ابو ذررضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سےفرمایا: تمہارامزدوركے بارے میں كیا خیال ہے؟ میں نے كہا:مسكین ہے، جیسےمسكین لوگوں كی صورت ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا: فلاں كے بارے میں كیا خیال ہے؟ میں نے كہا: سردار ہے ۔ آپ نے فرمایا: یہ مزدور زمین بھر یا ہزاروں گنا، یا اسی طرح كوئی بات كہی فلاں سے بہتر ہے۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول فلاں شخص اس طرح ہے، لیكن آپ اس كے ساتھ اتنا اچھا برتاؤ كرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: وہ اپنی قوم كا سردار ہے، اور میں اس كے ذریعے اس كی قوم كے دل مائل كرتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (1037)، الجامع في الحديث لابن وهب رقم (34)
عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں كہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ ایك سفر میں تھے ۔ آپ قضائے حاجت کے لئے گئے تو ہم نے (چڑیا نما) ایک سرخ پرندہ دیکھا، جس كے ساتھ اس كے دو بچے بھی تھے۔ ہم نے اس كے بچے پكڑ لئے۔وہ پرندہ سروں پر منڈلانے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا : كس نے اس كے بچوں كی وجہ سے اسے پریشان كیا ہے؟ اس كے بچے اسے واپس دو اور آپ نے چیونٹیوں كی ایك بل دیكھی جسے ہم نے جلا دیا تھا۔ آپ نے فرمایا: كس نے انہیں جلایا ہے؟ ہم نے كہا: ہم نے جلایا ہے۔ آپ نے فرمایا: آگ كا عذاب دینا آگ كے رب كے علاوہ كسی كے لائق نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (487)، سنن أبى داود كِتَاب الْجِهَادِ بَاب فِي كَرَاهِيَةِ حَرْقِ الْعَدُوِّ بِالنَّارِ رقم (2300)
عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ہم نے(خیبر)میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ پڑاؤ ڈالا۔ آپ كے ساتھ آپ كے صحابہ بھی تھے (خیبر) كا والی ایك سر كش منكر شخص تھا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كی طرف رخ كر كے كہنے لگا: اے محمد! كیا تمہارے لئے مناسب ہے كہ تم ہمارے گدھے ذبح كرو، ہمارے پھل كھاؤ اور ہماری عورتوں كو مارو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصےمیں آگئے اور كہنے لگے: ابن عوف اپنے گھوڑے پر سوار ہو كر لوگوں میں اعلان كر دو كہ: خبردار ! جنت مومن كے علاوہ كسی كے لئے حلال نہیں ، اور نماز كے لئے جمع ہو جاؤ ۔ لوگ جمع ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی پھر كھڑے ہو كر فرمایا: كیا تم میں سے كوئی شخص جو اپنے تكیہ پر ٹیك لگائے ہوئے ہے گمان كرتا ہے كہ اللہ تعالیٰ نےاس چیزکے علاوہ جوقرآن میں موجود ہےکوئی چیز حرام نہیں كی ؟ خبردار اللہ كی قسم میں نے كچھ باتوں كا حكم دیا ہے ، كچھ باتوں كی نصیحت كی ہے اور كچھ باتوں سے منع كیا ہے۔ یہ قرآن كی طرح ہے یا اس سے بھی بڑھ كر ، اور اللہ عزوجل نے تمہارے لئے اس کام کوحلال نہیں كیا كہ جب اہلِ کتاب اپنے اوپرواجب الادا رقم(جزیہ)تمھیں دیں تو تم بغیر اجازت ان کے گھروں میں گھس جاؤ،ان کی عورتوں کو مارنا شروع کردواور ان کے پھل کھانے لگ جاؤ۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (882)، سنن أبى داود كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَاب فِي تَعْشِيرِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا... رقم (2652)
یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كسی بھی شخص نے اگر ظلم كرتے ہوئے بالشت بھر زمین ہتھیائی تو اللہ تعالیٰ اسے اس بات كا مكلف بنائیں گے كہ وہ اسے سات زمینوں تك كھودے۔ پھر اس كا طوق بنا كر قیامت تك اس كے گلے میں ڈال دیا جائے گا جب تك کہ لوگوں كا فیصلہ نہ كر دیا جائے
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مہمان كسی قوم كے پاس آیا اور مہمان صبح تك محروم (بھوكا) رہا، تو اس كے لئےجائز ہے كہ وہ اپنی مہمان نوازی كے بقدر لے لے اس پر كوئی گناہ نہیں
خزیمہ بن ثابترضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیم بھی بندےنے اللہ كی منع كردہ حد كاارتکاب کیا، پھر اس پر حد قائم كر دی گئی تواس كا گناہ ختم كر دیا جائے گا۔( ) / تو (وہ حد) اس کا گناہ مٹا دے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1755)، المستدرك على الصحيحين للحاكم ( 4 / 388 ) رقم (8167)
عَنْ يَعْلَى بن أمية عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ لِى رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِى فَأَعْطِهِمْ ثَلاَثِينَ دِرْعًا وَثَلاَثِينَ بَعِيرًا. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَعَارِيَةً مَضْمُونَةً أَمْ عَارِيَةً مُؤَدَّاةً؟ قَالَ: «بَلْ عَارِيَةً مُؤَدَّاةً».
