ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان - ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان - Book 24 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation
Book 24 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 128 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
ابو موسیٰ اشعریرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ایک مٹھی سے جو اس نے پوری زمین سے لی تھی، پیدا فرمایا اس لئے آدم علیہ السلام کی اولاد زمین کے رنگ پر پیدا ہوتی ہے ان میں سرخ بھی ہیں سفید بھی اور سیاہ بھی اور ان رنگوں کے درمیان بھی ، نرم بھی سخت بھی ،خبیث بھی اور پاکیزہ بھی
Takhreej
الصحيحة رقم (1630) ، سنن أبي داؤدكِتَاب السُّنَّةِ بَاب فِي الْقَدَرِ رقم (4073)
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اندھیرے میں پیدا فرمایا: اور ان پر اپنا نورڈالا تو جس شخص تک یہ نور پہنچ گیا وہ ہدایت پاگیا اور جس تک نہیں پہنچا وہ گمراہ ہوگیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی لئے میں کہتا ہوں کہ: جو ہونے والا ہے اسے لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1076) ، سنن الترمذي كِتَاب الْإِيمَانِ مَا جَاءَ فِي افْتِرَاقِ هَذِهِ الْأُمَّةِ رقم (2566)
عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، پھر ان کی پشت سے مخلوق لی اور فرمایا: یہ جنت کی طرف جائیں گے مجھے ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں، اور یہ جہنم کی طرف جائیں گے مجھے ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں۔ کسی شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم کس بنا پر عمل کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تقدیر کے مواقع پر
Takhreej
الصحيحة رقم (48) ، مسند أحمد رقم (17000) صحيح ابن حبان رقم (339)
(۳۱۰۸)انسرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک مٹھی بھری اور فرمایا: جنت میں میری رحمت کے ساتھ اور ایک دوسری مٹھی بھری ،فرمایا: جہنم میں ، مجھے ذرا بھی پرواہ نہیں
ابراہیم بن سعد رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: مجھے میرے والد نے بتایا، انہوں نے کہا: میں مسجد میں حمید بن عبدالرحمن کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا ،بنی غفار کا ایک باوقار بزرگ گزرا، ان کے کانوں میں بہراپن یااونچا سننے کی بیماری تھی ،حمید نے اس کی طرف کسی کو بھیجا۔ جب وہ آگیا تو حمید نے کہا: بھتیجے درمیان میں جگہ بناؤ، کیوں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہے۔ وہ آئے اور ہمارے درمیان آکر بیٹھ گئے۔حمید نے اس سے کہا: وہ حدیث تو بیان کیجئے جو آپ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی تھی۔ اس بزرگ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرما رہے تھے: اللہ عزوجل بادل کرتا ہے۔وہ خوبصورت انداز میں بات کرتا ہے اور بہترین انداز میں ہنستا ہے
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پہلا شخص جس نے سوائب(سائبہ وہ اونٹنی جو بتوں کے نام پر چھوڑ دی جاتی تھی) کا رواج ڈالا اور بتوں کی عبادت کی، ابو خزاعہ عمرو بن عامر تھا۔ اور میں نے اسے دیکھا کہ وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہے
