TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2605 - ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - Silsila Sahih in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 99 of 226 in this chapter
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرفُوعاً: الدَّجَّال أَعْوَرُ هِجَانٌ أَزْهَرُ (وفي رواية: أقمر) كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَإِمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ فَإِنَّ رَبَّكُمْ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ:دجال کانا ہوگا۔نہایت واضح اور صاف،گویا کہ اس کا سرسانپ کی ماند)ہو گا،عبد العز ی بن قطن کے زیادہ مشابہہ ہوگا۔ ہلاک ہونے والے ہلاک ہو جائیں گے، کیوں کہ تمہارا رب اعور نہیں(یعنی کانے پن سے پاک ہے)۔
2605
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
الصحيحة رقم (1193) مسند أحمد رقم (2041)

Related Chapters

114
1
Chapter: What has been Related About The Signs Of The Hour
باب: علامات قیامت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
بَاب أَشْرَاط السَّاعَة
علاماتِ قیامت کا بیان
Mishkat
3
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
Musnad Ahmad
4
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
Musnad Ahmad
5
(97) CHAPTER. Whoever makes a picture will be asked to put life into it on the Day of Resurrection, but he will not be able to do so.
جو مورت بنائے گا اس پر قیامت کے دن زور ڈالا جائے گا کہ اسے زندہ بھی کرے حالانکہ وہ زندہ نہیں کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
6
Chapter: Mut'ah Marriage: It was permitted then abrograted, then permitted then abrogated, and it will remain Forbidden until the day of resurrection
نکاح متعہ کا حکم اور اس بات کی وضاحت کہ وہ جائز قرار دیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر دوبارہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور (اب) اس کی حرمت قیامت کے دن تک کے لیے برقرار ہے
Sahih Muslim
7
(107)Chapter: What Has Been Related [About The Junub Person] When He Wants To Repeat (Sexual Relations) He Should Perform Wudu
باب: بیوی سے دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ کرنے پر جنبی وضو کر لے
Jam e Tirmazi
8
Chapter: : What Has Been Related About The Congregation In The Masjid Being Held Two Times
باب: جس مسجد میں ایک بار جماعت ہو چکی ہو اس میں دوبارہ جماعت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About 'The First Thing The Slave (Of Allah) Will Be Reckoned For On The Day Of Judgement Is The Salat'
باب: قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے محاسبہ کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Mentioned Of The Mark Of This Nation From The Traces Of Prostrations And Purification On The Day Of Resurrection
باب: قیامت کے دن امت محمدیہ کی پہچان سجدے اور وضو کے نشانات ہوں گے
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About: For Each Person Who Betrays A Treaty There Is A Banner Erected On The Day Of Judgement
باب: بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Prophet's(s.a.w) Saying: The Hour And I Have Been Dispatched Like These Two Meaning The Index And Middle Fingers
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
14
Chapter: The Hour Will Not Be Established until A Fire Comes From The Direction Of The Hijaz
باب: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ حجاز کی طرف سے آگ نکلے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About 'The Hour Shall Not Be Established Until The Liars Appear'
باب: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ کذاب (جھوٹے) نکلیں
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Al-Khilafah Are FromQuraish Until The Hour Is Established'
باب: قیامت تک خلفاء قریش سے ہوں گے
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Constriction Of Time And The Curtailment Of Hope
باب: قرب قیامت زمانہ سمٹ جائے گا اور آرزوئیں کم ہو جائیں گی
Jam e Tirmazi
18
باب: قیامت کے دن حساب اور بدلے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
باب: قیامت کے دن حساب اور قصاص کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: قیامت کے دن کی پیشی کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: قیامت کے دن پیشی اور حساب سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
22
باب: قیامت کے دن حساب اور پیشی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
23
باب: قیامت کے دن انسانی اعمال پر گواہیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
24
باب: قیامت کے دن کی شفاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
باب: قیامت کے دن شفاعت پر ایک اور حدیث
Jam e Tirmazi
26
بَابُ الْعَلَامَاتِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَذِكْرِ الدَّجَّالِ
قبل از قیامت علامتوں اور دجال کے ذکر کا بیان
Mishkat
27
بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ وَأَنَّ مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَت قِيَامَته
قرب قیامت اور فوت شدہ پر قیامت قائم ہونے کا بیان
Mishkat
28
بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاس
قیامت بُرے لوگوں پر ہی قائم ہو گی
Mishkat
29
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
30
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
31
زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
Musnad Ahmad
32
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
سورۂ ہود سورۂ ہود میں قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا بیان
Musnad Ahmad
34
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
Musnad Ahmad
35
کتاب اللہ اور سنتِ رسول پر عمل کی ترغیب اور تذکرۂ قیامت پر مشتمل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبۂ مبارکہ
Musnad Ahmad
36
قیامت، جنت اور جہنم کے تذکرہ پر مشتمل ایک خطبہ
Musnad Ahmad
37
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
Musnad Ahmad
38
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
Musnad Ahmad
39
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
40
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
Musnad Ahmad
41
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
Musnad Ahmad
42
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
Musnad Ahmad
43
قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان
Musnad Ahmad
44
قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
45
جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات
Musnad Ahmad
46
قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان قیامت کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کاحریص ہونا
Musnad Ahmad
47
قیامت کے دن زمین اور انسان کے اعضاء کی انسان کے خلاف شہادت
Musnad Ahmad
48
قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان
Musnad Ahmad
49
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
Musnad Ahmad
50
( CHAPTER. )
( وحی کی علامات ، وحی کا محفوظ کرنا )
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

802
Jam e Tirmazi
2240
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، دخل حديث أحدهما في حديث الآخر، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْكِلَابِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْصَرَفْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَيْهِ فَعَرَفَ ذَلِكَ فِينَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا شَأْنُكُمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ، ‏‏‏‏‏‏شَبِيهٌ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ رَآهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ فَوَاتِحَ سُورَةِ أَصْحَابِ الْكَهْفِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَخْرُجُ مَا بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ، ‏‏‏‏‏‏فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا، ‏‏‏‏‏‏يَا عِبَادَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اثْبُتُوا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏يَوْمٌ كَسَنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَ الْيَوْمَ الَّذِي كَالسَّنَةِ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ اقْدُرُوا لَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا سُرْعَتُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيُكَذِّبُونَهُ وَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ وَيُصْبِحُونَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ وَيُصَدِّقُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَأْمُرُ الْأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ كَأَطْوَلِ مَا كَانَتْ ذُرًى وَأَمَدِّهِ خَوَاصِرَ وَأَدَرِّهِ ضُرُوعًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يَأْتِي الْخَرِبَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْصَرِفُ مِنْهَا فَتَتْبَعُهُ كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا شَابًّا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جِزْلَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏إِذْ هَبَطَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بِشَرْقِيِّ دِمَشْقَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَّانٌ كَاللُّؤْلُؤِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَلَا يَجِدُ رِيحَ نَفْسِهِ يَعْنِي أَحَدًا إِلَّا مَاتَ وَرِيحُ نَفْسِهِ مُنْتَهَى بَصَرِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَلْبَثُ كَذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ حَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي قَدْ أَنْزَلْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُمْ كَمَا قَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ سورة الأنبياء آية 96، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَمُرُّ أَوَّلُهُمْ بِبُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ فَيَشْرَبُ مَا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَمُرُّ بِهَا آخِرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّى يَنْتَهُوا إِلَى جَبَلِ بَيْتِ الْمَقْدِسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الْأَرْضِ هَلُمَّ، ‏‏‏‏‏‏فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَاءِ فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مُحْمَرًّا دَمًا، ‏‏‏‏‏‏وَيُحَاصَرُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَأَصْحَابُهُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ يَوْمَئِذٍ خَيْرًا لِأَحَدِهِمْ مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَرْغَبُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِلَى اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُرْسِلُ اللَّهُ إِلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى مَوْتَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَجِدُ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا وَقَدْ مَلَأَتْهُ زَهَمَتُهُمْ وَنَتَنُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَرْغَبُ عِيسَى إِلَى اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَحْمِلُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَتَطْرَحُهُمْ بِالْمَهْبِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْتَوْقِدُ الْمُسْلِمُونَ مِنْ قِسِيِّهِمْ وَنُشَّابِهِمْ وَجِعَابِهِمْ سَبْعَ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ وَبَرٍ وَلَا مَدَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ فَيَتْرُكُهَا كَالزَّلَفَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ:‏‏‏‏ أَخْرِجِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْتَظِلُّونَ بِقَحْفِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِنَّ الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ لَيَكْتَفُونَ باللَّقْحَةِ مِنَ الْإِبِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْقَبِيلَةَ لَيَكْتَفُونَ باللَّقْحَةِ مِنَ الْبَقَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْفَخِذَ لَيَكْتَفُونَ باللَّقْحَةِ مِنَ الْغَنَمِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا فَقَبَضَتْ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَبْقَى سَائِرُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ كَمَا تَتَهَارَجُ الْحُمُرُ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ.
