عن بَعْض أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ بَاتَ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ إِجَّارٌ فَوَقَعَ فَمَاتَ فَبَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ عِنْدَ ارْتِجَاجِهِ فَمَاتَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایسےگھر كی چھت پر رات گزاری جس كی چار دیواری نہیں تھی وہ گر كر مر گیا تو اس كا ذمہ ختم ہےاور جو شخص سمندر كے جوش كے وقت كشتی میں سوار ہوا اور مرگیا تو اس كا ذمہ بھی ختم ہے۔
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس نے گھڑ دوڑ مین مقابلے کے موقع پر (گھوڑے کو تیز دوڑانے کے لئے) پیچھے سے شور مچایا وہ ہم میں سے نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2331)، المعجم الكبير للطبراني رقم (11392)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص کی شفاعت اللہ كی حدود میں سے كی حدکےدرمیان حائل ہوگئی تواس نے اللہ تعالیٰ سے اس كے معاملے میں مخالفت کی اور جو شخص مقروض ہو كر مرگیا تو وہاں نہ دینار ہوں گے نہ درہم، لیكن وہاں نیكیاں اور برائیاں ہوں گی، اور جو شخص علم ہوتے ہوئے بھی باطل كی لڑائی میں ملوث ہوا توجب تك اس سے ہاتھ نہ كھینچ لےتووہ اللہ کی ناراضگی میں رہےگا۔ اور جس شخص نے مومن كے بارے میں ایسی بات كہی جو اس میں نہیں تواسے ہلاکت خیزدلدل میں پھنسا دیا جائے گاحتی کہ اپنی بات سے رجوع کرلے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (437)، سنن أبى داود كتاب الأَقضية باب فِيمَنْ يُعِينُ عَلَى خُصُومَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَعْلَمَ أَمْرَهَا رقم ( 3599 )
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ حُمِّلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا ثُمَّ جَهِدَ فِي قَضَائِهِ فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِهِ فَأَنَا وَلِيُّهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے كسی شخص نے قرض لیا، پھر اس كی ادائیگی كی كوشش میں لگ گیا لیكن ادا نہ كر سكا تو میں اس كا ولی ہوں۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّه قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِى الدُّنْيَا وَلَمْ يَتُبْ لَمْ يَشْرَبْهَا فِى الآخِرَةِ و إِنْ أُدْخلَ الْجَنَّةَ ».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور توبہ نہ كی ، وہ آخرت میں شراب نہ پی سكے گا اگرچہ جنت میں ہی كیوں نہ داخل ہو جائے
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے بھائی كی سفارش كی ، اور وہ اس كے لئے اس سفارش پر كوئی تحفہ لایا اور اس نے قبول كر لیا تو یہ سود كے دروازوں میں سے ایك بہت بڑے دروازے پر آگیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3465)، سنن أبى داود كتاب الإجارة باب فِى الْهَدِيَّةِ لِقَضَاءِ الْحَاجَةِ رقم (3543)
عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قال: قال رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فَدَمُهُ هَدَرٌ
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی تلوار سونت کر لوگوں میں خون خرابہ کیاتو اس کا خون رائیگاں ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2345)، سنن النسائي كِتَاب تَحْرِيمِ الدَّمِ باب مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فِي النَّاسِ رقم (4029)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے كسی ذمی كو نا حق قتل كیا، وہ جنت كی خوشبو نہیں سونگھ سكے گا۔ اور جنت كی خوشبو سو سال كی مسافت سے محسوس كی جا سكتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2356)، المعجم الكبير للطبراني رقم (300)، صفة الجنة لضياء الدين المقدسي رقم (2)
سلیم بن عامر رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں كے درمیان ماسہدہ تھا۔ وہ ان كے علاقوں میں گھوما كرتے حتی كہ جب ما ہدہ ختم ہو گیا تو ان پر حملہ كردیا۔ اچانك ایك آدمی اپنی سواری یا گھوڑے پر بیٹھا كہہ رہا تھا: اللہ اكبر،ماشہدہ پورا كرنا ہے دھوكہ نہیں دینا(دو مرتبہ یہی کہا)۔كیا دیكھتے ہیں كہ عمرو بن عبسہ سلمی ہیں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے كہا: تم كیا كہہ رہے ہو؟ عمرو رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: كسی شخص اور قوم كےمابین كوئی ماہہدہ ہو تو نہ عہد شکنی كرے نہ اسے مضبوط كرے جب تك اس كی مکمل مدت نہ گزر جائے ، یا وہ برابری كی بنیاد پر مارہدہ ختم كردے
Takhreej
الصحيحة رقم (2357)، سنن الترمذى كِتَاب السِّيَرِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْغَدْرِ رقم (1506)
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص پر قرض ہو اور وہ ادا كرنے كی نیت ركھتا ہو تو اللہ كی طرف سےاس كے ساتھ مدد ہوتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس كے لئے رزق كا سبب بنا دیتا ہے۔
) ا بی بن كعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ احد كے دن انصار كے چونسٹھ(۶۴)اور مہاجرین كے چھ آدمی شہید ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابہ نے كہا: اگر مشركین كے خلاف ہمیں بھی كوئی موقع مل جائے تو ہم بھی بھرپور بدلہ لیں گے، جب فتح مكہ كا دن آیا تو ایك نا معلوم شخص نے كہا: آج كے بعد كوئی قریش نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے منادی نے آوازدی: كالا اور گورا امن میں آگیا، مگر فلاں فلاں كچھ(قریشی) لوگوں كے نام لئے، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل كی : (النحل:۱۲۶) ” اگر تم بدلہ لو تو اتنی ہی سزا ان کو دو جتنی تکلیف تمہیں پہنچی ہے، اور اگر تم صبر كرو تو صبر صبر كرنے والوں كے لئے بہترین ہے“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہم صبر کریں گےبدلہ نہیں لیں گے“
زید بن ثابترضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا۔ میں نے كہا: مخابرہ كیا ہے؟ آپ نےفرمایا: تم زمین نصف ،تہائی یا چوتھائی حصے پر لو
Takhreej
الصحيحة رقم (3569)، سنن أبى داود كتاب البيوع باب فِى الْمُخَابَرَةِ رقم (3409)
عَنْ عبد الله بن عَمْرِو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً لِي وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتْرُكْ وَارِثًا غَيْرِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ وَرَجَعَتْ إِلَيْكَ حَدِيقَتُكَ
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہا: میں نے اپنی والدہ كو اپنا ایك باغ دیا۔ وہ مرگئیں اور میرے علاوہ كوئی وارث نہیں چھوڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا صدقہ قبول ہوگیا اور تمہارا باغ تمہیں واپس مل گیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2409)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْأَحْكَامِ بَاب مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ وَرِثَهَا رقم (2386)