عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: دَعَا النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم الْأَنْصَارَ فَقَالَ: هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ غَيْرَكُمْ؟ قَالُوا: لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ.
) انسرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار كو بلا كر فرمایا:كیا تم میں تمہارے علاوہ كوئی اور بھی ہے؟ انصار نے كہا:ہمارے بھانجے کےعلاوہ کوئی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم كا بھانجا انہی میں سے ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (776)، صحيح البخاري كتاب المناقب باب ابن أخت القوم ومولى القوم منهم رقم (3327)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلمی كو رجم كروانے كے بعد فرمایا:جس گندگی سےاللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہےاس سے بچو۔ جس شخص سے كوئی گناہ سر زد ہو جائے وہ اللہ كے پردے كواوڑھے ركھے(كیوں كہ جس شخص كا معاملہ ہمارے سامنے واضح ہوگیا ہم اس پر اللہ كی كتاب (حد)نافذ كریں گے)
Takhreej
الصحيحة رقم (663)، السنن الكبرى للبيهقي كتاب الأشربة والحد فيه باب مَا جَاءَ فِى الاِسْتِتَارِ بِسِتْرِ اللَّهِ َرقم (18056)
سعید بن سعد بن عبادہ رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ ہمارے گھر وں كے درمیان ایك بوڑھا لاغر شخص رہتا تھا، اسے كسی گھر كی لونڈی سے خا ثت كرتے دیكھاگیا۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اس كا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس لے كرگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سو كوڑے مارو، لوگوں نے كہا: اے اللہ كے نبی یہ بوڑھا تو بہت كمزور ہے، اگر ہم نے اسے سو كوڑے مارے تو یہ مر جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایك ٹہنی لو جس میں سو شاخیں ہو اس سے اسے ایك ضرب لگادو
Takhreej
الصحيحة رقم (2986)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْحُدُودِ بَاب الْكَبِيرِ وَالْمَرِيضِ يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ رقم (2564)
ابو عبدالرحمن سے مروی ہے كہ علیرضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: اے لوگو اپنے غلاموں پر حدود قائم كرو، شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، كیوں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی ایك لونڈی نے زنا كیا تو آپ نے مجھے حكم دیا كہ میں اسے كوڑے ماروں ۔ وہ نفاس سے فارغ ہوئی تھی۔ مجھے خدشہ ہوا كہ اگر میں نے اسے كوڑے مارے تو كہیں یہ مرنہ جائے ۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تذكرہ كیا تو آپ نے فرمایا: تم نے اچھا كیا(جب تك یہ تندرست نہ ہوجائےاسے چھوڑ دو)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2499)، صحيح مسلم كتاب الحدود باب تَأْخِيرِ الْحَدِّ عَنِ النُّفَسَاءِ رقم (4547)
) ابو عبدالرحمن سے مروی ہے كہ علیرضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا: اے لوگو كسی بھی غلام اور لونڈی نے(قابل حد)گناہ كیا تو ان پر حد قائم كرواوراگر ان دونوں نے زنا کیا تو انہیں حد میں کوڑے لگاؤ۔۔۔ پھركہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی ایك لونڈی نے زنا كا بچہ جنا تو آپ نے مجھے كوڑے مارنے كے لئے بھیجا۔ وہ نفاس سے نئی نئی فارغ ہوئی تھی، مجھے خدشہ ہوا كہ(اگر میں نے اسے كوڑے مارے تو) وہ مر جائے گی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا كیا(جب تك یہ تندرست نہ ہوجائے اسے چھوڑ دو)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3278)، السنن الكبرى للبيهقي كتاب الحدود باب حَدِّ الرَّجُلِ أَمَتَهُ إِذَا زَنَتْ رقم (17562)
قَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِى الطَّرِيقِ جُعِلَ عَرْضُهُ سَبْعَ أَذْرُعٍ».
) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم كسی راستے میں اختلاف كرو تو سات بازو چوڑائی چھوڑ دو۔( ) یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ، عبداللہ بن عباس، عبادۃ بن صامت، انس بن مالک اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3960)، صحيح مسلم كتاب المساقاة باب قَدْرِ الطَّرِيقِ إِذَا اخْتَلَفُوا فِيهِ رقم (4224)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم اٹھا کر (بزعم خود) سچا بن کر اس پر قائم رہے تو وہ اللہ کا گناہگار ہے۔ وہ اس کا کفارہ ادا کرے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ تووہ اللہ کے یہاں اس کفارے سے بھی زیادہ گناہ گار ہوتا ہےجس کا اسے حکم دیا گیا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1229)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْكَفَّارَاتِ بَاب النَّهْيِ أَنْ يَسْتَلِجَّ الرَّجُلُ فِي يَمِينِهِ وَلَا يُكَفِّرَ رقم (2105)
عن أبي مَوسَى الأَشعَري عن النَّبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: إِذا أَصَبْحَ إِبْلِيسُ بَثَّ جُنُودَه، فَيَقُولُ: مَنْ أَضَلّ الْيَوْم مُسلمًا أَلْبَسْتُهُ التَّاجَ قَالَ: فَيَخْرُجُ هذا فَيَقُول: لَمْ أَزَلَ بِه حَتَّى طَلَّقَ امْرَأَتَه فَيَقُول: أَوْشَكَ أَنْ يَتَزَوَّجَ. وَيَجِيءُ هذا فَيَقُول: لَم أَزَل بِه حَتَّى عَقّ وَالِدَيْه فَيَقُول: يُوشَكُ أَن يَبَرَّهُما. ويَجِيءُ هذا فيقول: لَم أَزَل بِه حَتَّى أَشْرَكَ فَيَقُول: أَنتَ أَنتَ! ويَجِيءُ هذا فَيَقُول: لَم أَزَل بِه حتى قَتَل فَيَقُول: أَنتَ أَنتَ ويُلْبسهُ التَّاج.
