TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان - شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 23 of یوم عاشوراء in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 23 of 35 · 3 Hadith
۔ (۴۰۲۲) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْلَۃُ الْقَدْرِ فِی الْعَشْرِ الْبَوَاقِیْ مَنْ قَامَہُنَّ اِبْتِغَائَ حِسْبَتِہِنَّ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰییَغْفِرُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَاَخَّرَ، وَہِیَ لَیْلَۃُ وِتْرٍ تِسْعٍ، اَوْ سَبْعٍ اَوْ خَامِسَۃٍ اَوْ ثَالِثَۃٍ، اَوْ آخِرِ لَیْلَۃٍ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اَمَارَۃَ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ اَنَّہَا صَافِیَۃٌ بَلْجَۃٌ، کَاَنَّ فِیْہَا قَمَرًا سَاطِعًا، سَاکِنَۃٌ سَاجِیَۃٌ، لَا بَرْدَ فِیْہَا ولَا حَرَّ ، وَلَا یَحِلُّ لِکَوْکَبٍ اَنْ یُرْمَی بِہِ فِیْہَا حَتّٰی تُصْبِحَ، وَإِنَّ اَمَارَتَہَا اَنَّ الشَّمْسَ صَبِیْحَتَہَا تَخْرُجُ مُسْتَوِیْۃً، لَیْسَ لَہَا شُعَاعٌ مِثْلَ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ، وَلَا یَحِلُّ لِلْشَّیْطَانِ اَنْ یَخْرُجَ مَعَہَا یَوْمَئِذٍ)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۵)
۔ سیدناعبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شب ِ قدر، ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے، جو آدمی اجرو ثواب کی خاطر ان دس راتوں میں قیام کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے گا، یہ رات طاق راتوں یعنی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویںیا انتیسوں کو ہو گی۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا: شب ِ قدر کی علامت یہ ہے کہ یہ رات صاف اور روشن ہوتی ہے، گویا اس میں چاند چمک رہا ہے، انتہائی پرسکون ہوتی ہے، اس رات میں سردی ہوتی ہے نہ گرمی، اس رات کو صبح تک کسی تارے کو نہیں پھینکا جاتا اور جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی، وہ چودھویں کے چاند کی مانند ہوتا ہے اوراس روز اس کے طلوع ہوتے وقت شیطان اس کے سامنے نہیں آتا۔
Takhreej
(۴۰۲۲) تخر یـج: الشطر الاول من الحدیث حسن، والشطر الثانی محتمل للتحسین لشواہدہ، وفی ھذا السند بقیہ بن الولیدیدلس تدلیس التسویۃ (انظر: ۲۲۷۶۵)
Explanation
فوائد:… حدیث کے اس جملے ’’وَہِیَ لَیْلَۃُ وِتْرٍ تِسْعٍ، اَوْ سَبْعٍ اَوْ خَامِسَۃٍ اَوْ ثَالِثَۃٍ، اَوْ آخِرِ لَیْلَۃٍ۔‘‘ کے معانییہ ہیں: ’’قدر والی رات نویںیا ساتویںیا پانچویںیا تیسرییا آخری رات ہوتی ہے۔‘‘ یہ دراصل عربوں کا ایک خاص انداز ہے کہ جب کسی ماہ کا نصف حصہ گزر جائے تو وہ آسانی کے لیے اس کی تاریخ کو آخر سے گننا شروع کر دیتے ہیں، اس حدیث میں ’’نویں‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جب مہینہ کے (۹) دن باقی ہوں، علی ہذا القیاس، ہم نے اپنے رواج کو دیکھ کر اس ٹکڑے کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ’’یہ رات طاق راتوں یعنی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویںیا انتیسوں کو ہو گی۔‘‘ ’’اس رات کو صبح تک کسی تارے کو نہیں پھینکا جاتا‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس رات کو کلمات کی چوری کرنے کے لیے شیطان کو آسمان کی طرف چڑھنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ شب ِ قدر کی جتنی علامتیں اس حدیث میں بیان کی گئی ہیں، ان میں سے درج ذیل دو علامتوں کے ذریعے اس رات کا اندازہ کر لینا ہمارے بس میں ہے: (۱)رات کا صاف اور روشن ہونا، انتہائی پرسکون ہونا اور اس رات کو سردی کا ہونا نہ گرمی کا۔ (۲) جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی، وہ چودھویں کے چاند کی مانند ہوتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمانا کہ ’’اس رات کو صبح تک کسی تارے کو نہیں پھینکا جاتا۔‘‘اس سے مراد شہابِ ثاقب ہے، جو آسمان کی باتیں چرانے کے لیے وہاں پہنچ جانے والے شیطانوں پر فائر کیا جاتا ہے، چونکہ شب ِ قدر کو فرشتوں کا کثرت سے نزول ہو رہا ہوتا ہے، اس لیےیہ شیطان آسمان کی طرف چڑھنے کی جرأت ہی نہیں کرتے۔
4022
Sahih
۔ (۴۰۲۳) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: اَخْبَرْنَا رَسُوْلُ للّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: ((ہِیَ فِی شَہْرِ رمَضَانَ فَالْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فَإِنَّہَا فِی وِتْرٍ لَیْلَۃِ إِحْدٰی وَعِشْرِیْنَ اَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ اَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ اَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ اَوْ آخِرِ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ، مَنْ قَامَہَا احْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ وَمَا تَاَخَّرَ)۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۳)
۔ سیدناعبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں شب ِ قدر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ رات ماہِ رمضان میں ہوتی ہے، پس تم اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو اور اس عشرے کی بھی طاق راتوں میں،یعنی اکیسویںیا تئیسویںیا پچیسویںیا ستائیسویںیا رمضان کی آخری رات میں، جس نے اجرو ثواب کے حصول کے لیے اس رات قیام کیا، اس کی اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیںگے۔
Takhreej
(۴۰۲۳) تخر یـج: حدیث حسن دون قولہ: ’’او فی آخر لیلۃ‘‘، وھذا اسنادہ فیہ عبد اللہ بن محمد بن عقیل ضعیف، وعمر بن عبد الرحمن لم یرو عنہ غیر ابن عقیل، فھو فی عداد المجھولین، وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘ أخرجہ الشاشی فی ’’مسندہ‘‘: ۱۲۸۸(انظر: ۲۲۷۶۳)
Explanation
فوائد:… چونکہ انتیس روزوں کے بعد چاند کی نظر آنے کی توقع ہوتی ہے، اس لیے انتیسویں رات کو آخری رات قرار دیا گیا ہے۔
4023
Sahih
۔ (۴۰۲۴) عَنْ اَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ لِتِسْعٍ یَبْقَیْنَ، اَوْ لِسَبْعٍ یَبْقَیْنَ اَوْ لِخَمْسٍ اَوْ ثَلَاثٍ اَوْ آخِرِ لَیْلَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۴۷)
۔ سیدناابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس رات کو آخری عشرہ میں تلاش کرو، یعنی جب ماہِ رمضان کے نو دن یا سات دن یا پانچ دن یا تین دن باقی ہوں یا پھر اس ماہ کی آخری رات کو۔
Takhreej
(۴۰۲۴) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۷۹۴(انظر: ۲۰۳۷۶)
4024
Sahih

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.