عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ :جس نے ہمارے علاوہ كسی اور كی مشابہت كی وہ ہم میں سے نہیں، یہودونصاریٰ كی مشابہت نہ كرو۔ یہودیوں كا سلام انگلیوں كے اشارے سے ہے اور عیسائیوں كا سلام ہتھیلی كے اشارے سے ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2194)، سنن الترمذى كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ وَالْآدَابِ بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ إِشَارَةِ الْيَدِ بِالسَّلَامِ رقم (2619)
ابو درداء رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنی كتاب میں جو چیز حلال كی ہے وہ حلال ہے اور جو حرام كی ہے وہ حرام ہے۔ اور جس سے خاموش رہا ہے اس سے درگزر ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اس كی عافیت قبول كرو: ” اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں“
Takhreej
الصحيحة رقم (2256)، السنن الكبرى للبيهقي رقم (20216)
عبداللہ بن معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا:اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر كونسی چیزیں حرام ہیں اوركونسی حلال ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس نے تین مرتبہ سوال كا2، ہر مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر فرمایا:سوال كرنے والا كون ہے؟ اس آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول! میں ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں سے ٹھونگ ماری اور فرمایا:جس سے تمہارا دل مطمئن نہ ہو اسے چھوڑ دو
Takhreej
الصحيحة رقم (2230)، الزهد لابن المبارك رقم ( 824-1162)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كوئی بھی نگران ہو تو اس كے دو دوست ہو تے ہیں۔ ایك دوست اسے نیكی كا حكم دیتا ہے اور برائی سے منع كرتا ہے ، اور دوسرا دوست اس كے نقصان کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا۔ جو اس كے شر سے بچ گیا تو وہ واقعی بچ گیا، اور وہ اسی سے تعلق ركھے گا جو ان دونوں میں سے اس پر غالب ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2270)، سنن النسائي كِتَاب الْبَيْعَةِ باب بِطَانَةُ الْإِمَامِ رقم (4130)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كوئی بھی نگران ہو تو اس كے دو دوست ہو تے ہیں۔ ایك دوست اسے نیكی كا حكم دیتا ہے اور برائی سے منع كرتا ہے ، اور دوسرا دوست اس كے نقصان کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا۔ جو اس كے شر سے بچ گیا تو وہ واقعی بچ گیا، اور وہ اسی سے تعلق ركھے گا جو ان دونوں میں سے اس پر غالب ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2270)، سنن النسائي كِتَاب الْبَيْعَةِ باب بِطَانَةُ الْإِمَامِ رقم (4130)
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی نے فرمایا: اللہ كی حدود پر قائم رہنے والے ان میں واقع ہونے والے(توڑنے والے)اور (ان میں سستی كرنے والے) كی مثال اس قوم كی طرح ہے جوجنہوں نے سمندری کشتی میں سفر کے لئے قرعہ اندازی کی۔ کسی کو اوپر والے حصے میں جگہ ملی اور کسی کو نیچے والےحصے میں پھر وہ لوگ جو نچلے والے حصے میں تھے ،جب انہیں پانی كی طلب ہوتی تو اوپر والوں كے پاس جاتے(اوپر والوں كو اس سے تكلیف ہوتی)ایک روایت میں ہے کہ نیچے والے پانی لینے کے لئے اوپر چڑھتے، پانی لیتے تو اوپر والوں پر کچھ گر جاتا۔ انہوں نے كہا:ہم تمہیں اوپر آنے كی اجازت نہیں دیتے كیوں كہ تم ہمیں تكلیف دیتے ہو۔ نیچے والوں نے كہا:اگر ہم اپنے حصے میں سوراخ كر لیں(اور وہاں سے پانی حاصل كریں اور اوپر والوں كو تكلیف نہ دیں تو بہتر ہوگا۔ (اور ایك روایت میں ہے:ہم اوپر والوں كے پاس جاكر انہیں تكلیف نہ دیں)(ان میں سے كسی شخص نے کلہاڑا لیا، اور كشتی كے نچلے حصے میں سوراخ كرنے لگا۔ اوپر والے آئے اور كہنے لگے تمہیں كیا ہوا؟ اس نے كہاتم ہانری وجہ سے تكلیف میں ہو، لیكن ہم بھی پانی كے لئے مجبور ہںر) اگر اوپر والے ان كے مقصد كو نظر انداز كر كے چھوڑ دیں تو سب كے سب ہلاك ہو جائیں اور اگر وہ ان كا ہاتھ روك لیں تو خود بھی بچ جائیں اور انہیں بھی بچا لیں
Takhreej
الصحيحة رقم (69)، صحيح البخاري كتاب الشركـة باب هل يقرع في القسمة والاستهام فيه رقم (2361)
جابر بن عبداللہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے بنجر زمین كو آباد كیا اس كے لئے اس كام كے بدلے اجر ہے۔ اور اس سے كسی بھی جاندار نے كھایا تو اس كے لئے اجر ہے
یعلی بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے بغیر حق كے زمین لی، اسے اس بات كا مكلف بنایا جائے گا كہ اس كی مٹی محشر تك اٹھا كر چلے
عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے والد كے علاوہ كسی اور كی طرف نسبت كی وہ كبھی بھی جنت كی خوشبو نہیں پائے گا۔ اور جنت كی خوشبو ستر سال كی مسافت سے محسوس كی جائے گی
) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص كسی كے ہاتھ پر مسلمان ہوا وہی اس كا دوست ہے۔ ( ) یہ حدیث سیدنا ابوامامہ، تمیم داری رضی اللہ عنہما اور راشد بن سد سے مرسلا مروی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2316)، المعجم الكبير للطبراني رقم (7683)
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس شخص نے باطل کام میں ظالم كی مدد كی تاكہ اس باطل كے ذریعےحق كو ختم كردے تو اس سےاللہ كا ذمہ ختم ہو گیا، اور اس كے رسول كا ذمہ بھی ختم ہو گیا
Takhreej
الصحيحة رقم (1020)، المعجم الكبير للطبراني رقم (11053)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس شخص نے كسی جھگڑےمیں ظلم كی مدد كی یا ظلم كی مدد كرتا ہے تو وہ اس وقت تک اللہ كی ناراضگی میں رہے گا، جب تك اس سے ہاتھ نہ كھینچ لے
Takhreej
الصحيحة رقم (1021)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْأَحْكَامِ بَاب مَنْ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ وَخَاصَمَ فِيهِ رقم (2311)
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَه وَلاَ تُرْقِبُوا فَمَنْ أَرْقَبَ شَيئًا فَهُوَ سَبِيلُهُ ». وفي رواية : سبيلُ المِيْرَاثِ.
