TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6081 - سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان - مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 6 in this chapter
سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
۔ (۶۰۸۱)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَرَضَہُ یَوْمَ أُحُدٍ وَھُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشَرَۃَ فَلَمْ یُجِزْہُ، ثُمَّ عَرَضَہُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَھُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشَرَۃَ فَأَجَازَہُ۔ (مسند احمد: ۴۶۶۱)
۔ امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان کو غزوۂ احد کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کیا گیا، جبکہ ان کی عمر چودہ برس تھی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اجازت نہ دی، پھر ان کو پندرہ برس کی عمر میں غزوۂ خندق کے موقع پر پیش کیا گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اجازت دے دی۔
6081
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۰۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۶۴، ومسلم: ۱۸۶۸(انظر: ۴۶۶۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اس حدیث میں جنگ کا معاملہ بیان کیا گیا ہے کہ کتنے وجود اور طاقت کا آدمی جا سکتا ہے اور کون سا نہیں جا سکتا، چودہ یا پندرہ برس کی عمر کا بلوغت یا عدم بلوغت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ عمر کو اس ضمن میں معیار قرار دیا جا سکتا ہے، سیدہ عائشہ c نو سال کی عمر میں بالغ ہو گئی تھیں۔

Related Chapters

16
1
Chapter: What Has Been Related About The Limits Of Responsibility For A Man And Woman
باب: مرد اور عورت کی بلوغت کی حد کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About the (Age) Of Adulthood For A Man And When He Is To Recieve A Salary
باب: حد بلوغت کا ذکر اور غنیمت سے اس کو کب حصہ دیا جائے گا اس کا بیان
Jam e Tirmazi
3
بَاب الْكَبَائِر وعلامات النِّفَاق
کبیرہ گناہوں اور نفاق کی علامتوں کا بیان
Mishkat
4
بَاب إِثْبَات عَذَاب الْقَبْر
عذاب قبر کے اثبات کا بیان
Mishkat
5
بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ فِي الصِّغَرِ
چھوٹے لڑکے کی عمر بلوغت اور کم سنی میں اس کی تربیت کا بیان
Mishkat
6
بَابُ الْعَلَامَاتِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَذِكْرِ الدَّجَّالِ
قبل از قیامت علامتوں اور دجال کے ذکر کا بیان
Mishkat
7
بَاب عَلَامَات النُّبُوَّة
نبوت کی علامتوں کا بیان
Mishkat
8
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
Musnad Ahmad
9
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
Musnad Ahmad
10
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
Musnad Ahmad
11
(4) CHAPTER. When a witness or witnesses give an evidence.
جب ایک یا کئی گواہ کسی معاملے کے اثبات میں گواہی دیں اور دوسرے لوگ یہ کہہ دیں کہ ہمیں اس سلسلے میں کچھ معلوم نہیں تو فیصلہ اسی کے قول کے مطابق ہو گا جس نے اثبات میں گواہی دی ہے
Sahih Bukhari
12
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
Sahih Muslim
13
Chapter: Intercession and bringing those who believed in tawhid out of the Fire
شفاعت کااثبات اور اہل توحید کاآگ سے نکالا جانا
Sahih Muslim
14
Chapter: How Long Did The Prophet ft Stay In Makkah And Al-Madinah?
اللہ تعالیٰ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اورشدید خشیت رکھنا:۔
Sahih Muslim
15
Chapter: The Deceased Is Shown His Place In Paradise Or The Fire; And Confirmation Of The Torment In The Grave - We Seek Refuge With Allah From That
میت کے لیے جنت یادوزخ کا ٹھکانا اس کے سامنے پیش کیا جا تا ہے عذاب قبر کا اثبات اور اس سے پناہ مانگنا
Sahih Muslim
16
باب: بلوغت کی حد اور عمر کے اس مرحلے کا ذکر جس میں مرد اور عورت پر حد قائم کی جائے۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

95
Musnad Ahmad
11807
۔ (۱۱۸۰۷)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَرَضَہُ یَوْمُ أُحُدٍ وَھُوَ ابْنُ اَرْبَعَ عَشَرَۃَ فَلَمْ یُجْزِہِ، ثُمَّ عَرَضَہُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ، وَھُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشَرَۃَ فَأَجَازَہُ۔ (مسند احمد: ۴۶۶۱)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے غزوۂ احد کے موقع پیش ہوئے، اس وقت ان کی عمر چودہ برس تھی، آپ نے ان کو جنگ میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی، پھر وہ خندق کے موقع پر پیش ہوئے،تب ان کی عمر پندرہ برس تھی، تونبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو جنگ میں شرکت کی اجازت دے دی۔
Musnad Ahmad
1235
۔ (۱۲۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عن أَبِیْہِ (عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ)ؓ أَنَّ الْمُشْرِکِیْنَ شَغَلُوْا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ حَتّٰی ذَھَبَ مِنَ اللَّیْلِ مَا شَائَ اللّٰہُ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ۔ (مسند أحمد: ۳۵۵۵)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ مشرکوں نے غزوہ ٔ خندق والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو چار نمازوں سے مشغول کر دیا، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ بھی، جتنا اللہ کو منظور تھا، گزر گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی اور پھر اقامت کہی، پس آپ نے نمازِ ظہر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عصر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز مغرب پڑھائی اور پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عشا پڑھائی۔
Jam e Tirmazi
179
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ:‏‏‏‏ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْفَوَائِتِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَضَاهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ لَمْ يُقِمْ أَجْزَأَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.
