TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حدود، معاملات اور احکام کا بیان - حدود، معاملات اور احکام کا بیان - Book 11 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 11 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 140 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

140 Hadith · 1 Chapters
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عن بَعْض أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ بَاتَ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ إِجَّارٌ فَوَقَعَ فَمَاتَ فَبَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ عِنْدَ ارْتِجَاجِهِ فَمَاتَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایسےگھر كی چھت پر رات گزاری جس كی چار دیواری نہیں تھی وہ گر كر مر گیا تو اس كا ذمہ ختم ہےاور جو شخص سمندر كے جوش كے وقت كشتی میں سوار ہوا اور مرگیا تو اس كا ذمہ بھی ختم ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (828)، مسند أحمد رقم (20748)
1681
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوْعاً: مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِيمَانِ مِنْ عُنُقِهِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سےمرفوعا مروی ہے كہ :جو غلام اپنے مالكوں كے علاوہ كسی اور كی طرف منسوب ہوا اس نے اپنی گردن سے ایمان كا كڑا اتار دیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2329)، مسند أحمد رقم (14562)
1682
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ مرفوعاً: « مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِكَ وَسَكَنَ مَعَهُ فَإِنَّهُ مِثْلُهُ ».
) سمرہ بن جندب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے مشرك كے ساتھ مجلس كی اور اس كے ساتھ سكونت اختیار كی ، وہ اسی كی مثل ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2330)، سنن أبى داود كتاب الجهاد باب فِى الإِقَامَةِ بِأَرْضِ الشِّرْكِ رقم (2789)
1683
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مرفوعاً:مَنْ جَلَبَ عَلَى الْخَيْلِ يَوْمَ الرِّهَانِ فَلَيْسَ مِنَّا.
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس نے گھڑ دوڑ مین مقابلے کے موقع پر (گھوڑے کو تیز دوڑانے کے لئے) پیچھے سے شور مچایا وہ ہم میں سے نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2331)، المعجم الكبير للطبراني رقم (11392)
1684
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عن عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ مرفوعاً: « مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ فَقَدْ ضَادَّ اللهَ في أمره ومن مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ ثمَّ دِيْنارٌ وَلَا دِرْهمٌ وَلَكِنَّهَا الحَسنَاتُ وَالسَيِئَاتُ وَمَنْ خَاصَمَ فِى بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُ لَمْ يَزَلْ فِى سَخَطِ اللهِ حَتَّى يَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِى مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ حُبِسَ في رَدْغَةِ الْخَبَالِ حَتَّى يَأتِي بِالْمَخْرَجَ مِمَّا قَالَ».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص کی شفاعت اللہ كی حدود میں سے كی حدکےدرمیان حائل ہوگئی تواس نے اللہ تعالیٰ سے اس كے معاملے میں مخالفت کی اور جو شخص مقروض ہو كر مرگیا تو وہاں نہ دینار ہوں گے نہ درہم، لیكن وہاں نیكیاں اور برائیاں ہوں گی، اور جو شخص علم ہوتے ہوئے بھی باطل كی لڑائی میں ملوث ہوا توجب تك اس سے ہاتھ نہ كھینچ لےتووہ اللہ کی ناراضگی میں رہےگا۔ اور جس شخص نے مومن كے بارے میں ایسی بات كہی جو اس میں نہیں تواسے ہلاکت خیزدلدل میں پھنسا دیا جائے گاحتی کہ اپنی بات سے رجوع کرلے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (437)، سنن أبى داود كتاب الأَقضية باب فِيمَنْ يُعِينُ عَلَى خُصُومَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَعْلَمَ أَمْرَهَا رقم ( 3599 )
1685
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مَرْفُوعاً: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ مَّصْبُورَةٍ كَاذِبًا (متعمداً) فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نےجان بوجھ كرتاکیدا جھوٹی قسم كھائی تو اس نے اپنے منہ كے ذریعے اپنا ٹھكانہ جہنم میں بنا لیا
Takhreej
الصحيحة رقم (2332)، سنن أبى داود كتاب الأيمان والنذور باب التَّغْلِيظِ فِى الأَيْمَانِ الْفَاجِرَةِ رقم (3244)
1686
