TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کافروں کے ساتھ جائز شرطوں اور مصالحت کی مدت وغیرہ کا بیان - کافروں کے ساتھ جائز شرطوں اور مصالحت کی مدت وغیرہ کا بیان - امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 7 · 10 Hadith
۔ (۵۱۴۸)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ، یَقُولُ: لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَہْلَ الْحُدَیْبِیَۃِ، کَتَبَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کِتَابًا بَیْنَہُمْ، وَقَالَ: فَکَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ، فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ: لَا تَکْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ، وَلَوْ کُنْتَ رَسُولَ اللّٰہِ لَمْ نُقَاتِلْکَ، قَالَ: فَقَالَ لِعَلِیٍّ: ((امْحُہُ۔)) قَالَ: فَقَالَ: مَا أَنَا بِالَّذِی أَمْحَاہُ، فَمَحَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ، قَالَ: وَصَالَحَہُمْ عَلٰی أَنْ یَدْخُلَ ہُوَ وَأَصْحَابُہُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، وَلَا یَدْخُلُوہَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ، فَسَأَلْتُ: مَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ؟ قَالَ: الْقِرَابُ بِمَا فِیہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۷۶۶)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل حدیبیہ سے مصالحت کی تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے معاہدہ تحریر کیا، انھوں نے معاہدے میں محمد رسول اللہ کے الفاظ لکھے، لیکن مشرکوں نے کہا: محمد رسول اللہ کے الفاظ نہ لکھو، اگر آپ ہمارے نزدیک اللہ کے رسول ہوتے تو ہم آپ سے قتال ہی نہ کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: یہ الفاظ مٹا دو۔ انھوں نے کہا: میں ان الفاظ کو نہیں مٹاؤںگا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان الفاظ کو خود مٹا دیا ا ور ان مشرکوں سے جن امور پر مصالحت کی تھی، ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ تین دنوں تک مکہ میں رہیں گے اور اپنے ساتھ صرف بند ہتھیار لائیں گے، وہ بھی میان سمیت چمڑے کے تھیلوں میں ہوں گی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جُلُبَّانُ السِّلَاحِ سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: چمڑے کے تھیلے کے اندر جو کچھ ہوتا ہے، اس سمیت اس تھیلے کو کہتے ہیں۔
Takhreej
(۵۱۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۹۸، ومسلم: ۱۷۸۳(انظر: ۱۸۵۶۷)
5148
Sahih
۔ (۵۱۴۹)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: وَادَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُشْرِکِینَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ عَلٰی ثَلَاثٍ مَنْ أَتَاہُمْ مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَنْ یَرُدُّوہُ، وَمَنْ أَتٰی إِلَیْنَا مِنْہُمْ رَدُّوہُ إِلَیْہِمْ، وَعَلٰی أَنْ یَجِیئَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَأَصْحَابُہُ، فَیَدْخُلُونَ مَکَّۃَ مُعْتَمِرِینَ فَلَا یُقِیمُونَ إِلَّا ثَلَاثًا، وَلَا یُدْخِلُونَ إِلَّا جَلَبَ السِّلَاحِ السَّیْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۸۸۷)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ والے دن مشروکوں سے تین امور پر معاہدہ کیا: (۱) نبی کریم کے پاس سے جو آدمی مشرکوں کے پاس آ جائے گا، وہ اس کو ہر گز نہیں لوٹائیں گے، لیکن مشرکوں میں سے جو آدمی اہل مدینہ کے پاس آئے گا، وہ اس کو لوٹا دیں گے، (۲) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ اگلے سال عمرہ کے لیے آئیں گے اور مکہ میں صرف تین دن تک قیام کریں گے، اور (۳) وہ صرف اس طرح داخل ہوں گے کہ تلوار اور قوس وغیرہ تھیلوں میں ہوں گے۔
Takhreej
(۵۱۴۹) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۸۶۸۳)
5149
Sahih
۔ (۵۱۵۰)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قُرَیْشًا صَالَحُوا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فِیہِمْ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَلِیٍّ: ((اکْتُبْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔)) فَقَالَ سُہَیْلٌ: أَمَّا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، فَلَا نَدْرِی مَا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ؟ وَلٰکِنْ اکْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ، فَقَالَ: ((اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: لَوْ عَلِمْنَا أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ لَاتَّبَعْنَاکَ، وَلٰکِنْ اکْتُبْ اسْمَکَ وَاسْمَ أَبِیکَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ۔)) وَاشْتَرَطُوْا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ مَنْ جَائَ مِنْکُمْ لَمْ نَرُدَّہُ عَلَیْکُمْ، وَمَنْ جَائَ مِنَّا رَدَدْتُمُوہُ عَلَیْنَا، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتَکْتُبُ ہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، إِنَّہُ مَنْ ذَہَبَ مِنَّا إِلَیْہِمْ فَأَبْعَدَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۶۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ قریشیوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مصالحت کی، ان میں سہیل بن عمرو بھی موجود تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ لکھو۔ سہیل نے کہا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، ہم نہیںجانتے کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کیا ہوتی ہے؟ وہ الفاظ لکھو، جو ہم جانتے ہیں، یعنی بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: لکھومحمد رسول اللہ کی جانب سے۔ لیکن (سہیل نے اس جملے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے) کہا: اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم نے آپ کی پیروی اختیار کر لینی تھی، آپ اپنا اور اپنے باپ کا نام لکھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لکھو محمد بن عبد اللہ کی طرف سے۔ قریشیوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ شرط لگائی کہ تم میں سے جو آدمی ہمارے پاس آ جائے، ہم اس کو واپس نہیں لوٹائیں گے، لیکن ہم میں سے جو آدمی تمہارے پاس آئے گا، تم اس کو ہماری طرف لوٹا دو گے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ یہ شق لکھیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بیشک شان یہ ہے کہ ہم میں سے جو آدمی ان کی طرف چلا جائے گا، پس اللہ تعالیٰ اس کو دور کرے۔
Takhreej
(۵۱۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۸۴(انظر: ۱۳۸۲۷)
Explanation
فوائد:… شاید ہمارا سرسری فہم طبعی طور پر ان شرائط کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو، لیکن اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ ساری شروط اس بنا پر قبول کر لی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مطلع کر دیا تھا کہ ان میں اسلام اور اہل اسلام کے لیے خیر و بھلائی اور منفعت و مصلحت ہے، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان شروط کے بارے میں شد ومد کے ساتھ استفسار کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا:
5150
Sahih
۔ (۵۱۵۱)۔ عَنْ ذِی مِخْمَرٍ، رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((سَیُصَالِحُکُمُ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُوہُمْ غَزْوًا فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتّٰی تَنْزِلُونَ بِمَرْجٍ ذِی تُلُولٍ، فَیَرْفَعُ رَجُلٌ مِنَ النَّصْرَانِیَّۃِ صَلِیبًا، فَیَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِیبُ، فَیَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَیَقُومُ إِلَیْہِ فَیَدُقُّہُ، فَعِنْدَ ذٰلِکَ یَغْدُرُ الرُّومُ، وَیَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَۃِ۔)) وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّۃً: ((وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتُقِیمُونَ ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۸۷۳)
۔ ایک صحابیٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب رومی لوگ تم سے امن والی صلح کریں گے، پھر تم اور وہ مل کر اپنے دشمنوں سے لڑو گے اور تم سلامت رہو گے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کرو گے، پھر تم واپس پلٹو گے اور ٹیلوں والی چراگاہ کے پاس پڑاؤ ڈالو گے، وہاں عیسائیوں میں ایک آدمی صلیب کو اٹھا کر کہے گا: صلیب غالب آ گئی ہے، اس سے ایک مسلمان کو غصہ آئے گا اور وہ کھڑا ہو کر صلیب کو توڑ دے گا، اس وقت رومی دھوکہ کریں گے اور بڑی جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے۔ روح راوی کے الفاظ یہ ہیں: تم سالم رہو گے، مالِ غنیمت حاصل کرو گے، وہاں قیام کرو گے اور پھر وہاں سے واپس پلٹو گے۔
Takhreej
(۵۱۵۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۷۶۷، ۴۲۹۲، وابن ماجہ: ۴۰۸۹ (انظر: ۲۳۴۷۷)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہیں: {وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ} … اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی صلح کی طرف جھک جا اور اللہ پر بھروسہ رکھ۔ (سورۂ انفال: ۶۱)
5151
Sahih
۔ (۵۱۵۲)۔ عَنْ بَجَالَۃَ التَّمِیْمِیِّ قَالَ: لَمْ یَدْرِ عُمَرُ اَنْ یَاْخُذَ الْجِزْیَۃَ مِنَ الْمَجُوْسِ حَتّٰی شَھِدَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ اَخَذَھَا مِنْ مَجُوْسِ ھَجَرَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۵)
۔ بجالہ تمیمی سے مروی ہے، و ہ کہتے ہیں:سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مجوسیوں سے جزیہ لینے کے بارے میں علم نہیں تھا، یہاں تک کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ شہادت دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔
