TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ساکن پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس سے وضو یا غسل کرنے کا حکم - ساکن پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس سے وضو یا غسل کرنے کا حکم - طہارت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of طہارت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 12 · 3 Hadith
۔ (۳۹۳)۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: زَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُبَالَ فِی الْمَائِ الرَّاکِدِ۔ (مسند أحمد: ۱۴۷۲۳)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ساکن پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۳۹۳) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۴۱(انظر: ۱۴۶۶۸)
393
Sahih
۔ (۳۹۴)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا یَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِیْ الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ مِنْہُ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ۔)) بَدْلَ ((یَتَوَضَّأُ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۱۷)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی آدمی کھڑے پانی میں ہر گز پیشاب نہ کرے، پھر وہ اس میں وضو کرے گا۔ اور ایک روایت میں ہے: پھر وہ اس سے غسل کرے گا۔ یہ الفاظ یَتَوَضَّأُ کی جگہ پر ہیں۔
Takhreej
(۳۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۲(انظر: ۷۵۲۵)
394
Sahih
۔ (۳۹۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَبُلْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ الَّذِیْ لَا یَجْرِیْ ثُمَّ تَغْتَسِلُ مِنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۷۱)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو اس کھڑے پانی میں پیشاب نہ کر، جو چلتا نہیں ہے، پھر تو اس میں غسل کرے گا۔
Takhreej
(۳۹۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …صحیح مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((لَایَغْتَسِلُ اَحَدُکُمْ فِیْ الْمَائِ الدَّائِمِ وَھُوَ جُنُبٌ۔)) فَقَالُوْا: یَا اَبَاھُرْیَرَۃَ کَیْفَ یَفْعَلُ؟ قَالَ: یَتَنَاوَلُُہٗ تَنَاوُلًا … کوئی آدمی ساکن پانی میں غسل جنابت نہ کرے۔ لوگوں نے کہا: اے ابوہریرہ! تو پھر وہ کیا کرے؟ انھوں نے کہا: وہ وہاں سے پانی لے کر (نہا لے)۔ اور سنن ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَبُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ فِیْ الْمَائِ الدَّائِمِ وَلَایَغْتَسِلْ فِیْہِ مِنَ الْجَنَابَۃِ)) … کوئی آدمی کھڑے پانی میں ہر گز نہ پیشاب کرے اور نہ اس میں غسل کرے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ساکن پانی میں پیشاب کرنا اور غسل جنابت کرنا منع ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ پانی قلتین سے کم ہوا تو نجس ہو جائے گا اور اگر قلتین سے زیادہ ہوا تو ممکن ہے کہ اس میں پیشاب وغیرہ کرنے کا انجام یہ نکلے کہ اس کا ذائقہ یا بو یا رنگ تبدیل ہو جائے اور اس طرح وہ بھی ناپاک ہو جائے، اگر وہ ناپاک نہ بھی ہو تو فطرت ِ سلیمہ ایسے کرنے کو ناپسند کرتی ہے۔
395
Sahih