یعلی بن امیہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: جب تمہارے پاس میرےقاصد آئیں تو انہیں تیس(30)زرہیں اور تیس (30)اونٹ دے دینا۔میں نے كہا: اے اللہ كے رسول! كیا یہ ادھا رضمانت والا ہے یا صرف ادھار ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف ادھار ہے(ضمانت نہیں)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (630)، سنن أبى داود كتاب الإجارة باب فِى تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ رقم (3568)
عَنْ أَسْمَاءَ بنتِ عُمَيْسٍ أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَر بن أَبِي طَالِب أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: تَسَلَّبِي ثَلاثًا ثُمَّ اصْنَعِي مَا شِئْتِ
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہےكہتی ہیں كہ جب (میرے خاوند) جعفر بن ا بی طالب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حكم دیا كہ تین دن تك سوگ كروں، پھر جو چاہے كروں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3226)، المعجم الكبير للطبراني رقم (19849)
) عَنْ أُمِّ هَانِئٍ: أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنَتَزَاوَرُ إِذَا مِتْنَا وَيَرَى بَعْضُنَا بَعْضًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : تَكُونُ النَّسَمُ طَيْرًا تَعْلُقُ بِالشَّجَرِ حَتَّى إِذَا كَانُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ دَخَلَتْ كُلُّ نَفْسٍ فِي جَسَدِهَا.
ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا: كیا جب ہم مرجائیں گے تو ہم ایك دوسرے كو دیكھ اور ملاقات كرسكیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روح ایك پرندے كی صورت میں ہوگی ، جو درخت كے ساتھ معلق ہوگی ۔ جب قیامت كا دن ہوگا تو ہر روح اپنے جسم میں داخل ہو جائے گی
جندب بن عبداللہ بن بجلی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: تم سے پہلے لوگوںمیں ایك شخص زخمی ہو گیا اس نے گھبرا کرایک چھری لی اوراپنا ہاتھ كاٹ لیا۔ مرنے تك اس كا خون نہیں ركا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: میرے بندے نے اپنے بارے میں فیصلہ كرنے میں مجھ سے جلدی كی، میں نے اس پر جنت حرام كر دی
Takhreej
الصحيحة رقم (462)، المعجم الكبير للطبراني رقم (1641)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : حَدٌّ يُعْمَلُ بِهِ فِي الْأَرْضِ خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا أَرْبَعِينَ صَبَاحًا.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین پر ایک حد کا نفاذ زمین پر رہنے والوں کے لئے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (231)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْحُدُودِ بَاب إِقَامَةِ الْحُدُودِ رقم (2529)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : حَرِيمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا مِنْ حَوَالَيْهَا كُلُّهَا لِأَعْطَانِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کنویں کی حداپنے چاروں طرف چالیس ہاتھ ہے۔یہ ساری حد اونٹوں اور بکریوں کے ریوڑکے لئے ہے
شعبی رضی اللہ عنہ نے مرفوعا بیان كیاكہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اصحابِ درکلہ (درکلہ بچوں کے کھیل كودکی ایک قسم ہے)کے پاس سے گذرے تو فرمایا:اے بنی ارفدہ (یہ حبشیوں کا لقب ہے)کھیلو تاکہ یہود و نصاریٰ كو معلوم ہو جائے كہ ہمارے دین میں گنجائش ہے۔ وہ کھیل رہے تھے كہ عمر رضی اللہ عنہ آگئے، جب انہوں نے عمررضی اللہ عنہ كو دیكھا توخوف زدہ ہوگئے
Takhreej
الصحيحة رقم (1829)، غريب الحديث لأبي عبيدة (2/102 )
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: شراب خبائث كی جڑ (ام الخبائث)ہے۔ جس شخص نے شراب پی اللہ تعالیٰ چالیس دن تك اس كی نماز قبول نہیں كرے گا، اگر وہ مرگیا اور شراب اس كے پیٹ میں ہوئی تو وہ جاہلیت كی موت مرے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (1829)، غريب الحديث لأبي عبيدة (2/102 )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: شراب فواحش كی جڑ ہے، اور سخت كبیرہ گنا ہ ہے۔ جس شخص نے شراب پی گویا وہ اپنی ماں، خالہ اور پھوپھی پر واقع ہوا( یعنی زناكیا)۔
قہید غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك سائل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر كوئی شخص مجھ پر زیادتی كرے (تومجھے کیا کرنا چاہئے) ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا: اسے تین مرتبہ اللہ کا خوف دلاؤ، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑائی كرو، اگر وہ تجھے قتل كر دے تو تم جنت میں ہو اور اگر تم اسے قتل كر دو تووہ جہنم میں ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1853)، المعجم الأوسط رقم (3285)، المعجم الكبير للطبراني رقم (11209)
عن عائشة قالت: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ فَإِن جَارَتْ عَلَيْهم جَائِرةٌ؛ فَلَا تُخفِرُوهَا؛ فَإِن لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يُعرَفُ بِه يَومَ القِيَامَةِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں كا ذمہ ایك ہی ہے ۔ اگر كوئی پناہ دینے والی(خاتون) پاوہ دے دے تواس كا بھی ذمہ نہ توڑو كیوں كہ ہر دھوكہ دینے والےکے لئے ایك جھنڈا ہوگا جس كے ذریعے وہ قیامت كے دن پہچانا جائے گا۔