Takhreej
(۵۱۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۵۶، ۳۱۵۷(انظر: ۱۶۸۵)
Explanation
فوائد:… چونکہ باب میں مذکورہ آیت میں صرف اہل کتاب کا ذکر ہے، اس لیے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ا س آیت کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے مجوسی سے جزیہ نہ لیا، حتی کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف نے یہ شہادت دی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واقعی ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔
5152
Sahih
۔ (۵۱۵۳)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ الْمَجُوْسِیُّ مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ سَأَلْتُہٗ، فَأَخْبَرَنِیْ اَنَّ النَّبِیَّ خَیَّرَہٗ بَیْنَ الْجِزْیَۃِ وَالْقَتْلِ، فَاخْتَارَ الْجِزْیَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۷۲)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں؛ جب مجوسی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے نکلا تو میں نے اس سے سوال کیا، اس نے مجھے بتلایا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو جزیہ اور قتل میں اختیار دیا اور اس نے جزیہ قبول کر لیا۔
Takhreej
(۵۱۵۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، سعید بن عبد العزیز الدمشقی اختلط بأخرۃ، وسلیمان بن موسی الاشدق لم یدرک عبد الرحمن بن عوف (انظر: ۱۶۷۲)
5153
Zaeef
۔ (۵۱۵۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ فَأَتَتْہُ قُرَیْشٌ وَأَتَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعُودُہُ، وَعِنْدَ رَأْسِہِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَقَامَ أَبُو جَہْلٍ فَقَعَدَ فِیہِ، فَقَالُوْا: إِنَّ ابْنَ أَخِیکَ یَقَعُ فِی آلِہَتِنَا، قَالَ: مَا شَأْنُ قَوْمِکَ یَشْکُونَکَ؟، قَالَ: ((یَا عَمِّ أُرِیدُہُمْ عَلٰی کَلِمَۃٍ وَاحِدَۃٍ، تَدِینُ لَہُمْ بِہَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّی الْعَجَمُ إِلَیْہِمُ الْجِزْیَۃَ۔)) قَالَ: مَا ہِیَ؟ قَالَ: ((لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) فَقَامُوْا فَقَالُوْا: أَجَعَلَ الْآلِہَۃَ إِلٰہًا وَاحِدًا، قَالَ: وَنَزَلَ {ص وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْرِ} فَقَرَأَ حَتّٰی بَلَغَ {إِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} (مسند أحمد: ۲۰۰۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ابو طالب بیمار ہو گیا، قریشی اس کے پاس آئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تیمار داری کرنے کے لیے تشریف لے آئے، اس کے سر کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کے بقدر جگہ تھی، ابو جہل اٹھ کر وہاں بیٹھ گیا، قریشیوں نے اس سے کہا: تمہارا بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: آپ کی قوم، آپ کی شکایت کر رہی ہے، کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے چچا جان! میں ان سے وہ کلمہ کہلوانے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ پورا عرب ان کے سامنے سرنگوںہو جائے گا اور عجمی لوگ ان کو جزیہ ادا کریں گے۔ اس نے کہا: وہ کلمہ کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ۔ یہ سن کر وہ لوگ یہ کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے کہ کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک معبود بنا لیا ہے، اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں: {صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ۔ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّ شِقَاقٍ۔ کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ۔ وَعَجِبُوْٓا اَنْ جَآئَھُمْ مُّنْذِر’‘ مِّنْھُمْ وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِر’‘ کَذَّابٌ۔ اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئ’‘ عُجَاب’‘} (ص: ۱ ۔ ۵) ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم! بلکہ کفار غرور و مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباہ کر ڈالا۔ انھوں نے ہر چند چیخ وپکار کی، لیکن وہ وقت چھٹکارے کا نہ تھا، اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے والا آگیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادو گر اور جھوٹا ہے۔ کیا اس نے اتنے سارے معبودں کا ایک معبود کر دیا، واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔
Takhreej
(۵۱۵۴) اسنادہ ضعیف، یحیی بن عمارۃ فی عداد المجھولین، أخرجہ الترمذی: ۳۲۳۲ (انظر: ۲۰۰۸)
5154
Zaeef