زید بن ثابترضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے کسی کو بطور عمری کوئی چیز دی تو وہ اس کی زندگی اور موت کے بعد اسی کی ہے۔ اور کسی کو بطور رقبیٰ کوئی چیز نہ دیا کرو اور جس نے کسی کو بطور رقبیٰ کوئی چیز دی تو وہ وراثت کے حکم میں آجائے گی۔(عمری سے مراد کسی کو کوئی چیز عمر بھر کے لئے ہبہ کردینا اور رقبی: کسی شخص کو اس شرط پر گھر دینا کہ اگر دینے والا پہلے مرجائے تو لینے والے کی ملکیت بن جائے گااور اگر لینے والا پہلے مرجائےتو گھر دینے والے کی ملکیت میں واپس آجائے گا)
Takhreej
الصحيحة رقم (3564)، سنن أبى داود كتاب الإجارة باب فِى الرُّقْبَى رقم (3561)
) ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن مجزر كو ایك لشكر كا نگران بنا كر بھیجا۔ میں بھی ان میں تھا، جب معرکے کے مقام پرپہنچے یا ابھی راستے میں ہی تھے كہ لشكر كے ایك گروہ نے اجازت مانگی تو علقمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی، اور ان پر عبداللہ بن حذافہ بن قیس سلمی رضی اللہ عنہ كو امیر مقرر كیا۔ جن لوگوں نے ان كے ساتھ مل كر معركہ لڑا میں ان میں شامل تھا ۔ ابھی راستے میں ہی تھے كہ لوگوں نے ہاتھ سینكنے كے لئے آگ جلائی یا اس پر كچھ پكانا چاہتے تھے۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے كہا: (انہیں خوش طبعی کی عادت تھی)كیا تم پر میری سمع و اطاعت فرض نہیں؟ انہوں نے كہا: كیوں نہیں۔ اس نے كہا: كیا میں تمہیں جو حكم دوں گا وہ تم كرو گے؟ انہوں نے كہا: جی ہاں، وہ گویا ہوئے : میں تمہیں حكم دیتا ہوں كہ اس آگ میں چھلانگ لگا دو۔ لوگ كھڑے ہوئے اورتیاری کرنے لگے، جب عبداللہ رضی اللہ عنہ كو یقین ہو گیا كہ یہ چھلانگ لگانے والے ہیں تو كہا: رك جاؤ،میں تم سے مذاق كر رہا تھا۔ جب ہم واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات كا تذكرہ كیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاراجو امیر تمہیں نا فرمانی كا حكم دے اس كی اطاعت نہ كرو
Takhreej
الصحيحة رقم (2324)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْجِهَادِ بَاب لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ رقم (2854)
رفاعہ بن شداد قتبانی رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ اگر میں نے عمرو بن حمق خزاعی سے ایك بات نہ سنی ہوتی تو میں مختار كے سر اور جسم میں پار ہو جاتا (یعنی اسے قتل کردیتا)۔ میں نے ان سے سنا كہہ رہے تھے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے كسی شخص كو جان كی امان دی پھر اسے قتل كر دیا تو قیامت كے دن وہ خیانت اور دھوكے كا جھنڈا اٹھائے ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (440)، سنن ابن ماجه كِتَاب الدِّيَاتِ بَاب مَنْ أَمِنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ رقم (2678)
) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ لِيَفْضَحَهُ فِي الدُّنْيَا فَضَحَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ قِصَاصٌ بِقِصَاصٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے بچے كا انكار اس وجہ سے كیا كہ اسے دنیامیں ذلیل كرے تو اللہ تعالیٰ قیامت كے دن لوگوں كے سامنے اسے ذلیل كرے گا۔کئے كا بدلہ دے گا۔