غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Chapter 22 of نیند کی وجہ سے وضو کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کا پانی رکھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسلِ جنابت کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کرلیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑا لے کر آئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو ردّ کر دیا۔
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک چیتھڑا پکڑایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یہ اشارہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نہیں چاہیے، سلیمان اعمش کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابراہیم کے لیے ذکر کی، انھوں نے کہا: بات اسی طرح ہی ہے، اور انھوں نے اس کا انکار نہیں کیا اور مزید کہا: کپڑا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔
Takhreej
(۸۹۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان روایات سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطورِتولیہ کپڑا استعمال نہیں کیا، جبکہ ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
سیدنا عروہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ لَہُ خِرْقَۃٌ یَتَنَشَّفُ بِھَا بَعْدَ الْوُضُوْئِ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا، جس سے وضو کے بعد (اعضا) خشک کرتے تھے۔ (ترمذی:۱/۷۴، حاکم:۱/۱۵۴، بیھقی:۱/۱۸۵، صحیحہ: ۲۰۹۹) وضو یا غسل کے بعد اعضاء کو تولیے وغیرہ سے خشک کرنے یا نہ کرنے کا وضو اور غسل کے اجر کی کمی یا زیادتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کرتے، پھر دو سنتیں اور نمازِ فجر ادا کرتے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کے بعد نیا وضو کیا ہو۔