TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - Book 2 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 2 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 270 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

270 Hadith · 1 Chapters
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن أبي هريرة ، عن رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، أنه قال : « آمركُم بثلاث ، وأنهاكُم عن ثَلاث آمُركُم : أن تعبدُوا الله ، ولا تشركُوا به شَيئًا ، وتَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا ولا تفْرقُوا ، وتُطيعُوا لمن ولَّاهُ الله عَليكُم أَمركُم ، وأَنهاكُم عن : قِيلَ وَقالَ ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور تین باتوں سے منع کرتا ہوں، میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اللہ کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ فرقہ مت بنو، اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملات کا نگران بنایا ہے اس کی اطاعت کرو اور میں تمہیں فضول گفتگو ، کثرت سوال اور مال ضائع کرنے سے منع کرتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (685) صحيح ابن حبان رقم (4643)
205
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَلِيْمٍ أَوْ سُلَيْمٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ مَّعَ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ أَيُّكُمْ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَ فَإِمَّا أَنْ يَّكُونَ أَوْمَأَ إِلَى نَفْسِهِ وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ أَشَارَ إِلَيْهِ الْقَوْمُ قَالَ فَإِذَا هُوَ مُحْتَبٍ بِبُرْدَةٍ قَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَجْفُو عَنْ أَشْيَاءَ فَعَلِّمْنِي قَالَ اتَّقِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي وَإِيَّاكَ وَالْمَخِيلَةَ فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِأَمْرٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِأَمْرٍ تَعْلَمُهُ فِيهِ فَيَكُونَ لَكَ أَجْرُهُ وَعَلَيْهِ إِثْمُهُ وَلَا تَشْتُمَنَّ أَحَدًا
جابر بن سَلیم یا سُلیم سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: تم میں نبی کون ہے؟ یا تو آپ نے خود اپنی طرف اشارہ کیا یا لوگوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا ، آپ کپڑا کمر سے ڈال کر گھٹنے کھڑے کرکے کمر والے کپڑے سے باندھ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ کپڑے کا کنارہ آپ کے قدموں پر گرا ہوا تھا میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میں کچھ چیزیں جنہیں میں پختہ یاد نہیں رکھ سکتا(بھول جاتا ہوں)آپ مجھے سکھلائیے۔ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل سے ڈرو اور نیکی کے کسی کام کو حقیر مت سمجھو، اگرچہ تم اپنےڈول سے پانی لینے والے کے برتن میں پانی ہی کیوں نہ ڈالو۔ تکبر سے بچو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی شخص تم میں موجود کسی خامی کو دیکھ کر تم پر ہنسے اور عار دلائے تو تم اس میں موجود کسی خامی کو دیکھ کر اسے عار نہ دلاؤ۔ اس بات کا تمہیں اجر ملے گا اور اس پر گناہ ہوگا اور کسی کو گالی مت دو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (770) مسند أحمد رقم (19715)
206
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ اتقُوا اللهَ فِي الصَّلَاةِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَجَعلَ يُكَرِّرُهَا.
ام سلمہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض الموت میں فرمایا:نماز اور غلاموں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ آپ بار بار اسی بات کو دہراتے رہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (868) سنن ابن ماجة كِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ رقم (1614)
207
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن جابر رضی اللہ عنہ مرفوعاً: « أَحبُ الطَعَام إلَى الله مَا كَثُرَتْ عَلَيه الأَيدي ».
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے اللہ کو سب سے پیارا کھانا وہ لگتا ہے جس میں کھانے والے ہاتھ زیادہ ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (895) مسند أبي يعلى رقم (1994) شعب الايمان للبيهقي رقم (9293، 9294)
208
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ وَأَيُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللهِ تَعَالَى أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ وَأَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللهِ عَزوَجَل سُرُورٌ يُّدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ أَوْ يَكَشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً أَوْ يَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا أَوْ يَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا وَلأَنْ أَمْشِيَ مَعَ أَخِ فِي حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ شَهْرًا وَمَنَ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ مَلأَ اللهُ قَلْبَهُ رَجَاءً يَّوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ مَّشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى تَتَهَيَّأَ لَهُ أَثْبَتَ اللهُ قَدَمَهُ يَوْمَ تَزُولُ الأَقْدَامُ. (وَإنَّ سوءَ الْخُلُقِ يُفْسِدُ الْعَمَلَ كَمَا يُفْسِدُ الْخَلُّ الْعَسَلَ).