۔ (۵۱۵۵)۔ عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ أَخْبَرَہُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ، وَہُوَ حَلِیفُ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، وَکَانَ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْبَرَہُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَی الْبَحْرَیْنِ یَأْتِی بِجِزْیَتِہَا، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہُوَ صَالَحَ أَہْلَ الْبَحْرَیْنِ، وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ الْعَلَائَ بْنَ الْحَضْرَمِیِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَیْنِ، فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِہِ، فَوَافَتْ صَلَاۃَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا صَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْفَجْرِ انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَہُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ رَآہُمْ، فَقَالَ: ((أَظُنُّکُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ قَدْ جَائَ، وَجَاء َ بِشَیْئٍ؟)) قَالُوْا أَجَلْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((فَأَبْشِرُوْا وَأَمِّلُوْا مَا یَسُرُّکُمْ، فَوَاللّٰہِ! مَا الْفَقْرَ أَخْشٰی عَلَیْکُمْ، وَلٰکِنِّی أَخْشٰی أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْیَا عَلَیْکُمْ، کَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، فَتَنَافَسُوْہَا کَمَا تَنَافَسُوہَا، وَتُلْہِیکُمْ کَمَا أَلْہَتْہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۶۶)
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمرو بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ بنو عامر بن لؤی کے حلیف تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بحرین کی طرف ان سے جزیہ لینے کے لیے بھیجا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں سے مصالحت کی تھی اور سیدنا علاء بن حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کا امیر بنایا تھا، جب سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بحرین کا مال لے کر آئے اور انصار کو ان کی آمدکا پتہ چلا تو انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر ادا کر لی اور صحابہ کی طرف پھرے تو انصاری لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آ گئے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم لوگوں نے سن لیا کہ ابو عبیدہ مال لے کر آ گئے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ اور ایسی چیز کی امید رکھو جو تم کو خوش کرنے والی ہے، اللہ کی قسم ہے، مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا ڈر نہیں ہے، بلکہ یہ ڈر ہے کہ دنیا تمہارے لیے فراخ کر دی جائے گی، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں کے لیے کی گئی تھی اور تم اس میں اس طرح رغبت کرو گے، جیسے انھوں نے رغبت کی تھی اور اس طرح یہ دنیا تم کو اس طرح غافل کر دے گی، جیسے اس نے ان کو غافل کر دیا تھا۔
Takhreej
(۵۱۵۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۲۵، ومسلم: ۲۹۶۱(انظر: ۱۷۲۳۴)
Explanation
فوائد:… اہل بحرین اس وقت مجوسی تھے، اس لیے جیسے اہل کتاب سے جزیہ لیا جائے گا، اسی طرح مجوسیوں سے بھی لیا جائے گا۔
5155
Sahih
۔ (۵۱۵۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَصْلَحُ قِبْلَتَانِ فِی اَرْضٍ، وَلَیْسَ عَلٰی مُسْلِمٍ جِزْیَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک علاقے میں دو قبلے صحیح نہیں ہیں اور مسلمان پر جزیہ نہیں ہے۔
Takhreej
(۵۱۵۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف قابوس، أخرجہ أبوداود: ۳۰۳۲، ۳۰۵۳، والترمذی: ۶۳۳، ۶۳۴ (انظر: ۲۵۷۶)
Explanation
فوائد:… ایک خطۂ زمین میں برابر کی سطح پر دو یا زائد ادیان کا نفاذ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ کافروں کے اندر سکونت اختیار نہ کرے، وگرنہ وہ اپنی ذلت کا سبب بنے گا۔
5156
Zaeef
۔ (۵۱۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَیَّۃَ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ تَغْلَبَ، اَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّ یَقُوْلُ: ((لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ عُشُوْرٌ اِنَّمَا الْعُشُوْرُ عَلَی الْیَھُوْدِ وَالنَّصَارٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۹۲)
۔ بنو تغلب قبیلے کے ایک فرد سیدنا ابو امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں پر ٹیکس نہیں ہے، البتہ یہودیوں اور عیسائیوں پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔
Takhreej
(۵۱۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لاضطرابہ، أخرجہ أبوداود: ۳۰۴۸(انظر: ۱۵۸۹۷)
Explanation
فوائد:… عُشُوْر کی واحد عَشْر ہے، جس کا معنی دسواں حصہ ہے، اس سے مراد سامان تجارت وغیرہ کا دسواں ہے، ہم نے اس کا مفہومی معنی ٹیکس لکھا ہے، غیر مسلموں سے وہ ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے، جس کا معاہدے میں تعین کیا گیا ہو، وگرنہ نہیں۔
5157
Zaeef