TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی - اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی - Book 1 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 1 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 204 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

204 Hadith · 1 Chapters
All books
Previous Book Next Book
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ وَاثِلَةَ بن الأَسْقَعِ، قَالَ:كُنْتُ فِي أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا مِنَّا إِنْسَانٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ تَامٌّ، وَأَخَذَ الْعَرَقُ فِي جُلُودِنَا طَرَفًا مِّنَ الْغُبَارِ وَالْوَسَخِ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: لِيُبشر فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ شَارَةٌ حَسَنَةٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم لا يَتَكَلَّمُ بِكَلامٍ إِلا كَلَّفَتْهُ نَفْسُهُ أن يَأْتِي بِكَلامٍ يَعْلُو كَلامَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنَّ اللهَ لا يُحِبُّ هَذَا وضرَبُهَ يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ لِلنَّاسِ لَيَّ الْبَقَرَةِ لِسَانَهَا بِالْمَرْعَى، كَذَلِكَ يَلْوِي اللهُ أَلْسِنَتَهُمْ وَوُجُوهَهُمْ فِي النَّارِ
واثلہ بن اسقع سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں اصحاب صفہ میں تھا، میں نے دیکھا کہ ہم میں سے کسی بھی شخص پر مکمل کپڑے نہیں تھے۔ پسینے نے ہمارے جسموں پر غبار اور گندگی کا ایک راستہ بنا لیا تھا اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: فقراء مہاجرین خوش ہو جائیں۔ اتنے میں ایک آدمی جس پر ایک خوب صورت لباس تھا آگے آیا ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو بات بھی کرتے وہ وہ تکلفا ایسی بات کرتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے بلند ہو۔ جب وہ واپس چلا گیا تو فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ اس کو اور اس جیسے اس جیسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔یہ لوگ لوگوں کے لئے اپنی زبان کو گھماتے( موڑتے) ہیں جس طرح گائے چارہ کھاتے ہوئے اپنی زبان گھماتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کی زبانوں اور چہروں کو آگ میں گھمائے (موڑے )گا
Takhreej
الصحيحة رقم (3426)المعجم الكبير للطبراني رقم (17635)
61
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ اللهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ ثم يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ ثم يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ.
مقدام بن معدیکر ب الکندی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتا ہے، اس کے بعد تمہارے آباء (باپ دادا) سے بھلائی کرنے کا حکم دیتا ہے، پرَ جو قریبی ہے، پھر اس سے جو قریبی ہے اس کے ساتھ بھلائی کا حکم دیتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1666) سنن ابن ماجه كِتَاب الْأَدَبِ بَاب بِرِّ الْوَالِدَيْنِ رقم (3651)
62
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِنَّ أَهْلَ النَّارِ كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ جَمَّاعٍ سَمَنَّاعٍ وَأَهْلُ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً بد خلق، اور بسیار خوار، متکبر، اور ہر مال جمع کرنے والا اور بخل سے کام لینے والا جہنم کا حقدار ہے، اور جنت کے حقدار کمزور مغلوب لوگ ہونگے
Takhreej
الصحيحة رقم (1741) مسند أحمد رقم (6714)
63
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِاللهِ مَنْ بَدَأَهُمْ بِالسَّلَامِ
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً لوگوں میں سے اللہ کے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو ان میں سے سلام میں پہل کرتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3382)سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي فَضْلِ مَنْ بَدَأَ السَّلَامَ رقم (4522)
64
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ نَاقَةٌ لِرَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ؟ وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَبَقَهَا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَقَالُوا سُبِقَتْ الْعَضْبَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنْ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نےکہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عضباء نامی ایک اونٹنی تھی، وہ کبھی پیچھے نہیں رہی تھی۔ ایک دیہاتی آدمی اپنے اونٹ پر آیا، وہ اس سے سبقت لے گیا ،یہ بات مسلمانوں پر گراں گزری ،اور کہنے لگے عضباء پیچھے رہ گئی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کے ذمے لازم ہے کہ وہ دنیا میں جس چیز کو بھی بلند کرتا ہے اسے نیچے ضرور کرتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3525)صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب التَّوَاضُعِ رقم (6020)
65
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ إِيَاسِ بن مُعَاوِيَةَ بن قُرَّةَ عن أَبِيه، عَنْ جَدِّه قُرَّةَ المزني ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَرسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فَذُكِرَ عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، الْحَيَاءُ مِنَ الدِّينِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْحَيَاءَ، وَالْعَفَافَ، وَالْعِيَّ، عِيَّ اللِّسَانِ لا عِيَّ الْقَلْبِ، وَالفِقهَ مِنَ الإِيمَانِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِيِ الآخِرَةِ، وَينْقصْنَ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَا يَزِدْنَ فِي الآخِرَةِ، أَكْثَرُ مِمَّا ينْقصْنَ من الدُّنْيَا، وإِنَّ الشُّحَّ والفحش، وَالْبَذَاءَ مِنَ النِّفَاقِ، وَإِنَّهُنَّ ينْقصْنَ مِنَ الآخِرَةِ،ويَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا، وَمَا ينْقصْنَ فِي الآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا قال إياس:فحدثت به عمر بن عبد العزيز فأمرني فأمليتها عليه ثم كتبه بخطه ثم صلى بنا الظهر والعصر وانها في كمه ما يضعها.
