عَنْ جَابِر بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: أَلَا أُخْبُرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟ خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا
وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالًا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا میں تمہارے بہترین شخص كے بارے میں نہ بتاؤں؟ تم میں بہترین شخص وہ ہے جس كی عمر طویل ہے اور اعمال نیك ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1298)، المنتخب من المسند لعبد ابن حميد (2/ 140 )
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ؟! الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا.
) زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا میں تمہیں بہترین گواہ كے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو شخص مطالبے سے پہلے ہی اپنی(سچی) گواہی پیش كردے
Takhreej
الصحيحة رقم (3458)، صحيح مسلم كِتَاب الْأَقْضِيَةِ بَاب بَيَانِ خَيْرِ الشُّهُودِ رقم ( 3244 )
عن سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: أَلَا إِنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةَ مَرْدُودَةٌ وَالدَّيْنَ مَقْضِيٌّ وَالزَّعِيمَ غَارِمٌ.
سعید بن ابی سعید رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے وہ اس شخص سے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ادھار ادا کیا جائے گا، دودھ والا جانور واپس کیا جائےگا،قرض ادا کیا جائے گا اور ضامن ضمانت اداکرے گا
عن صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عِدَّةٍ (وَقَالَ البَيهقِي: ثَلَاثِين) مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ آبَائِهِمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا أَوِ انْتَقَصَهُ أَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
صفوان بن سلیم رحمۃ اللہ علیہ صحابہ كے چند بیٹوں (ايك روايت ميں تيس )سے وہ اپنے آباء سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار جس شخص نے كسی ذمی سے ظلم كیا، یا اس كا حق مارا، یا اس كی طاقت سے زیادہ كا اسے مكلف بنایا یا اس كی رضامندی كے بغیر اس سے كوئی چیز لی تو قیامت كے دن میں اس كا وكیل ہوں گا
Takhreej
الصحيحة رقم (445)، سنن أبى داود كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَاب فِي تَعْشِيرِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا ... رقم ( 2654 )
) عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع كے موقع پرفرمایا: خبردار، ظلم كرنے والا خود پر ظلم كرتا ہے، باپ پر اس كے بیٹے كی وجہ سے ظلم نہ كیا جائے اور بیٹے پر اس كے باپ كی وجہ سے ظلم نہ كیا جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (1974)، سنن ابن ماجه كِتَاب الدِّيَاتِ بَاب لَا يَجْنِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ رقم (2659)
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم مَعَ أَبِي فَقَال: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: ابْنِي أَشْهَدُ بِهِ قَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ
ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں اپنے والد كے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: تمہارے ساتھ یہ كون ہے؟ انہوں نے كہا : میرا بیٹا ہے ، میں اسے گواہ بنا رہا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار تم اس پر ظلم نہیں كرو گے اور یہ تم پر ظلم نہیں كرے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (749)، سنن النسائي كِتَاب الْقَسَامَةِ باب هَلْ يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِجَرِيرَةِ غَيْرِهِ رقم (4749)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ خزاعہ نے اپنے ایك مقتول كے بدلے جسے بنی لیث نے قتل كیا تھا، فتح مكہ كے سال بنی لیث كا ایك آدمی قتل كر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملے کی اطلاع دی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پرسوارہوئے اور لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مكہ سے قتل یا ہاتھی (ابو عبداللہ راوی كو شك ہے) كو روكا ، اور مكہ والوں پر اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین كو غلبہ دیا۔ خبردار یہ مجھ سے پہلے كسی كے لئے حلال نہیں تھا، اور نہ میرے بعد كسی كے لئے حلال ہوگا۔ خبردار یہ میرے لئے دن كی ایك گھڑی كے لئے حلال ہوا ، خبردار میری یہ گھڑی بھی اب حرام ہے۔ اس كا كانٹا نہ توڑا جائے اس كا درخت نہ كاٹا جائے اس كی گری ہوئی چیز نہ اٹھائی جائے سوائے اس شخص کے جو اس كا اعلان كرتا رہے۔ جو شخص قتل كر دیا گیا اس كے ورثاء كو دو اختیار ہیں یا تو اس كی دیت دی جائے ، یا پھر مقتول كے ورثاءكو قصاص دیا جائے۔ اہل یمن سے ایك آدمی آیا اس نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (مجھ یہ خطبہ) لكھوا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں شخص كے لئے لكھ دو۔ ایك قریشی نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سوائے اذخر كے ،كیوں كہ ہم اسے اپنے گھروں میں استعمال كرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سوائے اذخر كے۔امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اضافہ كیا كہ: ولید نے كہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: اس یمنی كا یہ كہنا كہ : اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے لكھوا دیجئے كا كیا مطلب ہے؟ اوزاعی نے كہا: وہ خطبہ جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا
Takhreej
الصحيحة رقم (3529)، صحيح البخاري كِتَاب الْعِلْمِ بَاب كِتَابَةِ الْعِلْمِ رقم (109) صحيح مسلم كِتَاب الْحَجِّ بَاب تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَصَيْدِهَا وَخَلَاهَا
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَى أُمَّتِي الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْمِزْرَ وَالْكُوبَةَ وَالْقِنِّينَ وَزَادَنِي صَلَاةَ الْوَتْرِ.
) عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت پر شراب ،جوا، مکئی، جو اور گندم جَوسےبنائی گئی نبیذ،شطرنج یا طبلہ/ ڈگڈگی اور شراب کاجام حرام كیا اور مجھے نمازِ وتر زیادہ عطا كی
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرض ادا كرنےتک مقروض كے ساتھ ہوتا ہے جب تك وہ اللہ كے نا پسندیدہ كام میں نہ ہو۔کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر اپنے پہرے دار(خادم)سے کہتے تھے :جاؤ میرے لئے قرض لےکرآؤکیوں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہےمجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں کوئی رات اللہ کے بغیرگذاروں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1000)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْأَحْكَامِ بَاب مَنْ ادَّانَ دَيْنًا وَهُوَ يَنْوِي قَضَاءَهُ رقم (2400)
) حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر تم (عذرہ قبیلے کے فلاں شخص) پر غلبہ پا لو تو اسے قتل كر دو۔ اسے آگ میں مت جلاؤ، كیوں كہ آگ كا عذاب آگ كا رب ہی دے سكتا ہے
حرام بن سعد بن محیصہ سے مروی ہے كہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ كی اونٹنی ایك شخص كے باغ میں داخل ہوگئی اور باغ خراب كر دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ كیا كہ:دن میں باغ والوں پر اس كی حفاظت لازم ہے اورجب رات كو مویشی باغ اجاڑدیں تو ان كے مالك اس كے ضامن ہیں۔
عَنْ حُذَيْفَةَ: أَنَّ الْمُشْرِكِينَ أَخَذُوهُ وَأَبَاهُ فَأَخَذُوا عَلَيْهِمْ أَنْ لَّا يُقَاتِلُوهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فوَالهمْ وَنَسْتَعِينُ اللهَ عَلَيْهِمْ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ مشركین نے اسے اور اس كے والد كو پكڑ لیا اور عہد لیا كہ وہ بدر میں ان سے قتال نہیں كریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان كو دیا ہوا عہد پورا كرو، ہم ان كے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے
) ابو شریحرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نے فتح مكہ كے دوسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے ایك بات كہی جو میرے كانوں نے سیہ اور میرے دل نے محفوظ كر لی۔ اور جب آپ بول رہے تھے وہ منظر میری آنكھوں نے محفوظ كر لیا۔ آپ نے اللہ كی حمدو ثنا كی پھر فرمایا: بے شك اللہ نے مكہ كو حرام قرار دیا ہے، لوگوں نے اسے حرام نہیں كیا، اس شخص كے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر یقین ركھتا ہے، مكہ میں خون بہانا جائز نہیں اس میں كوئی درخت نہ كاٹے ، اگر كسی شخص نے الہ، كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم كے قتال كی وجہ سے رخصت حاصل كرناچاہا تو تم اسے كہو: اللہ نے اپنے رسول كو اجازت دی تھی، تمہیں اجازت نہیں دی، اور میرے لئے بھی دن كی ایك گھڑی اجازت دی ہے۔ پھر آج ہی كے دن اس كی حرمت كل كی حرمت كی طرح لوٹ آئی ہے۔ حاضر شخص غیر موجود كو یہ بات پہنچا دے
Takhreej
الصحيحة رقم (3543)، صحيح البخاري كِتَاب الْعِلْمِ بَاب لِيُبَلِّغْ الْعِلْمَ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ رقم (101)
ابو بكر صدیقرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا: اے لوگو تم یہ آیت پڑھتے ہو: اے ایمان والو اپنے آپ كو بچاؤ، جب تم ہدایت یافتہ ہو گئے تو گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سكے گا“،اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرمارہے تھے: جب لوگ کسی ظالم کودیکھ کراس کا ہاتھ نہ روکیں توممکن ہےاللہ تعالیٰ ان سب کو عذاب میں گرفتار کرلے۔(
عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: أَصَبْنَا غَنَمًا لِلْعَدُوِّ فَانْتَهَبْنَاهَا فَنَصَبْنَا قُدُورَنَا فَمَرَّ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِالْقُدُورِ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ النُّهْبَةَ لَا تَحِلُّ.
