TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی - اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی - Book 1 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 1 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 204 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

204 Hadith · 1 Chapters
All books
Previous Book Next Book
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : آخَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَيْنَ الزُبَيْر وَ بَيْنَ عَبْدِ اللهِ بنِ مَسْعُود
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، بیان کرتے ہیں کہ آپ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے زبیر اور عبداللہ بن مسعود کے مابین مواخاۃ (بھائی چارہ)قائم کیا۔
1
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ البدري مرفوعا: إن آخِرُما أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ.
ابو مسعود بدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ لوگوں نے (سابقہ) انبیاء کرام کی تعلیمات شے یہ بات حاصل کی: کہ جب تجھے شرم نہ رہے جو جی میں آئے کر۔
Takhreej
الصحيحة رقم (684) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي الْحَيَاءِ رقم (4164)
2
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن كعب بن عجرة: أن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَدَ كَعباً فَسَأَل عَنْه فَقَالُوا: مَريْضٌ فَخَرَجَ يَمْشِى حَتَى أَتَاهُ فَلَمّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ: أَبْشِرْيَا كَعْب فَقَالَتْ أمُّه هَنِيئاً لكَ الجَنةُ ياَ كعْب فَقَالَ مَنْ هذِه المُتَألِّيَةُ علَى الله؟ قَالَ هِي أُمِي يَا رَسُولَ الله فَقَالَ وَمَا يُدْرِيْكِ يَا أَم كَعبٍ؟ لَعَلَّ كَعباً قَالَ مَا لَا يَعْنِيْهِ أَوْمَنَعَ مَا لَا يُغْنِيه.
کعب بن عجرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےجب کعب‌رضی اللہ عنہ کو نہ پایا تو اس کے متعلق پوچھا؟ لوگوں نے کہا وہ بیمار ہیں ۔آپ چلتے ہوئے ان کے پاس آئے ، جب ان کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا کعب خوش ہو جاؤ ،ان کی والدہ نے کہا کعب تمہیں جنت مبارک ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ اللہ پر قسم کھانےوالی کون ہے؟ کعب نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میری والدہ ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام کعب! تمہیں کیا معلوم کہ شاید کبھی کعب نے بے فائدہ (فضول)گفتگو کی ہو، یا جو چیز اس کی ضرورت کی نہ تھی اسے روکا ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3103) الصمت لابن ابي الدنيا باب النهي عن الكلام فيما لا يعنيك رقم (110)
3
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ کے ہاں سب سے نا پسندیدہ شخص وہ ہےجو بہت زیادہ جھگڑالو ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3970) صحيح البخاري كِتَاب الْمَظَالِمِ وَالْغَصْبِ بَاب قَوْلِ اللهِ تَعَالَى {وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ} رقم (2277)
4
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن أنس بن مالك ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال : أَتَدْرُوْنَ مَا الْعَضْهُ؟ قَالوا : الله ورسوله أعلم ، قال: نَقْلُ الحْديْثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إِلى بَعْض ، لِيُفْسِدُوا بينهم
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جانتے ہو چغلی کیا ہے؟ صحابہ نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا کسی شخص کی بات دوسرے کے سامنے اس طرح بیان کرنا کہ ان کے درمیان فساد برپا کر دے
Takhreej
الصحيحة رقم (845) الأدب المفرد باب المستبان ما قالا فعلى الأول رقم (437)
5
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن محمد بن جحادة عن رجلٍ عن زميلٍ لَه من بني العنبر عَن أبيه وكان يُكـنى أبَا المنتفـقِ قال : أَتيتُ مكـةَ فسألتُ عن رسولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فقَالوا : هو بعرفـة . فأَتَيْتُه فذهبتُ أَدْنُوْ مِنه فَمَنعُـوني فقـال : « اُتركوه »، فدنوتُ منْه حتى إذا اخْتَلفتْ عنقُ راحلتِهِ و عنقُ راحلتِي فقلتُ : يا رسول الله نَبئني بما يُباعدني مِن عذابِ اللهِ ويدخلنِيَ الجنةَ . قال : « تعبدُ وفي رواية:أُعبدِْ اللهَ ولا تشركْ به شيئاً ، وتقيمُ الصلاةَ المكتوبة ، وتؤَدي الزكاةَ المفروضة ، وتصومُ رمضانَ وتحجُّ وتعتمرُ ، وانظرْ ما تحبُ مِن الناسِ أنْ يأتُوه إليكَ فافْعَلْه بهِم ، ومَا كَرهتَ أن يأتُوه إليكَ فذرْهُم منْه».
