TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حدود، معاملات اور احکام کا بیان - حدود، معاملات اور احکام کا بیان - Book 11 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 11 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 140 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

140 Hadith · 1 Chapters
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ. ورد من حدیث عمر و زید بن ثابت و ابی بن کعب والعجمآء خالة ابی امامة بن سھل. حدیث عمر عن ابن عباس رضی اللہ عنہم قال: قَالَ عُمَرُ: قَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: مَا نَجِدُ الرَّجْمَ ما فِي كِتَابِ اللهِ، فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللهُ، أَلا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ إِذَا أُحْصِنَ، أو قَامَتِ الْبَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ حَمْلُ، أَوِاعْتِرَافُ، وَقَدْ قَرَأْتهَا: الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ...، الحديث. قَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ.
شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب زنا كریں تو ان دونوں كو لازمی طور پر رجم كرو۔ یہ حدیث سیدنا عمر، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوامامۃ بن سھل کی خالہ العجماء رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ عمر‌رضی اللہ عنہ کی حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے بیان کرتے ہیں کہ عمر‌رضی اللہ عنہ نے فرمایا:مجھے خدشہ ہے کہ کچھ عرصہ گذرجائےاور کوئی شخص کہے کہ اس رجم کا حکم قرآن مجید میں موجود نہیں اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ فریضے کو ترک کرنےکی وجہ سےگمراہ ہوجائیں۔ خبردار جب شادی شدہ زنا كرے تو رجم كر نا حق ہے یا تو دلیل مل جائے یا حمل ہو جائے، یا اعتراف كر لے۔ میں نے یہ آیت پڑھی ہے: شادی شدہ مرد اور عورت جب زنا كریں تو۔۔۔۔( الحدیث) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم كروایا اور ان كے بعد ہم بھی رجم كروائیں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (2913)، سنن ابن ماجه كتاب الحدود باب الرجم رقم (2553)
1641
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنِ الْجَارُودِ مرفوعاً: ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ.
جارود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:مسلمان كی گم شدہ چیز (جسے کوئی شخص قبضہ کرنے کی نیت سےاٹھاتاہے)آگ کے شعلوں کا باعث ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (620)، مسند أحمد رقم (20756)
1642
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : العَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالمِنْحَةُ مَرْدُوْدَةٌ وَمَن وَجَد لُقَطَةً مُصَرّاةً، فَلَا يحلُّ لَه صِرَارُها حَتى يُرِيَها.
ابو امامہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ادھار ادا کیا جائے گا،دودھ والا جانور واپس کیا جائے گا،اور جسے بندھی ہوئی کوئی گری پڑی چیز ملے تو اس کے لئے اس کا کھولنا حلال نہیں یہاں تک کہ اسے کسی کو دکھا دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (611)، صحيح ابن حبان رقم ( 1174 )
1643
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ مَرْفوعاً: قِتَالُ الْمُؤْمِنِ كُفْرٌ وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ وَلَايَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَأَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ.
سعد بن ابی وقاص‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مومن سے لڑائی كرنا كفر ہے اور اسے گالی دینا فسق ہے۔ اور كسی مسلمان كے لئے حلال نہیں كہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی كرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2298)، مسند أحمد رقم (1519)
1644
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لَا يَحْنَثُ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى كَفَّارَةَ الْيَمِين فَقَال : لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِين فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنها إِلَا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِيْنِي ثُمَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُو خَيْر.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب كوئی قسم كھاتے تو اسے نہ توڑتے ۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے قسم كا كفارہ نازل كیا توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:جب میں كوئی قسم كھاتا ہوں پھر اس سے بہتر كام دیكھتا ہوں تو اپنی قسم كا كفارہ دے دیتا ہوں اور بہتر كام كر لیتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (2068)، المستدرك رقم (7826)
1645
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عن شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! مَا كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا كَانَ عِنْدَكِ؟ قَالَتْ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ: يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ! ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ. فقيلَ لَه ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ آدَمِيٌّ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللهِ فَمَنْ شَاءَ أَقَامَ وَمَنْ شَاءَ أَزَاغَ.