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک شخص کو اپنا خلیفہ بنایا، ایک مرتبہ وہ بیت المقدس کے اوپر چاندنی رات میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے کچھ معاملات کا ذکر کیا جو وہ کیا کرتا تھا۔وہ اسی کے ذریعے نیچے اترے اور اسی مسجد کےساتھ لگی رہی اور اور وہ چلے گئے۔ پھر فرمایا : وہ چلتے رہے حتی کہ سمندرکے کنارے ایک قوم کے پاس آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ اینٹیں بنا رہے ہیں ، ان سے پوچھا: تم یہ اینٹیں بنانے کی کیا اجرت لیتے ہو؟ ان لوگوں نے اسے بتایا تو وہ بھی ان کے ساتھ اینٹیں بنانے لگے۔ اور اپنے ہاتھ کی کمائی کھانے لگے۔ جب نماز کا وقت ہوتا تو وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگےا۔ مزدوروں نے یہ بات اپنے مالک تک پہنچائی کہ ہم میں ایک شخص اس طرح کا کام کر رہا ہے ۔اس مالک نے ان کی طرف بلاوا بھیجا لیکن انہوں نے آنے سے انکار کر دیا۔ تین مرتبہ ایسا ہوا۔ پھر وہ اپنی سواری پر بیٹھ کر آیا جب انہوں نے اسے دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے وہ اس کے پیچھےبھاگنے لگا اور اس سے آگے بڑھ گیا۔ وہ کہنے لگا: مجھے مہلت دو میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔وہ کھڑےہوئے اس سے بات کرنے لگےاور اپنے متعلق بتایا جب اس نےاسے بتایا کہ وہ بادشاہ تھا اور اپنے رب کے ڈر سے بھاگا ۔اس نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے کہ میں تم سے مل جاؤں گا، پھر وہ اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا: وہ دونوں اللہ کی عبادت کرتے رہے حتی کہ مصر کےصحرامیں فوت ہوئے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اگر میں وہاں ہوتا تو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں کی قبر کی نشانی بتائی ہے میں تمہیں ان دونوں کی قبریں دکھاتا۔( )
ربیعہ بن عميلة رحمۃ اللہ علیہ سےمروی ہے کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے ایک روایت بیان کی، ہم نے اللہ کی کتاب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت کے علاوہ اس سے اچھی حد یث کوئی نہیں سنی۔ آپ نے فرمایا: بنو اسرائیل پر جب لمبا عرصہ بیت گیا اور ان کے دل سخت ہو گئے تو انہوں نے اپنی طرف سے ایک کتاب لکھی، ان کے دلوں نے اس کام کو ہلکا سمجھا اور ان کی زبانوں کو میٹھی لگی ۔ حق ان کے اور ان کی اکثر خواہشات کے درمیان حائل رہتا تھا۔ حتی کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو اس طرح بھلا دیا گویا وہ جانتے ہی نہ ہوں۔ پھر وہ کہنے لگے: یہ کتاب بنی اسرائیل کے سامنے پیش کرو، اگر وہ اس کتاب پر تمہاری پیروی کریں تو انہیں چھوڑ دو، اور اگر تمہاری مخالفت کریں تو انہیں قتل کر دو، وہ کہنے لگا نہیں بلکہ اسے فلاں ۔ان کا کوئی عالم۔ کی طرف بھیجو اگر وہ تمہاری پیروی کر لے تو اس کے بعد کوئی شخص تمہاری مخالفت نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس عالم کی طرف پیغام بھیج کر اسے بلایا ،اس نے ایک ورق لیا اور اس میں کتاب اللہ (اللہ کی کتاب) لکھی پھر اسے سینگ میں ڈال کر اپنی گردن میں لٹکا لیا۔ پھر اس پر کپڑے پہن لئے ،اور ان کے پاس آگیا۔ ان لوگوں نے وہ کتاب اس کے سامنے پیش کی اور کہنے لگے: کیا تم اس پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔ یعنی اس کتاب کی طرف جو سینگ میں رکھی تھی، اور کہا: میں اس پر ایمان لاتا ہو اور مجھے کیا تکلیف ہے کہ میں اس پر ایمان نہ لاؤں؟ انہوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ اس کے کچھ ساتھی تھے جو اس سے ملنے آیا کرتے تھے ۔جب اس کی وفات کا وقت آیا تو اس کے پاس آئے ۔ جب اس کے کپڑے اتارے تو وہ سینگ دیکھا جس میں کتاب تھی، کہنے لگے: تمہیں اس کی اس بات کا خیال نہیں کہ اس نے کہا تھا: میں اس پر ایمان لایا، اور مجھے کیا تکلیف ہے کہ میں اس پر ایمان نہ لاؤں؟ اس کا مقصد یہ کتاب تھی جو اس سینگ میں ہے ،اس وقت سے بنو اسرائیل کی قوم ستر سے زائد فرقوں میں تقسیم ہوگئی، ان کا بہترین فرقہ وہ ہے جو سینگ والے کے ساتھی ہیں۔
