عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إذَا ظَنَنْتُمْ فَلَاتُحَقِّقُوا، وَإِذَا حَسَدْتُمْ فَلَا تَبْغُوا، وَإِذَا تَطَيَّرْتُمْ فَامْضُوا وَعَلَى اللهِ تَوَكَّلُوا ، وَإِذَا وَزَنْتُمْ فَأَرْجِحُوا
جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہیں کوئی گمان ہو جائے تو اس پر یقین نہ کرلیا کرو،(یا اسے ثابت کرنے کی کوشش نہ کرو)اور جب تم حسد میں مبتلا ہوجاؤ تو اس پر عمل کرتے ہوئے سرکشی نہ کرو۔ اور جب تمہیں بد شگونی ہو تو اپنا کام جاری رکھو اور اللہ پر ہی بھروسہ رکھو ، اور جب وزن کرو تو پلڑے کو مزیدجھکا دو۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جب کسی آدمی کوغصہ آئےاوروہ یہ کہےأعوذ باللہ (میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں) تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔
عن عَبَدَة بن أبي لُبَابَة عن مُجَاهِد عن ابن عَبَاس مرفوعاً: إِذًا لَقِي الْمُسلم أَخَاه الْمُسلم فَأَخَذ بِيَده فَصَافَحَه تناثرت خطاياهما من بَيْن أَصَابِعِهِمَا كَمَا يَتَنَاثَر وَرَق الشَّجَر بالشتاء قال عَبَدَة : فَقُلْت لِمُجَاهِد : إِن هذا لَيَسِير فَقَال مُجَاهِد : لَا تَقُل هذا ؛ فَإِن الله تَعَالَى قال في كِتَابه ﮊ الأنفال: ٦٣ فعرفت فضل علمه على غيره.
عبدہ بن ابی لبابہ مجاہد سے وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملتا ہے اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرتا ہے تو اس کی انگلیوں سے خطائیں اس طرح جھڑجاتی ہیں جس طرح خزاں کے موسم میں درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ عبدہ کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے کہا یہ تو بہت آسان ہے۔مجاہد نے کہا یہ بات نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا:(الانفال ۶۳) ‘‘اگر آپ زمین میں موجود سب کچھ خرچ کر دیتے تب بھی آپ ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے ۔ لیکن الہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں الفت ڈال دی۔’’ تب مجھے دوسروں کے مقابلہ میں ان کے علم کی فضیلت (اور کثرت علم) کا پتہ چلا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا میرے والد فوت ہوگئے اور حج نہ کر سکے کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا تو کیا تم اسےادا کرتے ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا تم اپنے والد کی طرف سے حج ادا کرو
Takhreej
الصحيحة رقم (3047)صحيح ابن حبان كتاب الحج باب الكفارة رقم (4067)
عن أنس بن مالك ، أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، قال: في مرضه : « أَرْحَامَكُمْ أَرْحَامَكُمْ ».
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران فرمایا اپنے رشتے داروں کا خیال رکھو، اپنے رشتے داروں کا خیال رکھو
Takhreej
الصحيحة رقم (736)صحيح ابن حبان كتاب البر والإحسان باب صلة الرحم وقطعها رقم (437)
عبداللہ بن عمر و بن عاصرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم رحم کرو تم پر رحم کیا جائے گا تم معاف کرو اللہ تمہیں معاف کر ے گا سنی ان سنی کر نیوالوں کے لئے ہلاکت ہے۔ ڈٹ جانے والوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنے گناہ پر ڈٹ جاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں
یزید بن جاریہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا اپنے غلاموں کا خیال رکھو، اپنے غلاموں کا خیال رکھو، اپنے غلاموں کا خیال رکھو، جو تم کھاتے ہو انہیں بھی کھلاؤ جو تم پہنتے ہو انہیں بھی پہناؤ، اگر وہ کوئی ایسی غلطی کر لیں جسے تم معاف نہ کرنا چاہتے ہو تو ان اللہ کے بندوں کو بیچ دو، انہیں سزا نہ دو
عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیا کیا کرو ،کیونکہ اللہ تعالیٰ حق بیان کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتا اپنی بیویوں کے پاس ان کی دبر میں نہ آؤ
عبادہ سے مرفوعا مروی ہے کہ تم اپنی طرف سے مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں، جب بات کرو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، جب تمہیں امانت دی جائے تو ادا کرو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو
حمزہ بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میری ایک بیوی تھی جس سے میں بہت محبت کرتا تھا جبکہ عمررضی اللہ عنہ اسے نا پسند کرتے تھے تو عمررضی اللہ عنہ نے کہا اسے طلاق دے دو، میں نے انکار کر دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا اپنے والد کی اطاعت کرو، اور اسے طلاق دے دو
Takhreej
الصحيحة رقم (919) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ رقم (4472)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معاذ بن جبلرضی اللہ عنہ نے سفر کا ارادہ کیا تو کہا اے اللہ کے رسول مجھے نصیحت کیجئے؟ آپ نے فرمایا اللہ کی عبادت کر واس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، معاذ نے کہا اے اللہ کے نبی مزید فرمائیے آپ نے فرمایا برائی کر بیٹھو تو پھر نیکی کرو ،معاذ نے کہا اے اللہ کے نبی ! مزید فرمائیے، آپ نے فرمایا استقامت اختیار کرو اور اپنےا خلاق کو اچھا کرو