شھر بن حوشب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے كہا: اے ام المومنین! جب اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ كے پاس ہوتے تو كونسی دعا زیادہ كرتےتھے؟ انہوں نے كہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اكثر یہ دعا کیا كرتےتھے: اے دلوں كو پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر ثابت كر دے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ہر آدمی كا دل اللہ تعالیٰ كی دو انگلیوں كے درمیان ہوتا ہے ۔جس كا دل چاہے ثابت ركھے جس كا دل چاہے ٹیڑھا كر دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2091)، سنن الترمذى كِتَاب الدَّعَوَاتِ رقم (3444)
1646
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ رِفَاعَةَ عَرَابَة الْجُهَنِيِّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا حَلَفَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ
رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب كوئی قسم كھاتے تو كہتے : اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) كی جان ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1647)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْكَفَّارَاتِ بَاب يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ رقم (2081)
1647
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ: كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا.
عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ كو طلاق دی پھر رجوع كر لیا
Takhreej
الصحيحة رقم (2007)، سنن أبى داود كتاب الطلاق باب فِى الْمُرَاجَعَةِ رقم (2285)
1648
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْخُذُ الْوَبَرَةَ مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ مِنَ الْمَغْنَمِ فَيَقُولُ: مَا لِي فِيهِ إِلَّا مِثْلُ مَا لِأَحَدِكُمْ مِنْهُ إِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّ الْغُلُولَ خِزْيٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ وَمَا فَوْقَ ذَلِكَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِنَّهُ لَيُنَجِّي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ وَلَا يَأْخُذْكُمْ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت میں سے كسی اونٹ كے بال لیتے پھر فرماتے: میرا اس (مال فے) میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا كسی اور كا، خیانت سے بچو كیوں كہ یہ قیامت والے دن خیانت كرنے والے كے لئے رسوائی كا باعث ہوگی۔ دھاگہ، سوئی اور اس سے بھی كم تر چیز واپس كر دو۔ اللہ كے راستے میں قریب اور دور ، مقیم حالت میں اور سفر میں جہاد كرو، كیوں كہ جہاد جنت كے دروازوں میں سے ایك دروازہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس كے ذریعے غم اور پریشانی سے نجات دیتا ہے۔ قریبی اور دور كے عزیزپر(بھی)اللہ كی حدود قائم كرو۔ تمہیں اللہ كے بارے میں كسی ملامت كرنے والے كی ملامت کا خوف نہیں ہونا چاہئے
Takhreej
الصحيحة رقم (670)، مسند أحمد رقم (22795)
1649
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عن الْعِرْبَاضِ:كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْخُذُ الْوَبَرَةَ مِنْ قُصَّةٍ مِنْ فَيْءِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ: مَا لِي مِنْ هَذَا إِلَّا مِثْلَ مَا لِأَحَدِكُمْ إِلَّا الْخُمُسَ وَهُوَ مَرْدُودٌ فِيكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ فَمَا فَوْقَهُمَا وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ! فَإِنَّهُ عَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مالِ فئے كے اونٹ كے بال لیتے پھر فرماتے: میرا اس میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا كسی عام آدمی كا سوائے خمس كے ، اور وہ بھی تم میں ہی واپس لوٹا دیا جائے گا۔ سوئی ، دھاگہ اور اس سے بھی كم تر چیز واپس كر دو، خیانت سے بچو، كیوں كہ یہ قیامت كے دن خیانت كرنے والے كے لئے عار اور رسوائی كا باعث ہوگی
Takhreej
الصحيحة رقم (669)، مسند أحمد رقم (17154)
1650
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (بْنِ عُتْبَةَ) عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ تَعَالَتْ من نَفَاسِهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأيامٍ. فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ فَقَالَ: إِنَّكِ لَا تحِلِّي حَتَّي تَمْكُثِي أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْراً. فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ لَيْسَ كَمَا قَالَ قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي (إِذَا أَتَاكِ أَحَدٌ تَرْضَيْنَهُ فَأْتِينِي أَوْ أَنْبِئِينِي).