عبداللہ بن عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے رسول! کونسا شخص اللہ کو زیادہ محبوب ہے اور کونسا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب اللہ کے ہاں وہ شخص ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع دینے والا ہے ۔ اور اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ خوشی ہے جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو دے، یا اس سے مصیبت دور کرے ،یا اس کا قرض ادا کرے یا اس کی بھوک ختم کرے، اور اگر میں کسی بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے چلوں تو یہ مجھے اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں ایک ماہ اعتکاف میں بیٹھنے سے زیادہ محبوب ہے۔ جس شخص نے اپنا غصہ روکا اللہ تعالیٰ اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا، جو شخص اپنے غصے کے مطابق عمل کرنے کی طاقت کے باوجود اپنے غصے کو پی گیا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو امید سے بھر دے گا۔ اور جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری ہونے تک اس کے ساتھ چلا تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن ثابت قدم رکھیں گے جس دن قدم ڈگمگا رہے ہوں گے (اور یقیناً بد اخلاقی عمل کو خراب کر دیتی ہے جس طرح سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے)
Takhreej
الصحيحة رقم (906) المعجم الكبير رقم (13468، 10626)
209
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أسيدٍ أنّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهُ: أَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ.
(۲۱۰) یزید بن اسید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (72) مسند أحمد رقم (16058)
210
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سَمِعَ كَلِمَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَقَالَ أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فَيكَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ سنا تو آپ کو بہت اچھا لگا آپ نے فرمایا : ہم نے نیک شگون تمہارے منہ سے لےلیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (72) مسند أحمد رقم (16058)
211
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ رَجُلٌ مِّنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ فِي بَيْتٍ فَقَالَ أَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : اخْرُجْ إِلَى هَذَا فَعَلِّمْهُ الِاسْتِئْذَانَ فَقُلْ لَهُ قُلِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَدَخَلَ.
بنو عامر کے ایک شخص سے مروی ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی آپ اپنے گھر میں تھے اس نے (کہا) داخل ہوجاؤں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (خادم سے) فرمایا: اس کے پاس جاؤ اور اسے اجازت مانگنے کا طریقہ سکھلاؤ۔ اور اس سے کہو کہ اس طرح کہے السلام علیکم کیا میں اندر آجاؤں؟ اس شخص نے یہ بات سن لی اس نے کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آجاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازدت دے دی تو وہ اندر آگیا
Takhreej
الصحيحة رقم (819) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب كَيْفَ الِاسْتِئْذَانُ رقم (4508)
212
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَأَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِخَادِمِهِ اخْرُجِي إِلَيْهِ فَإِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الِاسْتِئْذَانَ فَقُولِي: فَلْيَقُلِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَدْخُلُ؟
بنو عامر کے ایک شخص سے مروی ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو اس نے کہا : کیا میں اندر آجاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لونڈی سے کہا: اس کے پاس جاؤ وہ عمدہ طریقے سے اجازت نہیں مانگ رہا ، اس سے کہو کہ اس طرح کہے: السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (1170) مسند أحمد رقم (22046)
213
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللهِ يَومَ القِيَامةِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے برا نام اس شخص کا ہوگا جس نے اپنا نام شہنشاہ رکھا ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (915) صحيح مسلم كِتَاب الْآدَابِ بَاب تَحْرِيمِ التَّسَمِّي بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ وَبِمَلِكِ الْمُلُوكِ رقم (3993)
214
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إذا أبردتم إلي بَريدًا فابْعَثُوهُ حَسَنَ الْوَجْهِ، حَسَنَ الاسْمِ .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میرے پاس کسی ایلچی (پیغامبر)کو بھیجو تو اچھی صورت اور اچھے نام والے کو بھجو ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1186) البزار في مسنده (ص/ 242)
215
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعيدِ الضحَّاكِ بن قَيْسٍ، الفَهرِي یقول سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا، فَمَرْحَبًا بِهِ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَإِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا لَه: قَحْطًا، فَقَحْطًا لَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ابو سعید ضحاک بن قیس فہری سے مروی ہے اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے جب کوئی آدمی کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے خوش آمدید کہیں تو جس دن وہ اپنے رب سے ملے گا اس دن بھی اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ اور جب کوئی آدمی کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے برا بھلاکہیں تو قیامت کے دن بھی اس کے لئے برائی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1189) المعجم الكبير للطبراني رقم (8061)
216
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعيدِ الضحَّاكِ بن قَيْسٍ، الفَهرِي یقول سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا، فَمَرْحَبًا بِهِ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَإِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا لَه: قَحْطًا، فَقَحْطًا لَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ابو سعید ضحاک بن قیس فہری سے مروی ہے اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے جب کوئی آدمی کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے خوش آمدید کہیں تو جس دن وہ اپنے رب سے ملے گا اس دن بھی اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ اور جب کوئی آدمی کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے برا بھلاکہیں تو قیامت کے دن ان کے لئے بھی برائی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1189) المعجم الكبير للطبراني رقم (8061)
217
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ. روی من حدیث عبداللہ بن عمر و جریر عبداللہ و جابر بن عبداللہ و ابی ھریرۃ و عبداللہ بن عباس و معاذ بن جبل وعدی بن حاتم وابی راشد عبدالرحمن بن عبد و انس بن مالک رضی اللہ عنھم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز شخص آئے تو اس کی عزت کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1205) سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَدَبِ بَاب إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ رقم (3702)
218
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ مَرفُوعاً: إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُعْلِمْهُ أَنَّه يُحِبُّهُ.
