TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1893 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
باب: میت کے غسل کے پانی میں کافور ملانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَتْ حَفْصَةُ،‏‏‏‏ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ .
Hammad reported from Ayyub: And Hafsah said, from Umm 'Atiyyah: 'We put her hair in three braids. '
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔
1893
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 1892 In-book reference : Book 21, Hadith 75 English translation : Vol. 3, Book 21, Hadith 1893
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1892
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۱۸۸۴

Related Chapters

420
1
(8) CHAPTER. The bath of a dead (Muslim) and his ablution with water and Sidr (lote-tree leaves).
میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا اور وضو کرانا
Sahih Bukhari
2
(13) CHAPTER. To Sprinkle camphor on the dead body as the last thing (before shrouding).
میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے
Sahih Bukhari
3
باب: میت کو پانی اور بیر کی پتیوں سے غسل دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
باب: میت کو گرم پانی سے غسل دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
(21)Chapter: What Has Been Related About Al-Madmadah And AI-Istinshaq
باب: وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
(48)Chapter: [What has Been Related] About Permitting That
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Washing The Dead
باب: میت کو غسل دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Performing Ghusl For The One Who Has Washed The Deceased
باب: میت کو غسل دینے سے غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
بَاب غسل الْمَيِّت وتكفينه
میت کو غسل اور کفن دینے کا بیان
Mishkat
10
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
11
ساکن پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس سے وضو یا غسل کرنے کا حکم
Musnad Ahmad
12
وضواور غسل کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
13
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
14
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
15
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
میت کو غسل دینے کا بیان
Musnad Ahmad
17
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
18
(3) CHAPTER. Taking a bath with a Sa of water or so. (One Sa = 3 kilograms approx.)
اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے
Sahih Bukhari
19
(5) CHAPTER. To wash the body (parts) once only.
اس بیان میں کہ صرف ایک مرتبہ بدن پر پانی ڈال کر اگر غسل کیا جائے تو کافی ہوگا
Sahih Bukhari
20
(7) CHAPTER. To rinse the mouth and to clean the nose by putting water in it and then blowing it out while taking the bath of Janaba.
اس بیان میں کہ غسل جنابت کرتے وقت کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے
Sahih Bukhari
21
(11) CHAPTER. Pouring water with one's right hand over the left one, during the bath.
اس شخص سے متعلق جس نے غسل میں اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی گرایا
Sahih Bukhari
22
(18) CHAPTER. The removing of water from one's body with one's hands after taking the bath of Janaba.
اس بارے میں کہ غسل جنابت کے بعد ہاتھوں سے پانی جھاڑ لینا ( سنت نبوی ہے )
Sahih Bukhari
23
(7) CHAPTER. A Junub can perform Tayammum if he is afraid of disease, death or thirst.
جب جنبی کو ( غسل کی وجہ سے ) مرض بڑھ جانے کا یا موت ہونے کا یا ( پانی کے کم ہونے کی وجہ سے ) پیاس کا ڈر ہو تو تیمم کر لے
Sahih Bukhari
24
(9) CHAPTER. It is desirable to wash (the dead body) for an odd number of times.
میت کو طاق مرتبہ غسل دینا مستحب ہے
Sahih Bukhari
25
(10) CHAPTER. To start from the right side while giving a bath to a dead body.
اس بیان میں کہ ( غسل ) میت کی دائیں طرف سے شروع کیا جائے
Sahih Bukhari
26
(14) CHAPTER. To undo the hair of a (dead) female.