محمد بن جحادہ ایک آدمی سے وہ اپنے ایک ساتھی سے جس کا تعلق بنوعنبر سے ہے وہ اپنے والد سے جس کی کنیت ابو المنتفق ہے تھی بیان کرتے ہیں اس نے کہا کہ میں مکہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا؟ لوگوں نے کہا آپ عرفہ میں ہیں۔ میں آپ کے پاس آیا اور آپ کے قریب ہونے کی کوشش کی تو لوگوں نے مجھے روک لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا جب میری سواری کی گردن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی سواری کی گردن کے سامنے آگئی تو میں نے کہا اے اللہ کے رسول مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے اللہ کے عذاب سے دور کر دے اور جنت میں داخل کر دے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (۱)تم اللہ کی عبادت کرو(ایک روایت میں ہے کہ عبادت کر) اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ(۲)فرض نماز ادا کرو(۳)فرض زکاۃ ادا کرو(۴)رمضان کے روزے رکھو(۵)حج اور عمرہ کرو(۶)اور دیکھو کہ تم لوگوں کے کس روئیے کو پسند کرتے ہو تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ کرو اور ان کے جس طرزعمل کو تم اپنے حق میں نا پسند کر تے ہو ان کے ساتھ بھی ویسا طرزعمل نہ کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3508)الكنى والأسماء للدولابي باب من كنيته أبو محمد من الصحابة رقم (289)
6
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ قَالَ: أَتْقَاهُمْ لِلهِ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ: فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللهِ ابْنُ نَبِيِّ اللهِ ابْن نَبِيِّ اللهِ ابْن خَلِيلِ اللهِ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُوننِي؟ النَّاسُ مَعَادِنٌ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ: لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ آپ نے فرمایاجو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والاہے ۔ لوگوں نے کہا ہم اس بارے میں سوال نہیں کر رہے ! آپ نے فرمایا تب لوگوں میں سب سے زیادہ معزز یوسف علیہ السلام اللہ کے نبی، نبی کے بیٹے، نبی کے پوتے اور ابراہیم خلیل اللہ کے پڑپوتے ہیں۔ لوگوں نے کہا ہم اس بارے میں بھی آپ سے سوال نہیں کر رہے آپ نے فرمایا تب تم عرب کے سر چشمہ خیر کے بارے میں مجھ سے سوال کر رہے ہو؟ لوگ سر چشمہ خیر ہیں ،جاہلیت میں بہترین لوگ اسلام میں بھی بہترین (معزز) ہیں جب وہ سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر 3383) (راز)
Takhreej
الصحيحة رقم (3996) البخاري كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ بَاب قَوْلِ اللهِ تَعَالَى { لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ }رقم (3131)
7
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن ابن مسعود رفعه: « اتَّقُوا اللهَ وَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ ».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مرفوعا بیان کیا کہ اللہ سے ڈر جاؤ اور رشتہ داریوں کو ملاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (869)شعب الإيمان للبيهقي فصل في صلة الرحم وإن كانت كافرة بما ليس فيه معصية رقم (7717)
8
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَثْقَلُ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ الْخُلُق الْحَسَنُ. (
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ میزان میں سب سے بھاری چیز اچھا اخلاق ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (884) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي حُسْنِ الْخُلُقِ رقم (4166)
9
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَخْبِرْنِي بِكَلِمَاتٍ أَعِيشُ بِهِنَّ وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ فَأَنْسَى، قَالَ: اجْتَنِبْ الْغَضَبَ ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ اجْتَنِبْ الْغَضَبَ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھے ایسے کلمات بتلائیے جنہیں میں اپنی زندگی کا حصہ بنالوں،وہ زیادہ کلمات نہ ہوں کہ میں بھول جاؤں ۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا غصے سے بچو، اس نے پھر وہی بات دہرائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا غصے سے بچو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3258) مسند أحمد رقم (22371)
10
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ كُنْتُ أَخْدمُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فأَعْطَانِي أَرْضًا وَأَعْطَى أَبا بَكْرٍ أَرْضًا وَجَاءَت الدُّنْيَا فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هِيَ فِي حَدِّ أَرضِي وَقُلْتُ أَنَا هِيَ فِي حَدِّي وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهتُهَا وَنَدِمَ فَقَالَ لِي يَا رَبِيعَةُ رُدَّ عَلَيَّ مِثْلَهَا حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا قُلْتُ لَا أَفْعَلُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لَتَقُولَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قُلْتُ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ قَالَ وَرَفَضَ الْأَرْضَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ فَجَاءَ أناسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا رَحِمَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ الْذِي قَالَ لَكَ مَا قَالَ؟ فَقُلْتُ أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَهُوَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ فَإِيَّاكُمْ يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ فَيَغْضَبَ فَيَأْتِيَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَيَغْضَبَ لِغَضَبِهِ فَيَغْضَبَ اللهُ (عَزَّ وَجَلَّ) لِغَضَبِهِمَا فَيُهْلِكَ رَبِيْعَةَ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ ارْجِعُوا فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَتَبِعْتُهُ وَحْدِي وَجَعَلْتُ أَتلوهُ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ فَرَفَعَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَقَالَ يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ؟ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ كَانَ كَذَا وَكَانَ كَذَا فَقَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهتُهَا فَقَالَ لِي قُلْ كَمَا قُلْتُ لك حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَجَلْ فَلَا تَرُدَّ عَلَيْهِ وَلَكِنْ قُلْ غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ قَالَ فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَحْمَه اللهِ وَهُوَ يَبْكِي.