It was narrated from An-Nawwas bin Sam'an, who said: The Messenger of Allah(s.a.w) mentioned the Dajjal one morning, he belittled him and mentioned his importance until we thought that he might be amidst a cluster of date-palms. He said: We departed from the presence of the Messenger of Allah(s.a.w), then we returned to him, and he noticed that(concern) in us. So he said: 'What is wrong with you?' We said: 'O Messenger of Allah! You mentioned the Dajjal this morning, belittling him, and mentioning his importance until we thought that he might be amidst a cluster of the date-palms.' He said: 'It is not the Dajjal that I fear for you. If he were to appear while I am among you, then I will be his adversary on your behalf. And if he appears and I am not among you, then each man will have to fend for himself. And Allah will take care of every Muslim after me. He is young, with curly hair, his eyes protruding, resembling someone from 'Abdul-Uzza bin Qatan. Whoever among you sees him, then let him recite the beginning of Surah Ashab Al-Kahf.' He said: 'He will appear from what is between Ash-Sham and Al-'Iraq, causing devastation toward the right and toward the left. O worshippers of Allah! Hold fast!' We said: 'O Messenger of Allah! How long will he linger on the earth?' He said: 'Forty days, a day like a year, a day like a month, a day like a week, and the remainder of his days are like your days.' We said: 'O Messenger of Allah! Do you think that during the day that is like a year, the Salat of one day will be sufficient for us?' He said: 'No. You will have to estimate it.' We said: 'O Messenger of Allah! How fast will he move through the earth.' He said: 'Like a rain storm driven by the wind. He will come upon a people and call them, and they will deny him, and reject his claims. Then he will leave them, and their wealth will follow him. They will awaken in the morning with nothing left. Then he will come upon a people and call them, and they will respond to him, believing in him. So he will order the Heavens to bring rain, and it shall rain, and he will order the land to sprout, and it will sprout. Their cattle will return to them with their coats the longest, their udders the fullest and their stomachs the fattest.' He said: 'Then he will come upon some ruins, saying to it: Bring me your treasures! He will turn to leave it, and it will follow him, like drone bees. Then he will call a young man, full of youth, and he will strike him with the sword cutting him into two pieces. Then he will call him, and he will come forward with his face beaming and laughing. So while he is doing that, 'Eisa bin Mariam, peace be upon him, will descend in eastern Damascus at the white minaret, between two Mahrud, with his hands on the wings of two angels. When he lowers his head, drops fall, and when raises it, gems like pearls drop from him.' He said: 'His (the Dajjal's) breath does not reach anyone but he dies, and his breath reaches as far as his sight.' He said: 'So he pursues him(the Dajjal) and he catches up with him at the gate of Ludd where he kills him.' He said: 'So he remains there as long as Allah wills.' He said: 'Then Allah reveals to him: Take my slaves to At-Tur, for I have sent down some creatures of Mine which no one shall be able to kill.' He said: 'Allah dispatches Ya'juj and Ma'juj, and they are as Allah said: They swoop down from every mount.' He said: 'The first of them pass by the lake of Tiberias, drinking what is in it. Then the last of them pass by it saying: There was water here at one time. They travel until they reach a mountain at Bait Al-Maqdis. They will say: We have killed whoever was in the earth. Come! Let us kill whoever is in the skies. They will shoot their arrows into the Heavens, so Allah will return their arrows to them red with blood. Eisa bin Mariam and his Companions be surrounded, until the head of a bull on that day would be better to them than a hundred Dinar to one of you today.' He (s.a.w) said: Eisa will beseech Allah, as will his companions.' He said: 'So Allah will send An-Naghaf down upon their necks. In the morning they will find that they have all died like the death of a single soul.' He said: 'Eisa and his companions will come down, and no spot nor hand-span can be found, except that it is filled with their stench, decay and blood. So 'Eisa will beseech Allah, as will his companions.' So Allah will send upon them birds like the necks of Bukht(milch)camels.' They will carry them off and cast them into an abyss. The Muslims will burn their bows, arrows and quivers for seventy years.' He(s.a.w) said: 'Allah will send upon them a rain which no house of hide nor mud will bear. The earth will be washed, leaving it like a mirror. Then it will be said to the earth: bring forth your fruits and return your blessings. So on that day, a whole troop would eat a pomegranate and seek shade under its skin. Milk will be so blessed that a large group of people will be sufficed by one milking of a camel. And that a tribe will be sufficed by one milking of a cow, and that a group will be sufficed by the milking of sheep. While it is like that, Allah will send a wind which grabs the soul of every believer, leaving the remainder of the people copulating publicly like the copulation of donkeys. Upon them the Hour shall begin.'
نواس بن سمعان کلابی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا، تو آپ نے ( اس کی حقارت اور اس کے فتنے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے دوران گفتگو ) آواز کو بلند اور پست کیا ۱؎ حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ ( مدینہ کی ) کھجوروں کے جھنڈ میں ہے، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس آ گئے، ( جب بعد میں ) پھر آپ کے پاس گئے تو آپ نے ہم پر دجال کے خوف کا اثر جان لیا اور فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے صبح دجال کا ذکر کرتے ہوئے ( اس کی حقارت اور سنگینی بیان کرتے ہوئے ) اپنی آواز کو بلند اور پست کیا یہاں تک کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ وہ کھجوروں کے درمیان ہے۔ آپ نے فرمایا: ”دجال کے علاوہ دوسری چیزوں سے میں تم پر زیادہ ڈرتا ہوں، اگر وہ نکلے اور میں تمہارے بیچ موجود ہوں تو میں تمہاری جگہ خود اس سے نمٹ لوں گا، اور اگر وہ نکلے اور میں تمہارے بیچ موجود نہ رہوں تو ہر آدمی خود اپنے نفس کا دفاع کرے گا، اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ( جانشیں ) ہے ۲؎، دجال گھونگھریالے بالوں والا جوان ہو گا، اس کی ایک آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی ہو گی تو ان میں اسے عبدالعزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں، پس تم میں سے جو شخص اسے پا لے اسے چاہیئے کہ وہ سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا، اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا“۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! روئے زمین پر ٹھہرنے کی اس کی مدت کیا ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”چالیس دن، ایک دن ایک سال کے برابر ہو گا، ایک دن ایک مہینہ کے برابر ہو گا، ایک دن ہفتہ کے برابر ہو گا اور باقی دن تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے“، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیے وہ ایک دن جو ایک سال کے برابر ہو گا کیا اس میں ایک دن کی نماز کافی ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ اس کا اندازہ کر کے پڑھنا“۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! زمین میں وہ کتنی تیزی سے اپنا کام کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اس بارش کی طرح کہ جس کے پیچھے ہوا لگی ہوتی ہے ( اور وہ بارش کو نہایت تیزی سے پورے علاقے میں پھیلا دیتی ہے ) ، وہ کچھ لوگوں کے پاس آئے گا، انہیں دعوت دے گا تو وہ اس کو جھٹلائیں گے اور اس کی بات رد کر دیں گے، لہٰذا وہ ان کے پاس سے چلا جائے گا مگر اس کے پیچھے پیچھے ان ( انکار کرنے والوں ) کے مال بھی چلے جائیں گے، ان کا حال یہ ہو گا کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں رہے، پھر وہ کچھ دوسرے لوگوں کے پاس جائے گا، انہیں دعوت دے گا، اور اس کی دعوت قبول کریں گے اور اس کی تصدیق کریں گے، تب وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا۔ آسمان بارش برسائے گا، وہ زمین کو غلہ اگانے کا حکم دے گا، زمین غلہ اگائے گی، ان کے چرنے والے جانور شام کو جب ( چراگاہ سے ) واپس آئیں گے، تو ان کے کوہان پہلے سے کہیں زیادہ لمبے ہوں گے، ان کی کوکھیں زیادہ کشادہ ہوں گی اور ان کے تھن کامل طور پر ( دودھ سے ) بھرے ہوں گے، پھر وہ کسی ویران جگہ میں آئے گا اور اس سے کہے گا: اپنا خزانہ نکال، پھر وہاں سے واپس ہو گا تو اس زمین کے خزانے شہد کی مکھیوں کے سرداروں کی طرح اس کے پیچھے لگ جائیں گے، پھر وہ ایک بھرپور اور مکمل جوان کو بلائے گا اور تلوار سے مار کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا۔ پھر اسے بلائے گا اور وہ روشن چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آ جائے گا، پس دجال اسی حالت میں ہو گا کہ اسی دوران عیسیٰ بن مریم علیہما السلام دمشق کی مشرقی جانب سفید مینار پر زرد کپڑوں میں ملبوس دو فرشتوں کے بازو پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے، جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو پانی ٹپکے گا اور جب اٹھائیں گے تو اس سے موتی کی طرح چاندی کی بوندیں گریں گی، ان کی سانس کی بھاپ جس کافر کو بھی پہنچے گی وہ مر جائے گا اور ان کی سانس کی بھاپ ان کی حد نگاہ تک محسوس کی جائے گی، وہ دجال کو ڈھونڈیں گے یہاں تک کہ اسے باب لد ۳؎ کے پاس پا لیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ جتنا چاہے گا عیسیٰ علیہ السلام ٹھہریں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس وحی بھیجے گا کہ میرے بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ، اس لیے کہ میں نے کچھ ایسے بندے اتارے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں تاب نہیں ہے، ”اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ویسے ہی ہوں گے جیسا اللہ تعالیٰ نے کہا ہے: «من كل حدب ينسلون» ”ہر بلندی سے پھیل پڑیں گے“ ( الأنبياء: ۹۶ ) ان کا پہلا گروہ ( شام کی ) بحیرہ طبریہ ( نامی جھیل ) سے گزرے گا اور اس کا تمام پانی پی جائے گا، پھر اس سے ان کا دوسرا گروہ گزرے گا تو کہے گا: اس میں کبھی پانی تھا ہی نہیں، پھر وہ لوگ چلتے رہیں گے یہاں تک کہ جبل بیت المقدس تک پہنچیں گے تو کہیں گے: ہم نے زمین والوں کو قتل کر دیا اب آؤ آسمان والوں کو قتل کریں، چنانچہ وہ لوگ آسمان کی طرف اپنے تیر چلائیں گے چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کو خون سے سرخ کر کے ان کے پاس واپس کر دے گا، ( اس عرصے میں ) عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اور ان کے ساتھی گھرے رہیں گے، یہاں تک کہ ( شدید قحط سالی کی وجہ سے ) اس وقت بیل کی ایک سری ان کے لیے تمہارے سو دینار سے بہتر معلوم ہو گی ( چیزیں اس قدر مہنگی ہوں گی ) ، پھر عیسیٰ بن مریم اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا، جس سے وہ سب دفعتاً ایک جان کی طرح مر جائیں گے، عیسیٰ اور ان کے ساتھی ( پہاڑ سے ) اتریں گے تو ایک بالشت بھی ایسی جگہ نہ ہو گی جو ان کی لاشوں کی گندگی، سخت بدبو اور خون سے بھری ہوئی نہ ہو، پھر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے بڑے پرندوں کو بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں کی گردنوں کی طرح ہوں گی، وہ لاشوں کو اٹھا کر گڈھوں میں پھینک دیں گے، مسلمان ان کے کمان، تیر اور ترکش سے سات سال تک ایندھن جلائیں گے ۴؎۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر ایسی بارش برسائے گا جسے کوئی کچا اور پکا گھر نہیں روک پائے گا، یہ بارش زمین کو دھو دے گی اور اسے آئینہ کی طرح صاف شفاف کر دے گی، پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنا پھل نکال اور اپنی برکت واپس لا، چنانچہ اس وقت ایک انار ایک جماعت کے لیے کافی ہو گا، اس کے چھلکے سے یہ جماعت سایہ حاصل کرے گی، اور دودھ میں ایسی برکت ہو گی کہ لوگوں کی ایک بڑی جماعت کے لیے ایک دودھ دینے والی اونٹنی کافی ہو گی، اور دودھ دینے والی ایک گائے لوگوں کے ایک قبیلے کو کافی ہو گی اور دودھ دینے والی ایک بکری لوگوں میں سے ایک گھرانے کو کافی ہو گی، لوگ اسی حال میں ( کئی سالوں تک ) رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جو سارے مومنوں کی روح قبض کر لے گی اور باقی لوگ گدھوں کی طرح کھلے عام زنا کریں گے، پھر انہیں لوگوں پر قیامت ہو گی“ ۵؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن یزید بن جابر کی روایت سے جانتے ہیں۔
Mishkat
5475
وَعَن النوَّاس بن سمْعَان قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِيَةٌ كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ» . وَفِي رِوَايَةٍ «فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ بِفَوَاتِحِ سُورَةِ الْكَهْفِ فَإِنَّهَا جوارُكم من فتنته إِنَّه خَارج خلة بِي الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا» . قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: «أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ» . قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ. قَالَ: «لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدَرَه» . قُلْنَا: يَا رسولَ اللَّهِ وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًى وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْله فَيَنْصَرِف عَنْهُم فيصبحون مملحين لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِي كُنُوزَكِ فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ بْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْد المنارة الْبَيْضَاء شرقيّ دمشق بَين مهروذتين وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأسه قطر وَإِذا رَفعه تحدرمنه مثل جُمان كَاللُّؤْلُؤِ فَلَا يحل لكافرٍ يَجِدَ مِنْ رِيحِ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَاب لُدٍّ فيقتُلُه ثمَّ يَأْتِي عِيسَى إِلى قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنْهُ فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى: أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِيَ إِلَى الطُّورِ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ (وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ) فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا ويمر آخِرهم وَيَقُول: لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّى يَنْتَهُوا إِلَى جَبَلِ الْخَمَرِ وَهُوَ جَبَلُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيَقُولُونَ لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الْأَرْضِ هَلُمَّ فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَاءِ فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مَخْضُوبَةً دَمًا وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْأَرْضِ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ «. وَفِي رِوَايَةٍ» تَطْرَحُهُمْ بِالنَّهْبَلِ وَيَسْتَوْقِدُ الْمُسْلِمُونَ مِنْ قِسِيِّهِمْ وَنُشَّابِهِمْ وَجِعَابِهِمْ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ: أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى إِنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ لَتَكْفِي الْقَبِيلَةَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ لَتَكْفِي الْفَخْذَ مِنَ النَّاسِ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مؤمنٍ وكلِّ مسلمٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ إِلَّا الرِّوَايَةَ الثَّانِيَةَ وَهِيَ قَوْلُهُ: تَطْرَحُهُمْ بِالنَّهْبَلِ إِلَى قَوْلِهِ: سبع سِنِين . رَوَاهَا التِّرْمِذِيّ
نواس بن سمعان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا :’’ اگر وہ میری موجودگی میں نکل آیا تو پھر میں تمہاری طرف سے اس سے جھگڑا کروں گا ، اور اگر وہ اس وقت نکلے جب کہ میں تم میں نہ ہوں تو پھر ہر شخص اپنی خاطر اس سے جھگڑا کرے گا ، اور اللہ ہر ایک مسلمان پر محافظ و معاون ہے ، بے شک وہ (دجال) جوان ہو گا ، اس کے بال گھونگریالے ہوں گے ، اس کی آنکھ اٹھی ہوئی ہو گی گویا میں اسے عبدالعزی بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں ، تم میں سے جو شخص اسے پا لے تو وہ اس پر سورۂ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے ، کیونکہ وہ تمہارے لیے اس کے فتنے سے امان ہیں ، وہ شام اور عراق کے درمیان ایک راہ پر نکلنے والا ہے ، وہ دائیں بائیں فساد مچائے گا ، اللہ کے بندو ! ثابت رہنا ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ زمین میں کتنی مدت ٹھہرے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چالیس دن ، ایک دن سال کی طرح ، ایک (دوسرا) دن مہینے کی طرح ، اور ایک (تیسرا) دن جمعہ (سات دن) کی طرح ہو گا ، جبکہ اس کے باقی ایام تمہارے ایام کی طرح ہوں گے ۔‘‘ ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا وہ دن جو سال کی طرح ہو گا تو کیا اس میں ایک دن کی نماز پڑھنا ہمارے لیے کافی ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ تم اس کے لیے اس کا اندازہ کر لینا ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس کی زمین پر رفتار کیا ہو گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بارش کی طرح جس کے پیچھے ہوا آتی ہے ، وہ لوگوں کے پاس آئے گا ، انہیں دعوت دے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے ، وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا تو وہ اناج اگائے گی ، ان کے چرنے والے جانور شام کو واپس آئیں گے تو ان کی کوہانیں پہلے سے زیادہ لمبی ، ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے اور ان کی کوکھیں باہر نکلی ہوں گی ، پھر وہ کچھ لوگوں کے پاس آئے گا ، وہ انہیں دعوت دے گا ، وہ اس کی بات قبول نہیں کریں گے ، وہ ان کے پاس سے چلا جائے گا تو وہ قحط سالی کا شکار ہو جائیں گے : ان کے ہاتھ اموال سے خالی ہو جائیں گے ، اور وہ ایک ویرانے سے گزرے گا تو اسے کہے گا ، اپنے خزانے نکالو ، تو اس (ویرانے) کے خزانے اس (دجال) کے پیچھے اس طرح چلیں گے جس طرح شہد کی مکھیاں اپنے سرداروں کے پیچھے چلتی ہیں ، پھر وہ بھرپور جوان آدمی کو بلائے گا ، اور تلوار مار کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا ، جس طرح ہدف پر نشانہ بازی کی جاتی ہے ، پھر وہ اس کو بلائے گا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہو گا اور چمکتے چہرے کے ساتھ مسکراتا ہوا اپنی اسی پہلی حالت پر ہو جائے گا ۔ اچانک اللہ مسیح بن مریم کو مبعوث فرمائے گا تو وہ زعفران رنگ کے جوڑے میں دمشق کے مشرق میں منارہ بیضاء پر نزول فرمائیں گے ، وہ دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوں گے ، جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو اس سے قطرے گریں گے ، اور جب وہ اسے اٹھائیں گے تو اس سے موتی کے دانے ٹپکیں گے ، اور جو کافر ان کے سانس کی ہوا پائے گا تو وہ ہلاک ہو جائے گا ، اور ان کا سانس حد نگاہ تک پہنچے گا ، وہ (عیسیٰ ؑ) اسے تلاش کریں گے حتیٰ کہ وہ اسے باب لد پر پائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے ، پھر عیسیٰ ؑ کے پاس وہ لوگ آئیں گے جنہیں اللہ نے اس سے بچا لیا ہو گا ، چنانچہ وہ ان کے چہرے صاف کریں گے اور وہ ان کے جنت میں درجات کے متعلق انہیں بتائیں گے ، وہ اسی اثنا میں ہوں گے جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ کی طرف وحی بھیجے گا کہ میں نے اپنے ایسے بندے ظاہر کیے ہیں ، ان سے قتال کی کسی میں طاقت نہیں ، آپ میرے بندوں کو طور کی طرف لے جائیں ۔ چنانچہ اللہ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا ، وہ ہر بلند جگہ سے دوڑے آئیں گے ان کے پہلے لوگ بحیرۂ طبریہ پر گزریں گے تو تو اس کا سارا پانی پی جائیں گے ، جب ان کا آخری آدمی وہاں سے گزرے گا تو وہ کہے گا : یہاں کسی وقت پانی ہوتا تھا ! پھر وہ چلتے جائیں گے حتیٰ کہ وہ جبل خمر یعنی جبل بیت المقدس تک پہنچیں گے تو وہ کہیں گے : ہم زمین والوں کو تو قتل کر چکے آؤ ! اب ہم آسمان والوں کو قتل کریں ، وہ آسمان کی طرف تیر چلائیں گے ، تو اللہ ان کے تیروں کو خون آلودہ حالت میں ان پر لوٹا دے گا ، اللہ کے نبی اور اس کے ساتھی روک لیے جائیں گے حتی کہ اس روز بیل کا سر ان کے ہاں سو دینار سے بہتر ہو گا ، اللہ کے نبی عیسیٰ ؑ اور ان کے ساتھی (اللہ کی طرف) رغبت کریں گے ۔ تو اللہ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا کر دے گا تو وہ ایک جان کی موت کی طرح سب ہلاک ہو جائیں گے ، پھر اللہ کے نبی عیسیٰ ؑ اور ان کے ساتھی (پہاڑ سے) نیچے اتریں گے ، وہ زمین پر بالشت برابر جگہ نہیں پائیں گے مگر وہ ان کی چربی اور بدبو سے بھرپور ہو گی ، پھر اللہ کے نبی ؑ اور ان کے ساتھی اللہ کے حضور دعا کریں گے تو وہ بختی اونٹ کی کوہانوں کی طرح پرندے ان پر بھیجے گا تو وہ انہیں اٹھا کر جہاں اللہ چاہے گا ، پھینک آئیں گے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ انہیں نہبل کے مقام پر پھینک آئیں گے ، مسلمان ان کی کمانوں ، ان کے تیروں اور ان کے ترکشوں کو سات سال جلاتے رہیں گے ، پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائیں گے کہ وہ ہر گھر پر برسے گی (خواہ وہ پتھر سے بنایا گیا ہو یا کوئی خیمہ ہو)، وہ (بارش) زمین کو دھو ڈالے گی ، حتیٰ کہ اسے شیشے کی طرح کر دے گی ، پھر زمین سے کہا جائے گا ، اپنے ثمرات اگاؤ ! اور اپنی برکات لوٹا دو ! ، اس دن پوری جماعت فقط ایک انار سے سیر ہو جائے گی اور اس کے چھلکے سے سایہ حاصل کریں گے ، اور دودھ میں برکت ڈال دی جائے گی ، حتی کہ اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک جماعت کے لیے کافی ہو گا ، گائے کا دودھ لوگوں کے قبیلے کے لیے کافی ہو گا ، بکری کا دودھ چھوٹے قبیلے کے لیے کافی ہو گا ، وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ اللہ پاکیزہ ہوا بھیجے گا وہ ان کی بغلوں کے نیچے لگے گی اور وہ ہر مومن اور ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی ، اور شریر لوگ باقی رہ جائیں گے ، وہ اس وقت گدھوں کی طرح علانیہ زنا کریں گے ، اور ایسے لوگوں پر قیامت قائم ہو گی ۔‘‘ مسلم ۔ البتہ دوسری روایت : وہ ان کا یہ کہنا :’’ وہ ان کو نہبل میں پھینک دے گی ۔‘‘ سے لے کر ’’ سات سال تک ۔‘‘ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ رواہ مسلم و الترمذی ۔
Sahih Muslim
7373
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ قَاضِي حِمْصَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِينَا فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَقَالَ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّأْمِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ قَالَ لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًا وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَأْتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمْ اللَّهُ مِنْهُ فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِكُمْ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْأَرْضِ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنْ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى أَنَّ اللِّقْحَةَ مِنْ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنْ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنْ الْبَقَرِ لَتَكْفِي الْقَبِيلَةَ مِنْ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنْ الْغَنَمِ لَتَكْفِي الْفَخِذَ مِنْ النَّاسِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكُلِّ مُسْلِمٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ
An-Nawwas b. Sam`an reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made a mention of the Dajjal one day in the morning. He ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sometimes described him to be insignificant and sometimes described (his turmoil) as very significant (and we felt) as if he were in the cluster of the date-palm trees. When we went to him (to the Holy Prophet) in the evening and he read (the signs of fear) in our faces, he ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: What is the matter with you? We said: Allah's Messenger, you made a mention of the Dajjal in the morning (sometimes describing him) to be insignificant and sometimes very important, until we began to think as if he were present in some (near) part of the cluster of the date-palm trees. Thereupon he ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I harbor fear in regard to you in so many other things besides the Dajjal. If he comes forth while I am among you, I shall contend with him on your behalf, but if he comes forth while I am not amongst you, a man must contend on his own behalf and Allah would take care of every Muslim on my behalf (and safeguard him against his evil). He (Dajjal) would be a young man with twisted, contracted hair, and a blind eye. I compare him to `Abd-ul-`Uzza b. Qatan. He who amongst you would survive to see him should recite over him the opening verses of Sura Kahf (xviii). He would appear on the way between Syria and Iraq and would spread mischief right and left. O servant of Allah! adhere (to the path of Truth). We said: Allah's Messenger, how long would he stay on the earth? He ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: For forty days, one day like a year and one day like a month and one day like a week and the rest of the days would be like your days. We said: Allah's Messenger, would one day's prayer suffice for the prayers of day equal to one year? Thereupon he ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: No, but you must make an estimate of time (and then observe prayer). We said: Allah's Messenger, how quickly would he walk upon the earth? Thereupon he ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Like cloud driven by the wind. He would come to the people and invite them (to a wrong religion) and they would affirm their faith in him and respond to him. He would then give command to the sky and there would be rainfall upon the earth and it would grow crops. Then in the evening, their pasturing animals would come to them with their humps very high and their udders full of milk and their flanks stretched. He would then come to another people and invite them. But they would reject him and he would go away from them and there would be drought for them and nothing would be left with them in the form of wealth. He would then walk through the waste land and say to it: Bring forth your treasures, and the treasures would come out and collect (themselves) before him like the swarm of bees. He would then call a person brimming with youth and strike him with the sword and cut him into two pieces and (make these pieces lie at a distance which is generally) between the archer and his target. He would then call (that young man) and he will come forward laughing with his face gleaming (with happiness) and it would be at this very time that Allah would send Jesus, son of Mary, and he will descend at the white minaret in the eastern side of Damascus wearing two garments lightly dyed with saffron and placing his hands on the wings of two Angels. When he would lower his head, there would fall beads of perspiration from his head, and when he would raise it up, beads like pearls would scatter from it. Every non-believer who would smell the odor of his self would die and his breath would reach as far as he would be able to see. He would then search for him (Dajjal) until he would catch hold of him at the gate of Ludd and would kill him. Then a people whom Allah had protected would come to Jesus, son of Mary, and he would wipe their faces and would inform them of their ranks in Paradise and it would be under such conditions that Allah would reveal to Jesus these words: I have brought forth from amongst My servants such people against whom none would be able to fight; you take these people safely to Tur. And then Allah would send Gog and Magog and they would swarm down from every slope. The first of them would pass the lake of Tiberias and drink out of it. And when the last of them would pass, he would say: There was once water there. Jesus and his companions would then be besieged here (at Tur, and they would be so much hard pressed) that the head of the ox would be dearer to them than one hundred dinars and Allah's Apostle, Jesus, and his companions would supplicate Allah, Who would send to them insects (which would attack their necks) and in the morning they would perish like one single person. Allah's Apostle, Jesus, and his companions would then come down to the earth and they would not find in the earth as much space as a single span which is not filled with their putrefaction and stench. Allah's Apostle, Jesus, and his companions would then again beseech Allah, Who would send birds whose necks would be like those of Bactrian camels and they would carry them and throw them where God would will. Then Allah would send rain which no house of clay or (the tent of) camels' hairs would keep out and it would wash away the earth until it could appear to be a mirror. Then the earth would be told to bring forth its fruit and restore its blessing and, as a result thereof, there would grow (such a big) pomegranate that a group of persons would be able to eat that, and seek shelter under its skin and milch cow would give so much milk that a whole party would be able to drink it. And the milch camel would give such (a large quantity of) milk that the whole tribe would be able to drink out of that and the milch sheep would give so much milk that the whole family would be able to drink out of that and at that time Allah would send a pleasant wind which would soothe (people) even under their armpits, and would take the life of every Muslim and only the wicked would survive who would commit adultery like asses and the Last Hour would come to them.
