TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی - اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی - Book 1 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 1 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 204 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

204 Hadith · 1 Chapters
All books
Previous Book Next Book
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : « إن للهِ عباداً ليسُوا بأنبيـاءَ ولا شهـداءَ يغبِطُهُمْ الشهَـداءُ والأنبياءُ يومَ القيامةِ لقُرْبِهِم مِنَ اللهِ تعالى ومجلِسِهِم مِنه » فجَثَا أعرابيٌ علَى ركبَتَيْه ، فقالَ : يا رسولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صِفْهُم لنا و جَلِّهِمْ لنَا . قالَ : « قومٌ مِنْ أفناءِ الناسِ مِنْ نُزّاعِ القَبائلِ تصَادَقُوا في اللهِ وتحابُوا فيْه ، يضعُ الله عز وجل لهمْ يومَ القيامةِ مَنَابِرَ مِن نورٍ يخافُ الناسُ ولاَ يخافونَ ، هُم أولياءُ الله عز وجل الذينَ لَا خوفٌ عليهِمْ ولَا هُمْ يحزنون ».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ تو انبیاء ہیں اور نہ ہی شہداء ،لیکن قیامت کے دن ان کی اللہ کے ساتھ قربت کی وجہ سے انبیاء اور شہدا ان پر رشک کریں گے۔ ایک اعرابی اپنے گھٹنوں کے بل کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان کے بارے میں بتائیے ، اور ہمارے لئے ان کی وضاحت کیجئے آپ نے فرمایا:وہ مختلف قبائل میں سے لوگوں میں سے غیر معروف لوگ، جنہوں نے اللہ کے لئے دوستی کی اور اللہ کے لئے آپس میں محبت کی ،قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے لئے نور کے منبر رکھے گا۔ لوگ ڈر رہے ہونگے لیکن یہ نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کے وہ دوست(ولی) ہونگے جن پر َا خوفٌ عليهِمْ ولَا هُمْ يحزنون. يونس، نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (3464) مستدرك الحاكم رقم (7426)
81
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ إِنَّ الْمُسْلِمَ الْمُسَدِّدَ لَيُدْرِكُ دَرَجَةَ الصَّوَّامِ الْقَوَّامِ بِآيَاتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لِكَرَمِ ضَرِيبَتِهِ وَحُسْنِ خُلُقِهِ.
عبداللہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے : ایک (سیدھا سادھا) مسلمان بہت زیادہ روزے رکھنے والے اور اللہ عزوجل کی آیات کے ساتھ بہت زیادہ قیام کرنے والے کے مقام تک اپنی عادت کی عمدگی اور اچھے اخلاق کی وجہ سے پہنچ جاتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (522) مسند أحمد رقم (6755)
82
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو مَرفُوعاً: إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًاَ
عبداللہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : مجھے تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (792)مسند أحمد رقم (3476)
83
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعاً: إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الثَّرْثَارُونَ وَالْمُتَشَدِّقُونَ وَالْمُتَفَيْهِقُونَ قَالُوا قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُونَ وَالْمُتَشَدِّقُونَ فَمَا الْمُتَفَيْهِقُونَ قَالَ: الْمُتَكَبِّرُونَ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والا شخص وہ ہوگا جس کا اخلاق تم میں سب سے اچھا ہوگا۔ اور مجھے تم میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ وہ ہوں گے جو فضول گوئی (بدکلامی) کرنے والے، بانچھیں موڑ کر باتیں کرنے والے،اور پر تکلف گفتگو کرنے والے اکڑ کر چلنے والے ہیں۔ صحابہ نے کہا ہمیں فضول گوئی اور بانچھیں موڑ کر باتیں کرنے والے کے بارے میں تو معلوم ہے یہمُتَفَيْهِقُونَکون ہیں؟ آپ نے فرمایا:تکبرکرنے والے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (791)سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي مَعَالِي الْأَخْلَاقِ رقم (1941)
84
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ حُصَيْن بن عبد الرحمن سمعت أَبا عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ يحدث عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ قَالَتْ أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم نَعُودُهُ فِي نِسَاءٍ فَإِذَا سِقَاءٌ مُعَلَّقٌ نَحْوَهُ يَقْطُرُ مَاؤُهُ عَلَيْهِ وفي رواية:علي فؤاده مِنْ شِدَّةِ مَا يَجِدُ مِنْ حَرِّ الْحُمَّى قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ دَعَوْتَ اللهَ فَشَفَاكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.
حینہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے انہوں نے کہا میں نے ابو عبدرہ بن حذیفہ سے سنا وہ اپنی پھوپھی فاطمہ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم کچھ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے آئیں۔کیا دیکھتی ہیں کہ ایک مشکیزہ آپ کی طرف لٹکا ہوا ہے، جس کا پانی آپ کے اوپر ٹکت رہا تھا(اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کے دل پر)بخار کی گرمی کی شدت کی وجہ سے جو آپ محسوس کر رہے تھے۔ ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر آپ اللہ سے دعا کریں تو وہ آپ کو شفا دے دے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ شدید آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے ۔پھر ان لوگوں کی جو ان سے قریب ہوتے ہیں پھر ان لوگوں کی جو ان سے قریب ہوتے ہیں پھر ان لوگوں کی جو ان سے قریب ہوتے ہیں(ایمان اور تقوے کے لحاظ سے)
Takhreej
الصحيحة رقم (3266) مسند أحمد رقم (25832) مستدرك الحاكم كتاب الطب رقم (8340)
85
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِنَّ مِنْ أَفْرَى الْفِرَى أَنْ يُّرِيَ عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ تَرَيَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا جھوٹ یہ بھی ہے کہ کوئی شخص نیند میں اپنی آنکھ کو وہ چیز دکھائے جو ان آنکھوں نے نہیں دیکھی
Takhreej
الصحيحة رقم (3063)صحيح البخاري كِتَاب التَّعْبِيرِ بَاب مَنْ كَذَبَ فِي حُلُمِهِ رقم (6521) مسند أحمد رقم (5453)
86
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مرفوعا إِنَّ مُوسَى علیہ السلام كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا لَا يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً مِنْهُ فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالُوا مَا يَسْتَتِرُ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بِجِلْدِهِ إِمَّا بَرَصٌ وَإِمَّا أُدْرَةٌ وَإِمَّا آفَةٌ وَإِنَّ اللهَ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ مِمَّا قَالُوا لِمُوسَى علیہ السلام فَخَلَا يَوْمًا وَحْدَهُ فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى الْحَجَرِ ثُمَّ اغْتَسَلَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى ثِيَابِهِ لِيَأْخُذَهَا وَإِنَّ الْحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ فَأَخَذَ مُوسَى عَصَاهُ وَطَلَبَ الْحَجَرَ فَجَعَلَ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ مَا خَلَقَ اللهُ وَأَبْرَأَهُ مِمَّا يَقُولُونَ قالوا والله ما بموسي من بأس وَقَامَ الْحَجَرُ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَلَبِسَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ فَوَاللهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا فَذَلِكَ قَوْلُـهُ:یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اٰذَوۡا مُوۡسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوۡا ؕ وَ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ وَجِیۡہًا ﴿ؕ۶۹﴾ الأحزاب.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : موسیٰ علیہ السلام انتہائی باحیاء اور پردہ رکھنے والے شخص تھے۔ ان کی حیاء کی وجہ سے جسم کا کوئی حصہ نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ بنی اسرائیل میں سے کئی لوگوں نے انہیں تکلیف دی ،وہ کہتے موسیٰ علیہ السلام یہ پردہ اپنے جسم کے کسی عیب برص ،خصیتین پھولنے کی بیماری یا کسی اور تکلیف کی وجہ سے کرتے ہیں ۔اللہ نے چاہا کہ وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے بارےمیں جو کہا کرتے تھے،اس سے موسیٰ علیہ السلام کو بری کردیں۔ ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام اکیلے تھے ،انہوں نے اپنے کپڑے پتھر پر رکھے اور غسل کرنے لگے۔ جب فارغ ہوکر اپنے کپڑے لینے کے لئے آئے، پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا، موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پکڑا اور پتھر کا پیچھا کرنے لگے، اور کہنے لگے اے پتھر میرے کپڑے دےدو، اے پتھر میرے کپڑے دے دو، حتی کہ وہ بنی اسرائیل کے سرداروں تک پہنچ گئے ۔انہوں نے آپ کو برہنہ حالت میں اللہ کی حسین ترین خلقت(بناوٹ)میں دیکھا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی باتوں سے موسیٰ علیہ السلام کو بری کر دیا(وہ کہنے لگے واللہ! موسیٰ علیہ السلام میں تو کوئی نقص نہیں ہے)پتھر رک گیا انہوں نے اپنے کپڑے لے کر پہن لئے اور پتھر کو اپنے عصا سے مارنے لگے۔ اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کے مارنے کی وجہ سے پتھر پر تین یا چار یا پانچ نشانات پڑگئے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے فرمان کی تفسیر ہے کہ: ﴿احزاب:۶۹﴾ اے ایمان والوان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات سے موسیٰ کو بری کر دیا، اور وہ اللہ کے ہاں وجاہت والے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (3075)صحيح البخاري كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ بَاب حَدِيثِ الْخَضِرِ مَعَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام رقم (3152)
87