ایاس بن معاویہ بن قرۃ المزنی اپنے والد سے وہ ان کے دادا قرۃ المزنی سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ کے پاس حیاء کا تذکرہ چل پڑا، صحابہ نے پوچھا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا حیا دین سے تعلق رکھتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک حیا، پاکدامنی ،بے بسی(عدم قدرت) ،زبان کی بے بسی نہ کہ دل کی بے بسی، اور فقہ(سمجھ بوجھ) ایمان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان سے دنیا میں کمی اور آخرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور آخرت کا اضافہ دنیا کے نقصان سے بہت زیادہ ہے ۔اسی طرح بخیلی ،فحش، اور بدکلامی نفاق سے تعلق رکھتی ہیں ۔ یہ چیزیں آخرت کا نقصان کرتی ہیں اور دنیا میں کچھ اضافہ کرتی ہیں۔ اور آخرت کا نقصان دنیا کے فائدہ سے بہت زیادہ ہے۔ ایاس نے کہا میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو بیان کی ۔انہوں نے مجھے حکم دیا تو میں نے یہ حدیث انہیں املا کروائی پھر انہوں نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھا ۔پھر ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی تو وہ ان کی آستین میں تھا انہوں نے اسے رکھا تک نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (3381)شعب الايمان للبيهقي رقم (7452) المعجم الكبير للطبراني رقم (15406، 15407)
66
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن أبي حميد الساعدي مرفوعا: إنَ خيرَ عبادَ الله من هَذه الأمة المُوَفُّون المُطيِّبُون.
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ہے کہ یقیناً اس امت میں اللہ کے بہترین بندےوہ ہیں جو پورا حق دینے والے اور حوصلہ افزائی کرنےوالےہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2848)مستخرج ابي عوانة رقم (5712)
67
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَن الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ الملكِ بْنِ حَنْطَبَ الْمَخْزُومِيِّ مرسلا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا الْغِيبَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنْ تَذْكُرَ مِنْ الْمَرْءِ مَا يَكْرَهُ أَنْ يَّسْمَعَ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنْ كَانَ حَقًّا؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا قُلْتَ بَاطِلًا فَذَلِكَ الْبُهْتَانُ.
مطلب بن عبدالملک بن حنطب مخزومی سے مرسلا مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا غیبت کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کسی شخص کا ان الفاظ میں ذکر کرو کہ اگر وہ سنے تو نا پسند کرے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ سچ ہی ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر تم جھوٹ کہو گے تب تو یہ بہتان ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (1992)مؤطا امام مالك كِتَاب الْجَامِعِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ رقم (1565)
68
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: إِنَّ الرَّجُلَ لَتُرْفَعُ دَرَجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَنَّى لي هَذَا فَيُقَالُ بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جنت میں آدمی کا درجہ بلندکردیا جاتا ہے تووہ کہتا ہے:یہ (مجھے)کس طرح مل گیا؟ کہا جاتا ہے کہ بیٹے کے تمہارے لئے بخشش طلب کرنے کی وجہ سے
Takhreej
الصحيحة رقم (1598)سنن ابن ماجه كِتَاب الْأَدَبِ بَاب بِرِّ الْوَالِدَيْنِ رقم (3650)
69
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ الرجل لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدمی اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کے درجات کو پالیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (795)سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي حُسْنِ الْخُلُقِ رقم (4165) مسند أحمد (23454، 23864)
70
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
) عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ:إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الْسَاهِرِ بِاللَّيْلِ الظَّامِئِ بِالْهَوَاجِر
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً آدمی اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے رات کو جاگنے والے اور دوپہر کی گرمی کی پیاس برداشت کرنے والے(روزہ دار)کے درجات پالیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (794) مكارم الاخلاق للطبراني باب ما جاء في حسن الخلق رقم (3) فوائد تمام رقم (1407)
71
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ آخِذَةٌ بِحُجْزَةِ الرَّحْمَنِ يَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا وَيَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً صلہ رحمی رحمن کے دامن کو پکڑے ہوئے ایک ٹہنی ہے جو رحمن کے دامن کو پکڑے ہوئے ہے۔جو اسے ملاتا ہے اللہ اسے ملاتا ہے اور جو اسے کاٹتا ہے اللہ اسے کاٹتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1602) مسند أحمد رقم (2801)
72
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن عبد الله بن عمرو ، قال: عَطَفَ لَنَا رَسُوْلُ الله صلی اللہ علیہ وسلم إصَبَعَه فقال : إن الرَّحم شُجْنَةٌ مِّن الرَّحْمٰنِ عز وجل ، واصلة، لها لِسَانٌ ذَلِقٌ ، تَتَكَلُّمُ بما شَآءَتْ ، فَمَنْ وَّصَلَهَا وَصَلَهُ الله ، وَمَنْ قَطَعَهَآ قَطَعَهُ اللهَ.
عبداللہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے اپنی انگلی کو موڑا اور فرمایا: یقیناً صلہ رحمی رحمن عزوجل سے ملی ہوئی ایک گھنی ٹہنی ہے۔ اس کی ایک فصیح و تیز زبان ہے ۔ جو چاہتی ہے بولتی ہے، تو جو شخص اسے ملاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ملاتا ہے اور جو اسے کاٹتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کاٹتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2474) مسند الطيالسي رقم (2352)
73
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي أَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ إِنَّ الرُّوحَ لَتلْقَى الرُّوحَ. وفي رواية: اجْلِسْ وَاسْجُدْ وَاصْنَعْ كَمَا رَأَيْتَ وَأَقْنَعَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم هَكَذَا قال عفان برأسه إلى خلف فَوَضَعَ جَبْهَتَهُ عَلَى جَبْهَةِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم
عمارہ بن خزیمہ بن ثابت سے مروی ہے کہ ان کے والد نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کر رہا ہوں، میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا: روح، روح سے ملاقات کر تی ہیں۔اور ایک روایت میں ہے :بیٹھ جاؤ سجدہ کرو ، جس طرح تم نے دیکھا ہے اسی طرح کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکساری کے انداز میں اس طرح سر اٹھایا (عفان نے اپنے سر کو پیچھے کی طرفکرکے دکھایا) ۔انہوں نے اپنی پیشانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر رکھ دی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3262)مسند أحمد رقم (20873) المعجم الكبير للطبراني رقم (3629)
74
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : عَنْ رَجُلٍ ، فَقَالَ : اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلا عَلَى سَرِيَّةٍ ، فَلَمَّا مَضَى وَرَجَعَ إِلَيْهِ ، قَالَ لَهُ : كَيْفَ وَجَدْتَ الإِمَارَةَ ؟ , فَقَالَ : كُنْتُ كَبَعْضِ الْقَوْمِ ، كُنْتُ إِذَا رَكِبْتُ رَكِبُوا وَإِذَا نَزَلَتُ نَزَلُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ صَاحِبَ السُّلْطَانِ عَلَى بَابِ عَنَتٍ إِلا مَنْ عَصَمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَاللهِ لا أَعْمَلُ لَكَ وَلا لِغَيْرِكَ أَبَدًا ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.
حمید سے مروی ہے وہ ایک آدمی سےروایت کرتے ہیں اس نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کسی سرہ میں امیر لشکر بنایا، جب وہ چلا گیا وہ واپس آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: تم نے امارت کو کیسا پایا؟ اس نے کہا میں دوسرے لوگوں کی طرح تھا۔ جب میں سوار ہوتا تو وہ بھی سوار ہو جاتے اور جب اترتا تو وہ بھی اتر جاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً صاحب سلطنت(امارت)شخص غلطی (مصیبت)کے دروزاےپر ہوتا ہے۔ مگر جسے اللہ عزوجل بچالے۔ اس آدمی نے کہا: واللہ! میں کبھی بھی نہ آپ کے لئے نہ کسی دوسرے کے لئے ایسا کام کروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں
Takhreej
الصحيحة رقم (3239)المعجم الكبير للطبراني رقم (3523)
75
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنَ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعِرَّانَةِ ازْدَحَمُوا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللهِ بَعَثَهُ اللهُ إِلَى قَوْمِهِ فَكذبُوهُ وَشَجُّوهُ فكان يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبْهَتِهِ وَيَقُولُ: اللهم اغْفِرْ لِقَوْمِي فإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ قَالَ عَبْدُ اللهِ فكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَحْكِي الرَّجُلَ يَمْسَحُ عَنْ جَبْهَتِهِ.
عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے انہوں نے کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جعرانہ) میں حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں تو لوگ آپ پر چڑھ آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا انہوں نے اسے جھٹلایا اس کا سرزخمی کر دیا وہ اپنی پیشانی سے خون صاف کر تا اور کہتا: اے اللہ! میری قوم کو معاف فرمادے کیونکہ یہ علم نہیں رکھتے ۔عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نے کہا گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح دیکھ رہا تھا کہ جس آدمی کا واقعہ آپ بیان کر رہے ہیں وہ اپنی پیشانی سے خون صاف کر رہا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3175) مسند أحمد رقم (4136) الأدب المفرد باب من لم ير بحكاية الخبر بأسا رقم (779)
76
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونَ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ وَأَحْلُمُ وَيَجْهَلُونَ قَالَ إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمْ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنََ اللهِ ظَهِيرٌ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے رشتہ دار ہیں ، میں ان سے ملتا ہوں وہ مجھ سے دور ہوتے ہیں ،میں ان سے نیکی کرتا ہوں وہ مجھے تکلیف دیتے ہیں۔ میں حلم و بردباری والا ہوں، وہ جاہل قسم کے لوگ ہیں، آپ نے فرمایا: جس طرح تم کہہ رہے ہو اگر واقعی معاملہ اسی طرح ہے تو گویا تم نے ان کے منہ میں خاک ڈال رہے ہو،اور(جب تک تم اس کام پر ڈٹے رہو گے) اللہ کی طرف سے ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2597) مسند أحمد رقم (7651) المعجم الكبير للطبراني رقم (569) صحيح ابن حبان رقم (451)
77
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن أنس بن مالك قال : نَزلَ بالنبي صلی اللہ علیہ وسلم أضيافُ منَ البحرين فَدَعَا النبيُ بوَضُوئه ، فَتَوضَأ، فَبَادَرُوا إلى وَضُوئه فَشَربُوا مَا أدرَكُوه منه . و مَا انصَب منه في الأرضِ فَمَسَحُوا به وُجُوهَهُم و رُءوُسَهم و صُدُورَهُم ، فقال لهم النبي صلی اللہ علیہ وسلم ما دَعَاكُم إلى ذلك ؟ قَالُوا : حُبا لَكَ ، لعلَ اللهَ يحبُنا يا رسولَ الله . فقال رسولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم ان كنتُم تُحبُونَ أن يُحبَكُم اللهَ ورسولَه فَحَافظُواعَلي ثَلاث خصَال ، صِدْقُ الْحَدِيثِ وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ وحسن الجوارفإن أذى الجَار يَمحُو الحَسنات كَما تَمحُوالشمسُ الجليدَ
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ بحرین سے کچھ مہمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ٹھہرے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا تو وہ جلدی سے آپ کے وضو کے پانی کی طرف دوڑے جو ملا اسے پی لیا، اور جو زمین پر گر گیا اسے اپنے چہروں ،سروں، اور سینوں پر لگا لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تمہیں کس بات نے اس کام پرابھارا؟ انہوں نے کہا : آپ کی محبت نے ، شاید اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کرنے لگےاے اللہ کے رسول! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں یہ بات پسند ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تم سے محبت کریں تو پھر تین عادات کی حفاظت کرو ،سچی بات کہنا، امانت ادا کرنا، اور بہترین پڑوسی بننا ۔کیونکہ پڑوسی کو تکلیف دینا نیکیوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح سورج برف کو پگھلا دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2998) الفوائد للخلعي ( 18 / 73 / 1 )
78
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ. روي من حديث انس وابن عباس.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر دین کا ایک خلق(عادت، اخلاق)ہوتا ہے، اور اسلام کا خلق حیاء ہے،یہ حدیث انس اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (940) سنن ابن ماجة كِتَاب الزُّهْدِ بَاب الْحَيَاءِ رقم (471، 472)
79
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن أبي عنبة الخولاني ، يرفعه إلى النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: « إن للهِ آنيةٌ مِنْ أهلِ الأرضِ وآنيةُ ربِكمْ قلوبُ عبادِهِ الصالحينَ ، وأحَبُها إليهِ ألْيَنُها وأَرَقُّهَا ».
ابو عنبہ خولانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان کرتے ہیں: اللہ کے لئے اہل زمین میں برتن ہیں، اور تمہارے رب کے برتن اس کے نیک بندوں کے دل ہیں، ان میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب سب سے نرم اور سب سے رقیق دل ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1691) مسند الشامين للطبراني رقم (817)
80
Sahih