ابو خیثمہ زہیر بن حراب اور محمد بن مہران رازی نے مجھے حدیث بیان کی ۔ الفاظ رازی کے ہیں ۔ کہا : ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں عبد الرحمٰن بن یزید بن جابر نے یحییٰ بن جابرقاضی حمص سے انھوں نے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر ہے ۔ انھوں نےاپنے والد جبیر بن نفیرسے اور انھوں نے حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا ۔ آپ نے اس ( کے ذکر کے دوران ) میں کبھی آواز دھیمی کی کبھی اونچی کی ۔ یہاں تک کہ ہمیں ایسے لگا جیسے وہ کھجوروں کے جھنڈمیں موجود ہے ۔ جب شام کو ہم آپ کے پاس ( دوبارہ ) آئے تو آپ نے ہم میں اس ( شدید تاثر ) کو بھانپ لیا ۔ آپ نے ہم سے پوچھا " تم لوگوں کو کیا ہواہے؟ " ہم نے عرض کی اللہ کے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !صبح کے وقت آپ نے دجال کا ذکر فرمایاتو آپ کی آوازمیں ( ایسا ) اتارچڑھاؤتھا کہ ہم نے سمجھاکہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " مجھے تم لوگوں ( حاضرین ) پر دجال کے علاوہ دیگر ( جہنم کی طرف بلانے والوں ) کا زیادہ خوف ہےاگر وہ نکلتا ہے اور میں تمھارے درمیان موجود ہوں تو تمھاری طرف سے اس کے خلاف ( اس کی تکذیب کے لیے ) دلائل دینے والا میں ہوں گااور اگر وہ نکلا اور میں موجودنہ ہوا تو ہر آدمی اپنی طرف سے حجت قائم کرنے والاخود ہو گا اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ( خود نگہبان ) ہوگا ۔ وہ گچھے دار بالوں والاایک جوان شخص ہے اس کی ایک آنکھ بے نور ہے ۔ میں ایک طرح سے اس کو عبد العزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں تم میں سے جو اسے پائے تو اس کے سامنے سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے وہ عراق اور شام کے درمیان ایک رستے سے نکل کر آئے گا ۔ وہ دائیں طرف بھی تباہی مچانے والا ہو گا اور بائیں طرف بھی ۔ اے اللہ کے بندو!تم ثابت قدم رہنا ۔ " ہم نے عرض ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !زمین میں اس کی سرعت رفتار کیا ہو گی؟آپ نے فرمایا : " بادل کی طرح جس کے پیچھے ہوا ہو ۔ وہ ایک قوم کے پاس آئے گا انھیں دعوت دے گا وہ اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی باتیں مانیں گے ۔ تو وہ آسمان ( کے بادل ) کو حکم دے گا ۔ وہ بارش برسائے گا اور وہ زمین کو حکم دے گا تو وہ فصلیں اگائےگی ۔ شام کے اوقات میں ان کے جانور ( چراگاہوں سے ) واپس آئیں گے تو ان کے کوہان سب سے زیادہ اونچےاور تھن انتہائی زیادہ بھرے ہوئے اور کوکھیں پھیلی ہوئی ہوں گی ۔ پھر ایک ( اور ) قوم کے پاس آئے گا اور انھیں ( بھی ) دعوت دے گا ۔ وہ اس کی بات ٹھکرادیں گے ۔ وہ انھیں چھوڑ کر چلا جائے گا تووہ قحط کا شکار ہو جائیں گے ۔ ان کے مال مویشی میں سے کوئی چیز ان کےہاتھ میں نہیں ہوگی ۔ وہ ( دجال ) بنجر زمین میں سے گزرے گا تو اس سے کہےگا اپنے خزانے نکال تو اس ( بنجر زمین ) کے خزانے اس طرح ( نکل کر ) اس کے پیچھےلگ جائیں گے ۔ جس طرح شہد کی مکھیوں کی رانیاں ہیں پھر وہ ایک بھر پور جوان کو بلائے گا اور اسے تلوار ۔ مار کر ( یکبارگی ) دوحصوں میں تقسیم کردے گا جیسے نشانہ بنایا جانے والا ہدف ( یکدم ٹکڑے ہوگیا ) ہو ۔ پھر وہ اسے بلائے گا تو وہ ( زندہ ہوکر دیکھتےہوئے چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آئے گا ۔ وہ ( دجال ) اسی عالم میں ہو گا جب اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو معبوث فرمادے گا ۔ وہ دمشق کے حصے میں ایک سفید مینار کے قریب دوکیسری کپڑوں میں دوفرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے ۔ جب وہ اپنا سر جھکا ئیں گے تو قطرے گریں گے ۔ اور سر اٹھائیں گے تو اس سے چمکتے موتیوں کی طرح پانی کی بوندیں گریں گی ۔ کسی کافر کے لیے جو آپ کی سانس کی خوشبو پائے گا مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا ۔ اس کی سانس ( کی خوشبو ) وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی ۔ آپ علیہ السلام اسے ڈھونڈیں گے تو اسے لُد ( Lyudia ) کےدروازے پر پائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے ۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس وہ لوگ آئیں گے جنھیں اللہ نے اس ( دجال کےدام میں آنے ) سے محفوظ رکھا ہو گاتووہ اپنے ہاتھ ان کے چہروں پر پھیریں گے ۔ اور انھیں جنت میں ان کے درجات کی خبردیں گے ۔ وہ اسی عالم میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائےگا میں نے اپنے ( پیدا کیے ہوئے ) بندوں کو باہر نکال دیا ہے ان سے جنگ کرنے کی طاقت کسی میں نہیں ۔ آپ میری بندگی کرنے والوں کو اکٹھا کر کے طور کی طرف لے جائیں اور اللہ یاجوج ماجوج کو بھیج دے گا ، وہ ہر اونچی جگہ سے امڈتے ہوئے آئیں گے ۔ ان کے پہلے لوگ ( میٹھے پانی کی بہت بڑی جھیل ) بحیرہ طبریہ سے گزریں گے اور اس میں جو ( پانی ) ہوگا اسے پی جائیں گے پھر آخری لوگ گزریں گے تو کہیں گے ۔ " کبھی اس ( بحیرہ ) میں ( بھی ) پانی ہوگا ۔ اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی محصورہوکر رہ جائیں گے ۔ حتیٰ کہ ان میں سے کسی ایک کے لیے بیل کا سراس سے بہتر ( قیمتی ) ہوگا جتنےآج تمھارے لیے سودینارہیں ۔ اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی گڑ گڑاکر دعائیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان ( یاجوج ماجوج ) پر ان کی گردنوں میں کپڑوں کا عذاب نازل کر دے گا تو وہ ایک انسان کے مرنے کی طرح ( یکبارگی ) اس کا شکار ہوجائیں گے ۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اترکر ( میدانی ) زمین پر آئیں گے تو انھیں زمین میں بالشت بھر بھی جگہ نہیں ملے گی ۔ جوان کی گندگی اور بد بو سے بھری ہوئی نہ ہو ۔ اس پرحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ کے سامنے گڑگڑائیں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کے جیسی لمبی گردنوں کی طرح ( کی گردنوں والے ) پرندے بھیجے گا جو انھیں اٹھائیں گے اور جہاں اللہ چاہے گا جاپھینکیں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش بھیجے گا جس سے کو ئی گھر اینٹوں کا ہو یا اون کا ( خیمہ ) اوٹ مہیا نہیں کر سکے گا ۔ وہ زمین کو دھوکر شیشےکی طرح ( صاف ) کر چھوڑےگی ۔ پھر زمین سے کہاجائے گا ۔ اپنے پھل اگاؤاوراپنی برکت لوٹالاؤ تو اس وقت ایک انار کو پوری جماعت کھائےگی اور اس کے چھلکے سے سایہ حاصل کرے گی اور دودھ میں ( اتنی ) برکت ڈالی جائے گی کہ اونٹنی کا ایک دفعہ کا دودھ لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہو گا اور گائے کاایک دفعہ کا دودھ لوگوں کے قبیلےکو کافی ہو گا اور بکری کا ایک دفعہ کا دودھ قبیلے کی ایک شاخ کو کافی ہوگا ۔ وہ اسی عالم میں رہ رہے ہوں گے ۔ کہ اللہ تعالیٰ ایک عمدہ ہوا بھیجے گا وہ لوگوں کو ان کی بغلوں کے نیچے سے پکڑے گی ۔ اور ہر مومن اور ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی اور بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے وہ وہ گدھوں کی طرح ( برسرعام ) آپس میں اختلاط کریں گےتو انھی پر قیامت قائم ہوگی ۔ "
Silsila Sahih
3140
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً:(الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ) لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلٌ مَّرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَّمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ فَيُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُهْلِكُ اللهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ وَيُهْلِكُ الله الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ (وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْأُسُودُ مَعَ الْإِبِلِ وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا تَضُرُّهُمْ) فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے:(انبیاء علاتی (باپ کی طرف سے) بھائی ہیں۔ ان کی مائیں الگ الگ ہیں لیکن ان کا دین ایک ہے اور میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے زیادہ قریب ہوں )کیوں کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ آسمان سے اتریں گے جب تم انہیں دیکھو گے تو انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے ہوں گے ان کا رنگ سرخ سفیدی مائل ہے، زردی مائل دو چادروں میں ملبوس ہوں گے، گویا کہ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا ،اگرچہ ان کے سر میں پانی نہیں ہوگا۔ وہ لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے ،صلیب کو توڑ دیں گے ، خنزیر کو قتل کردیں گے ،اور جزیہ ختم کر دیں گے ۔اللہ تعالیٰ اس زمانے میں اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کو ختم کر دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا(زمین میں امن قائم ہو جائے گا، حتی کہ شیر اونٹوں کے ساتھ ،چیتے گایوں کے ساتھ، اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرا کریں گے، بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے،لیکن وہ انہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے )وہ زمین میں چالیس سال رہیں گے ،پھر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔
Sunnan Ibn e Maja
4075
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي،‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ،‏‏‏‏ فَخَفَضَ فِيهِ وَرَفَعَ،‏‏‏‏ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ،‏‏‏‏ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ ذَلِكَ فِينَا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا شَأْنُكُمْ؟ ،‏‏‏‏ فَقُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ،‏‏‏‏ فَخَفَضْتَ فِيهِ ثُمَّ رَفَعْتَ،‏‏‏‏ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ،‏‏‏‏ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ،‏‏‏‏ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ،‏‏‏‏ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ،‏‏‏‏ عَيْنُهُ قَائِمَةٌ،‏‏‏‏ كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ،‏‏‏‏ فَمَنْ رَآهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ،‏‏‏‏ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ خَلَّةٍ بَيْنَ الشَّامِ،‏‏‏‏ وَالْعِرَاقِ،‏‏‏‏ فَعَاثَ يَمِينًا،‏‏‏‏ وَعَاثَ شِمَالًا،‏‏‏‏ يَا عِبَادَ اللَّهِ،‏‏‏‏ اثْبُتُوا ،‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَمَا لُبْثُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَرْبَعُونَ يَوْمًا،‏‏‏‏ يَوْمٌ كَسَنَةٍ،‏‏‏‏ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ،‏‏‏‏ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ،‏‏‏‏ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ ،‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ تَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَاقْدُرُوا لَهُ قَدْرًا ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ فَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ كَالْغَيْثِ اشْتَدَّ بِهِ الرِّيحُ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَيَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ،‏‏‏‏ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ،‏‏‏‏ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ،‏‏‏‏ وَيَأْمُرُ الْأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ،‏‏‏‏ وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًى،‏‏‏‏ وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا،‏‏‏‏ وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ،‏‏‏‏ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ،‏‏‏‏ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ مَا بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَمُرَّ بِالْخَرِبَةِ،‏‏‏‏ فَيَقُولُ لَهَا:‏‏‏‏ أَخْرِجِي كُنُوزَكِ،‏‏‏‏ فَيَنْطَلِقُ،‏‏‏‏ فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا،‏‏‏‏ فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ ضَرْبَةً فَيَقْطَعُهُ جِزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ،‏‏‏‏ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ،‏‏‏‏ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ،‏‏‏‏ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ،‏‏‏‏ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ،‏‏‏‏ وَإِذَا رَفَعَهُ يَنْحَدِرُ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ،‏‏‏‏ وَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ أَنْ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ،‏‏‏‏ إِلَّا مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرَفُهُ،‏‏‏‏ فَيَنْطَلِقُ حَتَّى يُدْرِكَهُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَأْتِي نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى قَوْمًا قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ،‏‏‏‏ فَيَمْسَحُ وُجُوهَهُمْ،‏‏‏‏ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ،‏‏‏‏ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ،‏‏‏‏ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ:‏‏‏‏ يَا عِيسَى،‏‏‏‏ إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ،‏‏‏‏ وَأَحْرِزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ،‏‏‏‏ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ،‏‏‏‏ وَهُمْ كَمَا قَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ سورة الأنبياء آية 96،‏‏‏‏ فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ،‏‏‏‏ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا،‏‏‏‏ ثُمَّ يَمُرُّ آخِرُهُمْ،‏‏‏‏ فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ لَقَدْ كَانَ فِي هَذَا مَاءٌ مَرَّةً،‏‏‏‏ وَيَحْضُرُ نَبِيُّ اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ،‏‏‏‏ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ،‏‏‏‏ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ،‏‏‏‏ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ،‏‏‏‏ وَيَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ،‏‏‏‏ فَلَا يَجِدُونَ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا قَدْ مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ،‏‏‏‏ وَنَتْنُهُمْ،‏‏‏‏ وَدِمَاؤُهُمْ،‏‏‏‏ فَيَرْغَبُونَ إِلَى اللَّهِ،‏‏‏‏ فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ،‏‏‏‏ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ،‏‏‏‏ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مَطَرًا لَا يُكِنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ،‏‏‏‏ وَلَا وَبَرٍ فَيَغْسِلُهُ،‏‏‏‏ حَتَّى يَتْرُكَهُ كَالزَّلَقَةِ،‏‏‏‏ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ،‏‏‏‏ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ،‏‏‏‏ فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرِّمَّانَةِ فَتُشْبِعُهُمْ،‏‏‏‏ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا،‏‏‏‏ وَيُبَارِكُ اللَّهُ فِي الرِّسْلِ،‏‏‏‏ حَتَّى إِنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ تَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ،‏‏‏‏ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ تَكْفِي الْقَبِيلَةَ،‏‏‏‏ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ تَكْفِي الْفَخِذَ،‏‏‏‏ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ رِيحًا طَيِّبَةً،‏‏‏‏ فَتَأْخُذُ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلَّ مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ وَيَبْقَى سَائِرُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ كَمَا تَتَهَارَجُ الْحُمُرُ،‏‏‏‏،‏‏‏‏ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ .
Nawwas bin Sam'an Al-Kilabi said: The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned Dajjal, one morning, as something despised but also alarming, until we thought that he was in the stand of date-palm trees. When we came to the Messenger of Allah (ﷺ) in the evening, he saw that (fear) in us, and said: 'What is the matter with you?' We said: 'O Messenger of Allah, you mentioned Dajjal this morning, and you spoke of him as something despised but also alarming, until we thought that he was in the stand of date-palm trees.' He said: 'There are things that I fear more for you than the Dajjal. If he appears while I am among you, I will contend with him on your behalf, and if he appears when I am not among you, then each man must fend for himself, and Allah will take care of every Muslim on my behalf. He (Dajjal) will be a young man with curly hair and a protuberant eye; I liken him to 'Abdul-'Uzza bin Qatan. Whoever among you sees him, let him recite the first Verses of Surat Al-Kahf over him. He will emerge from Khallah, between Sham and Iraq, and will wreak havoc right and left. O slaves of Allah, remain steadfast.' We said: 'O Messenger of Allah, how long will he stay on earth?' He said: 'Forty days, one day like a year, one day like a month, one day like a week, and the rest of his days like your days.' We said: 'O Messenger of Allah, on that day which is like a year, will the prayers of one day suffice us?' He said: 'Make an estimate of time (and then observe prayer).' We said: 'How fast will he move through the earth?' He said: 'Like a rain cloud driving by the wind.' He said: 'He will come to some people and call them, and they will respond and believe in him. Then he will command the sky to rain and it will rain, and he will command the earth to produce vegetation and it will do so, and their flocks will come back in the evening with their humps taller, their udders fuller and their flanks fatter than they have ever been. Then he will come to some (other) people and call them, and they will reject him, so he will turn away from them and they will suffer drought and be left with nothing. Then he will pass through the wasteland and will say: Bring forth your treasures, then go away, and its treasures will follow him like a swarm of bees. Then he will call a man brimming with youth and will strike him with a sword and cut him in two. He will put the two pieces as far apart as the distance between an archer and his target. Then he will call him and he will come with his face shining, laughing. While they are like that, Allah will send 'Eisa bin Maryam, who will come down at the white minaret in the east of Damascus, wearing two Mahrud[garment dyed with Wars and then Saffron], resting his hands on the wings of two angels. When he lowers his head, beads of perspiration will fall from it. Every disbeliever who smells the fragrance of his breath will die, and his breath will reach as far as his eye can see. Then he will set out and catch up with him (the Dajjal) at the gate of Ludd, and will kill him. Then the Prophet of Allah 'Eisa will come to some people whom Allah has protected, and he will wipe their faces and tell them of their status in Paradise. While they are like that, Allah will reveal to him: O 'Eisa, I have brought forth some of My slaves whom no one will be able to kill, so take My slaves to Tur in safety. Then Gog and Magog will emerge and they will, as Allah describes, swoop down from every mound. [21:96] The first of them will pass by lake Tiberias and drink from it, then the last of them will pass by it and will say: There was water here once. The Prophet of Allah, 'Eisa and his companions will be besieged there until the head of an ox would be dearer to any one of them than one hundred Dinar are to any one of you today. Then, the Prophet of Allah, 'Eisa and his companions will supplicate Allah. Then Allah will send a worm in their necks and the next morning they will all die as one. The Prophet of Allah 'Eisa and his companions will come down and they will not find even the space of a hand span that is free of their stink, stench and blood. They will pray to Allah, and He will send birds with necks like the necks of Bactrian camels, which will pick them up and throw them wherever Allah wills. Then Allah will send rain which will not leave any house of clay or hair, and it will wash the earth until it leaves it like a mirror (or a smooth rock). Then it will be said to the earth: Bring forth your fruits and bring back your blessing. On that day a group of people will eat from a (single) pomegranate and it will suffice them, and they will seek shelter beneath its skin. Allah will bless a milch- camel so that it will be sufficient for a large number of people, and a milch-cow will be sufficient for a whole tribe and a milch-ewe will be sufficient for a whole clan. While they are like that, Allah will send a pleasant wind which will seize them beneath their armpits and will take the soul of every Muslim, leaving the rest of the people fornicating like donkeys, and upon them will come the Hour.'
نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( ایک دن ) صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو اس میں آپ نے کبھی بہت دھیما لہجہ استعمال کیا اور کبھی روز سے کہا، آپ کے اس بیان سے ہم یہ محسوس کرنے لگے کہ جیسے وہ انہی کھجوروں میں چھپا ہوا ہے، پھر جب ہم شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہمارے چہروں پر خوف کے آثار کو دیکھ کر فرمایا: تم لوگوں کا کیا حال ہے ؟ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے جو صبح کے وقت دجال کا ذکر فرمایا تھا اور جس میں آپ نے پہلے دھیما پھر تیز لہجہ استعمال کیا تو اس سے ہمیں یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ انہی کھجوروں کے درختوں میں چھپا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم لوگوں پر دجال کے علاوہ اوروں کا زیادہ ڈر ہے، اگر دجال میری زندگی میں ظاہر ہوا تو میں تم سب کی جانب سے اس کا مقابلہ کروں گا، اور اگر میرے بعد ظاہر ہوا تو ہر انسان اس کا مقابلہ خود کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے ( یعنی ہر مسلمان کا میرے بعد ذمہ دار ہے ) دیکھو دجال جوان ہو گا، اس کے بال بہت گھنگریالے ہوں گے، اس کی ایک آنکھ اٹھی ہوئی اونچی ہو گی گویا کہ میں اسے عبدالعزی بن قطن کے مشابہ سمجھتا ہوں، لہٰذا تم میں سے جو کوئی اسے دیکھے اسے چاہیئے کہ اس پر سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے، دیکھو! دجال کا ظہور عراق اور شام کے درمیانی راستے سے ہو گا، وہ روئے زمین پر دائیں بائیں فساد پھیلاتا پھرے گا، اللہ کے بندو! ایمان پر ثابت قدم رہنا ۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کتنے دنوں تک زمین پر رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن تک، ایک دن ایک سال کے برابر، دوسرا دن ایک مہینہ کے اور تیسرا دن ایک ہفتہ کے برابر ہو گا، اور باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے ۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس دن میں جو ایک سال کا ہو گا ہمارے لیے ایک دن کی نماز کافی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نہیں بلکہ ) تم اسی ایک دن کا اندازہ کر کے نماز پڑھ لینا ۔ ہم نے عرض کیا: زمین میں اس کے چلنے کی رفتار آخر کتنی تیز ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بادل کی طرح جس کے پیچھے ہوا ہو، وہ ایک قوم کے پاس آ کر انہیں اپنی الوہیت کی طرف بلائے گا، تو وہ قبول کر لیں گے، اور اس پر ایمان لے آئیں گے، پھر وہ آسمان کو بارش کا حکم دے گا، تو وہ برسے گا، پھر زمین کو سبزہ اگانے کا حکم دے گا تو زمین سبزہ اگائے گی، اور جب اس قوم کے جانور شام کو چر کر واپس آیا کریں گے تو ان کے کوہان پہلے سے اونچے، تھن زیادہ دودھ والے، اور کوکھیں بھری ہوں گی، پہلو بھرے بھرے ہوں گے، پھر وہ ایک دوسری قوم کے پاس جائے گا، اور ان کو اپنی طرف دعوت دے گا، تو وہ اس کی بات نہ مانیں گے، آخر یہ دجال وہاں سے واپس ہو گا، تو صبح کو وہ قوم قحط میں مبتلا ہو گی، اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا، پھر دجال ایک ویران جگہ سے گزرے گا، اور اس سے کہے گا: تو اپنے خزانے نکال، وہاں کے خزانے نکل کر اس طرح اس کے ساتھ ہو جائیں گے جیسے شہد کی مکھیاں «یعسوب» ( مکھیوں کے بادشاہ ) کے پیچھے چلتی ہیں، پھر وہ ایک ہٹے کٹے نوجوان کو بلائے گا، اور تلوار کے ذریعہ اسے ایک ہی وار میں قتل کر کے اس کے دو ٹکڑے کر دے گا، ان دونوں ٹکڑوں میں اتنی دوری کر دے گا جتنی دوری پر تیر جاتا ہے، پھر اس کو بلائے گا تو وہ شخص زندہ ہو کر روشن چہرہ لیے ہنستا ہوا چلا آئے گا، الغرض دجال اور دنیا والے اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ الصلاۃ والسلام کو بھیجے گا، وہ دمشق کے سفید مشرقی مینار کے پاس دو زرد ہلکے کپڑے پہنے ہوئے اتریں گے، جو زعفران اور ورس سے رنگے ہوئے ہوں گے، اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے، جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپکیں گے، اور جب سر اٹھائیں گے تو اس سے پانی کے قطرے موتی کی طرح گریں گے، ان کی سانس میں یہ اثر ہو گا کہ جس کافر کو لگ جائے گی وہ مر جائے گا، اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر کام کرے گی۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام چلیں گے یہاں تک کہ اس ( دجال ) کو باب لد کے پاس پکڑ لیں گے، وہاں اسے قتل کریں گے، پھر دجال کے قتل کے بعد اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں کے پاس آئیں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے دجال کے شر سے بچا رکھا ہو گا، ان کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر انہیں تسلی دیں گے، اور ان سے جنت میں ان کے درجات بیان کریں گے، یہ لوگ ابھی اسی کیفیت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی نازل کرے گا: اے عیسیٰ! میں نے اپنے کچھ ایسے بندے پیدا کئے ہیں جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں، تو میرے بندوں کو طور پہاڑ پر لے جا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کو بھیجے گا، اور وہ لوگ ویسے ہی ہوں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «من كل حدب ينسلون» یہ لوگ ہر ٹیلے پر سے چڑھ دوڑیں گے ( سورة الأنبياء: 96 ) ان میں کے آگے والے طبریہ کے چشمے پر گزریں گے، تو اس کا سارا پانی پی لیں گے، پھر جب ان کے پچھلے لوگ گزریں گے تو وہ کہیں گے: کسی زمانہ میں اس تالاب کے اندر پانی تھا، اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی طور پہاڑ پر حاضر رہیں گے ۱؎، ان مسلمانوں کے لیے اس وقت بیل کا سر تمہارے آج کے سو دینار سے بہتر ہو گا، پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے، چنانچہ اللہ یاجوج و ماجوج کی گردن میں ایک ایسا پھوڑا نکالے گا، جس میں کیڑے ہوں گے، اس کی وجہ سے ( دوسرے دن ) صبح کو سب ایسے مرے ہوئے ہوں گے جیسے ایک آدمی مرتا ہے، اور اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی طور پہاڑ سے نیچے اتریں گے اور ایک بالشت کے برابر جگہ نہ پائیں گے، جو ان کی بدبو، خون اور پیپ سے خالی ہو، عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹ کی گردن کی مانند پرندے بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو گا وہاں پھینک دیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ( سخت ) بارش نازل کرے گا جس سے کوئی پختہ یا غیر پختہ مکان چھوٹنے نہیں پائے گا، یہ بارش ان سب کو دھو ڈالے گی، اور زمین کو آئینہ کی طرح بالکل صاف کر دے گی، پھر زمین سے کہا جائے گا کہ تو اپنے پھل اگا، اور اپنی برکت ظاہر کر، تو اس وقت ایک انار کو ایک جماعت کھا کر آسودہ ہو گی، اور اس انار کے چھلکوں سے سایہ حاصل کریں گے اور دودھ میں اللہ تعالیٰ اتنی برکت دے گا کہ ایک اونٹنی کا دودھ کئی جماعتوں کو کافی ہو گا، اور ایک دودھ دینے والی گائے ایک قبیلہ کے لوگوں کو کافی ہو گی، اور ایک دودھ دینے والی بکری ایک چھوٹے قبیلے کو کافی ہو گی، لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا وہ ان کی بغلوں کے تلے اثر کرے گی اور ہر مسلمان کی روح قبض کرے گی، اور ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جو جھگڑالو ہوں گے، اور گدھوں کی طرح لڑتے جھگڑتے یا اعلانیہ جماع کرتے رہیں گے، تو انہی ( شریر ) لوگوں پر قیامت قائم ہو گی ۔
Jam e Tirmazi
2235
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَئِذٍ لِلنَّاسِ وَهُوَ يُحَذِّرُهُمْ فِتْنَتَهُ:‏‏‏‏ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ حَتَّى يَمُوتَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر، ‏‏‏‏‏‏يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Az-Zuhri narrated from Salim from Ibn 'Umar who said: The Messengers of Allah(s.a.w)stood among the people,he praised Allah as is due to Him, then he mentioned the Dajjal and he said: 'Indeed I warn you of him. There has not been a Prophet except that he warned his people, and Nuh indeed warned his people – but I am to say something about him that no Prophet has said to his people: You should know that he is one-eyed, and Allah is certainly not one-eyed.'” Az-Zuhri said: “ `Umar bin Thabit Al-Ansari informed me that some of the Companions of the Prophet(s.a.w) informed him, that one day, the Prophet(s.a.w) was cautioning them against Fitnah and he said: 'You must know that not one of you will ever see his Lord until he dies. And indeed, he(the Dajjal) has “Kafir” written between his eyes; everyone who is averse to his behavior shall read it.'” (Sahih)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے لائق اس کی تعریف کی پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”میں تمہیں دجال سے ڈرا رہا ہوں اور تمام نبیوں نے اس سے اپنی قوم کو ڈرایا ہے، نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے، لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہہ رہا ہوں جسے کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی، تم لوگ اچھی طرح جان لو گے کہ وہ کانا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں“، زہری کہتے ہیں: ہمیں عمر بن ثابت انصاری نے خبر دی کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس دن لوگوں کو دجال کے فتنے سے ڈرا رہے تھے ( اس دن ) آپ نے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ کوئی آدمی اپنے رب کو مرنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتا، اور اس کی آنکھوں کے درمیان ”ک، ف، ر“ لکھا ہو گا، اس کے عمل کو ناپسند سمجھنے والے اسے پڑھ لیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Mishkat