Abdullah (bin Mas'ud] narrated: The idolaters kept Allah's Messenger distracted from four prayers on the Day of Al-Khandaq (the battle of the Trench) until as much as Allah willed of the night had passed. So he ordered Bilal to call the Adhan, then he called the Iqamah to Zuhr, then he called the Iqamah to pray Asr, then he called the Iqamah to pray Maghrib, then he called the Iqamah to pray Isha.
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: مشرکین نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو خندق کے دن چار نمازوں سے روک دیا۔ یہاں تک کہ رات جتنی اللہ نے چاہی گزر گئی، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہی تو آپ نے عصر پڑھی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے عشاء پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوسعید اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث کی سند میں کوئی برائی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ابوعبیدہ نے اپنے باپ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ۳- اور چھوٹی ہوئی نمازوں کے سلسلے میں بعض اہل علم نے اسی کو پسند کیا ہے کہ آدمی جب ان کی قضاء کرے تو ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہے ۱؎ اور اگر وہ الگ الگ اقامت نہ کہے تو بھی وہ اسے کافی ہو گا، اور یہی شافعی کا قول ہے۔
Jam e Tirmazi
180
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَنَزَلْنَا بُطْحَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَوَضَّأْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Jabir bin Abdullah narrated: On the Day of Al-Khandaq (the battle of the Trench), Umar bin Al-Khattab came cursing the disbelievers of Quraish and said: 'O Allah's Messenger! I could not offer he Asr prayer until the sun was about to set.' The Prophet said: 'By Allah! I too have not offered the Salat.' So he said: We descended into Buthan, Allah's Messenger performed Wudu and we too performed Wudu. Allah's Messenger prayed Asr after the sun had set, then after it he prayed Maghrib.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے خندق کے روز کفار قریش کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسول! میں عصر نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو گیا، تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے اسے ( اب بھی ) نہیں پڑھی ہے“، وہ کہتے ہیں: پھر ہم وادی بطحان میں اترے تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا، پھر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے سورج ڈوب جانے کے بعد پہلے عصر پڑھی پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎۔
Mishkat
633
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى: صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے روز فرمایا :’’ انہوں نے ہمیں نماز عصر سے روک دیا ، اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Mishkat
2455
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُهُ؟ فَقَدْ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ قَالَ: «نَعَمْ اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا» قَالَ: فَضَرَبَ اللَّهُ وُجُوهَ أَعْدَائِهِ بِالرِّيحِ وَهَزَمَ اللَّهُ بِالرِّيحِ. رَوَاهُ أَحْمد
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ خندق کے موقع پر ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا کوئی کلمہ ہے جو ہم پڑھیں اب تو کلیجے منہ کو آ رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں : اے اللہ ! ہماری پردے کی چیزوں پر پردہ ڈال دے اور ہمارے خوف کو امن عطا فرما ۔‘‘ اللہ نے آندھی کے ذریعے آپ کے دشمن کا رخ بدل دیا ، اللہ نے آندھی کے ذریعے شکست دی ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
Mishkat
3376
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَرَدَّنِي ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ عَامَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: هَذَا فَرْقُ مَا بَين الْمُقَاتلَة والذرية
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ احد کے موقع پر چودہ سال کی عمر میں مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے مجھے واپس کر دیا ، پھر غزوہ خندق کے موقع پر پندرہ سال کی عمر میں مجھے پیش کیا گیا تو آپ نے مجھے (جہاد کرنے کی) اجازت مرحمت فرما دی ۔ عمر بن عبدالعزیز ؒ نے فرمایا : یہی عمر (پندرہ سال) لڑنے والے جوانوں اور لڑکوں (نابالغ) میں فرق کرنے والی ہے ۔ متفق علیہ ۔
Mishkat
4118