میت عورت ہو تو غسل کے وقت اس کے بال کھولنا
Sahih Bukhari
27
Chapter: The amount of water with which it is recommended to perform ghusl in the case of janabah; a man and woman washing from a single vessel; one of them washing with the left-over water of the other
غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک ( ہی ) حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا
Sahih Muslim
28
Chapter: At the beginning of Islam, intercourse did not necessitate ghusl unless semen was emitted, then that was abrogated and ghusl becomes obligatory for intercourse
پانی ( سے غسل) صرف (منی کے ) پانی ( کی وجہ ) سے ہے
Sahih Muslim
29
Chapter: Abrogation of “water is for water”, and that it is obligatory to perform ghusl when the two circumcised parts meet
’’پانی ، صرف پانی سے ہے ‘‘ منسوخ ہے اور ختنے کے مقاماتے کےملنے سے غسل ضروری ہے
Sahih Muslim
30
Chapter: Prohibition of women attending funerals
عورتوں کےلیے جنازے کے پیچھے (ساتھ)جانے کی ممانعت میت کو غسل دینا
Sahih Muslim
31
CHAPTER: Water Does Not Become Junub (Impure).
باب: غسل جنابت کا بچا ہوا پانی نجس نہیں ہوتا ۔
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: The Amount Of Water With Which Ghusl Can Be Performed.
باب: پانی کی اس مقدار کا بیان جو غسل کے لیے کافی ہوتا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: Covering The Deceased When Washing Him.
باب: میت کو غسل دیتے ہوئے اس کے لیے پردہ کرنا ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: How The Deceased Is To Be Washed.
باب: میت کو کیسے غسل دیا جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: Ghusl For The One Who Has Washed A Deceased Person.
باب: میت کو نہلانے والے کے لیے غسل کرنے کا مسئلہ ۔
Sunnan Abu Dawood
36
وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
37
میت کو غسل دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
38
جنبی کے (غسل سے) بچے ہوئے پانی کا حکم
Sunnan Nisai
39
ٹھہرے ہوئے پانی میں جنبی کے غسل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا اور اس سے غسل کرنا منع ہے۔
Sunnan Nisai
41
کتنا پانی آدمی کے غسل کے لیے کافی ہو گا ؟
Sunnan Nisai
42
غسل کے لیے پانی کی تحدید نہ ہونے کا ذکر۔
Sunnan Nisai
43
جنبی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
44
جنبی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
45
وضو اور غسل میں انسان کے لیے کتنا کتنا پانی کافی ہے ؟
Sunnan Nisai
46
ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
47
جس پانی سے غسل کیا جائے اس کے عدم تحدید کی دلیل۔
Sunnan Nisai
48
آٹا لگے ہوئے برتن میں پانی بھر کر غسل کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
غسل جنابت میں سر کی پوری جلد تک پانی پہنچانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
باب: میت کو طاق بار غسل دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

2,491
Sahih Muslim
4336
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنِ الثَّقَفِيِّ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا حَمَّادٌ، فَحَدِيثُهُ كَرِوَايَةِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَأَمَّا الثَّقَفِيُّ، فَفِي حَدِيثِهِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ،
This hadith has been narrated through another chain of transmitters (and the words are): A person from among the Ansar willed away the freedom of six slaves of his at the time of his death.
حماد اور ( عبدالوہاب ) ثقفی دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، حماد کی حدیث ابن عُلیہ کی حدیث کی طرح ہے اور ثقفی کی حدیث میں ہے : انصار کے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت وصیت کی اور چھ غلام آزاد کر دیے
Sahih Muslim
4407
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَأَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَعُبَيْدِ اللهِ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، غَيْرَ أَنَّ بَعْضَهُمْ قَالَ قِيمَتُهُ، وَبَعْضَهُمْ قَالَ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through some other chains of transmitters but with a slight variation of words.