مقدام بن معدی کرب سے مرفوعا مروی ہے جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بتادے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (417) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي إِعْلَامِ الْحُبِّ رقم (2314)
219
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ فَلْيُخْبِرْهُ بِأَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلهِ عَزّوجل.
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے جب تم میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی سے محبت کرے تو وہ اس کے پاس اس کے گھر آئے اور اسے بتائے کہ وہ اس سے اللہ عزوجل کے لئے محبت کرتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (797) مسند أحمد رقم (20332)
220
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن مُجَاهِد قال : لَقِينِي رَجل مِّن أَصحَاب النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخَذ بِمنْكبِي من وَّرَائِي ، قال : أَمَا إِنِّي أحبك ، قُلْت : أحبك الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَه ، فَقَال : لَوْلَا أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : إِذَا أحب الرَجل الرجل فَلْيُخْبِرْه أَنَّه أحبه لما أَخْبَرتك ، قال : ثُم أَخذ يعرض علي الْخُطْبَة قال : أمَا إِن عِنْدَنَا جَارِيَة ، أَمَا إِنَّهَا عَوْرَاء
مجاہد سے مروی ہے اس نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صحابی مجھ سے ملا اور میرے پیچھے سے میرے کاندھے پکڑ کر کہنے لگا: میں تم سے محبت کرتا ہوں، میں نے کہا جس کے لئے تم نے مجھ سے محبت کی وہ تم سے محبت کرے۔ اس صحابی نے کہا اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے محبت کرے تو اسے بتادے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے تو میں تمہیں نہ بتاتا ،پھر وہ مجھے نکاح کا پیغام دینے لگا کہنے لگا ہمارے پاس ایک بچی ہے لیکن وہ بھینگی ہے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (418) الأدب المفرد للبخاري رقم (561)
221
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَن عَبْدِ اللهِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَّسْأَلَ، فَلْيَبْدَأْ بِالْمِدْحَةِ، وَالثَّنَاءِ عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ لْيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، ثُمَّ لِيَسْأَلْ بَعْدُ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يََّْجَحَ . موقوف في حكم المرفوع.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: جب تم میں سے کوئی شخص مانگنا چاہے تو اللہ کی حمدوثنا سے ابتداء کرے ،پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے پھر اس کے بعد مانگے ،یہ کامیابی کے لئے زیادہ مناسب ہے ،(یہ حدیث) مرفوع کے حکم میں موقوف ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3204) المعجم الكبير للطبراني رقم (8692)
222
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
) عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِّنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ إِذْ جَاءَ أَبُو مُوسَى كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ فَقَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ؟ قُلْتُ اسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ وَاللهِ لَتُقِيمَنَّ عَلَيْهِ بَيِّنَةً أَمِنْكُمْ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَاللهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخْبَرْتُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ ذَلِكَ.
ابو سعید نے کہا میں انصاریوں کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ابو موسیٰ ڈرے سہمے ہوئے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا : میں نے عمر‌رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن انہوں نے مجھے اجازت نہیں دی میں واپس آنے لگا تو عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کس وجہ سے واپس جارہے ہو؟ ابو موسیٰ نے کہا: میں نے تین مرتبہ اجازت مانگی مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں واپس جانے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: جب تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس لوٹ جائے ۔عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ تم اس کا ثبوت لاؤ گے ، کیا تم میں سے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! تمہارے ساتھ سب سے کم عمر شخص جائے گا،میں (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) سب سے کم عمر تھا میں ان کے ساتھ گیا اور عمر‌رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3474) صحيح البخاري كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ بَاب التَّسْلِيمِ وَالِاسْتِئْذَانِ ثَلَاثًا رقم (5776)
223
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اسْتَلْقَى أَحَدُكُمْ عَلَى ظَهْرِهِ فَلَا يَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کمر کے بل چت لیٹے تو اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھے
Takhreej
الصحيحة رقم (1255) سنن الترمذي كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْكَرَاهِيَةِ فِي ذَلِكَ رقم (2690)
224
Sahih