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے۔ کوڑھی، گنجا اور نابینا، اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمانے کا ارادہ کیا اور ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا ،فرشتہ کوڑھی کے پاس آیا اور کہنے لگا: تمہیں کون سی چیز سب سے پیاری ہے؟ وہ کہنے لگا: اچھا رنگ اور اچھی کھال اور مجھ سے یہ بیماری ختم ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے گھن کھاتے ہیں۔ فرشتے نے اسے چھواتو اس کی تکلیف دور ہو گئی اور اسے اچھی جلد مل گئی ۔فرشتہ کہنے لگا: تمہیں کونسا مال پسند ہے ؟وہ کہنے لگا: اونٹ ۔یا اس نے گائے کہی۔ اسحاق کو شک ہے۔ لیکن کوڑھی یا گنجے میں سے کسی ایک نے اونٹ اور دوسرے نے گائے کہا تھا۔ اس فرشتے نے اسے حاملہ اونٹنی دے دی اور دعا کی کہ: اللہ تمہارے لئے اس میں برکت کردے۔ پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور کہنے لگا: تمہیں کونسی چیز پیاری ہے؟ وہ کہنے لگا: اچھے بال اور مجھ سے یہ تکلیف دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھے حقیر سمجھتے ہیں۔ فرشتے نے اسے چھوا تو اس کی تکلیف دور ہو گئی اور اسے خوب صورت بال مل گئے، پھر فرشتے نے کہا: تمہیں کونسا مال پسند ہے ؟اس نے کہا: گائے ، اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی اور اس کے لئے دعا کی: اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اس میں برکت دے۔ پھر وہ نابینا کے پاس آیا اور کہنے لگا: تمہیں کونسی چیز سب سے پیاری ہے؟وہ کہنے لگا: اللہ مجھے میری بصارت واپس لوٹا دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں، فرشتے نے اسے چھوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹا دی، پھر فرشتے نے کہا: کونسا مال تمہیں زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: بکری، اسے ایک حاملہ بکری دے دی گئی، اونٹنی اور گائے نے بھی بچے دئے اور اس بکری نے بھی ۔ایک کی اونٹوں کی وادی ہوگئی، دوسرے کی گائے بیل کی وادی ہوگئی اور تیسرے کی بکریوں کی وادی ہوگئی۔ پھر وہ کوڑھی کے پاس اس کی صورت اور حالت میں آیا اور کہنے لگا: میں ایک مسکین آدمی ہوں ،سفر میں میرا سامان ختم ہوگیا ہے،آج میں اپنی منزل پر سوائے اللہ، پھر تمہاری مدد کے نہیں پہنچ سکتا۔ میں تمہیں اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ اچھی جلد اور مال عطا کیا، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس پر بیٹھ کر میں اپنا سفر مکمل کر سکوں۔ وہ کہنے لگا: حقوق بہت زیادہ ہیں۔ فرشتہ اس سے کہنے لگا: شاید میں تمہیں جانتا ہوں، کیا تم کوڑھی نہیں تھے جس سے لوگ گھن کیا کرتے تھے ؟محتاج ،پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا؟ وہ کہنے لگا: نہیں مجھے تو یہ مال باپ دادا سے ورثے میں ملا ہے ۔فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی صورت میں لوٹا دے جس میں تم تھے ۔پھر وہ گنجے کے پاس اسی کی صورت میں آیا اور اسے بھی وہی بات کہی۔ گنجے نے بھی وہی بات کہی جو کوڑھی نے کہی تھی۔ فرشتہ کہنے لگا: اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اسی حالت کی طرف لوٹا دے۔ پھر وہ نابینا کے پاس اس کی صورت اور حالت میں آیا،کہنے لگا: ایک مسکین اور مسافر آدمی ہوں ،سفر میں میرا سامان ختم ہوگیا ہے، اللہ، پھر تمہاری مدد کے بغیر میں اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔ میں اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں بینائی لوٹائی ، ایک بکری کا سوال کرتا ہوں جس کے ذریعے میں اپنا سفر مکمل کر سکوں ،وہ کہنے لگا: میں نابینا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے میری بینائی لوٹائی ،جو چاہو لے لو، جسے چاہو چھوڑ دو، واللہ! آج تم جو بھی اللہ کے لئے لو گے میں تمہیں منع نہیں کروں گا۔ فرشتہ کہنے لگا: اپنا مال سنبھال کر رکھو، کیوں کہ تمہاری آزمائش کی گئی تھی( اللہ تعالی) تم سے خوش ہوگیا جب کہ تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوگیا
Takhreej
الصحيحة رقم (3523) ، صحيح البخاري كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ حَدِيثُ أَبْرَصَ وَأَعْمَى وَأَقْرَعَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رقم (3205)
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے جب ایڑی پر زور دیا چنانچہ ایڑی کے نیچے سے آب زمزم جاری ہوگیا تو ام اسماعیل اس کے گرد مٹی ڈالنے لگیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ام اسماعیل ہاجرہ علیہما السلام پر رحم فرمائے اگر وہ اسے چھوڑ دیتیں تو وہ ایک جاری چشمہ بن جاتا
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کے ایک آدمی نے دوسرے سے ایک ہزار دینار قرض کا مطالبہ کیا وہ کہنے لگا: گواہ لاؤ جنہیں میں گواہ بنا سکوں، وہ کہنے لگا: اللہ ہی گواہی کے لئے کافی ہے ،وہ کہنے لگا: پھر کوئی ضامن ہی لے آؤ، اس نے کہا: اللہ ہی ضمانت کے لئے کافی ہے۔ اس آدمی نے کہا: تم سچ بولتے ہو، اور اسے ایک مقررہ مدت تک ایک ہزار دینار دے دیئے۔ وہ سمندر میں نکلا، اپنی ضرورت پوری کی، جب مقررہ مدت آگئی تو اس نے سواری تلاش کی لیکن سواری نہیں ملی، اس نے ایک لکڑی لی، اسے کھرچ کر اس میں سوراخ کیا، اور ہزار دینار اس میں رکھ دیئے۔ اور اس کے مالک کی طرف ایک خط رکھ دیا پھر اس خالی جگہ کو بھر دیا اور اسے سمندر پر لے آیا کہنے لگا: اے اللہ! تجھے معلوم ہے کہ میں نے فلاں سے ایک ہزار دینار قرض لیا تھا، اس نے مجھ سے گواہوں اور ضامن کا مطالبہ کیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ اللہ ہی ضمانت کے لئے کافی ہے وہ تیری ضمانت پر راضی ہوگیا، میں نے سواری تلاش کرنے کی بہت کوشش کی، تاکہ اس کا حق اسے ادا کر دوں، لیکن مجھے سواری نہیں ملی، میں اسے تیری امان میں دیتا ہوں ،پھر اس لکڑی کو سمندر میں پھینک دیا۔ وہ آدمی بھی دیکھنے نکلا جس نے قرض دیا تھا کہ شاید کوئی سواری اس کا مال لے آئے۔ کیا دیکھتا ہے کہ وہ لکڑی ہے جس میں اس کا مال تھا، وہ اسے جلانے کے لئے پکڑلیتا ہے ،جب اسے پھاڑ تا ہے تو اس میں مال اورخط دیکھتا ہے وہ اسے لے لیتا ہے جب وہ آدمی آتا ہے تو اس سے کہتا ہے مجھے کوئی سواری نہیں ملی تھی۔ اس قرض دار نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے وہ مال ادا کر دیا ہے جو تم نے لکڑی میں بھیجا تھا۔ تب وہ شخص ہزار دینار لے کر واپس پلٹ گیا
Takhreej
الصحيحة رقم (2845) ، صحيح البخاري كِتَاب الْحَوَالَاتِ بَاب الْكَفَالَةِ فِي الْقَرْضِ وَالدُّيُونِ بِالْأَبْدَانِ وَغَيْرِهَا رقم (2127)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یوشع علیہ السلام کے علاوہ سورج کسی بھی بشر کے لئے نہیں ٹھہرایا گیا ان دنوں جب وہ بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے(اور ایک روایت میں ہے کہ: انبیاء میں سے کسی نبی نے جہاد کا ارادہ کیا تو اپنی قوم سے کہا: میرے پیچھے وہ شخص نہ آئے جس نے شادی کی ہے اور وہ ازدواجی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے ،جو اس نے ابھی تک قائم نہیں کئے ، دوسرا وہ شخص جس نے مکان بنایا ہے لیکن ابھی تک اس کی چھت نہیں ڈالی ، نہ وہ شخص جس نے بکری یا بھیڑیں خریدی ہیں اور ان کی ولادت کا منتظر ہے )۔ پھر وہ جہاد کے لئے نکلے۔ نماز عصر یا اس کے قریب کا وقت تھا کہ وہ اس بستی میں پہنےل (اور ایک روایت میں ہے :سورج غروب ہونے کے وقت وہ دشمن سے ملے اس نے سورج سے کہا: تم بھی مامور ہو اور میں بھی مامور ہوں، اے اللہ ! اسے کچھ دیر میرے لئے روک دے، سورج اس کے لئے روک دیا گیا، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے فتح دے دی(انہوں نے غنیمتیں حاصل کیں )پھر سب غنیمتیں جمع کیں ،آگ انہیں کھانے آئی تو آگ نے کھانے سے انکار کر دیا۔ (وہ لوگ جب کوئی غنیمت حاصل کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ ایک آگ بھیجتا جو غنیمت کھا لیا کرتی ) نبی علیہ السلام نے کہا: تم میں خیانت ہے، ہر قبیلے کا ایک آدمی مجھ سے بیعت کرے ،لوگ بیعت کرنے لگے تو ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا، نبی علیہ السلام نے کہا: تم میں خائن موجوہے ،تمہارا قبیلہ مجھ سے بیعت کرے، اس قبیلے نے نبی علیہ السلام کی بیعت کی دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ (ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا، انہوں نے کہا: تم نے خیانت کی ہے ،انہوں نے کہا: (ہاں ،گائے کے سر کے مشابہہ سونے کی موتی چھپائی ہے۔) انہوں نے ان کے سامنے گائے کے سونے کے سر کی طرح کوئی چیز پیش کی اور اسے اس مال میں ڈال دیا ،جو کھلے میدان میں پڑا تھا۔ آگ آئی اور وہ سامان کھا لیا، ہم سے پہلے کسی کے لئے غنیمتیں حلال نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری عاجزی اور کمزوری دیکھی تو ہمارے لئے انہیں حلال کر دیا، (اور ایک روایت میں ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحمت کرتے ہوئے اور ہماری کمزوری کی وجہ سے ہم پر تخفیف کرتے ہوئے ہمیں یہ غنیمتیں کھلائیں
Takhreej
الصحيحة رقم (202) ، صحيح مسلم كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَاب تَحْلِيلِ الْغَنَائِمِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ خَاصَّةً رقم (3287) مسند أحمد رقم (7964)
ابو سعیدرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان نے کہا: تیری عزت کی قسم! جب تک ان کے جسموں میں روح ہوگی میں تیرے بندوں کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: مجھے میری عزت و جلال کی قسم! جب تک یہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان اس بات سے نا امید ہوگیا ہے کہ تمہاری اس سر زمین پر اس کی عبادت کی جائے لیکن اس بات پر راضی ہوگیا ہے کہ تم (لوگوں کو )حقیر سمجھتے ہو
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بائیں بازو والا فرشتہ چھ گھڑیاں مسلمان خطاکار یا گناہ گار بندے سے قلم اٹھائے رکھتا ہے، اگر وہ شر مسار ہو جائے، اور توبہ کرلے تو قلم رکھ دیتا ہے، وگرنہ ایک برائی لکھ دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1209) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (7667)
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بائیں بازو والا فرشتہ چھ گھڑیاں مسلمان خطاکار یا گناہ گار بندے سے قلم اٹھائے رکھتا ہے، اگر وہ شر مسار ہو جائے، اور توبہ کرلے تو قلم رکھ دیتا ہے، وگرنہ ایک برائی لکھ دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1209) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (7667)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:صاحب صور(اسرافیل)کو جب سے ذمہ داری دی گئی ہے وہ تیار حالت میں عرش کی طرف دیکھ رہا ہے اس ڈر سے کہ کہیں اسے آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی حکم نہ دے دیا جائے گویا کہ اس کی آنکھیں چمکدار ستارے ہوں۔