لیث بن سعد ، عبیداللہ ( بن عمر بن حفص العمری ) ، ایوب سختیانی ، ایوب بن موسیٰ ، اسماعیل بن امیہ ، موسیٰ بن عقبہ ، حنظلہ بن ابی سفیان جمحی ، عبیداللہ بن عمر ( عمری ) مالک بن انس اور اسامہ بن زید لیثی تک ان کے شاگردوں کی مختلف سندیں ہیں ۔ ان کے بعد ان سب نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، امام مالک سے یحییٰ کی حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ ان میں سے بعض نے اس کی قیمت کہا اور بعض نے تین درہم کا ثمن ( معنی وہی ہے
Sahih Muslim
4512
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي كِلاَهُمَا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ،عَنْ أَيُّوبَ، وَابْنُ، جُرَيْجٍ عَنْ مُوسَى، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا ‏ ‏ فَيُنْتَثَلَ ‏ ‏ ‏.‏ إِلاَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ ‏ ‏ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ ‏ ‏ ‏.‏ كَرِوَايَةِ مَالِكٍ ‏.‏
This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of words.
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے
Sahih Muslim
5189
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ الْأَيْلِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ إِلَّا مَالِكٌ، وَأُسَامَةُ
This hadith has been reported on the authority of Ibn 'Umar with different chains of transmitters but they have not mentioned: In one of his expeditions except Malik and Usama.
لیث بن سعد ، ایوب ، عبیداللہ ، یحییٰ بن سعید ، ضحاک بن عثمان اور اسامہ ان سب نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مالک کی حدیث کے مانند روایت کی ، مالک اور اسامہ کے سوا ان میں سے کسی نے " ایک غزوے کے دوران میں " کے الفاظ نہیں کہے ۔
Jam e Tirmazi
27
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،‏‏‏‏ وَجَرِيرٌ،‏‏‏‏ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَثِرْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ . قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ،‏‏‏‏ وَلَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ،‏‏‏‏ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِيمَنْ تَرَكَ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ إِذَا تَرَكَهُمَا فِي الْوُضُوءِ حَتَّى صَلَّى، ‏‏‏‏‏‏أَعَادَ الصَّلَاةَ وَرَأَوْا ذَلِكَ فِي الْوُضُوءِ وَالْجَنَابَةِ سَوَاءً وَبِهِ. يَقُولُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق،‏‏‏‏ وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ الِاسْتِنْشَاقُ أَوْكَدُ مِنَ الْمَضْمَضَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ يُعِيدُ فِي الْجَنَابَةِ وَلَا يُعِيدُ فِي الْوُضُوءِ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَبَعْضِ أَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَتْ طَائِفَةٌ:‏‏‏‏ لَا يُعِيدُ فِي الْوُضُوءِ وَلَا فِي الْجَنَابَةِ لِأَنَّهُمَا سُنَّةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَجِبُ الْإِعَادَةُ عَلَى مَنْ تَرَكَهُمَا فِي الْوُضُوءِ وَلَا فِي الْجَنَابَةِ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ فِي آخِرَةٍ.
Salamah bin Qais narrated that : Allah's Messenger said: When you perform Wudu then sniff water in the nose and blow it out, and when you use small stones (to remove filth) then make it odd (numbered).