) ابو موسیٰ اشعریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابلیس صبح کے وقت اپنے لشكر پھیلا دیتا ہے اور كہتاہےجوچیلہ آج كسی مسلمان كو گمراہ كرے گا میں اسے تاج پہناؤں گا۔ (واپس آکر) ایك چیلہ باہر نكلتا ہے كہتا ہے كہ میں نے آج كسی(مسلمان) كی بیوی كو طلاق دلوا دی۔ ابلیس كہتا ہے: ممکن ہے وہ (دوبارہ) شادی كر لے گا، دوسرا آتا ہے كہتا ہے: میں نے اس(ابن آدم) سے اس كے والدین كی نا فرمانی كروادی۔ ابلیس كہتاہے:ممكن ہے وہ ان سے نیكی كر لے، ایك اور آتا ہے اور كہتاہے: میں نے اس (ابن آدم)سے شرك كروا كر چھوڑا۔ ابلیس كہتا ہے: تم نے كام كیا ہے، ایك اور آتا ہے كہتا ہے: میں نے قتل كروا كر چھوڑا، ابلیس كہتا ہے كہ تم نے كام كیا ہے اور اسے تاج پہنا دیتاہے۔( )
) علیرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جب جھگڑا كرنے والے تمہارے پاس آئیں تو ان كا فیصلہ اس وقت تك نہ كرو جب تك پہلے كی بات سننے كے بعد دوسرے كی بات نہ سن لو۔ جب تم ایسا كرو گے تو تمہارے لئے فیصلہ كرنا واضح (آسان) ہو جائے گا
عَنْ أَنسِ بن مَالِكٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا حَكَمْتُمْ فَاعْدِلُوا وإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا فإِنَّ اللهَ محسنٌ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ.
انس بن مالكرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم فیصلہ كرو تو انصاف كرو، اور جب تم قتل كرو تونیكی( عمدہ طریقے سے) كرو۔ كیوں كہ اللہ تعالیٰ احسان كرنے والا ہے اورا حسان( نیكی) كرنے والوں كو پسند فرماتا ہے
عن عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لونڈی زنا كرے تو اسے كوڑے مارو، پھر زنا كرے تو پھركوڑے مارو، پھر زنا كرے تو پھر كوڑے مارو، پھر اسے بیچ دو بھلے ایک رسی کے بدلے ہی بیچ دو
Takhreej
الصحيحة رقم (2921)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْحُدُودِ بَاب إِقَامَةِ الْحُدُودِ عَلَى الْإِمَاءِ رقم (2556)
) معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ شراب پئیں تو انہیں كوڑے مارو، پھر شراب پئیں توپھر كوڑے مارو، پھر شراب پئیں تو پھر كوڑے مارو، پھر اگر(چوتھی مرتبہ) شراب پئیں تو انہیں قتل كردو
Takhreej
الصحيحة رقم (1360)، سنن أبى داود كتاب الحدود باب إِذَا تَتَابَعَ فِى شُرْبِ الْخَمْرِ رقم (4484)
حكیم بن حزام رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ابو عبیدہ بن جراحرضی اللہ عنہ نے کسی کسان کو کسی بات پر سزا دی تو خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے ان سےگفتگو كی۔ ان سے كسی نے كہا: آپ نے امیر كو غصہ دلا دیا؟ خالد نے كہا:میرا مقصد انہیں غصہ دلانا نہیں تھا، لیكن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے:قیامت كے دن اللہ كے ہاں شدید ترین عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں لوگوں كو سخت ترین اذیتیں دیتے ہونگے
عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ قَتَلَهُ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِيًّا وَإِمَامُ ضَلَالَةٍ وَمُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِينَ.
عبداللہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت كے دن شدید ترین عذاب كا مستحق وہ شخص ہوگا جس نےكسی نبی كو قتل كیا ہوگا یا اسے كسی نبی نے قتل كیا ہوگا، اور گمراہ كرنے والا امام اور مصوروں/ مجسمہ سازوں میں سے مصور/ مجسمہ ساز
عمیر مولی ابی اللحم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں اپنے مالکوں كے ساتھ ہجرت كی غرض سے آیا۔ جب ہم مدینے كے قریب پہنچے تو وہ خودمدینے میں داخل ہوگئے اور مجھے پیچھے چھوڑ دیا۔ مجھے شدید بھوك لگی، مدینے سے نكلنے والے كچھ لوگ میرے پاس سےگزرےتو مجھے كہا:اگر تم مدینے میں داخل ہو كر اس كے پھل كھا لو (تو تمہاری بھوك ختم ہو سكتی ہے)۔ میں ایك باغ میں داخل ہو ا اور دو خوشے توڑے، میرے پاس باغ كا مالك آیا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس لے گیا، میرا معاملہ آپ كے سامنے ركھا میرے اوپر دو کپڑے تھے۔ توآپ نے مجھ سے فرمایا:ان دونوں خوشوں میں سے كونسا اچھا ہے؟میں نے ایك كی طرف اشارہ كیاتوآپ نےفرمایا:یہ لے لو اور باغ كے مالك كو دوسرا خوشہ دے دیا۔ میرا راستہ چھوڑ دیا( کچھ نہ کہا)۔