ثعلبہ بن حكم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہمیں دشمن كی بكریاں ملیں ۔ ہم انہیں ہانك كر لے آئے اور اپنی ہانڈیاں چڑھادیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہانڈیوں كے پاس سے گزرے تو ہانڈیوں كےمتعلق حکم دیاتو انہیں اوندھا كر دیاگیا، پھر فرمایا: لوٹا ہوا مال حلال نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1673)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْفِتَنِ بَاب النَّهْيِ عَنْ النُّهْبَةِ رقم (3928)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں پیچھے سے پكڑ كر آگ سے روك رہا ہوں اور كہہ رہا ہوں: جہنم سے بچو،حدود سے بچو، جب میں فوت ہوجاؤں گا تو حوض پر تمہارا انتظار كروں گا، جو حوض تك پہنچ گیا وہ كامیاب ہو گیا۔ ایك قوم آئے گی تو انہیں بائیں طرف سے پكڑ لیا جائے گا۔ میں كہوں گا: اے میرے رب میری امت۔ مجھ سے كہا جائے گا: آپ كو نہیں معلوم كہ انہوں نے آپ كے بعد كتنے نئے كام (بدعات) ایجاد كئے اور اپنی ایڑیوں كے بل دین سے پھر گئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3087)، المعجم الكبير للطبراني رقم (12508)
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَّ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَ عَطَاءً: أَنَّهُ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ صَائِمٌ فَأَمَرَ امْرَأَتَهُ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ رَسُولَ اللهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتْهُ امْرَأَتُهُ فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ فَارْجِعِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ فَرَجَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَتْ: قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ؟! فَقَالَ: أَنَا أَتْقَاكُمْ لِلهِ وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِ اللهِ.
عطاء بن یسار رحمۃ اللہ علیہ ایك انصاری سے بیان كرتے ہیں كہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے دور میں روزے كی حالت میں اپنی بیوی كا بوسہ لے لیا،اس نے اپنی بیوی سے كہا:تو اس نے اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ كا رسول بھی یہ كام كرتا ہے۔ اس كی بیوی نے اسے بتایا تو اس نے كہا:نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو كچھ معاملات میں رخصت دی گئی ہے، واپس جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس واپس آئی اورکہا کہ میرا شوہرکہتاہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو كچھ معاملات میں رخصت دی گئی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ كی حدود كا زیادہ علم ركھتا ہوں
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ: تم میرے پاس جھگڑے كا فیصلہ كروانے آتے ہو، میں تو ایك بشر ہوں ،ممكن ہے تم میں سے كوئی شخص چرب زبان ہو اور جوبات میں سنوں اس كے مطا بق فیصلہ كر دوں۔ تو جس شخص كے لئے میں اس كے بھائی كے حق میں سے کسی چیز کا فیصلہ کردوں تو وہ اسے نہ لے۔ كیوں كہ میں اس كے لئے آگ كا ٹكڑا كاٹ كر دے رہا ہوں جسے وہ قیامت كے دن لائے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (455)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْأَحْكَامِ بَاب قَضِيَّةِ الْحَاكِمِ لَا تُحِلُّ حَرَامًا وَلَا تُحَرِّمُ حَلَالًا رقم (2308)
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ: میں تو ایك بشر ہوں اور تم میرے پاس جھگڑے كا فیصلہ كروانے آتے ہو۔ ممكن ہے تم میں كوئی شخص اپنی دلیل چرب زبانی سے پیش كرے، تو جو بات میں سنوں اس كے مطابق فیصلہ كر دوں۔ جس شخص كے لئے میں اس كے بھائی كے حق میں سے کسی چیز کافیصلہ كر دوں وہ اسے نہ لے كیوں كہ میں اس كے لئے آگ كا ٹكڑا كاٹ كر دے رہا ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1162)، صحيح البخاري كِتَاب الْأَحْكَامِ بَاب مَوْعِظَةِ الْإِمَامِ لِلْخُصُومِ رقم (6634)