5476
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَيَتَوَّجُهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَيَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ. فَيَقُولُونَ لَهُ: أَيْنَ تَعْمِدُ؟ فَيَقُولُ: أَعْمِدُ إِلَى هَذَا الَّذِي خَرَجَ. قَالَ: فَيَقُولُونَ لَهُ: أَو مَا تبَارك وَتَعَالَى ؤمن بِرَبِّنَا؟ فَيَقُولُ: مَا بِرَبِّنَا خَفَاءٌ. فَيَقُولُونَ: اقْتُلُوهُ. فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكُمْ رَبُّكُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ . قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى الدَّجَّالِ فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ: فَيَأْمُرُ الدَّجَّال بِهِ فَيُشَبَّحُ. فَيَقُولُ: خُذُوهُ وَشُجُّوهُ فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا . قَالَ: فَيَقُول: أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِي؟ قَالَ: فَيَقُولُ: أَنْتَ الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ . قَالَ: «فيؤْمر بِهِ فَيْؤشَرُ بالمنشارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَى يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ» . قَالَ: ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: أتؤمنُ بِي؟ فَيَقُول: مَا ازْدَدْتُ إِلَّا بَصِيرَةً . قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ . قَالَ: «فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ فَيُجْعَلُ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا فَلَا يَسْتَطِيع إِليه سَبِيلا» قَالَ: «فَيَأْخذهُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَيَقْذِفُ بِهِ فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَى النَّارِ وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةُ» فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دجال نکلے گا تو مومنوں میں سے ایک آدمی اس کی طرف رخ کرے گا تو دجال کے محافظ و چوکیدار اسے ملیں گے تو وہ اسے کہیں گے ، کہاں کا ارادہ ہے ؟ وہ کہے گا : میں اس کی طرف جا رہا ہوں جس کا ظہور ہوا ہے ، وہ اسے کہیں گے : کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے ؟ وہ کہے گا : ہمارے رب کے براہین و دلائل مخفی نہیں ، وہ کہیں گے : اسے قتل کر دو ، پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے : کیا تمہارے رب نے تمہیں منع نہیں کیا کہ تم نے اس کی غیر موجودگی میں کسی کو قتل نہیں کرنا ؟ لہذا وہ اسے دجال کے پاس لے چلیں گے ، چنانچہ جب وہ مومن شخص اسے دیکھے گا تو وہ کہے گا : لوگو ! یہ وہی دجال ہے جس کا رسول اللہ ﷺ نے ذکر کیا تھا ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دجال اس کے متعلق حکم دے گا تو اس کا سر پھوڑ دیا جائے گا ، وہ کہے گا : اسے پکڑو اور اس کا سر پھوڑ دو (ایک دوسری روایت میں ہے : اسے چت لٹا دو)، اور اس کی پشت اور پیٹ پر بہت زیادہ مارا جائے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ کہے گا : کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ شخص کہے گا : تو مسیح کذاب ہے ۔‘‘ فرمایا :’’ اس شخص کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اس کے سر پر آری چلا دی جائے گی حتی کہ اس کے دو ٹکڑے کر دیے جائیں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ پھر دجال ان دو ٹکڑوں کے مابین چلے گا ، پھر اسے کہے گا : کھڑے ہو جاؤ تو وہ صحیح سلامت کھڑا ہو جائے گا ، وہ پھر اس سے پوچھے گا : کیا تم مجھ پر ایمان لاتے ہو ؟ وہ جواب دے گا : تمہارے متعلق میری بصیرت میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔‘‘ فرمایا :’’ پھر وہ (آدمی) کہے گا : لوگو ! وہ میرے بعد کسی شخص کے ساتھ ایسے نہیں کرے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا ، تو اس کی گردن اور ہنسلی کے درمیان تانبا بنا دیا جائے گا ، لہذا وہ اسے قتل نہیں کر سکے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ اسے دونوں ہاتھوں اور اس کی دونوں ٹانگوں سے پکڑ کر اسے پھینک دے گا ، لوگ سمجھیں گے کہ اس نے اسے آگ کی طرف پھینکا ہے ، حالانکہ اسے تو جنت میں ڈال دیا گیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رب العالمین کے نزدیک یہ شخص شہادت کے سب سے عظیم مرتبے پر فائز ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Mishkat
5479
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ فَيَنْزِلُ بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ هَلْ تَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ؟ فَيَقُولُونَ: لَا فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْيَوْمَ فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دجال آئے گا اور اس کے لیے مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہونا حرام ہے ، چنانچہ وہ مدینہ کے قریب شور والی زمین پر پڑاؤ ڈالے گا ، پھر ایک آدمی اس کے پاس جائے گا جو کہ (اس وقت) سب سے بہترین شخص ہو گا ، وہ کہے گا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بیان فرمایا تھا ۔ دجال کہے گا : مجھے بتاؤ اگر میں اس کو قتل کر دوں ، پھر اسے زندہ کر دوں تو کیا تم میرے معاملے میں شک کرو گے ؟ وہ کہیں گے نہیں ، وہ اس کو قتل کرے گا ، پھر اسے زندہ کر دے گا تو وہ کہے گا : اللہ کی قسم ! تیرے متعلق مجھے آج پہلے سے زیادہ بصیرت حاصل ہو گئی ہے ، پھر دجال اسے قتل کرنا چاہے گا ، لیکن وہ اس (کے قتل کرنے) پر قادر نہیں ہو سکے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Mishkat
5483
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ قد رجَّلَها فَهِيَ تقطر مَاء متكأ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيح بن مَرْيَمَ قَالَ: ثُمَّ إِذَا أَنَا بَرْجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ فِي الدَّجَّالِ: «رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ» وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا» فِي «بَابِ الْمَلَاحِمِ» وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاس فِي «بَاب قصَّة ابْن الصياد» إِن شَاءَ الله تَعَالَى
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آج کی رات میں نے اپنے آپ کو (خواب میں) کعبہ کے پاس دیکھا ، میں نے وہاں گندمی رنگ کے ایک آدمی کو دیکھا کہ میں نے گندمی رنگ میں اس سے زیادہ خوبصورت شخص کوئی نہیں دیکھا ، اس کے سر کے بال کانوں کی لو تک تھے ، میں نے کانوں کی لو تک اس سے زیادہ خوبصورت بال نہیں دیکھے ، اس شخص نے ان میں کنگھی بھی کی ہوئی تھی ، اور سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے ، وہ دو آدمیوں کے کندھوں کا سہارا لیے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ، میں نے پوچھا ، یہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ مسیح بن مریم ؑ ہیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر میں نے بہت ہی گھونگریالے بالوں والے شخص کو دیکھا ، اس کی دائیں آنکھ کانی تھی ، گویا اس کی آنکھ ابھرے ہوئے انگور کی طرح ہے ، اور وہ ابن قطن کے ساتھ رہنے والے لوگوں کے جنہیں میں نے دیکھا تھا زیادہ مشابہ ہے ، وہ بھی دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا یہ مسیح دجال ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے دجال کے متعلق فرمایا :’’ وہ سرخ رنگ کا آدمی ہے ، اس کے بال گھونگریالے ہیں ، دائیں آنکھ سے کانا ہے ، اور وہ سب سے زیادہ ابن قطن سے مشابہت رکھتا ہے ۔‘‘ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے ۔‘‘ باب الملاحم میں بیان ہو چکی ہے اور ہم عنقریب ابن عمر ؓ سے مروی حدیث :’’ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ۔‘‘ ان شاء اللہ تعالیٰ باب قصۃ ابن الصیاد میں ذکر کریں گے ۔ متفق علیہ ۔