفْیَانُ: الأَوْقَاصُ مَا دُوْنَ الثَّلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۶۹)
طائووس کہتے ہیں: سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گائے اور شہد کا وقص زکوۃ کے لیے پیش کیا گیا، لیکن انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا۔ سفیان کہتے ہیں: (بچ جانے والی گائیوں کی) کی تیس سے کم مقدار وقص ہے۔
Takhreej
(۳۳۸۸) تخر یـج:… منقطع، طاووس لم یدرک معاذا أخرجہ الشافعی فی مسندہ : ۱/ ۲۳۷، والدارقطنی: ۲/ ۹۹، والبیھقی: ۴/ ۹۸(انظر: ۲۲۰۱۹)
Explanation
فوائد: چونکہ زکوۃ کے لیے گائے کی کم از کم مقدار (۳۰) ہونی چاہیے، اس لیے اگر کسی آدمی کے پاس (۶۹) گائیں ہیں، تو صرف (۴۰) جانوروں کی زکوۃ وصول کی جائے گی اور بقیہ (۲۹) پر کوئی زکوۃ نہیں ہو گی، کیونکہ وہ (۳۰) سے کم ہیں، اسی تعداد کو وقص کہتے ہیں۔ شہد کی زکوۃ کی تفصیل آگے آئے گی۔
3388
Zaeef
۔ (۳۳۸۹) عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَتَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَدَقَۃِ الْبَقَرِ إِذَا بَلَغَ الْبَقَرُ ثَلَاثَیْنَ فِیْہَا تَبِیْعٌ مِنَ الْبَقَرِ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَۃٌ حَتَّی تَبْلُغَ أَرْبَعْیِنَ فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِیْنَ فَفِیْہَا بَقَرَۃٌ مُسِنَّۃٌ، فَإِذَا کَثُرَتْ فَفِی کُلِّ أَرْبَعِیْنَ مِنَ الْبَقَرِۃ بَقَرَۃٌ مُسِنَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۳۹۰۵)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گائے کی زکوۃ کے بارے میں یہ لکھوایا کہ جب وہ تیس ہو جائیں تو ان میں ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی فرض ہو گی اور جب ان کی تعداد چالیس ہو جائے تو ان میں دو دانتا جانور فرض ہو جائے گا، جب تعداد اس سے بھی بڑھ جائے تو ہر چالیس گائیوں میں ایک دو دانتا جانور ہو گا۔
Takhreej
(۳۳۸۹) تخر یـج:… حسن لغیرہ أخرجہ مختصرا الترمذی: ۶۲۲، وابن ماجہ: ۱۸۰۴(انظر: ۳۹۰۵)
3389
Sahih