TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان

Chapter 30 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 30 of 43 · 5 Hadith
۔ (۱۲۹۷۱)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ذُکِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((لَاَنَا لَفِتْنِۃُ بَعْضِکُمْ اَخْوَفُ عِنْدِیْ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ وَلَنْ یَنْجُوَ اَحَدٌ مِمَّا قَبْلَہَا اِلَّا نَجَا مِنْہَا وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَۃٌ مُنْذُ کَانَتِ الدُّنْیَا صَغِیْرَۃً وَلَا کَبِیْرَۃً اِلَّا لِفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۳)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں دجال کے فتنے کی بہ نسبت تمہارے آپس کے فتنوں یعنی لڑائی جھگڑوں کا زیادہ خطرہ محسوس کرتا ہوں، اور (سنو کہ) جب سے دنیا قائم ہے، اس وقت سے جتنے چھوٹے بڑے فتنے ظہور پذیر ہوئے، وہ سارے کے سارے فتنۂ دجال کی خاطر ہی تھے۔
Takhreej
(۱۲۹۷۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ البزار: ۲۸۰۷، ۲۸۰۸، وابن حبان: ۶۸۰۷، والطبرانی فی الکبیر : ۳۰۱۸ (انظر: ۲۳۳۰۴)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دین کو متاثر کرنے والے بعض فتنوں کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیا ہے، مثال کے طور پر: زبان کا فتنہ، منافقوں کا فتنہ، دنیوی مال و دولت کا فتنہ، ریاکاری کا فتنہ۔ درج ذیل حدیث پر غور کریں، جس میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے فتنے کو دجال سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے: سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا إِلَی مَنْزِلِہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَی أُمَّتِی مِنْ الدَّجَّالِ۔)) فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَدْخُلَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أَیُّ شَیْء ٍ أَخْوَفُ عَلٰی أُمَّتِکَ مِنْ الدَّجَّالِ؟ قَالَ: ((الْأَئِمَّۃَ الْمُضِلِّینَ۔))… ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر کی طرف تشریف لے جا رہے تھے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں چل رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں دجال کی بہ نسبت باقی فتنوں کا ڈر زیادہ ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے والے ہیں، تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو دجال کی بہ نسبت کس چیز کا اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ ڈر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمران۔ (مسند احمد: ۵/ ۱۴۵) اصل بات یہ ہے کہ مسیح دجال کی آزمائش جسمانی ہو گی، ابدی اور سرمدی سعادت کے لیے صبر کے ذریعے اس کو برداشت کرنا ممکن ہو گا، لیکن شرکِ خفی، ریاکاری اور گمراہ حکمرانوں جیسی آزمائشوں کا نتیجہ دنیا میں بے چینی اور آخرت میں خسارہ ہو گا۔
12971
Sahih
۔ (۱۲۹۷۲)۔ وَعَنْ ہِشَامِ بْنِ عَامِرِ نِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَابَیْنَ خَلْقِ آدَمَ اِلَی اَنْ تَقُوْمَ السَّاعَۃُ فِتْنَۃٌ اَکْبَرُ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۷۳)
سیدنا ہشام بن عامرانصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام کی تخلیق سے لے کر قیامت کے قائم ہونے تک کوئی ایسا فتنہ ظاہر نہیں ہوا، جو دجال کے فتنے سے زیادہ سنگین ہو۔
Takhreej
(۱۲۹۷۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۴۶ (انظر: ۱۶۲۶۵)
12972
Sahih
۔ (۱۲۹۷۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((وَاللّٰہِ! مَابَیْنَ خَلْقِ آدَمَ اِلٰی قِیَامِ السَّاعَۃِ اَمْرٌ اَعْظَمُ مِنَ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۶۳)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تخلیقِ آدم سے قیامت تک کوئی معاملہ دجال سے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۲۹۷۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12973
Sahih
۔ (۱۲۹۷۴)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا کَانَتْ فِتْنَۃٌ وَلَاتَکُوْنُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ اَکْبَرَ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۵۸)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ کوئی ایسا فتنہ رونما ہوا اور نہ قیامت تک ہو گا، جو فتنۂ دجال سے زیادہ سنگین ہو۔
Takhreej
(۱۲۹۷۴) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ (انظر: ۱۴۱۱۲)
12974
Sahih
۔ (۱۲۹۷۵)۔ وَعَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ اِصْطِخَرُ نَادٰی مُنَادٍ: اَلَا اِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ، قَالَ: فَلَقِیَہُمُ الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: لَوْلَا مَاتَقُوْلُوْنَ لَاَخْبَرْتُکُمْ اَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَایَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتّٰییَذْھَلَ النَّاسُ عَنْ ذِکْرِہٖوَحَتّٰی تَتْرُکَ الْاَئِمَّۃُ ذِکْرَہُ عَلٰی الْمَنَابِرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۸۸)
راشد بن سعد کہتے ہیں: جب اصطخر فتح ہوا، تو ایک مُنادِی نے یہ آواز دی: خبردار! دجال کا ظہور ہوچکا ہے، یہ سن کر سیدنا مصعب بن جثامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کو جاکرملے اور کہا:جو کچھ تم کہہ رہے ہو، ایسا اگر نہ ہوتا تو میں تمہیں بتلاتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ: اس وقت تک دجال کا ظہور نہیں ہوگا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ لوگ اس کے ذکر سے مکمل طور پر غافل ہوجائیں اور ائمہ یعنی خطباء حضرات منبروں پر اس کا ذکر کرنا چھوڑ دیں۔
Takhreej
(۱۲۹۷۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، راشد بن سعد المقرائی الحمصی لم یدرک الصعب بن جثامۃ، وبقیۃ بن الولید یدلس ویسوی، ومثلہ یحتاج الی التصریح فی جمیع طبقات الاسناد، ثم انہ انفرد بہ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ (انظر: ۱۶۶۶۷)
12975
Zaeef

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.