سلمہ بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو ناک جھاڑو اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلے لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، لقیط بن صبرہ، ابن عباس، مقدام بن معدیکرب، وائل بن حجر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- سلمہ بن قیس والی حدیث حسن صحیح ہے، ۳- جو کلی نہ کرے اور ناک میں پانی نہ چڑھائے اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے: ایک گروہ کا کہنا ہے کہ جب کوئی ان دونوں چیزوں کو وضو میں چھوڑ دے اور نماز پڑھ لے تو وہ نماز کو لوٹائے ۱؎ ان لوگوں کی رائے ہے کہ وضو اور جنابت دونوں میں یہ حکم یکساں ہے، ابن ابی لیلیٰ، عبداللہ بن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں، امام احمد ( مزید ) کہتے ہیں کہ ناک میں پانی چڑھانا کلی کرنے سے زیادہ تاکیدی حکم ہے، اور اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جنابت میں کلی نہ کرنے اور ناک نہ جھاڑنے کی صورت میں نماز لوٹائے اور وضو میں نہ لوٹائے ۲؎ یہ سفیان ثوری اور بعض اہل کوفہ کا قول ہے، ایک گروہ کا کہنا ہے کہ نہ وضو میں لوٹائے اور نہ جنابت میں کیونکہ یہ دونوں چیزیں مسنون ہیں، تو جو انہیں وضو اور جنابت میں چھوڑ دے اس پر نماز لوٹانا واجب نہیں، یہ مالک اور شافعی کا آخری قول ہے ۳؎۔
Jam e Tirmazi
675
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، ‏‏‏‏‏‏صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ . قَالَ:‏‏‏‏ فَعَدَلَ النَّاسُ إِلَى نِصْفِ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَدِّ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَاب، ‏‏‏‏‏‏وَثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
Ibn Umar narrated: The Messenger of Allah made Sadaqatul-Fitr an obligation upon the male and female, the free and the bondsmen, as a Sa of dried dates or a Sa of barley. He said: So the people equated that to half a Sa of wheat.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر، ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو فرض کیا، راوی کہتے ہیں: پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، ابن عباس، حارث بن عبدالرحمٰن بن ابی ذباب کے دادا ( یعنی ابوذباب ) ، ثعلبہ بن ابی صعیر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2229
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ يَخْذُلُهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ فَقَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ هُمْ أَهْلُ الْحَدِيثِ.
Thawban narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: I only fear for my Ummah from the misguiding A'immah. He said that the Messenger of Allah(s.a.w) said: There will never cease to be a group from my Ummah manifest upon the truth, they will not be harmed by those who forsake them until Allah's Decree comes.
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں ( حاکموں ) سے ڈرتا ہوں“ ۱؎، نیز فرمایا: ”میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی، ان کی مدد نہ کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم ( قیامت ) آ جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ میں نے علی بن مدینی کو کہتے سنا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ”میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی“ ذکر کی اور کہا: وہ اہل حدیث ہیں۔
Jam e Tirmazi
2896
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنٍ امْرَأَةِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ؟ مَنْ قَرَأَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ فَقَدْ قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَحْسَنَ مِنْ رِوَايَةِ زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ إِسْرَائِيلُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنً الثِّقَاتِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاضْطَرَبُوا فِيهِ.
Narrated Abu Ayyub: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Would one of you like to recite a third of the Qur'an during a night? Whoever recited: Allaahu Al-Wahid As-Samad then he has recited a third of the Qur'an.
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات سے بھی عاجز ہے کہ رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ ڈالے؟ ( آپ نے فرمایا ) جس نے «الله الواحد الصمد» پڑھا ( یعنی سورۃ الاخلاص پڑھی ) اس نے تہائی قرآن پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے زائدہ کی روایت سے بہتر اسے روایت کیا ہو، اور ان کی روایت پر ان کی متابعت اسرائیل، فضیل بن عیاض نے کی ہے۔ شعبہ اور ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے یہ حدیث منصور سے روایت کی ہے اور ان سبھوں نے اس میں اضطراب کا سے کام لیا، ۳- اس باب میں ابوالدرداء، ابو سعید خدری، قتادہ بن نعمان، ابوہریرہ، انس، ابن عمر اور ابومسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
101
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ
Another hadith, the like of which has been narrated by Malik (b. Anas) (and mentioned above) is also reported by Talha b. 'Ubaidullah, with the only variation that the Prophet remarked: By his father, he shall succeed if he were true (to what he professed), or: By his father, he would enter heaven if he were true (to what he professed).
اسماعیل بن جعفر نے ابو سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نےحضرت طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے ، مالک سے حدیث کی طرح روایت کی ، سوائے اس کے کہ کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کامیاب ہوا ، اس کے باپ کی قسم ! اگر اس نے سچ کر دکھایا ِ ‘ ‘ یا ( فرمایا : ) ’’جنت میں داخل ہو گا ، اس کے باپ کی قسم ! اگر اس نے سچ کر دکھایا ۔ ‘ ‘