۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ربّ تعالیٰ روزِ قیامت فرمائیں گے: ساری مخلوقات میں سے اہل کرامت کو پہنچان لیا جائے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل کرامت سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجدوںمیں منعقد ہونے والی مجالسِ ذکر والے لوگ۔
Takhreej
(۵۴۱۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف دراج فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ ابویعلی: ۱۰۴۶، وابن حبان: ۸۱۶ (انظر: ۱۱۶۵۲)
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین ذکر مخفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے، جس سے گزارا ہو جائے۔
Takhreej
(۵۴۱۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن عبد الرحمن بن ابی لبیبۃ ضعیف، ثم ھو لم یدرک سعدا، أخرجہ ابویعلی: ۷۳۱، وابن ابی شیبۃ: ۱۰/۳۷۵ (انظر: ۱۴۷۷)
Explanation
فوائد:… مختلف اشخاص اور احوال کے اعتبار سے مخفی یا جہری ذکر فضیلت والا قرار دیا جا سکتاہے، اگر ریاکاری کاخطرہ نہ ہو اور غافل لوگوں کو سبق حاصل ہو رہاہو تو جہری ذکر افضل ہو گا اور اگر ریاکاری کا شبہ ہو یا نمازیوںپر تشویش ہو رہی ہو تو سرّی ذکر افضل ہوگا، بہرحال سرّی عمل کی فضیلت اور حکمت مسلم ہے۔
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھا، جب ہم کسی بلند جگہ پر چڑھتے اور بلند ہوتے اور کسی وادی میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیرات پڑھتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے قریب ہوئے اور فرمایا: لوگو! اپنے نفسوں پر نرمی کرو، بیشک تم لوگ ایسی ذات کو نہیںپکار رہے جو بہری یا غائب ہو، بلکہ تم سننے والی اور دیکھنے والی ذات کو پکار رہے ہو، بیشک تم جس ذات کا ذکر کر رہے ہو، وہ تمہاری سواری کی گردن سے زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبد اللہ! کیا میں تجھے ایسے کلمے کی تعلیم نہ دوں، جو جنت کے خزانوں میں سے ہے؟ وہ کلمہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ ِلَّا بِاللّٰہ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) ہے۔
فوائد:… انسان اس ذکر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی وانکساری کا اظہار کرتا ہے کہ جب وہ نیکیوں والے کام کرتا ہے اور برائیوں سے بچتا ہے، تو اس میں اس کا کوئی ذاتی کمال نہیں، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تائید و توفیق سے ہو رہا ہوتا ہے۔ خزانے سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح مال کا خزانہ عمدہ اور نفیس چیز ہوتی ہے، اسی طرح یہ ذکر بھی عمدہ ہے اور اس کا اجر و ثواب جنت میں داخل کرنے والا ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، یعنی ایک کم سو، جس نے ان کو یاد کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو گا، بیشک اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔
فوائد:… امام قرطبی نے اپنی تفسیر میںکہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے مبارکہ کو حُسْنٰی (بہت اچھے) قرار دیا ہے، کیونکہ یہ سننے میں بھی حسین لگتے ہیں، دلوں میں بھی ان کا حسن پایا جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، کرم، سخاوت، رحمت اور فضل جیسی صفات پر دلالت کرتے ہیں۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، جس نے وہ سارے یاد کر لیے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
فوائد:… صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَحْفَظُھَا اَحَدٌ عَنْ ظَہْرِ قَلْبِہِ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) … جو آدمی ان ناموں کو زبانی یاد کر لے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معانی و مفاہیم کو سمجھنا بھی ضروری ہو گا۔ مختلف دلائلِ شرعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی ننانوے سے کہیں زیادہ ہیں، اس حدیث کا مقصود یہ ہے کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ کے کم از کم ننانوے نام یاد کر لے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