TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان - سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان - مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 4 · 6 Hadith
۔ (۶۰۷۷)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ھُرْمُزَ قَالَ: کَتَبَ نَجْدَۃُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَفِیْہِ: وَمَتٰییَنْقَضِییُتْمُ الْیَتِیْمِ؟ فَاَجَابَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِیْ عَنْ یُتْمِ الْیَتِیْمِ مَتٰییَنْقَضِیْ، وَلَعُمْرِیْ! أَنَّ الرَّجُلَ تُنْبِتُ لِحْیَتُہُ وَھُوَ ضَعِیْفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِہِ فَاِذَا کَانَ یَأْخُذُ لِنَفْسِہِ مِنْ صَالِحِ مَا یََأْخُذُ النَّاسُ فقَدْ ذَھَبَ الیُتْمُ۔ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۱)
۔ یزید بن ہرمز کہتے ہیں: نجدہ نے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پانچ باتیں پوچھنے کے لیے ایک خط لکھا، … … ان میں ایک بات یہ تھی کہ یتیم کییتیمی کا وقت کب ختم ہوتاہے، سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس کے جواب میں لکھا: تونے مجھ سے سوال کیاہے کہ یتیم کییتیمی کا وقت کب ختم ہوتاہے، مجھے میری عمر کی قسم ہے کہ آدمی کی داڑھی اگ آتی ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنے معاملہ میں کمزور گر فت والا رہتاہے، جب وہ لوگوں کے معاملات میں سے اپنے لیے اچھی چیز کا انتخاب کر سکتا ہو تو اس کییتیمی ختم ہو جائے گی۔
Takhreej
(۶۰۷۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۱۲(انظر: ۲۸۱۱)
6077
Sahih
۔ (۶۰۷۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ وَعَنِ الْیَتِیْمِ مَتٰییَنْقَضِیْیُتْمُہُ؟ قَالَ: اِذَا احْتَلَمَ وَأُوْنِسَ مِنْہُ خَیْرٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اور یتیم کے بارے میں سوال کیا کہ اس کییتیمی کب ختم ہو گی؟ انھوں نے کہا: جب وہ بالغ ہو جائے اور اس سے بھلائی محسوس کی جانے لگے۔
Takhreej
(۶۰۷۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… بلا شک و شبہ معاشرے کے سمجھ دار لوگ آسانی کے ساتھ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ فلاں بچہ بالغ ہو جانے کے بعد مال و دولت سنبھالنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، دیکھا گیا ہے کہ بعض بچے بالغ ہونے سے پہلے بلا کے سمجھ داراور معاملات میں مضبوط گرفت والے ہوتے ہیں، جبکہ بعض بالغ ہونے کے بعد بھی نا سمجھ اور نا عاقبت اندیش رہتے ہیں، بہرحال یہ معاملہ قابل فہم ہے اور آسانی سے اس کا ادراک کیا جا سکتا ہے ۔
6078
Sahih
۔ (۶۰۷۹)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ أَنْ یَرْجُمَ مَجْنُوْنَۃً، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَالَکَ ذٰلِکَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ عَنِ النَّائِمِ حَتّٰییَسْتَیْقِظَ وَعَنِ الْطِفْلِ حَتّٰییَحْتَلِمَ وَعَنِ الْمَجْنُوْنِ حَتّٰییَبْرَأَ أَوْیَعْقِلَ)) فَأَدْرَأَ عَنْہَا عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد:۱۱۸۳)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک پاگل عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ کو اس طرح کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سوئے ہوئے آدمی سے، یہاں تک کہ وہ بیدارہوجائے، بچے سے یہاںتک کہ وہ بالغ ہوجائے اور پاگل سے ، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوجائے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے حد کو ہٹا دیا۔
Takhreej
(۶۰۷۹) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۰۳، وابن ماجہ: ۲۰۴۲ (انظر: ۱۱۸۳)
6079
Sahih
۔ (۶۰۸۰)۔ عَنْ عَطِیَّۃَ الْقُرَظِیِّ قَالَ: عُرِضْتُ عَلٰی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ قُرَیْظَۃَ فَشَکُّوْا فِیَّ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَنْظُرُوْا إِلَیَّ ھَلْ أَنْبَتُّ بَعْدُ؟ فَنَظَرُوْا فَلَمْ یَجِدُوْنِیْ أَنْبَتُّ فَخَلّٰی عَنِّیْ وَاَلْحَقَنِیْ بِالسَّبْیِ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۳۶)
۔ سیدنا عطیہ قرظی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:مجھے قریظہ والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کیا گیا، جب لوگوں کو میرے بالغٖیا نابالغ ہونے میں شک ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیاکہ دیکھا جائے کہ آیا میرے زیر ناف بال اگے ہوئے ہیںیا نہیں، پس جب انھوں نے دیکھا کہ میرےیہ بال اگے ہوئے نہیں ہیں تو مجھے چھوڑ دیا اور قیدیوں میں شامل کر دیا۔