وَعَن أبي السَّائِب قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَبَيْنَمَا نحنُ جلوسٌ إِذ سمعنَا تَحت سَرِيره فَنَظَرْنَا فَإِذَا فِيهِ حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لِأَقْتُلَهَا وَأَبُو سَعِيدٍ يُصَلِّي فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ فَقَالَ: أَتَرَى هَذَا البيتَ؟ فَقلت: نعم فَقَالَ: كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ قَالَ: فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ» . فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةٌ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ لِيَطْعَنَهَا بِهِ وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ فَقَالَتْ لَهُ: اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ وَادْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا: الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى؟ قَالَ: فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ وَقُلْنَا: ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ فَإِذَا رأيتُم مِنْهَا شَيْئا فحرِّجوا عَلَيْهَا ثَلَاثًا فإنْ ذَهَبَ وَإِلَّا فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّهُ كَافِرٌ» . وَقَالَ لَهُمْ: «اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ» وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِنَّ بالمدينةِ جِنَّاً قد أَسْلمُوا فَإِذا رأيتُم مِنْهُم شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسائب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ابوسعید خدری ؓ کے پاس گئے ، ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اس اثنا میں ہم نے ان کی چارپائی کے نیچے کوئی آہٹ سنی ، ہم نے دیکھا کہ وہ سانپ تھا ، میں اسے قتل کرنے کے لیے جلدی سے اٹھا جبکہ ابوسعید ؓ نماز پڑھ رہے تھے ، انہوں نے مجھے اشارہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں ، میں بیٹھ گیا ، جب وہ فارغ ہوئے تو انہوں نے گھر میں ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : یہ کمرہ دیکھ رہے ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے فرمایا : اس کمرے میں ہمارا ایک نوبیاہتا نوجوان تھا ، انہوں نے فرمایا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خندق کی طرف نکلے ، وہ نوجوان نصف النہار کے وقت رسول اللہ ﷺ سے اجازت حاصل کر کے اپنی اہلیہ کے پاس آ جایا کرتا تھا ، چنانچہ ایک روز اس نے آپ ﷺ سے اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ اپنا اسلحہ ساتھ لے جاؤ کیونکہ مجھے تمہارے متعلق بنو قریظہ کا خطرہ ہے ۔‘‘ اس نے اپنا اسلحہ لیا اور اپنے گھر کی طرف چل دیا (جب وہ گھر کے قریب پہنچا تو) اس نے دیکھا کہ اس کی اہلیہ دروازے پر ہے ، اس نے غیرت میں آ کر اس کی طرف نیزہ بڑھایا تاکہ وہ اسے مارے ، اس نے اسے کہا اپنا نیزہ روکیں اور کمرے میں جا کر دیکھیں کہ وہ کون سی چیز ہے جس نے مجھے باہر نکلنے پر مجبور کیا ہے ، وہ داخل ہوا تو اس نے ایک بہت بڑے اژدھے کو کنڈل مارے زمین پر دیکھا تو اس نے نیزہ اس میں گھونپ دیا ، پھر وہ باہر آ گیا اور اسے گھر میں گاڑ دیا سانپ اس (نیزے) پر تڑپنے لگا ، معلوم نہیں ہو سکا کہ ان دونوں میں سے پہلے کون مرا ، سانپ یا وہ نوجوان ؟ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا اور ہم نے عرض کیا ، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ اسے ہمارے لیے زندہ فرما دے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے ساتھی کے لیے مغفرت طلب کرو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ ان گھروں کے کچھ مکین ہیں ، جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو اسے تین بار گھر سے نکلنے پر مجبور کرو اگر وہ چلا جائے (تو ٹھیک) ورنہ اسے مار دو ، کیونکہ وہ کافر ہے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مدینہ میں جِن ہیں ، جو اسلام قبول کر چکے ہیں ، جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو اسے تین روز خبردار کرو ، پھر اگر اس کے بعد بھی ظاہر ہو تو اسے قتل کر دو ، کیونکہ وہ تو شیطان ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Mishkat
4792
وَعَنِ الْبَرَّاءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى اغْبَرَّ بَطْنُهُ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صلَّينا فأنزلنْ سكينَة علينا وثبِّتِ الْأَقْدَام إِن لاقينا إِنَّ الأولى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ: «أَبَيْنَا أَبَيْنَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ خندق کے روز مٹی اٹھا رہے تھے حتی کہ ان کا پیٹ غبار آلود ہو گیا ، آپ ﷺ (اشعار) کہہ رہے تھے :’’ اللہ کی قسم ! اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے ، صدقہ دیتے اور نہ ہی نماز پڑھتے ، ہم پر سکینت نازل فرمانا جب ہم ان (دشمنان دین) سے ملیں تو ہمیں ثابت قوم رکھ کیونکہ انہوں نے ہم پر زیادتی کی ہے ، جب بھی انہوں نے فتنے کا ارادہ کیا تو ہم نے انکار کیا ۔‘‘ آپ لفظ ’’ ہم نے انکار کیا ، ہم نے انکار کیا ‘‘ پر آواز بلند فرماتے تھے ۔ متفق علیہ ۔