Takhreej
الصحيحة رقم (1228) المعجم الكبير للطبراني رقم (16488)
عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ نے سفر کا ارادہ کیا تو کہا اے اﷲ کے رسول مجھے نصیحت کیجیے؟ آپ نے فرمایا اﷲ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، معاذ نے کہا اے اﷲ کے نبی مزید فرمائیے آپ نے فرمایا جب گناہ کرلو تو پھر نیکی کرو، معاذ نے کہا اے اﷲ کے نبی! مزید فرمائیے، آپ نے فرمایا استقامت اختیار کرو او راپنے اخلاق کو اچھا کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (488) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ رقم (4496)
عباس بن جلید حجری سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو سے سنا کہہ رہے تھے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا ، اے اللہ کے رسول! ہم خادم کو کتنی مرتبہ معاف کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، جب تیسری مرتبہ اس نے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دن میں ستر مرتبہ اس سے درگزر کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3559) البحر الزخار مسند البزار رقم (2293)
معاذ بن جبلرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ! مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلام کو عام کرو اور کھانا کھلاؤ، اور اللہ سے اس طرح حیا کرو جس طرح تم اپنے گھر کے کسی فرد سے حیا کرتے ہو، اور جب گناہ کرو تو اس کے بعد نیکی کرو اور جتنا ہو سکے اپنا اخلاق اچھا کرو
Takhreej
الصحيحة رقم (3559) البحر الزخار مسند البزار رقم (2293)
عن أنس بن مالك قال : كانتِ العربُ تخْدِمُ بَعْضُهَا بَعْضاً في الأسفارِ ، و كان مع أبي بكر و عمر رجلٌ يخدمهُما ، فنامَا ، فاستيقظَا ، و لمْ يُهيِّئْ لهما طعاماً ، فقال أحدهما لصاحبه : إنّ هذَا ليُوائمُ نومَ نبيكُم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و في رواية : ليُوائم نوم بيتِكم فأيقظَـاهُ فقالا : ائتِ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقل له : إن أبا بكر و عمر يقــرئانِكَ السلام، و هما يستأدِمَانِك . فقال : أقرءْهُما السلام، و أخبرْهما أنهما قد ائْتَدَمَا ! ففزِعَا ، فجاءا إلى النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقالا : يا رسول الله ! بعثْنا إليكَ نستأدِمُكَ ، فقلتَ : قد ائْتَدَمَا . فبأيِ شيءٍ ائتدَمْنَا ؟ قال : بلحمِ أخيكُمــا،
والذي نفسي بيده إني لأرَي لحمُه بين أنيْابِكُما قالا : فاستغفرْ لنا ، قال : هو فليستغفرْ لكما .
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ عرب سفر کے دوران ایک دوسرے کی خدمت کیا کرتے تھے ۔ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے ساتھ ایک آدمی تھا جو ان کی خدمت کرتاتھا (ایک مرتبہ ) وہ دونوں سو گئے، جب جاگے تو دیکھا کہ اس نے ان کے لئے کھانا تیار نہیں کیا اِن میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا یہ تو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند کی موافقت کرتا ہے(اور ایک روایت میں ہے تمہارے گھر کی نیند سے مقابلہ کر رہا ہے) ان دونوں نے اسے جگایا اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما آپ کو سلام کہتے اور دونوں آپ سے سالن( کھانا) مانگ رہے ہیں ۔آپ نے فرمایا: ان دونوں کو سلام کہو اور انہیں بتاؤ کہ تم دونوں نے کھانا کھالیا، وہ دونوں گھبراگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے،دونوں نے کہا اے اللہ کے رسول! ہم نے اس شخص کو آپ کی طرف کھانا لینے کے لئے بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ان دونوں نے کھانا کھا لیا ہے؟ ہم نے کس چیز سے کھانا کھایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کے گوشت کے ساتھ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اس کا گوشت تمہارے دانتوں کے درمیان دیکھ رہا ہوں دونوں نے کہا ہمارے لئے بخشش طلب کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی شخص تمہارے لئے بخشش طلب کرے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2608)مساوي الأخلاق للخرائطي رقم (180)
) عن أبي سعيد الخدري مرفوعا: «أَكْمَلُ المُؤمِنِينَ إِيْمَانًا أَحَاسِنُهُم أَخْلاقًا، الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا، الَّذِينَ يَأْلَفُونَ وَيُؤْلَفُونَ، وَلَا خَيْرَ فِيْمَن لَا يَأَلفُ وَلَا يُؤلَفُ».
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ایمان میں کامل ترین مومن سب سے عمدہ اخلاق والے ہیں جن کے کاندھے جھکے ہوئے ہوں، وہ لوگ جو محبت کرتے ہیں اور ان سے لوگ محبت کرتے ہیں ،اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو محبت نہیں کرتا اور نہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں۔
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان میں کامل ترین مومن اچھے اخلاق والا ہے اور تم میں بہترین شخص وہ ہے جو تم میں اپنی بیویوں کے لئے بہترین ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (284) سنن الترمذي كِتَاب الرَّضَاعِ بَاب مَا جَاءَ فِي حَقِّ الْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا رقم (1082)