Takhreej
(۶۰۸۰) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۰۴، والنسائی: ۶/ ۱۵۵، وابن ماجہ: ۲۵۴۲، والترمذی: ۱۵۸۴ (انظر: ۲۲۶۵۹)
Explanation
فوائد:… غزوۂ خندق کے موقع پر یہودیوں کے قبیلے بنو قریظہ نے عہد شکنی کی، جب آپ a نے ان کا محاصرہ کر لیا تو وہ سیدنا سعد بن معاذ bکے فیصلے پر راضی ہو گئے، انھوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے، اب جس بچے کے بارے میں بالغ ہونے یا نہ ہونے کا شک گزرتا تو اس کے زیر ناف بال دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا، اگر وہ اگ چکے ہوتے تو اس کو بالغ مرد سمجھ کر قتل کر دیا جاتا اور بصورتِ دیگر اس کو بچہ سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ زیر ناف بال بلوغت اور عدم بلوغت کے مابین حد فاصل ہیں، لیکن کیایہ عام قانون ہے؟ اس باب کی آخری حدیث کے فوائد دیکھیں۔
6080
Sahih
۔ (۶۰۸۱)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَرَضَہُ یَوْمَ أُحُدٍ وَھُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشَرَۃَ فَلَمْ یُجِزْہُ، ثُمَّ عَرَضَہُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَھُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشَرَۃَ فَأَجَازَہُ۔ (مسند احمد: ۴۶۶۱)
۔ امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان کو غزوۂ احد کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کیا گیا، جبکہ ان کی عمر چودہ برس تھی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اجازت نہ دی، پھر ان کو پندرہ برس کی عمر میں غزوۂ خندق کے موقع پر پیش کیا گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اجازت دے دی۔
Takhreej
(۶۰۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۶۴، ومسلم: ۱۸۶۸(انظر: ۴۶۶۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں جنگ کا معاملہ بیان کیا گیا ہے کہ کتنے وجود اور طاقت کا آدمی جا سکتا ہے اور کون سا نہیں جا سکتا، چودہ یا پندرہ برس کی عمر کا بلوغت یا عدم بلوغت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ عمر کو اس ضمن میں معیار قرار دیا جا سکتا ہے، سیدہ عائشہ c نو سال کی عمر میں بالغ ہو گئی تھیں۔
6081
Sahih
۔ (۶۰۸۲)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ یَعْنِیْ ابْنَ سِیْرِیْنَ أَنَّ عَائِشَۃَ نَزَلَتْ عَلٰی صَفِیَّۃَ أُمِّ طَلْحَۃَ الطَّلَحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَھَا یُصَلِّیْنَ بِغَیْرِ خِمْرَۃٍ قَدْ حِضْنَ قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَاتُصَلِّیَنَّ جَارِیَۃٌ مِنْہُنَّ اِلَّا فِیْ خِمَارٍ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیَّ وَکَانَتْ فِیْ حِجْرِیْ جَارِیَۃٌ فَأَلْقٰی عَلَیَّ حَقْوَہُ فَقَالَ: ((شُقِّیْہِ بَیْنَ ھٰذِہٖوَبَیْنَ الْفَتَاۃِ الَّتِیْ فِیْ حِجْرِ أُمِّ سَلَمَۃَ فَأِنِّیْ لَا أَرَاھَا اِلَّا قَدْ حَاضَتْ، أَوْ لَا أَرَاھُمَا اِلَّا قَدْ حَاضَتَا۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۵۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ وہ سیدہ ام طلحۂ طلحات صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئیں اور دیکھا کہ بالغہ بچیاں بغیر دوپٹوں کے نماز پڑھ رہی تھیں، پس انھوں نے کہا: ان میں سے کوئی بچی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے، ایک دفعہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے ، جبکہ میری پرورش میںایک لڑکی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ازار مجھے دیا اورفرمایا: یہ لڑکی اور ام سلمہ کی تربیت میں پرورش پانے والے لڑکی،یہ ازار پھاڑ کر ان دونوں کو دے دو، کیونکہ میرا خیال ہے کہ یہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں۔
Takhreej
(۶۰۸۲) حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۶۴۲، والترمذی: ۳۷۷، وابن ماجہ: ۶۵۵(انظر: ۲۴۶۴۶)
Explanation
فوائد:… حیض کے خون کا شروع ہو جاناعورت کے لیے بلوغت کی علامت ہے۔ بلوغت اور عدم بلوغت کی علامتوں کا خلاصہ یہ ہے: علمائے امت کا اس چیز پر اتفاق ہے کہ احتلام مردو زن دونوں کے بالغ ہونے کی اور حیض اور حمل عورت کے بالغ ہونے کی علامت ہیں۔ شافعیہ کا خیال ہے کہ زیرناف بالوں کو کافروں کے بالغ یا نابالغ ہونے کی علامت قرار دیا جائے گا، کیونکہ کفر کی وجہ سے ان کی ان باتوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی عمر کتنی ہے یا ان کو احتلام ہو چکا ہے یا نہیں،یاان کی بچیوں کو حیض آ چکا ہے یا نہیں۔
6082
Sahih