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ مرفوعاً: مَنْ حَلَفَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ أَوْ فِيمَا لَا يَصْلُحُ فَبِرُّهُ أَنْ لَا يُتِمَّ عَلَى ذَلِكَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے قطع رحمی پر یا غیر مناسب کام پر قسم كھائی تو اس كی نیكی یہ ہے كہ اسے پورا نہ كرے۔(
Takhreej
الصحيحة رقم (2334)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْكَفَّارَاتِ بَاب مَنْ قَالَ كَفَّارَتُهَا تَرْكُهَا رقم (2101)
1687
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ حُمِّلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا ثُمَّ جَهِدَ فِي قَضَائِهِ فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِهِ فَأَنَا وَلِيُّهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے كسی شخص نے قرض لیا، پھر اس كی ادائیگی كی كوشش میں لگ گیا لیكن ادا نہ كر سكا تو میں اس كا ولی ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3017)، مسند أحمد رقم (24455)
1688
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّه قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِى الدُّنْيَا وَلَمْ يَتُبْ لَمْ يَشْرَبْهَا فِى الآخِرَةِ و إِنْ أُدْخلَ الْجَنَّةَ ».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور توبہ نہ كی ، وہ آخرت میں شراب نہ پی سكے گا اگرچہ جنت میں ہی كیوں نہ داخل ہو جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (2634)، شعب الإيمان رقم (5573)
1689
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ أَبِى أُمَامَةَ عَنِ النَّبِىِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: « مَنْ شَفَعَ لأَخِيهِ بِشَفَاعَةٍ فَأَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً عَلَيْهَا فَقَبِلَهَا فَقَدْ أَتَى بَابًا عَظِيمًا مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا ».
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے بھائی كی سفارش كی ، اور وہ اس كے لئے اس سفارش پر كوئی تحفہ لایا اور اس نے قبول كر لیا تو یہ سود كے دروازوں میں سے ایك بہت بڑے دروازے پر آگیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3465)، سنن أبى داود كتاب الإجارة باب فِى الْهَدِيَّةِ لِقَضَاءِ الْحَاجَةِ رقم (3543)
1690
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قال: قال رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فَدَمُهُ هَدَرٌ
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی تلوار سونت کر لوگوں میں خون خرابہ کیاتو اس کا خون رائیگاں ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2345)، سنن النسائي كِتَاب تَحْرِيمِ الدَّمِ باب مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فِي النَّاسِ رقم (4029)
1691
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ مرفوعاً: مَنْ ضَرَبَ مَمْلُوكَهُ ظالماً أُقِيْدَ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
) عمار بن یاسررضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ : جس شخص نے اپنے غلام کو ظلماً مارا، قیامت كے دن اس كا بدلہ دلوایا جائے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2352)، حلية الأولياء (4 / 378)
1692
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُّعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا، لَمْ يَرُحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ تُوجَدُ مِنْ مَّسِيرَةِ مِئَةِ عَامٍ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے كسی ذمی كو نا حق قتل كیا، وہ جنت كی خوشبو نہیں سونگھ سكے گا۔ اور جنت كی خوشبو سو سال كی مسافت سے محسوس كی جا سكتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2356)، المعجم الكبير للطبراني رقم (300)، صفة الجنة لضياء الدين المقدسي رقم (2)
1693
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ يَقُولُ:كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَهْدٌ فَكَانَ يَسِيرُ فِي بِلَادِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ أَغَارَ عَلَيْهِمْ وَإِذَا رَجُلٌ عَلَى دَابَّةٍ أَوْ عَلَى فَرَسٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ (مرتين) فَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السلمي فَقال لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا تَقولُ؟ قَالَ عَمْرُو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلَا يَحُلَّنَّ عقْدةً وَلَا يَشُدَّها حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُها أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ.