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ فَصَفُّوهُم صُفُوفًا ليكثروا علي رسول الله فالتقي المسلمون والمشركون فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ وَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ فَهَزَمَ اللهُ الْمُشْرِكِينَ وَلَمْ يَطْعَن بِرُمْحٍ وَلَمْ يَضْرِب بِسَيْفٍ فَقَالَ النبی صلی اللہ علیہ وسلم يَوْمَئِذٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ فَقَتَلَ أَبُو قَتَادَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللهِ ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ لَهُ، فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ أَنْ آخُذ سلبه فَانْظُرْ مَنْ هُوَ؟ فقال رجل يَا رَسُول اللهَ أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنْهَا فَأعْطِنِيهَا فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَكَانَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ فَقَالَ عُمَرُ: لَا وَاللهِ لَا يُفِئ اللهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن والے حنین کے دن ،عورتوں ،بچوں اونٹوں اور بکریوں کے ساتھ آئے ۔انہوں نے کئی صفیں بنالیں تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کثرت دکھائیں۔ مسلمانوں اور مشرکین کا ٹکراؤ ہوا تو مسلمان پیٹھ پھرا کر بھاگے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اور فرمایا: اے انصار کی جماعت میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی آپ نے نیزہ چلایا نہ تلوار ،اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا اس کے لئے اس کا سبر( مال)ہے۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمی قتل کئے اور ان کا مال لے لیا۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول! میں نے ایک آدمی کی گردن اڑالی تھی۔ اس نے زرہ پہنی ہوئی تھی ۔میں نے اس کا سلب (مال)لینے میں تاخیر کی، دیکھئے اے اللہ کے رسول! وہ کون ہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ زرہ میں نے لے لی ہے۔ آپ اسے اس کے بدلے کوئی دوسری چیز دے کر راضی کر دیجئے اور زرہ مجھے دے دیجئے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ آپ سے کسی چیز کا سوال کیا جاتا تو آپ وہ چیز دے دیتے یا خاموش ہو جاتے ۔عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں اللہ کی قسم! ۱؎ اللہ تعالیٰ اپنے شیروں میں سے کسی شیر کو مال فئ دیا اور آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تجھے دے دیں۔ (یہ بات سن کر)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2109)مسند أحمد رقم (12509، 13464) مستدرك حاكم رقم (2542)
88
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن أنس بن مالك قال : مرَّ رجلٌ بالنبي صلی اللہ علیہ وسلم وعندَه ناسٌ ، فقالَ رجلٌ ممَّن عندَه : إني لأُحِبُ هذَا للهِ ، فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم : « أَعْلَمتَه ؟ » قال: لا، فقال: فقُمْ إليْه فأعْلَمَه، فقامَ إليْهِ فأعْلِمه، فقالَ: أُحِبُّكَ الذي أحْبَبْتَني لَه قَالَ : ثمّ رجعَ إلى النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فأخْبَرَه بِمَا قالَ: فقالَ النبي صلی اللہ علیہ وسلم : « أنتَ معَ مَنْ أحْبَبْتَ ، ولكَ مَا احْتَسَبْتَ ».
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا آپ کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے کہا میں اس سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے بتایا ہے؟ اس نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا : جاؤ اور جا کر اسے بتاؤ وہ اس کی طرف گیا اور اسے بتایا تو اس نے کہا جس ذات کے لئے تو نے مجھ سے محبت کی وہ بھی تجھ سے محبت کرے، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس آگیا اور جو اس نے کہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس شخص کے ساتھ ہوگے جس سے تم نے محبت کی اور تمہارے لئے اتنا اجر ہوگا جس کی تم نے نیت کی
Takhreej
نہیں، آپ نے فرمایا : جاؤ اور جا کر اسے بتاؤ وہ اس کی طرف گیا اور اسے بتایا تو اس نے کہا جس ذات کے لئے تو نے مجھ سے محبت کی وہ بھی تجھ سے محبت کرے، پھر وہ نبی ﷺکی طرف واپس آگیا اور جو اس نے کہا تھا وہ نبی ﷺکو بتایا۔ نبی ﷺنے فرمایا : تم اس شخص کے ساتھ ہوگے جس سے تم نے محبت کی اور تمہارے لئے اتنا اجر ہوگا جس کی تم نے نیت کی
89
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَبْد اللهِ بْن أَبِى بَكْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ: زَحَمْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمَ حُنَيْنٍ وَفِى رِجْلِى نَعْلٌ كَثِيفَةٌ، فَوَطِئْتُ عَلَى رِجْلِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَنَفَحَنِى نَفْحَةً بِسَوْطٍ فِى يَدِهِ وَقَالَ: بِسْمِ اللهِ أَوْجَعْتَنِى. قَالَ: فَبِتُّ لِنَفْسِى لاَئِماً أَقُولُ أَوْجَعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ كَمَا يَعْلَمُ اللهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا رَجُلٌ يَقُولُ: أَيْنَ فُلاَنٌ؟ قَالَ قُلْتُ: هَذَا وَاللهِ الَّذِى كَانَ مِنِّى بِالأَمْسِ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مُتَخَوِّفٌ ، فَقَالَ لِى رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «إِنَّكَ وَطِئْتَ بِنَعْلِكَ عَلَى رِجْلِى بِالأَمْسِ فَأَوْجَعْتَنِى ، فَنَفَحْتُكَ بِالسَّوْطِ ، فَهَذِهِ ثَمَانُونَ نَعْجَةً فَخُذْهَا بِهَا».
