TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مشرکوں سے عام صلح کرنے یا مال وغیرہ کے عوض صلح کرنے کا بیان - مشرکوں سے عام صلح کرنے یا مال وغیرہ کے عوض صلح کرنے کا بیان - امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 7 · 1 Hadith
۔ (۵۱۴۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَی الْیَہُودَ وَالنَّصَارٰی مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا ظَہَرَ عَلٰی خَیْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْیَہُودِ مِنْہَا، وَکَانَتِ الْأَرْضُ حِینَ ظَہَرَ عَلَیْہَا لِلّٰہِ تَعَالٰی وَلِرَسُولِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلِلْمُسْلِمِینَ، فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْیَہُودِ مِنْہَا، فَسَأَلَتِ الْیَہُودُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُقِرَّہُمْ بِہَا عَلٰی أَنْ یَکْفُوا عَمَلَہَا وَلَہُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نُقِرُّکُمْ بِہَا عَلٰی ذٰلِکَ مَا شِئْنَا۔)) فَقَرُّوا بِہَا حَتّٰی أَجْلَاہُمْ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلٰی تَیْمَائَ وَأَرِیحَائَ۔ (مسند أحمد: ۶۳۶۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سرزمینِ حجاز سے یہود ونصاری کو جلاوطن کیا، اور جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر پر غالب آ گئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غالب آ گئے تھے تو وہ زمین اللہ تعالی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور مسلمانوں کی ہو گئی تھی، بہرحال جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو یہودیوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ مطالبہ کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو یہیں برقرار رکھیں، وہ نصف پھل کے عوض اس علاقے کی کھیتیوں کا کام کریں گے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے، تم لوگوں کو یہاں برقرار رکھیں گے۔ پس وہ وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا تھا۔
Takhreej
(۵۱۴۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۳۸، ۳۱۵۲، ومسلم: ۱۵۵۱(انظر: ۶۳۶۸)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودیوں سے صلح کرتے ہوئے ان کو خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی، شرط یہ تھی کہ وہ ان کھیتوں میں کام کریں گے اور اس کام کے عوض نصف پیداوار ان کو دی جائے گی۔
5147
Sahih