سلیم بن عامر رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں كے درمیان ماسہدہ تھا۔ وہ ان كے علاقوں میں گھوما كرتے حتی كہ جب ما ہدہ ختم ہو گیا تو ان پر حملہ كردیا۔ اچانك ایك آدمی اپنی سواری یا گھوڑے پر بیٹھا كہہ رہا تھا: اللہ اكبر،ماشہدہ پورا كرنا ہے دھوكہ نہیں دینا(دو مرتبہ یہی کہا)۔كیا دیكھتے ہیں كہ عمرو بن عبسہ سلمی ہیں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے كہا: تم كیا كہہ رہے ہو؟ عمرو رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: كسی شخص اور قوم كےمابین كوئی ماہہدہ ہو تو نہ عہد شکنی كرے نہ اسے مضبوط كرے جب تك اس كی مکمل مدت نہ گزر جائے ، یا وہ برابری كی بنیاد پر مارہدہ ختم كردے
Takhreej
الصحيحة رقم (2357)، سنن الترمذى كِتَاب السِّيَرِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْغَدْرِ رقم (1506)
1694
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْلُ: مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ يَنْوِي أَدَاءَهُ، كَانَ مَعَهُ مِنَ اللهِ عَوْنٌ وَسَبَّبَ اللهُ لَهُ رِزْقاً.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص پر قرض ہو اور وہ ادا كرنے كی نیت ركھتا ہو تو اللہ كی طرف سےاس كے ساتھ مدد ہوتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس كے لئے رزق كا سبب بنا دیتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2822)، المعجم الأوسط رقم (7758)
1695
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيه السَلَام قَالَ: مَنْ مَرَّ بِحَائِطٍ فَلْيَأْكُلْ وَلاَ يحْمِلْ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص كسی باغ كے پاس سے گزرے تو وہ كھا سكتا ہے اٹھاکرلےجانہیں سكتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3121)، سنن الترمذى كِتَاب الْبُيُوعِ بَاب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثَّمَرَةِ لِلْمَارِّ بِهَا رقم (1208)
1696
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ قُتِلَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ رَجُلًا وَمِنَ الْمُهَاجِرِينَ سِتَّةٌ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَئِنْ كَانَ لَنَا يَوْمٌ مِثْلُ هَذَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَنُرْبِيَنَّ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَالَ رَجُلٌ لَا يُعْرَفُ: لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَمِنَ الْأَسْوَد وَالْأَبْيَض إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا نَاسًا سَمَّاهُمْ فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَـعَالَى وَ اِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ لَئِنۡ صَبَرۡتُمۡ لَہُوَ خَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ (۱۲۶) (النحل) فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَصْبِرُ وَلَا نُعَاقِبُ.
) ا بی بن كعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ احد كے دن انصار كے چونسٹھ(۶۴)اور مہاجرین كے چھ آدمی شہید ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابہ نے كہا: اگر مشركین كے خلاف ہمیں بھی كوئی موقع مل جائے تو ہم بھی بھرپور بدلہ لیں گے، جب فتح مكہ كا دن آیا تو ایك نا معلوم شخص نے كہا: آج كے بعد كوئی قریش نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے منادی نے آوازدی: كالا اور گورا امن میں آگیا، مگر فلاں فلاں كچھ(قریشی) لوگوں كے نام لئے، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل كی : (النحل:۱۲۶) ” اگر تم بدلہ لو تو اتنی ہی سزا ان کو دو جتنی تکلیف تمہیں پہنچی ہے، اور اگر تم صبر كرو تو صبر صبر كرنے والوں كے لئے بہترین ہے“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہم صبر کریں گےبدلہ نہیں لیں گے“
Takhreej
الصحيحة رقم (2377)، مسند أحمد رقم (21229)
1697
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مرفوعاً: نَهَي عَنِ الْمُخَابَرَةِ. قُلْتُ: وَمَا الْمُخَابَرَةُ؟ قَالَ: أَنْ تَأْخُذَ الأَرْضَ بِنِصْفٍ أَوْ ثُلُثٍ أَوْ رُبُعٍ
زید بن ثابت‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا۔ میں نے كہا: مخابرہ كیا ہے؟ آپ نےفرمایا: تم زمین نصف ،تہائی یا چوتھائی حصے پر لو
Takhreej
الصحيحة رقم (3569)، سنن أبى داود كتاب البيوع باب فِى الْمُخَابَرَةِ رقم (3409)
1698
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ مرفوعاً: « النَّارُ جُبَارٌ ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ: آگ كا جلا ہوا رائیگاں ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2381)، سنن أبى داود كتاب الديات باب فِى النَّارِ تَعَدَّى رقم (4596)
1699
Sahih
حدود، معاملات اور احکام کا بیان
عَنْ عبد الله بن عَمْرِو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً لِي وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتْرُكْ وَارِثًا غَيْرِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ وَرَجَعَتْ إِلَيْكَ حَدِيقَتُكَ
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہا: میں نے اپنی والدہ كو اپنا ایك باغ دیا۔ وہ مرگئیں اور میرے علاوہ كوئی وارث نہیں چھوڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا صدقہ قبول ہوگیا اور تمہارا باغ تمہیں واپس مل گیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2409)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْأَحْكَامِ بَاب مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ وَرِثَهَا رقم (2386)
1700
Sahih