ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان - ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان - Book 24 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation
Book 24 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 128 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل سے فرمایا: میں نے کبھی بھی میکائیل کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، جبریل نے کہا: جب سے جہنم پیدا کی گئی ہے میکائیل ہنسے نہیں ہیں
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: سب سے پہلا شخص جس نے مہمانوں کی ضیافت کی ابراہیم علیہ السلام تھے، وہی پہلے شخص تھے جنہوں نے اسی (۸۰) سال کی عمر میں (بڑھئی کے) تیشے سے یا قدوم مقام پر سے ختنہ کیا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (؟؟؟؟) ، مسند أبي يعلي رقم (5846) شعب الإيمان للبيهقي رقم (9289)
عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی بیوی کو دوسری بیوی پر ہمارے پاس ٹھہرنے میں فضیلت (ترجیح) نہیں دیتے تھے۔ کم ہی کوئی دن ہوتا کہ وہ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں۔ وہ ہر بیوی کے قریب ہوتے حتی کہ اس تک پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے پاس رات گزارتے ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب بوڑھی ہوگئیں اور اس بات سے ڈرنے لگیں کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ نہ دیں تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا دن عائشہ کے لئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات قبول کر لی، اسی بارے میں اور ان جیسی عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ،میرے خیال میں فرمایا: (النساء:۱۲۸) ترجمہ:اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بے پرواہی یا بے رغبتی کا خوف ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1497) ، سنن أبي داؤد كِتَاب النِّكَاحِ بَاب فِي الْقَسْمِ بَيْنَ النِّسَاءِ رقم (1823)
ابو سعیدخدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک چھوٹے قد کی عورت تھی، اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں بنائیں ،پھر وہ دو چھوٹے قد کی عورتوں کے درمیان چلتی تھی اس نے سونے کی ایک انگوٹھی بنائی اور اس کے نگینے کے نیچے بہترین خوشبو کستوری رکھی۔ پھر جب وہ کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو انگوٹھی کو حرکت دیتی جس سے خوشبو پھوٹتی اور ایک روایت میں ہے کہ اس کے نگینے کا ڈھکن تھا، پھر جب وہ کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو اسے کھول دیتی جس سے خوشبو پھوٹ پڑتی
جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی زخمی ہوگیا اور زخم کی تکلیف سے پریشان ہو کر اس نے چھری لی اور اپنا بازو کاٹ دیا اس کا خون بند نہیں ہوا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگیا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: میرے بندے نے اپنے متعلق مجھ سے پہلے فیصلہ کر لیا اس لئے میں نے اس پر جنت حرام کر دی
Takhreej
الصحيحة رقم (1485) ، صحيح البخاري كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ بَاب مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رقم (3204)
عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا ابتدائی معاملہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری رضاعی والدہ بنی سعد بن بکر سے تھی، میں اور اس کا بیٹا ریوڑ چراتے ہوئے نکلے، ہم نے اپنے ساتھ کھانا نہیں لیا تھا۔ میں نے کہا: بھائی جان! جاؤ،امی جان سے کھانا لے آؤ۔ میرا بھائی چلا گیا اور میں ریوڑ کے پاس ٹھہر گیا دو سفید پرندے اڑتے ہوئے آئے گویا کہ وہ ستارے ہوں، ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا یہی وہ بچہ ہے؟ دوسرے نے کہا: ہاں، وہ دونوں جلدی جلدی میری طرف آئےاور مجھے پکڑ لیا، اور گدی کے بل زمین پر لٹا دیا۔ دونوں نے میرا پیٹ چیر کر میرا دل نکال لیا ،پھر دل کو چیرا اور اس سے دو سیاہ ٹکڑے نکالے ایک نے دوسرے سے کہا: برف کا پانی دو۔ پھر اس نے میرا پیٹ دھویا، پھر کہا: مجھے اولوں کا پانی دو۔ پھر اس سے میرا دل دھویا، پھر کہا: میرے پاس سکینت لاؤ۔پھر اسے میرے دل میں اتارا اور ایک نے دوسرے ساتھی سے کہا۔ اسے سی دو (ٹانکے لگادو)اس نے سی دیا اور نبوت کی مہر لگا دی۔پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اسے ایک پڑیے میں رکھو ، اور اس کی امت کے ایک ہزار لوگ دوسرے پلڑے میں رکھو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے اوپر ایک ہزار آدمی دیکھنے لگا اور ڈر رہا تھا کہ ان میں سے کوئی میرے اوپر نہ گر جائے ۔اس نے کہا؛ اگر اس کی تمام امت کا وزن اس سے کیا جائے تب بھی یہ ان پر بھاری رہے گا۔ پھر وہ دونوں چلے گئے اور مجھے چھوڑ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بری طرح ڈر گیا، پھر اپنی ماں کے پاس آیا۔ اور جو میرے ساتھ ہوا تھا انہیں بتایا۔ انہیں ڈر ہوا کہ کہیں میری عقل میں کچھ خلل نہ آگیا ہو۔ کہنے لگیں: میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں۔ پھر اپنے اونٹ پر کجاوہ کسا اور مجھے کجاوے پر بٹھا کر میرے پیچھے سوار ہو گئیں حتی کہ ہم امی جان کے پاس آگئے ۔کہنے لگیں:کیا میں نے اپنی امانت اور اپنا ذمہ ادا کردیا ہے ، اور انہیں میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بیان کیا۔ وہ اس بات سے خوفزدہ نہیں ہوئیں اور کہنے لگیں: (حمل کے دوران) میں نے ایک نور (روشنی) دیکھا جو میرے اندر سے نکل رہا تھا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں موسیٰ بن عمران کی طرف دیکھ رہا ہوں بھا ری چال چلتے ہوئے گھاٹی سے اتر رہے ہیں
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہر بنی آدم کسی قدر لا محالہ زنا کا ارتکاب کرتا ہے۔ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھ کا زنا چھونا ہے، دل کا زنا مائل ہونا اور سوچنا ہے، اور اس زنا کی تصدیق یا تکذیب شرمگاہ کرتی ہے۔(
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ ام بشر بنت براء بن معرور رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت میں آپ کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا ،انہوں نے آپ کو چھوا تو کہنے لگیں: میں نے آپ جیسا بخار کسی شخص پر نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح ہمارے لئے اجر دو گنا ہے اسی طرح ہمارے لئے آزمائش بھی دوگنی ہے
انسرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی صورت بنائی تو انہیں چھوڑ دیا۔ ابلیس آکر اسے دیکھنا لگا۔ جب اس نے آدم کو اندر سے خالی دیکھا تو کہنے لگا: ایسی مخلوق ہے جو اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے گی
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب موسیٰ علیہ السلام خضر علیہ السلام سے ملے تو ایک پرندہ آیا اور اپنی چونچ پانی میں ڈال دی۔ خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جانتے ہو یہ پرندہ کیا کہہ رہا ہے ؟موسیٰ علیہ السلام نے کہا: یہ کیا کہہ رہا ہے؟ خضر علیہ السلام نے کہا: یہ کہہ رہا ہے کہ تمہارا اور موسیٰ علیہ السلام کا علم اللہ کے مقابلے میں اتنا ہے جتنا میری چونچ نے اس سمندر سے پانی لیا ہے۔
انسرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام میں روح پھونکی اور روح سر میں پہنچی تو انہیں چھینک آئی ،انہوں نے کہا: الحمد للہ رب العالمین ،اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان سے کہا: یرحمک اللہ (اللہ تم پر رحم فرمائے)
Takhreej
الصحيحة رقم (2149) ، صحيح ابن حبان كتاب التاريخ باب ذكر البيان بأن قوله ﷺ: (لما خلق الله آدم عطس ) رقم (6271)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور عیسیٰ علیہ السلام کو ہمارے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لے (اور ایک روایت میں ہے :جو گناہ ان دونوں یعنی انگوٹھے اور شہادت کی انگلی نے کئے ہیں)تو ہمیں عذاب دے دے اور ہم پرظلم بھی نہیں کرے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3200) ، صحيح ابن حبان كتاب الرقائق باب الخوف والتقوى رقم (659)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنا یوسف علیہ السلام جیل میں ٹھہرے ہیں، اتنا عرصہ اگر میں ٹھہرتا، پھر بلانے والا آتا تومیں باہر آجاتا ۔جب یوسف علیہ السلام کے پاس قاصد آیا تو یوسف علیہ السلام نے کہا: (یوسف:۵۰) اپنے مالک کی طرف جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ۔یقیناً میرا رب ان کے مکر کو جاننے والا ہے۔اور اللہ کی رحمت ہو لوط علیہ السلام پر، کیوں کہ وہ مضبوط آسرے کا سہارا لینا چاہتے تھے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: (ھود:۸۰) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر نبی اس کی قوم کے معزز گھرانے انبوہ کثیر میں پیدا کیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1867) ، سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ يُوسُفَ رقم (3041) مسند أحمد رقم (8042)
ابن عباس رضی اللہ عنہما اور انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے ،جب آپ نے منبر بنوا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف جانے لگے تو تنا رونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اسےتھپکی دی تو وہ چپ ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اسے تھپکی (دلاسہ) نہ دیتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2174) ، سنن ابن ماجةكِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا بَاب مَا جَاءَ فِي بَدْءِ شَأْنِ الْمِنْبَرِ رقم (1405)