) عبیداللہ بن عبداللہ (بن عتبہ)اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ سبیعہ بنت حارث اپنے شوہر كی وفات كے كچھ دن بعد نفاس سے فارغ ہوئی۔ ابو سنابل ان كے پاس سے گزرے تو كہا: تم اس وقت تك حلال نہیں ہوگی جب تك چار مہینے دس دن نہ گزار لو۔ سبیعہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذكر كی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو سنابل نے جھوٹ بولا، جو بات اس نے کہی حقیقت اس طرح نہیں۔تم حلال ہو چكی ہو۔ نكاح كر سكتی ہو( جب تمہارے پاس كوئی شخص آئے جسے تم پسند كرتی ہو تو میرے پاس آجانا، یا مجھے اطلاع کر دینا)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3274)، سنن سعيد بن منصور رقم (1506)
1651
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَفَاكَ الْحَيَّةَ ضَرْبَةٌ بِالسَّوْطِ، أَصَبْتَهَا أَمْ أَخْطَأْتَهَا
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہارے لئےکافی ہے کہ تم سانپ کوایک کوڑا مارو،نشانےپرلگے یا خطا ہو جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (676)، السنن الكبرى للبيهقي رقم (3575)، الحديث لأبي العباس الأصم رقم (150)
1652
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مرفوعاً: كُلُّ مُخَمِّرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ شَرِبَ مُسْكِرًا بُخِسَتْ صَلاَتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ. قِيلَ: وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ وَمَنْ سَقَاهُ صَغِيرًا لاَ يَعْرِفُ حَلاَلَهُ مِنْ حَرَامِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ ہر نشہ آور چیز شراب كے زمرے میں آتی ہے۔ اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ، جس شخص نے شراب پی اس كی نماز چالیس دن تك ضائع كر دی گئی۔ اگر اس نے توبہ كر لی تو اللہ تعالیٰ بھی اس كی توبہ قبول كر لے گا، اگر اس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ كا حق ہے كہ اسے طینۃ الباسل سے پلائے۔ پوچھا گیا یہ طینۃ الباہل كیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دوزخیوں كی پیپ ، اور جس شخص نے كسی چھوٹے بچے كو شراب پلائی جسے حلال و حرام كی سمجھ نہیں تھی اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جہنمیوں كی پیپ پلائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2039)، سنن أبى داود كتاب الأشربة باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ رقم (3682)
1653
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَن جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: لأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لاَ أَدَعَ إِلاَّ مُسْلِمًا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ مجھے عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ نے خبر دی كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جزیرۃ العرب سےیہودو نصاریٰ كو ضرورنكالوں گا، اور صرف مسلمانوں كو اس میں رہنے دوں گا
Takhreej
الصحيحة رقم (924)، صحيح مسلم كتاب الجهاد والسير باب إِخْرَاجِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ رقم (4693)
1654
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مَرْفُوْعاً: لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللهُ لَأَنْهَيَنَّ أَنْ يُسَمَّى رَبَاحٌ وَنَجِيحٌ وَأَفْلَحُ وَنَافِعٌ وَيَسَارٌ.
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:ان شاء اللہ اگر میں زندہ رہا تو رباح ،نجیح، افلح، نافع اور یسار نام ركھنے سے منع كردوں گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2143)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا يُكْرَهُ مِنْ الْأَسْمَاءِ رقم (3719)
1655
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عن الْمِقْدَاد بْن الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِأَصْحَابِهِ: مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا؟ قَالُوا: حَرَّمَهُ اللهُ وَرَسُولُهُ فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَأَنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرَةِ نِسْوَةٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَزْنِيَ بِامْرَأَةِ جَارِهِ. ثُم سَأََلَهُمْ عَنِ السَرِقَة؟ فَأَجَابُوا بِنَحْوِ مَا أَجَابُوا عَنِ الزِنَا. ثم قَالَ: وَلَأَنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشْرِ أَبْيَاتٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ.