ربیعہ اسلمی سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، آپ نے مجھے کچھ زمین دی اور ابو بکر‌رضی اللہ عنہ کو بھی زمین دی۔ ہم پر دنیا غالب آگئی۔ ہم ایک کھجور کے درخت کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ ابو بکر نے کہا یہ میری زمین کی حد میں ہے جبکہ میں نے کہا یہ میری حد میں ہے ۔میرے اور ابو بکر کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوگئ۔ ابو بکر نے مجھے ایسی بات کہی جو مجھے سخت ناگوار گزری ، وہ پشیمان ہو گئے اور مجھے کہنے لگے ربیعہ! مجھے بھی ایسی بات کہو تاکہ یہ قصاص (بدلہ)ہو جائے، میں نے کہا میں تو ایسا نہیں کروں گا۔ ابو بکر نے کہا تم ضرور ایسی بات کہو گے وگرنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے خلاف مدد مانگوں گا، میں نے کہا میں ایسا نہیں کروں گا ربیعہ نے کا ابو بکر کا معاملہ چھوڑ دیا اور رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی طرف چل پڑے۔ میں ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا بنو اسلم کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے اللہ تعالیٰ ابو بکر پر رحم فرمائے یہ کس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے خلاف مدد مانگ رہے ہیں؟ حالانکہ انہوں نے بہت کچھ کہا ہے۔ میں نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے؟ یہ ابو بکر صدیق ہیں اور یہ (ثانی اثینو)مسلمانوں کے محترم ہیں،بچو کہیں وہ تمہیں دیکھ نہ لیں کہ تم ان کے خلاف میری مدد کر رہے ہو اور وہ ناراض ہو جائیں پھر اسی حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو وہ ان کی ناراضگی وجہ سے ناراض ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ ان دونوں کے غصے کی وجہ سے غصے ہو اور ربیعہ ہلاک ہو جائے۔ انہوں نے کہا تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ ربیعہ نے کہا واپس چلے جاؤ۔ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے اور میں اکیلا ہی ان کے پیچھے پیچھے گیا یا چلا۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو انہیں اس معاملے کے بارے میں بتایا کہ کس طرح معاملہ بڑھا۔ آپ نے میری طرف نظریں اٹھائیں اور فرمایا ربیعہ تمہارے اور ابو بکر کے مابین کیا مسئلہ ہے؟ میں نے کہا کہ اس طرح معاملہ ہوا ہے اور انہوں نے مجھے ایسی بات کہی جو مجھے سخت نا پسند لگی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ جس طرح میں نے تمہیں کہا ہے تم بھی اسی طرح کہو تاکہ قصاص (بدلہ) ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے، اسی طرح نہ کہو لیکن کہو ابو بکر اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے ابو بکر اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے۔ ربیعہ کہتے ہیں کہ ابو بکر روتے ہوئے واپس پلٹے
Takhreej
الصحيحة رقم (3258)المعجم الكبير للطبراني رقم (4443)
11
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عُمَرَ , قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم , أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ:أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا لوگوں میں بہترین کون ہے؟ آپ نے فرمایا جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1837)المعجم الكبير للطبراني رقم (13145)
12
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أُسَامَةَ بن شَرِيكٍ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم كَأَنَّما عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ ، مَا يَتَكَلَّمُ مِنَّا مُتَكَلِّمٌ إِذْ جَآءَهُ أُنَاسٌ ، فَقَالُوا : مَنْ أَحَبُّ عِبَادِ اللهِ إِلَى اللهِ ؟ ، قَالَ : أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا.