عبداللہ بن ابو بکر سے مروی ہے وہ عرب کے ایک شخص سے اس نے کہا کہ حنین کے دن میں ایک تنگ جگہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ٹکرایا۔ میرے پاؤں میں ایک بھاری جوتا تھا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں پر چڑھ گیا، آپ نے ہاتھ میں موجود کوڑے سے مجھے پیچھے ہٹایا۔ فرمایا: بسم اللہ تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے، اس نے کہا کہ وہ رات میں نے اپنے آپ کو ملامت کرنے میں گزاری، میں سوچ رہاتھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ وہ رات میں نے کیسے گزاری۔ جب صبح ہوئی تو ایک آدمی کہہ رہا تھا کہ فلاں شخص کہاں ہے؟ میں نے کہا: واللہ یہ غلطی مجھ سے سرزد ہوئی تھی، میں ڈرتا ہوا جانے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: کل تم نے جوتے سے میرا پاؤں روند کر مجھے تکلیف دی تھی اور میں نے تمہیں کوڑا مارا تھا، یہ ایسی بھیڑیں یا گائیں ہیں انہیں اس کوڑے کے بدلے لے لو
Takhreej
الصحيحة رقم (3043) سنن الدارمي باب فِى سَخَاءِ النَّبِىِّ ﷺ رقم (73)
90
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَبْدَ اللهِ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَّأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللهَ حَقَّكُمْ.
عبداللہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا:عنقریب تم خود پر ترجیح اور ایسے معاملات دیکھو گے جو تمہیں انوکھے معلوم ہوں گے ۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:ان کا حق ادا کرو اور اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگو
Takhreej
الصحيحة رقم (3555)صحيح البخاري كِتَاب الْفِتَنِ بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ سَتَرَوْنَ بَعْدِي ...رقم (6529)
91
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ وَفِي روايةٍ: صَالِحَ الْأَخْلَاقِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : مجھے تمہاری طرف عمدہ اخلاق مکمل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے (اور ایک روایت میں ہے اچھے اخلاق)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (43) مسند أحمد رقم (8595) السنن الكبري للبيهقي
92
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي مُوسَى ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالجليس السَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ منه رِيحًا خَبِيثَةً.
ابو موسیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ : نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال، خوشبو بیچنے والے اور لوہار کی طرح ہے، خوشبو بیچنے والا یا تو تمہیں خوشبو لگا دے گا، یا تم اس سے خرید لو گے یا پھر تم وہاں بیٹھے عمدہ خوشبو سونگھتے رہو گے، جبکہ لوہار یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا، یا پھر تم وہاں بیٹھےبدبودار دھواں سونگھتے رہو گے
Takhreej
الصحيحة رقم (321445) صحيح البخاري كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ بَاب الْمِسْكِ رقم (5108)
93
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
) عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ عَلَى المِنبَر: إِنَّمَا يَهْدِي إِلَى أَحْسَنِ الأَخْلاقِ الله ، وَإِنَّمَا يَصْرِفُ مِنْ أَسوَئها هُوَ.
طاؤس سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: اچھے اخلاق کی طرف اللہ ہی راہنمائی کرتا ہے ، اور برے اخلاق سے روکنے والا بھی وہی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3255)المعجم الكبير للطبراني رقم (10737) مصنف عبدالرزاق رقم (20156)
94
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ هَانِئِ أَنَّهُ لَمّا وَفَد عَلى رَسُولِ الله قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيّ شَيْءٍ يُوجِبُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْكَلامِ، وَبَذْلِ الطَّعَامِ.
ہانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! کونسا عمل جنت واجب کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اچھا اخلاق اور کھانا کھلانالازم کر لو
Takhreej
الصحيحة رقم (1939)المعجم الكبير للطبراني رقم (17921) مصنف ابن ابي شيبة رقم (19)
95
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ كَانَ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا قَالَ وَعَلَى فَاطِمَةَ رضی اللہ عنہا ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم مَا تَلْقَى قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام لے کر آئے جو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا ، انس نے کہا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا کپڑا اوڑھا ہوا تھا کہ اگر اس سے سر ڈھانپتی تو وہ پاؤں تک نہ پہنچتا اور جب اس سے پاؤں چھپاتی تو سر تک نہ پہنچتا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ تکلیف دیکھی تو فرمایا: تم پر کوئی حرج نہیں یہ تمہارا والد اور تمہارا غلام ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2868) سنن أبي داؤد كِتَاب اللِّبَاسِ بَاب فِي الْعَبْدِ يَنْظُرُ إِلَى شَعْرِ مَوْلَاتِهِ رقم (3582)
96
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
) عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَهَا إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَحُسْنُ الْجِوَارِ يَعْمُرَانِ الدِّيَارَ وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَار.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: جسے نرمی دے دی گئی اسے دنیا و آخرت کی بھلائی دے دی گئی،صلہ رحمی ،اچھا اخلاق ،اور اچھا پڑوسی بننا گھروں کو آباد کرتا ہے، اور عمروں میں اضافہ کرتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (519) مسند أحمد رقم (24098)
97
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَسْمًا فَقُلْتُ وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ لَغَيْرُ هَؤُلَاءِ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ قَالَ إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي بين أَنْ يَّسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ أَوْ يُبَخِّلُونِي فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ.
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ (کچھ مال)تقسیم کیا، میں نے کہا: واللہ اے اللہ کے رسول! ان کے علاوہ دوسرے لوگ اس کے زیادہ حقدار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔انہوں نے مجھے اختیار دیا تھا کہ یہ مجھ سے بدکلامی سے مطالبہ کریں یا مجھے بخیل کہیں تو میں بخیل نہیں ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3589)صحيح مسلم كِتَاب الزَّكَاةِ بَاب إِعْطَاءِ مَنْ سَأَلَ بِفُحْشٍ وَغِلْظَةٍ رقم (1748)
98
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
) عن عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده عن معاذبن جبل، أَنهمْ ذَكَرُوا عنْدَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم رجلاً ، فقالوا : لَا يَأكُلُ حَتى يُطعم ، ولا يرحَلُ حَتى يُرحلَ لَه ، فقالَ النبي صلی اللہ علیہ وسلم : « اِغْتَبْتُمُوْهُ » ، فقالوا : يا رسول الله ، إنما حدثنا بما فيه ، قال : « حسبُكَ إذا ذَكَرتَ أخَاكَ بمَا فِيْه » .
عمرو بن شعیب اپنے والدسے وہ ان کے دادا سے وہ معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: (صحابہ کرام) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا تذکرہ کیا کہنے لگے: وہ اس وقت تک کھانا نہیں کھاتا جب تک اسے کھلایا نہ جائے اور اس وقت تک سفر نہیں کرتا جب تک اس کے لئے سواری کا بندوبست نہ کیا جائے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی غیبت کی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو وہ بات بیان کی ہے جو اس میں موجود ہے ، آپ نے فرمایا، تمہیں(غیبت کے لئے) یہی کافی ہے کہ تم نے اپنے بھائی کی اس بات کا ذکر کیا جو اس میں موجود ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2667)التوبيخ والتنبيه لأبي الشيخ الاصبهاني رقم (180)
99
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنِّي لَأَعْرِفُ غَضَبَكِ وَرِضَاكِ قَالَتْ قُلْتُ وَكَيْفَ تَعْرِفُ ذَلكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ إِنَّكِ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ بَلَى وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ لَا أُهَاجِرُ إِلَّا اسْمَكَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے غصے اور خوشی کو پہچانتا ہوں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول آپ کو کس طرح پتہ چلتا ہے؟ آپ نے فرمایا: جب تم خوش ہوتی ہو تو تم (کہتی ہو کیوں نہیں ،محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے رب کی قسم) اور جب تم غصے میں ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں ،ا براہیم علیہ السلام کے رب کی قسم ، میں نے کہا :جی ہاں، میں صرف آپ کے نام کو چھوڑتی ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (3302)صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا يَجُوزُ مِنْ الْهِجْرَانِ لِمَنْ عَصَى رقم (5614)
100
Sahih