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم زنا كے بارے میں كیا كہتے ہو؟ صحابہ نے كہا: اللہ اور اس كے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے اور یہ قیامت تك حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی دس عورتوں سے زنا كرے پھر بھی یہ اس زنا كے مقابلے میں كم ہے جو وہ اپنے پڑوسی كی عورت سے كرتا ہے۔ پھر آپ نے ان سے چوری كے بارے میں پوچھا؟ تو صحابہ نے وہی جواب دیا جو زنا كے بارے میں دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی دس گھروں سے چوری كرے پھر بھی یہ اس چوری كے مقابلے میں كم ہے جو وہ اپنے پڑوسی كے گھر سے كرتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (65)، مسند أحمد رقم ( 23854)
1656
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عن مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ مَرْفُوْعاً:لأَنْ يُطْعَنَ فِي رَأْسِ رَجُلٍ بِمِخْيَطٍ مِنْ حَدِيدٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّ امْرَأَةً لا تَحِلُّ لَهُ.
معقل بن یسا ر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:كسی آدمی كے سر میں لوہے كی كیل ٹھونك دی جائے یہ اس كے لئے اس بات سے بہتر ہے كہ وہ ایسی عورت كو چھوئے جو اس كے لئے حلال نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (226)، مسند الروياني رقم (1283)، المعجم الكبير للطبراني رقم (16881)
1657
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعاً: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَقُبِلَتْ مِنْه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہےكہ:اس شخص نے ایسی توبہ كی ہے اگر كوئی ٹیكس لینے والا بھی ایسی توبہ كرتا تو اس كی توبہ قبول ہو جاتی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3238)، المعجم الكبير للطبراني رقم (11943)
1658
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ زَيْدِ بن ثَابِتٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ:وَ الَّذِیۡنَ لَا یَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ . عجبنا للبینہا فلبثنا ستۃ اشہر ثم نزلت التی فی (النساء) وَ مَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیۡہَا وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَ لَعَنَہٗ وَ اَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾ حَتَّى فَرَغَ.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ : جب قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی جو سورۂ فرقان میں ہے:وَ الَّذِیۡنَ لَا یَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ اور وہ لوگ جو اللہ كے علاوہ دوسرے معبود كونہیں پكارتے، نہ ہی اللہ كی حرام كردہ جان كو قتل كرتے ہیں سوائے حق كے“، تو ہم اس كی نرمی سے خوش ہوئے ۔ ابھی چھ ماہ ہی گزرے تھےکہ یہ آیت نازل ہوئی جوسورۂ نساء میں ہےاورپوری آیت پڑھی:وَ مَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیۡہَا وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَ لَعَنَہٗ وَ اَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾ اور جو شخص كسی مومن كو جان بوجھ كر قتل كرتا ہے تو اس كا بدلہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ كا غضب اور لعنت ہوگی“
Takhreej
الصحيحة رقم (2799)، المعجم الكبير للطبراني رقم (4869)
1659
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عن نُعَيْمٍ بْنِ هَزَّالٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ مَاعِزًا أَتَى النَّبِىَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ وَقَالَ لِهَزَّالٍ: لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ.
نعیم بن ھزال رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور چار مرتبہ آپ كے پا س اقرار كیا۔ آپ نے اسے رجم كرنے كا حكم دیا اور ھزال رضی اللہ عنہ سے كہا: اگر تم اسے اپنے كپڑے سے ڈھانپ لیتے تو بہتر ہوتا
Takhreej
الصحيحة رقم (3460)، سنن أبى داود كتاب الحدود باب فِى السَّتْرِ عَلَى أَهْلِ الْحُدُودِ رقم (4379)
1660
Sahih