اسامہ بن شریک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح بیٹھے ہوئے تھے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں ،ہم میں سے کوئی بھی شخص بات نہیں کر رہا تھا کہ کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے اللہ کے بندوں میں سے اللہ کو سب سے پسندیدہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا جس کا اخلاق سب سے عمدہ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (432) المعجم الكبير للطبراني رقم (473)
13
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن الحسن مرسلا: احْفَظْ لِسَانَكَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ مُعَاذُ! فهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ إِلَّا أَلْسِنَتهُمْ.
حسن سے مرسل روایت ہے اے معاذ! تجھے تیری ماں گم پائے، اپنی زبان کی حفاظت کر لوگوں کو (جنمل میں) منہ کے بل ان کی زبانیں ہی گرائیں گی
Takhreej
الصحيحة رقم (1122) مسند أحمد رقم (21008)
14
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ قَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَمَشَقَّتَهُ وَمُؤُنَتَهُ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جب تمہارا خادم تمہارے پاس کھانا لائے جس کی گرمی ،مشقت اور تکلیف اس نے برداشت کی ہے ،تو تم اسے اپنے ساتھ بٹھاڈ ، اگر وہ انکار کرے تو اس کے ہاتھ میں ایک لقمہ ہی پکڑا دو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1385)مسند أحمد رقم (7472)
15
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن علي بن الحسين مرفوعاً إذا أحبَّ أَحَدُكمْ أَخاهُ فِى الله ، فَالْيُبَيِّنْ لَه فإِنه خيْرٌ فِي الألفةِ وأَبْقى في المَودةِ
علی بن حسین سے مرفوعا (مرسل) مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے اللہ کے لئے محبت کرے تو اس سے اظہار کر دے کیونکہ یہ بات الفت پیدا کرنے میں بہترین اور محبت کودوام بخشنے والی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1199) الزهد لوكيع رقم (331)
16
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَائِشَةَ مرفوعا: إِذَا أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ الرِّفْقَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ جب اللہ کسی گھر والوں کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو ان میں نرمی داخل کردیتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1219) مسند أحمد رقم (23290)
17
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِذَا اقْتَـرَبَ الزَّمَـانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُهُــمْ رُؤْيَـا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ قَالَ وَقَالَ الرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنْ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرُّؤْيَا تَحْزِين مِنْ الشَّيْطَانِ وَالرُّؤْيَا مِنْ الشَّيْءِ يُحَدِّثُ بِهِ الْإِنْسَانُ نَفْسَهُ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلَا يُحَدِّثْهُ أَحَدًا وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ قَالَ وَأُحِبُّ الْقَيْدَ فِي النَّوْمِ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (۱)جب زمانہ (قرب قیامت)قریب آجائے گا تو مسلمان کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا(۲)سب سے سچا خواب اس شخص کا ہوگا جو سب سے زیادہ سچا ہوگا(۳)مسلمان کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ پھر فرمایا (۴)خواب تین قسم کے ہیں، اچھا خواب، اللہ کی طرف سےخوشخبری ہے۔اور ایک قسم کے خواب شیطان کی طرف سے (انسان کو) غمزدہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور (تیسرا)خواب انسان کے ذہن میں سمائے ہوئے خیالات ہوتے ہیں وہی خواب بن جاتے ہیں۔(۵)تو جب تم میں س سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو وہ کسی بھی شخص کو وہ خواب نہ بتائے۔ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھے۔ پھرفرمایا(۶) نیند میں خواب میں پا بزنجیر دیکھنے کو پسند کرتا ہوں اور (گلے میں) طوق دیکھنے کو ناپسند کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد حدیث: 5019۔ دارالسلام)
Takhreej
الصحيحة رقم (3014) مسند أحمد رقم (10185)
18
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعاً: قَالَ إِذَا جَآءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ قَدْ كَفَاهُ حَرَّهُ وَعَمَلَهُ فَإِنْ لَّمْ يُقْعِدْهُ مَعَهُ لِيَأْكُلَ فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً مِنْ طَعَامِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا لائے جس کی گرمی اور تکلیف اس نے برداشت کی ہو اگر اسے کھانے کے لئے اپنے پاس نہ بٹھائے تو اسے ایک لقمہ ہی دے دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1043)مسند أحمد رقم (8901)
19
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن أبي بكرة ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال : « إذا شَهَرَ المسلمُ علَى أخيْهِ سِلاحاً فَلا تَزالُ مَلَائِكةُ اللهِ تلعنُه حتى يُشِيْمُه عنْهُ ».
ابو بکرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مسلمان اپنے بھائی پر اسلحہ اٹھاتا ہے تو اللہ کے فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس سے اسے ہٹانہ لے
Takhreej
الصحيحة رقم (3973) البحر الزخار مسند البزار رقم (3076)
20
Sahih